حدیث نمبر: 36913
٣٦٩١٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن بن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما خلق اللَّه الخلق كتب بيده على نفسه: إن رحمتي تغلب غضبي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جب ساری مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنے ہاتھ سے اپنے لیے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔
حدیث نمبر: 36914
٣٦٩١٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة (عن) (١) الهيثم (بن) (٢) (حنش) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو كنتم لا تذنبون لجاء اللَّه بخلق يذنبون (فيغفر لهم) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم لوگ گناہ نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ دوسری مخلوق لے آئے گا جو گناہ کرے گی اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا۔
حدیث نمبر: 36915
٣٦٩١٥ - حدثنا أبو معاوية [عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن حذيفة أنه (قال: لو أنه لم يمس للَّه ﷿ خلق) (١) (يعصون) (٢) فيما مضى لخلق خلقًا يعصون فيغفر لهم يوم القيامة] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ عزوجل کیلئے ایسی مخلوق نہ ہو جو گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ نئی مخلوق پیدا فرما دے گا جو گناہ کرے گی پھر قیامت کے دن ان کو معاف کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 36916
٣٦٩١٦ - حدثنا (المعلى) (١) بن منصور (عن ليث) (٢) بن سعد عن محمد بن قيس عن أبي صرمة عن أبي أيوب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو لم تذنبوا لجاء اللَّه بقوم يذنبون فيغفر لهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ایوب سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم لے آئے گا جو گناہ کرے گی پھر اللہ ان کو معاف فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 36917
٣٦٩١٧ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان عن سلمان قال: لما (أري) (١) إبراهيم ملكوت السماوات والأرض رأى عبدا على فاحشة، فدعا عليه فهلك، ثم رأى آخر فدعا عليه فهلك، ثم رأى آخر فدعا عليه فهلك، فقال اللَّه: أنزلوا عبدي لا (يهلك) (٢) عبادي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے مروی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زمین و آسمان کے پوشیدہ (عجائبات) راز دکھلائے گئے، تو آپ نے دیکھا کہ ایک شخص خاتون سے زنا کر رہا ہے آپ نے اس کیلئے بد دعا کی تو وہ ہلاک ہوگیا پھر ایک اور کو دیکھا اس کیلئے بددعا فرمائی وہ بھی ہلاک ہوگیا پھر ایک تیسرے کو دیکھا اس کیلئے بد دعا فرمائی وہ بھی ہلاک ہوگیا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میرے بندے کو نیچے لے چلو میرے بندوں کو ہلاک نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 36918
٣٦٩١٨ - حدثنا وكيع عن زياد بن خيثمة عن نعيم بن أبي هند عن ربعي عن حذيفة قال: المؤمنون مستغنون عن الشفاعة، إنما هي للمذنبين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مومنین تو شفاعت سے مستغنی ہیں شفاعت تو گناہ گاروں کیلئے ہے۔
حدیث نمبر: 36919
