حدیث نمبر: 36944
٣٦٩٤٤ - حدثنا عباد بن العوام عن العلاء بن المسيب عن (شمر) (١) بن عطية قال: (قال) (٢) عيسى بن مريم ﵇ (٣): كلوا من (بقل) (٤) البرية، واشربوا من الماء القراح، وانجوا من (الدنيا) (٥) سالمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شمر بن عطیہ کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا : جنگلی سبزی کھاؤ، سادہ پانی پیو، اور سلامتی کے ساتھ دنیا سے رہائی پا جاؤ۔
حدیث نمبر: 36945
٣٦٩٤٥ - حدثنا شريك عن عاصم عن أبي صالح يرفعه إلى عيسى بن مريم ﵇ (١) قال: قال لأصحابه: اتخذوا المساجد (مساكن) (٢)، واتخذوا البيوت منازل، وانجوا من (الدنيا) (٣) بسلام، وكلوا من بقل البرية، (٤) قال: (وزاد) (٥) فيه الأعمش: واشربوا من الماء القراح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح کہتے ہیں : عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا : مسجدوں کو اپنا گھر بنا لو اور گھروں کو آرام گاہ، اور سلامتی کے ساتھ دنیا سے نجات پا جاؤاور جنگلی ترکاری کھاؤ۔ ابو صالح کہتے ہیں : اعمش نے یہ روایت ” سادہ پانی پیو “ کے اضافے کے ساتھ ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 36946
٣٦٩٤٦ - حدثنا عباد بن العوام عن العلاء بن المسيب عن رجل حدثه قال: قال الحواريون لعيسى بن مريم ﵇ (١): ما تأكل؟ قال: خبز الشعير، قالوا: وما تلبس؟ قال: الصوف، قالوا: وما تفترش؟ قال: الأرض، قالوا: كل هذا شديد، قال: لن تنالوا ملكوت السماوات حتى تصيبوا هذا على لذة -أو قال-: على شهوة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن مسیب کو کسی آدمی نے یہ روایت سنائی۔ اس نے کہا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انصار نے ان سے عرض کیا : آپ کیا کھاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جو کی روٹی۔ انہوں نے عرض کیا : آپ پہنتے کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اون۔ انہوں نے عرض کیا آپ بچھاتے کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : زمین۔ انہوں نے کہا : ان سب کو اختیار کرنا تو بہت مشکل ہے۔ آپ نے فرمایا : تم اس وقت تک آسمانوں میں عزت نہیں پاسکتے جب تک تم ان چیزوں کو لذت پر ترجیح نہ دو ۔ یا پھر فرمایا : شہوتوں پر (ترجیح نہ دو ) ۔
حدیث نمبر: 36947
٣٦٩٤٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن محمد بن يعقوب قال: قال عيسى بن مريم: لا تكثروا الكلام بغير ذكر اللَّه فتقسوا قلوبكم فإن القلب (القاسي) (١) بعيد من اللَّه، ولكن لا تعلمون، لا تنظروا في (ذنوب) (٢) العباد كأنكم أرباب، وانظروا في ذنوبكم، فإنما الناس رجلان: مبتلى ومعافى، فارحموا أهل البلاء، واحمدوا اللَّه على العافية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یعقوب کہتے ہیں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام ) نے فرمایا : خدا کے ذکر کے سوا اور کوئی کلام کثرت سے مت کیا کرو ، ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے۔ اور سخت دل اللہ تعالیٰ سے دور ہوتے ہیں لیکن تمہیں معلوم نہیں ہوتا۔ لوگوں کے گناہوں کو یوں مت دیکھا کرو جیسے کہ تم ہی رب ہو۔ بلکہ اپنے گناہوں کو یوں دیکھا کرو جیسے تم کوئی غلام ہو۔ کیونکہ لوگوں کی دو ہی حالتیں ہیں۔ ایک وہ جو کسی آزمائش میں مبتلا ہیں اور دوسرے وہ جو عافیت میں ہیں۔ چناچہ مبتلا لوگوں پر رحم کیا کرو اور عافیت پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیا کرو۔
حدیث نمبر: 36948
٣٦٩٤٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (خيثمة) (١) قال: مرت بعيسى (٢) امرأة فقالت: طوبى لبطن حملك، ولثدي أرضعك، فقال: عيسى ﵇ (٣): بل طوبى لمن قرأ القرآن واتبع ما فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام ) کے پاس سے ایک عورت گزری تو اس نے کہا : خوش بختی ہو اس بطن کے لئے جس نے تجھے اپنے اندر رکھا، اور ان چھاتیوں کے لئے جنہوں نے تجھے دودھ پلایا۔ تو عیسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا : بلکہ خوش بختی ہو اس شخص کے لئے جس نے قرآن پڑھا اور اس میں موجود احکامات کی پیروی کی۔
