کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
حدیث نمبر: 36868
٣٦٨٦٨ - [حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن حفصة عن أبي العالية قال: غلظ جلد الكافر أربعون ذراعًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ کافر کی کھال کی موٹائی چالیس گز ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36868
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36868، ترقيم محمد عوامة 35294)
حدیث نمبر: 36869
٣٦٨٦٩ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: كان عمر يقول: أكثروا ذكر النار، فإن حرها شديد، كان قعرها بعيد، وإن مقامعها حديد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہاکثر جہنم کا ذکر فرماتے کہ اس کی گرمی بہت سخت ہے اس کی گہرائی بہت دور ہے اور اس کا گرز لوہے کا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36869
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36869، ترقيم محمد عوامة 35295)
حدیث نمبر: 36870
٣٦٨٧٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن يونس بن خباب عن مجاهد قال: إن في النار (لجبابا) (١) فيها حيات كأمثال البخاتي وعقارب كأمثال البغال ⦗١٩٤⦘ الدلم، فيفر أهل النار من النار إلى تلك (الجباب) (٢) فتستقبلهم الحيات والعقارب، فتأخذ شفاههم وأعينهم، قال: فما يستغيثون إلا بالرجوع إلى النار، كان أهونهم عذابا لمن في أخمص قدميه نعلان فيغلي منهما دماغه وأشفاره وأضراسه (٣)، وسائرهم يموجون فيها كالحب القليل في الماء الكثير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جہنم میں کچھ گڑھے ہیں جس میں بختی اونٹ کی طرح سانپ اور سیاہ خچروں کی طرح بچھو ہیں، جہنمی آگ سے بھاگ کر ان گڑھوں کی طرف جائیں گے وہاں سانپ اور بچھو ان کا استقبال کریں گے، وہ ان کے منہ اور آنکھوں سے ان کو پکڑیں گے، لیکن ان کی مدد نہ ہوگی سوائے اس کے کہ دوبارہ آگ میں جائیں اور جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کو آگ کے جوتے پہنائیں جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا اس کے ہونٹ اور داڑھیں آگ کی ہوں گی وہ سارے جہنمی اس میں ایسے بہیں گے جیسے کہ زیادہ پانی میں تھوڑے سے دانے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36870
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36870، ترقيم محمد عوامة 35296)
حدیث نمبر: 36871
٣٦٨٧١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن عمير عن عبد اللَّه بن الحارث عن العباس بن عبد المطلب أنه قال للنبي ﷺ: عمك أبو طالب يحوطك و (يفعل) (١) (لك) (٢)، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنه لفي ضحضاح من النار ولولا أنا (لكان) (٣) في الدرك الأسفل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباس بن عبدالمطلب نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ کے چچا نے آپ کی حفاظت کی ہے اور آپ کیلئے کفار پر غصہ کیا ہے کیا ان کو بھی عذاب ہوگا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ٹخنوں تک آگ میں ہیں اگر میں سفارش نہ کرتا تو وہ سب سے نچلے درجہ میں ہوتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36871
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٢٠٨)، ومسلم (٢٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36871، ترقيم محمد عوامة 35297)
حدیث نمبر: 36872
٣٦٨٧٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الأزهر بن سنان القرشي قال: حدثني محمد بن واسع قال: دخلت على بلال بن أبي بردة فقلت له: يا بلال إن أباك حدثني عن أبيه عن النبي ﷺ قال: "إن في جهنم واديا (يقال له) (١): هبهب حتم على اللَّه أن يسكنه كل جبار، فإياك يا بلال أن تكون ممن يسكنه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن واسع فرماتے ہیں کہ میں حضرت بلال بن ابی بردہ کے پاس گیا اور ان سے کہا اے بلال ! تیرے والد نے مجھ سے رسول اکرم ﷺ کی حدیث بیان کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ہبہب ہے اللہ پر لازم ہے کہ سرکش متکبر کو اس میں داخل فرمائے پس اے بلال اس بات سے بچ کہ تو بھی انہیں رہنے والوں میں سے ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36872
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال الأزهر بن سنان، أخرجه الدارمي (٢٨١٦)، وأبو يعلى (٧٢٤٩)، والحاكم ٤/ ٣٣٢، وابن أبي الدنيا في التواضع (٢٢٥)، وفي صفة النار (٣٥)، والطبراني في الأوسط (٣٥٤٨)، ووكيع في أخبار القضاة ٢/ ٢٥، والبيهقي في البعث (٤٧٩)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٣٥٦، وابن حبان في المجروحين ١/ ١٧٨، والعقيلي ١/ ١٣٤، وابن عدي ١/ ٢٢٩، وابن عساكر ١٠/ ٥١٧، والإسماعيلي في المعجم ٢/ ٦٣٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36872، ترقيم محمد عوامة 35298)
حدیث نمبر: 36873