٣٦٩١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (يدا) (١) اللَّه (بسطان) (٢) لمسئ الليل أن يتوب بالنهار، ولمسيء النهار أن يتوب بالليل، حتى تطلع الشمس من مغربها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا رکھے ہیں رات کے گناہ گار کیلئے کہ وہ دن میں توبہ کرے اور دن کے گناہ گار کیلئے کہ وہ رات میں توبہ کرے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوجائے۔
حدیث نمبر: 36920
٣٦٩٢٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبي سنان عن أبي وائل قال: إن اللَّه (يدعو) (١) العبد يوم القيامة فيستره (بيده) (٢) فيقول: (تعرف) (٣) ما هاهنا؟ فيقول: نعم يا رب، فيقول: أشهدك أني قد غفرت لك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل سے مروی ہے کہ اللہ قیامت کے دن اپنے بندے کے گناہوں پر پردہ فرمائے گا پھر اس کو اپنی رحمت اور ستاری کے پردہ میں چھپا کر اس سے پوچھے گا تو جانتا ہے یہ کیا ہے ؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں اے اللہ ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو گواہ ہوجا کہ میں نے تجھے معاف کردیا۔
حدیث نمبر: 36921
٣٦٩٢١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود عن أبي عثمان عن سلمان قال: خلق اللَّه مائة رحمة فجعل منها رحمة بين الخلائق، كل رحمة أعظم (مما) (١) بين السماء والأرض فيها تعطف الوالدة على ولدها وبها (يشرب) (٢) الطير والوحش الماء، فإذا كان يوم القيامة قبضها اللَّه من الخلائق فجعلها والتسع والتسعين للمتقين فذلك قوله: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ [الأعراف: ١٥٦] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا فرمائیں پھر ان میں سے ایک رحمت کو مخلوق کے درمیان تقسیم فرما دیا، ہر رحمت زیادہ عظیم ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اس سے اسی رحمت میں سے یہ کہ والدہ کا اپنے بچے سے محبت اور رحم کرنا اور اسی کی وجہ سے پرندے اور درندے پانی پیتے ہیں، جب قیامت کا دن آئے گا اللہ تعالیٰ مخلوق سے اس رحمت کو اٹھالے گا اور اس رحمت کو اور دوسری ننانویں رحمتوں کو متقین کیلئے بنائے گا اس کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے کہ { رَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ ، فَسَأَکْتُبُہَا لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ }
حدیث نمبر: 36922
٣٦٩٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه خلق يوم خلق السماوات والأرض مائة رحمة فجعل في الأرض منها رحمة، فبها تعطف الوالدة على ولدها والبهائم بعضها على بعض، وأخر تسعا وتسعين إلى يوم القيامة فإذا كان يوم القيامة أكملها بهذه الرحمة مائة رحمة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس دن اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اس دن سو رحمتیں پیدا فرمائیں ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھ دی اسی وجہ سے والدہ اپنی اولاد پر رحم کرتی ہے اور بعض جانور بعض پر رحم کرتے ہیں جب قیامت کا دن آئے گا اللہ تعالیٰ مکمل فرما دے گا اس رحمت کے ساتھ سو رحمتوں کو۔
حدیث نمبر: 36923
٣٦٩٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن جامع بن شداد عن مغيث بن سُمَيّ قال: كان رجل فيمن كان قبلكم يعمل بالمعاصي فادكر يوما فقال: اللهم غفرانك فغفر له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیث سے مروی ہے کہ پہلی امتوں میں ایک شخص تھا جو گناہ کرتا تھا پھر ایک دن اس نے یاد کیا اور کہا اے اللہ ! مجھے معاف فرما دے تو معاف فرمانے والا ہے پس اس کو معاف فرما دیا۔
حدیث نمبر: 36924