حدیث نمبر: 36949
٣٦٩٤٩ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن سالم قال: قال: عيسى بن مريم ﵇ (١): اتقوا اللَّه (واعملوا) (٢) للَّه (ولا تعملوا) (٣) لبطونكم، وانظروا إلى هذه الطير لا تحصد ولا تزرع يرزقها اللَّه، فإن زعمتم أن بطونكم أعظم من بطون الطير، فهذه البقر والحمير (لا تحرث) (٤) ولا تزرع يرزقها اللَّه، وإياكم و (فضل) (٥) الدنيا فإنها عند اللَّه رجس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم کہتے ہیں : عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرو، اور اپنے پیٹوں کے لئے عمل مت کرو۔ ان پرندوں کو دیکھو، یہ کھیتی باڑی نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ انہیں رزق دیتا ہے۔ اگر تمہیں یہ شبہ ہو کہ تمہارے پیٹ تو ان پرندوں سے بڑے ہیں (اس لئے تمہیں تو کھیتی باڑی کرنی پڑے گی) ، تو ان گائے بھینسوں اور گدھوں کو دیکھو یہ بھی زراعت نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ انہیں رزق دیتا ہے۔ دنیا کو بڑی چیز مت سمجھو، بیشک یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک گندگی ہے۔
حدیث نمبر: 36950
٣٦٩٥٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن العلاء عن خيثمة قال: قال عيسى بن مريم ﵇ (١): طوبى لولد المؤمن، (طوبى) (٢) (لهم) (٣) يحفظون من بعده، وقرأ خيثمة: ﴿وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا﴾ [الكهف: ٨٢]] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کہتے ہیں : عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا : خوش بختی ہے مومن کی اولاد کے لئے ، خوش بختی ہے ان کے لئے، کہ اس (مومن کے انتقال کر جانے) کے بعد بھی (اس کی وجہ سے) ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر خیثمہ نے یہ آیت پڑھی : { وَکَانَ أَبُوہُمَا صَالِحًا } اور ان دونوں کا باپ نیک آدمی تھا (اس لئے ان کے خزانے کی حفاظت کی گئی) ۔
حدیث نمبر: 36951
٣٦٩٥١ - (حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن أبي ثمامة قال) (١): (قال) (٢) الحواريون: يا عيسى ما الإخلاص للَّه؟ قال: أن يعمل الرجل العمل لا يحب أن (يحمده) (٣) عليه أحد من الناس، والمناصح للَّه الذي يبدأ بحق اللَّه قبل حق الناس، (يؤثر حق اللَّه على حق الناس) (٤)، وإذا عرض أمران: أحدهما للدنيا، والآخر للآخرة، بدأ بأمر الآخرة قبل (أمر) (٥) (الدنيا) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ثمامہ کہتے ہیں : (عیسیٰ علیہ السلام کے) انصار نے عرض کیا : اے عیسیٰ (علیہ السلام ) اللہ تعالیٰ کے لئے کسی چیز کو خالص کردینے کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدمی کا اس حالت میں عمل کرنا کہ وہ یہ بات پسند نہ کرتا ہو کہ اس کے اس عمل پر لوگوں میں سے کوئی اس کی تعریف کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوجانے والا شخص وہ ہے جو لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لگنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے، اور اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر ترجیح دے۔ اور جب اس کے پیش نظر دو کام آجائیں ، ان میں سے ایک دنیا (کے فائدے) کے لئے ہو اور دوسرا آخرت (کے فائدے) کے لئے ہو تو وہ آخرت (کے فائدے) کے کام کو دنیا (کے فائدے) کے کام سے پہلے سر انجام دے۔
حدیث نمبر: 36952