٣٦٨٧٣ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) أبي قيس عن (هزيل) (٢) قال: أرواح آل فرعون في جوف طير سود تغدو وتروح على النار فذلك عرضها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہزیل سے مروی ہے کہ آل فرعون کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹ میں ہیں وہ صبح وشام آگ پر آتے ہیں پس یہ اس پر پیش ہونا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36873
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36873، ترقيم محمد عوامة 35299)
حدیث نمبر: 36874
٣٦٨٧٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن فضيل بن غزوان عن محمد بن عبد الرحمن ابن يزيد قال: بلغني أن أناسا معهم سياط طوال لا يرحمون الناس، يقال لهم: ضعوا سياطكم وادخلوا النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ بہت سے لوگ جن کے پاس لمبے لمبے کوڑے ہیں اور وہ لوگوں پر رحم نہیں کرتے ان کو کہا جائے گا اپنے کوڑے پھینک دو اور جہنم میں داخل ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36874
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36874، ترقيم محمد عوامة 35300)
حدیث نمبر: 36875
٣٦٨٧٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس أنه بلغه أن عمر قال لكعب: يا كعب خوفنا، قال: نعم، يجمع اللَّه الخلائق في صعيد واحد ينفذهم البصر ويسمعهم الداعي ويجاء بجهنم، فلها يومئذ ثلاث زفرات. فأول زفرة لا تبقي دمعة في عين إلا سألت حتى ينسكب الدم، وأما الثانية فلا يبقى أحد إلا جثا لركبتيه ينادي: رب نفسي نفسي حتى خليله إبراهيم، وأما الثالثة فلو كان لك يا عمر عمل سبعين نبيا لأشفقت حتى تعلم من أي الفريقين تكون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب سے فرمایا اے کعب آپ نے ہمیں خوف زدہ کردیا حضرت کعب نے فرمایا جی ہاں، اللہ تعالیٰ تمام مخلوق ایک زمین پر جمع فرمائے گا اس دن جہنم تین سانسیں لے گی پہلی سانس کے بعد کسی آنکھ میں آنسو باقی نہ بچے گا یہاں تک کہ خون بہنے لگے گا دوسری مرتبہ میں تمام انسان گھٹنوں کے بل جھک کر عرض کریں گے یا رب نفسی نفسی یہاں تک کہ اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اور تیسری مرتبہ میں اے عمر ! اگر تیرے پاس ستر انبیاء کا عمل بھی ہو تو پھر بھی تجھے خوف ہوگا یہاں تک کہ تو جان لے کہ تو کس فریق میں سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36875
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36875، ترقيم محمد عوامة 35301)
حدیث نمبر: 36876
٣٦٨٧٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن جويبر عن الضحاك: ﴿وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ﴾ [الحج: ٢١] قال: مطارق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن کریم کی آیت { وَلَہُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِیدٍ } کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ مقامع سے مراد ہتھوڑے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36876
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36876، ترقيم محمد عوامة 35302)
حدیث نمبر: 36877
٣٦٨٧٧ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبي سنان قال: سمعت عبد اللَّه بن الحارث يقول: الزبانية رؤوسهم في السماء وأرجلهم في الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ الزبانیۃ جو ہیں ان کے سر آسمان میں اور پاؤں زمین میں ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36877
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36877، ترقيم محمد عوامة 35303)
حدیث نمبر: 36878
٣٦٨٧٨ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: حدثنا شريك عن عاصم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: أوقدت النار ألف سنة حتى ابيضت، ثم أوقدت ألف سنة ⦗١٩٦⦘ فاحمرت، ثم أوقدت ألف سنة فاسودت فهي كالليل المظلم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جہنم کی آگ کو ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سیاہ ہوگئی پس وہ آگ سیاہ رات کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36878
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه الترمذي (٢٥٩١)، ونعيم بن حماد في زوائد زهد ابن المبارك (٣٠٩)، وورد مرفوعًا أخرجه الترمذي (٢٥٩١)، وابن ماجه (٤٣٢٠)، وابن أبي الدنيا في صفة النار (١٥٦)، والمزي ١٤/ ٢٤٨، وابن البخاري في المشيخة ١/ ٧٠٣، والسمرقندي في التفسير ٢/ ١١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36878، ترقيم محمد عوامة 35304)
حدیث نمبر: 36879
٣٦٨٧٩ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا أسباط بن نصر عن عاصم عن (زر) (١) قال (٢) عبد اللَّه: ﴿وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ﴾ [الفجر: ٢٣] قال: جيء بها تقاد بسبعين ألف زمام مع كل زمام سبعون ألف ملك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ قرآن کریم کی آیت (وَجِیئَ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ ) کے متعلق فرماتے ہیں کہ جہنم کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کو ستر ہزار لگامیں دی ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36879