٣٦٩٢٤ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن عبد اللَّه بن عبد اللَّه عن سعد مولى طلحة عن ابن عمر قال: بينا رجل يقال له: الكفل يعمل بالمعاصي، فأعجبته امرأة فأعطاها (خمسين) (١) دينارا، فلما قعد منها مقعد (الرجل) (٢) ارتعدت، فقال لها: مالك؛ قالت: هذا عمل ما عملته قط، قال: أنت تجزعين من هذه الخطيئة، وأنا أعمله مذ كذا وكذا، واللَّه لا أعصي اللَّه أبدا، قال: فمات من ليلته فلما أصبح بنو إسرائيل (قال) (٣): من يصلي على فلان؟ قال ابن عمر: فوجد مكتوبا على بابه قد غفر اللَّه للكفل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا گنہگار جس کا نام الکفل تھا۔ اس کو ایک خاتون اچھی لگی تو اس نے اس کو پچاس دینار دئیے جب وہ اس سے غلط کام کا ارادہ کرنے لگا تو وہ خاتون کانپنے لگی الکفل نے پوچھا تجھے کیا ہوا ہے ؟ خاتون نے کہا کہ یہ وہ عمل ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں کیا کفل نے کہا کہ تو اس گناہ کو کرنے سے عاجز ہے جب کہ میں اتنی اتنی مدت سے یہ کر رہا ہوں ! خدا کی قسم میں آج کے بعد کبھی گناہ نہ کروں گا پھر اسی رات اس کا انتقال ہوگیا جب صبح ہوئی تو بنی اسرائیل کے لوگ کہنے لگے کہ فلاں کا جنازہ کون پڑھے گا ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے دروازے پر لکھا ہوا پایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کفل کی مغفرت فرما دی ہے۔
حدیث نمبر: 36925
٣٦٩٢٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي سفيان عن مغيث بن سمي قال: كان رجل يتعبد في (صومعته) (١) نحوا من ستين سنة، قال: فمطر الناس فاطلع من صومعته، فرأى (الغدر) (٢) والخضرة فقال: لو نزلت فمشيت ونظرت، ففعل فبينما هو يمشي إذ (لقيته) (٣) امرأة فكلمها، فلم (تزل) (٤) تكلمه حتى واقعها، ⦗٢١٢⦘ قال: فوضع كيسا كان عليه، فيه رغيف، ونزل الماء يغتسل، فحضر أجله، فمر سائل فأومأ إلى الرغيف فأخذه، ومات الرجل، فوزن عمله (لستين) (١) سنة فرجحت (خطيئته) (٢) بعمله، ثم وضع الرغيف فرجح، فغفر له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیث سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جو ساٹھ سال سے اپنے گر جا گھر میں عبادت کر رہا تھا ایک دن زور دار بارش ہوئی اس نے اپنے گر جا گھر سے جھانکا تو اس نے پانی تالاب اور سبزہ اور ترکاری وغیرہ دیکھیں اس نے کہا اگر میں نیچے اترا تو میں چلوں گا اور دیکھوں گا پھر اس نے اس طرح کیا اس دوران اس کی ملاقات ایک خاتون سے ہوگئی اس نے اس کے ساتھ گفتگو شروع کردی وہ خاتون اس کے ساتھ مسلسل گفتگو کر رہی تھی یہاں تک کہ وہ غلط کام کر بیٹھا پھر اس نے اپنا تھیلا رکھا جس میں روٹی تھی، بارش آئی جس سے اس نے غسل کیا پھر اس کا مقررہ وقت آن پہنچا وہاں سے ایک سائل گزرا جس کو اس کی روٹی کی سخت ضرورت پڑی تو اس نے وہاں سے روٹی اٹھالی، اور یہ شخص فوت ہوگیا اس کے ساٹھ سال کے اعمال کا وزن کیا گیا تو اس کے گناہوں والا پکڑا جھک گیا پھر وہ روٹی اس میں رکھی گئی تو وہ وزنی ہوگیا تو اس کی مغفرت فرما دی گئی۔
حدیث نمبر: 36926