٣٦٩٥٢ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت البناني قال: (قال) (١) رجل لعيسى بن مريم ﵇ (٢): لو اتخذت حمارا تركبه لحاجتك؟ قال: أنا أكرم على اللَّه من أن يجعل لي شيئا يشغلني به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بنانی کہتے ہیں : ایک آدمی نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے عرض کیا : کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ آپ ایک گدھا لے لیں اور اپنی حاجات پوری کرنے کے لئے اس پر سفر کیا کریں۔ آپ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آتا ہوں اس بات سے کہ وہ مجھے کوئی ایسی چیز عطا فرماے جو مجھے اس سے غافل کر دے۔
حدیث نمبر: 36953
٣٦٩٥٣ - حدثنا محمد بن بشر العبدي عن إسماعيل بن أبي خالد (قال) (١): حدثني رجل قبل الجماجم من أهل المساجد قال: أخبرت أن عيسى ﵇ (٢) كان يقول: اللهم أصبحت لا أملك لنفسي ما أرجو، ولا أستطيع عنها دفع ما أكره، وأصبح الخير بيد غيري، وأصبحت مرتهنا بما كسبت، فلا فقير أفقر مني، فلا تجعل مصيبتي في ديني، ولا تجعل الدنيا (أكبر) (٣) همي، ولا تسلط علي من لا يرحمني.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں : اہلِ مساجد کے سرداروں سے پہلے مجھے ایک شخص نے یہ بات سنائی۔ اس نے کہا : مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! میرا یہ حال ہے کہ میں اپنے لئے جو چیز چاہتا ہوں اسے حاصل کرنے پر قادر نہیں ہوں، اور نہ ہی جو چیز مجھے بری لگتی ہے اسے خود سے دور کرنے کی استطاعت رکھتا ہوں۔ تمام مال و متاع میرے غیروں کے پاس چلا گیا ہے، اور جو کچھ میں نے کمایا ہے وہ بھی میرے پاس بطور امانت ہے۔ خلاصہ یہ کہ کوئی فقیر مجھ سے زیادہ حاجت مند نہیں ہے۔ بس تو مجھے میرے دین کے معاملے میں مت آزما، اور دنیا کو میرا مقصد اصلی مت بنا، اور مجھ پر کوئی ایسا شخص مسلط مت فرما جو مجھ پر رحم نہ کرے۔
حدیث نمبر: 36954
٣٦٩٥٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن الأعمش عن خيثمة قال: قال: (عيسى) (١) بن مريم ﵇ (٢) لرجل من أصحابه وكان غنيًا: تصدق بمالك، فكره ذلك فقال (عيسى) (٣) ﵇ (٤): (لشدةٍ) (٥) (ما يدخل الغني الجنة) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک امیر آدمی سے فرمایا : اپنا مال صدقہ کردے۔ اس آدمی نے اس بات کو ناپسند کیا۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : غنی لوگوں کا جنت میں داخلہ بہت مشکل سے ہوگا۔
حدیث نمبر: 36955
٣٦٩٥٥ - حدثنا يحيى بن أبي بكير (قال: حدثنا) (١) شبل (بن عباد) (٢) عن (عمر) (٣) بن (أبي) (٤) سليمان عن (ابن) (٥) أبي نجيح عن مجاهد قال: قالت مريم ﵍ (٦): كنت إذا خلوت أنا وعيسى حدثني وحدثته، فإذا شغلني عنه إنسان سبح في بطني وأنا أسمع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاھد کہتے ہیں : حضرت مریم رحمہ اللہ نے فرمایا : جب عیسیٰ اور میں تنہا ہوتے تو ہم باتیں کرتے۔ اور جب کوئی انسان میری توجہ ان کی طرف سے ہٹا دیتا تو وہ میرے پیٹ میں تسبیح فرمانے لگتے اور میں اسے سن رہی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 36956
٣٦٩٥٦ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: حدثنا شبل بن عباد عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس قال: ما تكلم عيسى ﵇ (٢) إلا بالآيات التي تكلم بها حتى بلغ مبلغ الصبيان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جو کلام آیات میں مذکور ہے اس کے سوا انہوں نے کوئی اور کلام نہیں کیا، حتی کہ وہ (بولنے والے) بچوں کی عمر کے ہوگئے۔
حدیث نمبر: 36957
٣٦٩٥٧ - حدثنا محمد بن أبي عبيدة عن أبيه عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم قال: قال عيسى بن مريم ﵇ (١): إن موسى نهاكم عن الزنا، وأنا أنهاكم عنه، وأنهاكم أن تحدثوا أنفسكم بالمعصية، فإنما مثل ذلك كالقادح في الجذع إن لا يكون يكسره فإنه ينخره ويضعفه، أو (كالدخان) (٢) في البيت، إن لا يكون يحرقه فإنه يغير لونه وينتنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا : بیشک موسیٰ نے تمہیں زنا سے روکا تھا اور میں بھی تمہیں اس سے روکتا ہوں۔ اور میں تمہیں اس سے بھی روکتا ہوں کہ تم آپس میں برائی کی باتیں کرو۔ کیونکہ برائی کی باتیں کرنے والا ایسا ہے جیسے شہتیر میں نیزے مارنے والا، جو اس کو توڑتا تو نہیں ہے لیکن کمزور اور بوسیدہ کردیتا ہے۔ یا پھر وہ کمرے میں بھر جانے والے دھوئیں کی طرح ہے جو اسے جلاتا تو نہیں ہے لیکن اسے بدرنگ اور بدبو دار بنا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 36958