٣٦٩٢٦ - حدثنا عمر بن سعد عن سفيان عن (٣) سلمة عن أبي الزعراء عن عبد اللَّه أن راهبا عبد اللهَ في (صومعته) (٤) ستين سنة، فجاءت امرأة فنزلت إلى جنبه فنزل إليها فواقعها ست ليال، ثم سُقِط في يده فهرب فأتى مسجدا فأوى إليه فمكث ثلاثًا لا يطعم شيئا، فأتى برغيف فكسر نصفه فأعطى نصفه (رجلا) (٥) عن يمينه، وأعطى آخر عن يساره، فبعث اللَّه إليه ملك الموت فقبض روحه، فوضع عمل الستين سنة في كفة ووضع السيئة في كفة، فرجحت السيئة، ثم جيء بالرغيف فرجح بالسيئة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ نامی ایک راہب تھا جو ساٹھ سال تک اپنے گرجے میں عبادت کرتا رہا، ایک خاتون اس کے پڑوس میں آئی اس راہب نے اس کے ساتھ چھ راتیں بدکاری کی پھر وہ بھاگ کر مسجد چلا گیا اور وہاں پر ٹھکانہ پکڑ لیا تین دن گزر گئے اس نے کچھ نہ کھایا اس کے پاس ایک روٹی لائی گئی اس نے اس کو دو حصے کر کے آدھی روٹی اپنے دائیں شخص کو دے دی اور آدھی بائیں شخص کو دے دی اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجا جس نے اس کی روح قبض کرلی اس کا ساٹھ سالوں کا عمل ایک ترازو میں رکھا گیا اور اس کے گناہوں کو دوسرے پلڑے میں رکھا تو گناہوں والا پکڑا جھک گیا پھر وہ روٹی رکھی گئی تو وہ پلڑا گناہوں والے پلڑے سے بھاری ہوگیا۔
حدیث نمبر: 36927
٣٦٩٢٧ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: حدثنا أبو عثمان عن أبي بردة قال: لما حضر أبا موسى الوفاة قال: يا بني اذكروا صاحب الرغيف قال: كان رجل يتعبد في (صومعة) ((١) عليه اثنا عشر مسكينا، (فأدركه) (٢) الإعياء فرمى بنفسه بين رجلين منهم. وكان ثم (راهب) (٣) يبعث إليهم كل ليلة بأرغفة، فيعطي كل إنسان رغيفا، فجاء صاحب الرغيف فأعطى كل إنسان رغيفا، (ومر) (٤) على ذلك الذي خرج تائبا، فظن أنه مسكين فأعطاه رغيفا، فقال (المتروك) (٥) لصاحب الرغيف: مالك، لم تعطني رغيفي؟ ما كان (لك) (٦) (عنه) (٧) غنى، قال: تراني أمسكه عنك، سل: هل أعطيت أحدا منكم رغيفين؟ قالوا: لا، قال: إني أمسك عنك، واللَّه لا أعطيك شيئا الليلة، قال: فعمد التائب إلى الرغيف الذي دفعه إليه، فدفعه إلى الرجل الذي ترك، فأصبح التائب ميتًا، قال: فوزنت السبعون سنة بالسبع الليالي فلم (تزن) (٨)، قال: فوزن الرغيف بالسبع الليالي، قال: فرجح الرغيف، فقال أبو موسى: يا بني اذكروا صاحب الرغيف (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ کا وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا اے میرے بیٹو ! روٹی والے شخص کو یاد کرو ایک شخص تھا جو اپنے گرجے میں ستر سال سے عبادت کرتا رہا پھر وہ ایک دن اترا تو شیطان اس کی آنکھوں میں عورت کے مشابہ بن کر آیا وہ اس کے ساتھ سات دن اور سات راتیں بدکاری کرتا رہا پھر اس پر اس کی غلطی ظاہر ہوئی تو وہ توبہ کرنے کیلئے نکل پڑا جب بھی قدم اٹھاتا تو نماز پڑھتا اور سجدہ کرتا اور رات کو ایک دکان میں ٹھکا نہ پکڑا جس میں بارہ مسکین تھے وہ بہت زیادہ تھک گیا تھا اس نے اپنے آپ کو دو شخصوں کے درمیان ڈال دیا۔ وہاں ایک راہب تھا جو ہر روز ان کی طرف ایک روٹی بھیجتا تھا اور ہر شخص کو ایک روٹی دیتا تھا پھر وہ روٹی والا آیا اور اس نے ہر شخص کو ایک روٹی دی اور اس شخص کے پاس سے بھی گزرا جو توبہ کرنے کیلئے گرجا سے نکلا تھا اس نے خیال کیا کہ وہ بھی مسکین ہے اس کو بھی روٹی دے دی ان میں سے ایک شخص نے جس کو چھوڑ دیا گیا تھا روٹی والے سے کہا کیا ہوا کہ تم نے میری روٹی مجھے نہ دی ؟ اس نے کہا کہ پوچھو کیا میں نے تم میں سے کسی کو دو روٹیاں دی ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں اس نے کہا کہ میں نے تجھ سے روک لیا ہے خدا کی قسم آج رات تجھے کچھ نہ دوں گا، توبہ کرنے والے شخص نے روٹی کی طرف ارادہ کیا جو اس کو دی گئی تھی وہ اس نے اس کو دے دی جس کو چھوڑ دیا گیا تھا، صبح کو وہ توبہ کرنے والا شخص مردہ پایا گیا، اس کے ستر سالوں کی نیکیوں کو ان سات راتوں کے گناہ کے ساتھ تولا گیا تو وہ نہ وزن ہوئیں، پھر اس روٹی کو ان سات راتوں کے ساتھ وزن کیا گیا تو روٹی والا پلڑا جھک گیا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اس روٹی والے کو یاد کرو۔
حدیث نمبر: 36928
٣٦٩٢٨ - حدثنا أبو معاوية ويعلى عن الأعمش عن أبي سعيد عن أبي (الكنود) (١) قال: مر عبد اللَّه على (قاص) (٢) وهو يذكر النار فقال: يا مذكر لا ⦗٢١٤⦘ تقنط الناس: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ﴾ [الزمر: ٥٣] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ایک واعظ کے پاس سے گزرے جو جہنم کو یاد کر رہا تھا حضرت عبد اللہ نے فرمایا اے یاد کرنے والے لوگوں کو ناامید مت کر اللہ کا ارشاد ہے { یَا عِبَادِی الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِ اللہِ }۔
حدیث نمبر: 36929
٣٦٩٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن موسى بن عقبة عن سالم عن ابن عمر عن كعب قال: لما رأت الملائكة بني آدم وما يذنبون؟ قالوا: يا رب يذنبون؟ قال: لو كنتم مثلهم فعلتم كما يفعلون، فاختاروا منكم ملكين، قال: فاختاروا هاروت وماروت، فقال لهما ﵎: إن بيني وبين الناس رسولا، فليس بيني و (بينكما) (١) أحد، لا تشركا بي شيئًا و (لا تسرقا) (٢) ولا تزنيا، قال عبد اللَّه: قال كعب: فما استكملا ذلك اليوم حتى وقعا فيما حرم عليهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے مروی ہے کہ جب ملائکہ نے انسانوں کے گناہوں کو دیکھا تو عرض کیا اے اللہ ! وہ گناہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم ان کی طرح ہوتے تو وہی کرتے جو وہ کر رہے ہیں پس تم اپنے درمیان میں سے دو فرشتوں کو منتخب کرلو، انہوں نے ہاروت اور ماروت کو منتخب کرلیا اللہ تعالیٰ نے ان دو نوں فرشتوں سے فرمایا : تم میرے اور لوگوں کے درمیان پیغامبر ہو، میرے اور تمہارے درمیان کوئی نہیں ہے میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا، چوری مت کرنا، زنا مت کرنا حضرت عبد اللہ نے فرمایا : حضرت کعب نے ارشاد فرمایا پس انہوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا یہاں تک کہ جو ان پر حرام کیا گیا تھا اس میں پڑگئے۔
حدیث نمبر: 36930
٣٦٩٣٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبي سنان عن يعقوب بن (سفيان) (١) (اليشكري) (٢) عن عبد اللَّه بن مسعود قال: أتاه رجل قد ألم بذنب فسأله عنه فلهى عنه، [وأقبل على القوم (يحدثهم) (٣) فحانت (إليه) (٤) نظرة من عبد اللَّه فإذا عين ⦗٢١٥⦘ الرجل تهراق، فقال: هذا (أوان همك) (٥) ما جئت تسألني عنه] (٦)، إن للجنة سبعة أبواب كلها يفتح ويغلق غير باب التوبة، موكل به ملك فاعمل ولا تيأس (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود کے پاس ایک شخص اپنے گناہوں کی شکایت لے کر حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق دریافت کیا حضرت ابن مسعود نے اس کی طرف توجہ نہ فرمائی اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے گفتگو فرمانے لگے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ رو رہا تھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ جس مقصد کے لیے تو آیا تھا اب اس کا وقت آگیا ہے۔ جنت کے سات دروازے ہیں جن میں ہر ایک دروازہ بند ہوتا اور کھلتا ہے، سوائے توبہ کے دروازے کے۔ اس پر ایک فرشتہ مقرر ہے۔ تو عمل کرتا رہ اور مایوس نہ ہو۔
حدیث نمبر: 36931