٣٦٩٥٨ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن خلف بن حوشب (قال) (١): قال عيسى بن مريم ﵇ (٢) للحواريين: (يا ملح) (٣) الأرض (لا تفسدوه) (٤)، فإن الشيء إذا فسد (لم يصلحه) (٥) إلا الملح، واعلموا أن فيكم خصلتين: الضحك من غير عجب، والتصبح من غير (سهر) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلف بن حوشب کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے انصار سے فرمایا : اے زمین کے بہترین لوگو ! اس (زمین) کو فاسد مت کرو۔ کیونکہ جب بھی کوئی چیز فاسد ہوجاتی ہے تو اس کی اصلاح بہترین چیز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اور جان لو کہ تمہارے اندر دو (نازیبا) خصلتیں ہیں : (ایک تو) بےوجہ ہنسنا، اور (دوسری) شب بیداری نہ کرنے کے باوجود صبح کے وقت سوئے رہنا۔
حدیث نمبر: 36959
٣٦٩٥٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو الأشهب عن ميمون بن (أستاذ) (١) قال: قال عيسى بن مريم ﵇ (٢): يا معشر الحواريين: اتخذوا المساجد مساكن، واتخذوا بيوتكم كمنازل الأضياف، ما لكم في العالم من منزل، إن أنتم إلا (عابرو) (٣) سبيل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن استاذ کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا : اے گروہ انصار : مسجدوں کو اپنا گھر بنا لو، اور گھروں کو محض مہمان خانوں کی طرح (استعمال کرو) ۔ اس دنیا میں تمہارے لئے کوئی ٹھکانہ (مستقل) نہیں ہے، تم تو بس راہگیر ہو۔
حدیث نمبر: 36960
٣٦٩٦٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: (كان) (١) عيسى بن مريم ﵇ (٢) يصنع الطعام لأصحابه، قال: ثم يقوم عليهم (ويقول) (٣): هكذا فاصنعوا (بالقراء) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے لئے کھانا تیار فرماتے ، پھر (کھانے کے دوران اہتمام کی غرض سے) ان کی نگہبانی فرماتے ، (ان کے کھانا کھا لینے کے) بعد میں فرماتے : عبادت گزار لوگوں سے اس طرح کا سلوک کیا کرو۔
حدیث نمبر: 36961
٣٦٩٦١ - حدثنا عفان بن مسلم حدثنا أبو عوانة عن مغيرة عن الشعبي أن عيسى بن مريم ﵇ (١) كان إذا ذكرت عنده الساعة صاح، وقال: [(ما ينبغي) (٢) لابن مريم أن تذكر عنده الساعة إلا صاح، أو قال] (٣): سكت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جب قیامت کا ذکر کیا جاتاتو آپ (بےاختیار) چیخ اٹھتے۔ اور فرماتے : ابنِ مریم کے لئے یہی مناسب ہے کہ جب اس کے پاس قیامت کا ذکر کیا جائے تو وہ (اس گھڑی کی شدت کے خیال سے) چیخ اٹھے۔ یا انہوں نے یہ فرمایا : ابنِ مریم کے لئے یہی مناسب ہے کہ جب اس کے پاس قیامت کا ذکر کیا جائے تو وہ (اس گھڑی کی شدت کے خیال سے) خاموش ہو کر رہ جائے۔
حدیث نمبر: 36962
٣٦٩٦٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا خالد قال: أخبرنا ضرار بن مرة أبو سنان عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل قال: لما رأى (يحيى عيسى) (١) ﵇ (٢) قال (له) (٣): أوصني، قال: لا تغضب، قال: لا أستطيع، قال: لا (تقتن) (٤) مالا قال: عسى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی الھذیل کہتے ہیں : جب یحییٰ علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت کا موقع ملا تو انہوں نے ان سے عرض کیا : مجھے نصیحت فرما دیجئے۔ آپ نے (نصیحتا) فرمایا : غصہ مت کیا کر۔ انہوں نے کہا : میں غصہ نہ کرنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا : مال جمع مت کر۔ انہوں نے کہا : یہ کرلوں گا۔