٣٦٩٣١ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن علي بن مسعدة قال: حدثنا قتادة عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كل ابن آدم خطاء وخير الخطائين التوابون" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب انسان گنہگار ہیں اور بہترین گنہگار توبہ کرنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 36932
٣٦٩٣٢ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة قال: إن اللَّه تعالى لما لعن إبليس سأله النظرة، فأنظره إلى يوم الدين، قال: وعزتك لا أخرج من جوف -أو قلب- ابن آدم ما دام فيه الروح، قال: وعزتي لا أحجب عنه التوبة ما دام فيه الروح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے ابلیس کو مردود فرمایا اس نے اللہ سے مہلت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک اس کو مہلت عطا فرما دی، شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم جب تک بنی آدم کے جسم میں روح ہے میں ان کو جہنم کی طرف نکالتا رہوں گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت و جلال کی قسم میں توبہ کے ذریعہ ان کے گناہوں پر پردہ ڈالتا رہوں گا جب تک ان کے جسموں میں روح ہے۔
حدیث نمبر: 36933
٣٦٩٣٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن مالك بن مغول قال: كان في زبور في داود مكتوبا: إني أنا اللَّه لا إله إلا أنا ملك الملوك، قلوب الملوك بيدي، فأيما قوم كانوا على طاعة جعلت الملوك عليهم رحمة، وأيما قوم كانوا على معصية جعلت الملوك عليهم نقمة، (١) لا تشغلوا أنفسكم (بسب) (٢) الملوك ولا تتوبوا إليهم، توبوا إلي أعطف قلوبهم عليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک سے مروی ہے کہ زبور میں لکھا تھا کہ : میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہوں تمام بادشاہوں کا دل میرے قبضہ میں ہے پس جو قوم نیک کام کرتی ہے میں ان پر مہربان بادشاہ مقرر کرتا ہوں اور جو قوم میری نافرمانی کرتی ہے میں بادشاہوں کو ان پر آزمائش بنا دیتا ہوں اپنے آپ کو بادشاہوں کو برا بھلا کہنے میں مشغول مت رکھو، ان کی طرف رجوع مت کرو میری طرف رجوع اور توبہ کرو میں ان کو تم پر مہربان کر دوں گا۔
حدیث نمبر: 36934
٣٦٩٣٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير وأبو أسامة عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس عن عبد اللَّه قال: بينما رجل ممن كان قبلكم كان في قوم كفار، وكان فيما بينهم قوم صالحون، قال: (فطالما) (١) كنت في كفري (هذا) (٢) (لآتين) (٣) هذه القرية الصالحة، فأكونن رجلا من أهلها، فانطلق فأدركه الموت فاحتج فيه الملك والشيطان، يقول: هذا أنا أولى به، ويقول: هذا أنا أولى به، إذ (قيض) (٤) اللَّه (لهما) (٥) بعض جنوده فقال لهما: قيسوا ما بين القريتين، فأيتهما كان أقرب إليها فهو من أهلها، فقاسوا ما بينهما فوجدوه أقرب إلى القرية الصالحة فكان منهم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ تم سے پہلی امت میں ایک شخص کفار کی قوم میں تھا، اور ان میں کچھ نیک لوگ بھی تھے اس شخص نے کہا : میں ضرور اس نیک بستی میں آؤں گا تاکہ میں بھی نیکوں کاروں میں سے ہوجاؤں وہ اس بستی میں جانے کیلئے چلا تو اس کو موت آگئی، اس کے متعلق فرشتہ اور شیطان کا جھگڑا ہوگیا ایک کہنے لگا میں اس کا زیادہ مستحق ہوں اور دوسرا کہنے لگا کہ میں زیادہ مستحق ہوں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان اپنے بعض لشکر کے ذریعہ فیصلہ فرمایا اس نے ان سے کہا کہ دونوں بستیوں کا فاصلہ ماپ لو جس بستی کے قریب ہوگا اسی میں سے شمار ہوگا انہوں نے اس کا درمیانی فاصلہ ناپا تو اس کو نیکو کاروں کی بستی کے قریب پایا پس وہ انہی میں سے ہوگیا۔
حدیث نمبر: 36935
٣٦٩٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى قال: حدثنا قتادة عن أبي الصديق (الناجي) (١) عن أبي سعيد الخدري قال: لا أخبركم إلا ما سمعت من في رسول اللَّه ﷺ سمعته أذناي ووعاه قلبي: "أن عبدا قتل تسعة وتسعين نفسا ثم عرضت له التوبة، فسأل عن أعلم أهل الأرض فدُلّ على رجل، فأتاه فقال: إني قتلت تسعة وتسعين نفسا فهل لي من توبة؟ قال: بعدقتل تسعة وتسعين نفسًا؟ قال: فانتضى سيفه فقتله، فأكمل به مائة، ثم عرضت له التوبة فسأل عن أعلم أهل الأرض، فدل على رجل فأتاه فقال: إني قتلت مائة نفس فهل لي من توبة؟ ⦗٢١٧⦘ قال: ومن يحول بينك وبين التوبة، اخرج من القرية الخبيثة التي أنت فيها إلى القرية الصالحة قرية كذا وكذا، فاعبد ربك فيها، قال: فخرج يريد القرية الصالحة فعرض له أجله في الطريق، قال: فاختصم فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب، فقال إبليس: أنا أولى به (إنه) (٢) لم يعصني ساعة قط، فقالت ملائكة الرحمة: إنه خرج تائبا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک شخص نے ایک کم سو بندوں کو قتل کیا پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے عالم کے متعلق دریافت کیا تو اس کو ایک عالم کے بارے میں خبر دی گئی تو وہ اس عالم کے پاس آیا اور کہا میں نے ننانوے قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ عالم نے کہا ننانوے قتلوں کے بعد بھی توبہ ؟ اس شخص نے اپنی تلوار نکال کر اس کو بھی قتل کر کے سو کی تعداد مکمل کردی۔ پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے کسی عالم کے متعلق دریافت کیا اس کو ایک عالم کا بتایا گیا تو وہ اس عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے سو قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ عالم نے اس سے کہا کہ اس بستی سے نکل جا جس میں تو ہے اور کسی نیکو کاروں کی بستی میں چلا جا، فلاں بستی میں چلا جا اور اپنے رب کی عبادت کر وہاں جا کر وہ شخص اس بستی میں جانے کیلئے نکلا، راستے میں اس کی موت کا وقت آگیا اس کے متعلق رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کا مخاصمہ ہوگیا، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے کبھی ایک لمحہ بھی میری نافرمانی نہیں کی، رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ توبہ کے ارادہ سے نکلا تھا، اللہ نے ایک فرشتہ اور بھیجا وہ اپنا جھگڑا اس کے پاس لے گئے، اس فرشتہ نے کہا کہ دونوں بستیوں کو دیکھ لو کونسی بستی اس کے زیادہ قریب ہے جو قریب ہو اس کے ساتھ اس کو ملا دو ، جب اس شخص کو اپنی موت کا علم ہوا تو اس نے اپنے آپ کو گھسیٹا اس نیکو کاروں کی بستی کی طرف، اللہ تعالیٰ نے اس کو نیکو کاروں کی بستی کے قریب کردیا اور اس نے بروں کی بستی کو دور کردیا پس اس کو نیک لوگوں کی بستی کے ساتھ ملا دیا گیا۔
حدیث نمبر: 36936
٣٦٩٣٦ - قال: همام فحدثني حميد الطويل عن بكر بن عبد اللَّه المزني عن أبي رافع قال: (فبعث) (١) اللَّه إليه ملكا فاختصموا إليه (٢). - ثم رجع إلى حديث قتادة فقال: انظروا أي القريتين كانت أقرب إليه فألحقوه بها.
حدیث نمبر: 36937
٣٦٩٣٧ - قال: فحدثني الحسن قال: (فلما) (١) عرف الموت (احتفز) (٢) بنفسه، فقرب اللَّه منه القرية الصالحة وباعد منه القرية الخبيثة، فألحقه بأهل القرية الصالحة (٣).
حدیث نمبر: 36938
٣٦٩٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى قال: حدثنا قتادة عن صفوان بن محرز قال: كنت آخذا بيد عبد اللَّه بن عمر فأتاه رجل فقال: كيف ⦗٢١٨⦘ سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول في النجوى؟ فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن اللَّه يدني المؤمن يوم القيامة حتى يضع عليه كنفه، يستره من الناس، فيقول: أي عبدي تعرف ذنب كذا وكذا؟ فيقول: (أي، نعم) (١) رب، حتى إذا قرره بذنوبه ورأى في نفسه أنه قد هلك قال: فإني قد سترتها عليك في الدنيا، وقد غفرتها لك اليوم، ثم يؤتى بكتاب حسناته، وأما الكفار والمنافقون فيقول الأشهاد: ﴿هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ [هود: ١٨] " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صفوان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ان کے پاس ایک شخص آیا اور دریافت کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ سے النجویٰ کے متعلق کیا سنا ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا ہے کہ : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومن کو قریب کریں گے یہاں تک کہ اس پر اپنا دست رحمت رکھ دیں گے اس کو لوگوں سے چھپا دیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے بندے ! تو فلاں فلاں گناہوں کو جانتا ہے ؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں میرے رب پھر اللہ تعالیٰ وہی فرمائیں گے اور بندہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ جب وہ گناہوں کا اقرار کرے گا اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ پر دنیا میں ساری چادر ڈال رکھی اور آج ان کو معاف کرچکا ہوں پھر اس کو حسنات کا اعمال نامہ دیا جائے گا بہر حال کفار اور منافقین پس گواہ اس کے متعلق کہیں گے کہ { ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلَی رَبِّہِمْ ، أَلاَ لَعَنَۃُ اللہِ عَلَی الظَّالِمِینَ }۔
حدیث نمبر: 36939
٣٦٩٣٩ - حدثنا سفيان بن عيينة عن مسعر عن عون قال: (يخبره) (١) بالعفو قبل الذنب: ﴿عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ﴾ [التوبة: ٤٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون فرماتے ہیں اس کو خبر دی جائے گی کہ گناہ سے پہلے ہی مغفرت کردی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 36940
٣٦٩٤٠ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي رافع عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "خرج رجل من قرية يزور أخا له في قرية أخرى، قال: (فأرسل) (١) اللَّه له ملكا فجلس على طريقه (فقال) (٢): أين تريد؟ فقال: أريد أخا لي أزوره في اللَّه في هذه القرية، فقال: هل له عليك من نعمة تربها؟ قال: لا، ولكني أحببته في اللَّه، قال: (فإني) (٣) رسول ربك إليك، إنه قد أحبك فيما أحببته فيه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک شخص اپنی بستی سے دوسری بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کی نیت سے نکلا اللہ نے اس کیلئے ایک فرشتہ راستہ میں بٹھا دیا، فرشتہ نے اس سے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس شخص نے کہا کہ میرا ایک بھائی ہے اللہ کیلئے اس سے ملنے کیلئے اس بستی میں جا رہا ہوں فرشتہ نے کہا کہ کیا اس کے پاس تیری کوئی نعمت ہے جس کی وہ حفاظت کر رہا ہو ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ نہیں بلکہ مجھے اس سے اللہ تعالیٰ کیلئے محبت ہے، فرشتہ نے کہا تو سن میں اللہ کا فرشتہ اور قاصد ہوں تیرے پاس آیا ہوں بیشک اللہ پاک آپ سے محبت فرماتے ہیں اس محبت کی وجہ سے جو تم اپنے بھائی سے اس کیلئے کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 36941
٣٦٩٤١ - حدثنا بن مهدي عن سفيان عن حبيب عن عروة بن (عاصم) (١) قال: إن الرجل لتعرض عليه ذنوبه فيمر بالذنب فيقول: قد كنت منك مشفقا، فيغفر اللَّه له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن عامر سے مروی ہے کہ ایک شخص پر اس کے گناہوں کو پیش کیا جائے گا وہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ گزرے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں تجھ پر بہت مہربان تھا پھر اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔
حدیث نمبر: 36942
٣٦٩٤٢ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار قال: إن للمقنطين (حبسا) (١) يطأ الناس (٢) أعناقهم يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ناامید لوگوں کو روک لیا جائے گا، لوگ ان کی گردنوں کو روندتے ہوئے گزریں گے۔
حدیث نمبر: 36943
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ انہیں اس حال میں طلاق دو کہ وہ پاک ہوں اور اس طہر میں ان سے جماع نہ کیا ہو۔