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أسباط بن نصر فيه ضعف، وعاصم ضعيف في زر، وتقدم بإسناد جيد برقم [٣٦٨٢٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36879، ترقيم محمد عوامة 35305)
حدیث نمبر: 36880
٣٦٨٨٠ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن أبي رجاء عن الحسن: ﴿وَآخَرُ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ﴾ [ص: ٥٨] قال: ألوان من العذاب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن کریم کی آیت { وَآخَرُ مِنْ شَکْلِہِ أَزْوَاجٌ} کے متعلق فرماتے ہیں کہ مختلف قسم کے عذاب ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36880
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36880، ترقيم محمد عوامة 35306)
حدیث نمبر: 36881
٣٦٨٨١ - حدثنا يحيى بن أبي بكير عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس ابن مالك أن رسول اللَّه ﷺ قال: "أول من يكسى حلة من نار إبليس، يضعها على (حاجبه) (١) ويسحبها من خلفه وذريته من خلفه (وهو) (٢) ينادي: يا (ثبوره) (٣)، وينادون: يا ثبورهم، قال: فيقال لهم: ﴿لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا﴾ [الفرقان: ١٤] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے جس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا وہ ابلیس ہے، اس کے ماتھے پر رکھا جائے گا اور اس کو پیچھے سے گھسیٹا جائے گا اور اس کی اولاد بھی اس کے پیچھے ہوگی وہ پکارے گا اے ہلاکت اس کی ذریت پکارے گی اے ان کی ہلاکت ! ان کو کہا جائے گا کہ { لاَ تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا کَثِیرًا } ایک نہیں کئی ہلاکتوں کو پکارو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36881
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال علي بن يزيد بن جدعان، أخرجه أحمد (١٢٥٣٦)، وعبد بن حميد (١٢٢٥)، والبزار (٣٤٩٥/ كشف)، وابن أبي عاصم في الأوائل (١١٩)، والطبراني في الأوائل (٣٧)، والطبري في التفسير ١٨/ ١٨٨، والبيهقي في البعث والنشور (٥٩٠)، والخطيب ٢١/ ٢٥٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36881، ترقيم محمد عوامة 35307)
حدیث نمبر: 36882
٣٦٨٨٢ - حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل عن أبي صالح: ﴿نَزَّاعَةً لِلشَّوَى﴾ [المعارج: ١٦] قال: لحم الساقين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح قرآن کریم کی آیت { نَزَّاعَۃً لِلشَّوَی } کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کی پنڈلیوں کا گوشت مراد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36882
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36882، ترقيم محمد عوامة 35308)
حدیث نمبر: 36883
٣٦٨٨٣ - حدثنا يحيى بن أبي بكير عن شريك عن ليث والأعمش عن مجاهد: ﴿نَزَّاعَةً لِلشَّوَى﴾ قال: الشوى الأطراف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ { نَزَّاعَۃً لِلشَّوَی } سے مراد اعضاء ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36883
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36883، ترقيم محمد عوامة 35309)
حدیث نمبر: 36884
٣٦٨٨٤ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل عن أبي صالح: ﴿وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى﴾ [الليل: ١١] قال: في النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح قرآن کریم کی آیت { وَمَا یُغْنِی عَنْہُ مَالُہُ إذَا تَرَدَّی } کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ جب آگ میں ڈال دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36884
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36884، ترقيم محمد عوامة 35310)
حدیث نمبر: 36885
٣٦٨٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الجريري (عن أبي السليل) (١) عن غنيم بن قيس عن أبي العوام قال: قال كعب: هل تدرون ما قوله: ﴿وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ [مريم: ٧١]؟ فقالوا: ما كنا نرى (أن ورودها) (٢) إلا دخولها، قال: فقال: لا، ولكنه يجاء بجهنم (فتمد) (٣) للناس كأنها متن إهالة حتى استوت عليها أقدام الخلائق برهم وفاجرهم ناداها مناد: خذي أصحابك وذري أصحابي، فتخسف بكل ولي لها فهي أعرف من الوالد بولده، وينجو المؤمنون (برية) (٤) ثيابهم، قال: وإن الخازن من خزنة جهنم ما بين منكبيه مسيرة سنة، معه عمود من حديد له شعبتان يدفع به الدفعة فيكب في النار (تسعمائة) (٥) ألف أو ما شاء اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب نے لوگوں سے ارشاد فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے اس قول خدا وندی کا کیا مطلب ہے { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُہَا }؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے خیال میں اس سے مراد جہنم میں داخل ہونا ہے۔ فرمایا نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ جہنم کو لایا جائے گا اور اسے لمبا کردیا جائے گا۔ جب اس پر سب نیک اور برے لوگ کھڑے ہوجائیں گے تو ایک پکارنے والا اعلان کرے گا کہ اپنے لوگوں کو لے لے اور میرے لوگوں کو چھوڑ دے۔ جہنم جہنمیوں کو دبوچ لے۔ جہنم انہیں اتنا جانتی ہوگی جتنا ماں باپ بھی اولاد کو نہیں پہچانتے۔ مومن اس سے نجات پالیں گے۔ جہنم کے داروغہ کا جسم اتنا بڑا ہے کہ اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک سال کی مسافت ہے، اس کے پاس لوہے کے ستون ہیں۔ وہ جس کو ایک مرتبہ مارتا ہے وہ سات لاکھ سال جہنم میں گرتا چلا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36885، ترقيم محمد عوامة 35311)
حدیث نمبر: 36886
٣٦٨٨٦ - حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن (ابن) (١) (معقل) (٢): ﴿وَلَوْ تَرَى إِذْ فَزِعُوا فَلَا فَوْتَ﴾ [سبأ: ٥١] قال: أفزعهم فلم يفوتوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن معقل قرآن کریم کی آیت { وَلَوْ تَرَی إِذْ فَزِعُوا فَلاَ فَوْتَ } کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کو ڈرایا جائے گا پس وہ اس سے نہ بچ سکیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36886
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36886، ترقيم محمد عوامة 35312)
حدیث نمبر: 36887
٣٦٨٨٧ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قالوا: يؤتى بالرجل العظيم الطويل يوم القيامة فيوضع في الميزان فلا يزن عند اللَّه جناح بعوضة ثم تلا: ﴿فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾ [الكهف: ١٠٥].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک بڑا اور لمبا آدمی لایا جائے گا اس کو میزان میں تولا جائے گا تو اللہ کے نزدیک اس کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ { فَلاَ نُقِیمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36887
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36887، ترقيم محمد عوامة 35313)
حدیث نمبر: 36888
٣٦٨٨٨ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: حدثني نعيم بن ميسرة النحوي عن عيينة بن (الغصن) (١) قال: قال الحسن: إن الأغلال لم تجعل في أعناق أهل النار لأنهم أعجزوا الرب، ولكن إذا (طفئ) (٢) بهم اللهب (أرسبتهم) (٣) في النار، قال: ثم (أجفل) (٤) الحسن (مغشيا) (٥) عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ جہنمیوں کی گردنوں میں طوق نہ ہوں گے کیوں کہ انہوں نے رب کو عاجز پایا لیکن جب چنگاری بجھے گی تو ان کو آگ میں داخل کردیا جائے گا پھر حسن زمین پر گرپڑے اور ان پر غشی طاری ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36888
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36888، ترقيم محمد عوامة 35314)
حدیث نمبر: 36889
٣٦٨٨٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن (حسان) (١) بن أبي المخارق عن أبي عبد اللَّه الجدلي قال: أتيت بيت المقدس فإذا عبادة بن الصامت وعبد اللَّه بن عمرو (و) (٢) كعب الأحبار يتحدثون في بيت المقدس، قال: فقال عبادة: إذا كان يوم القيامة جمع الناس في صعيد واحد فينفذهم البصر ويسمعهم الداعي ويقول اللَّه: ﴿هَذَا يَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ (٣٨) فَإِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ﴾ [المرسلات: ٣٨ - ٣٩]، اليوم لا ⦗١٩٩⦘ ينجو مني جبار عنيد، ولا شيطان مريد، قال: فقال عبد اللَّه بن عمرو: إنا نجد في الكتاب أنه يخرج يومئذ عنق من النار فينطلق (معنقا) (٣) حتى إذا كان بين ظهراني الناس قال: يا أيها الناس إني بعثت إلى ثلاثة، أنا أعرف بهم من (الوالد بولده) (٤) ومن الأخ بأخيه، (لا يغنيهم) (٥) مني ورد ولا تخفيهم مني خافية: الذي جعل مع اللَّه إلها آخر، وكل جبار عنيد، وكل شيطان مريد، قال: فينطوي عليهم فيقذفهم في النار قبل الحساب بأربعين. قال حصين: (و) (٦) إما أربعين عاما أو أربعين يومًا، قال: ويهرع قوم إلى الجنة فتقول لهم الملائكة قفوا للحساب، (قال) (٧): فيقولون: واللَّه ما كانت لنا أموال وما كنا بعمال، قال: فيقول اللَّه: صدق عبادي، أنا (أحق من) (٨) أوفى بعهده، ادخلوا الجنة، قال: فيدخلون الجنة قبل الحساب بأربعين، إما قال: عاما وإما يوما (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ الجدلی فرماتے ہیں کہ جب میں بیت المقدس آیا تو وہاں پر میں نے حضرت عبادہ بن صامت، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما اور حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے پایا۔ حضرت عبادہ نے کہا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور پچھلے لوگوں کو جمع کیا ہے اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو کرو۔ آج مجھ سے کوئی سرکش ظالم اور شیطان نہیں بچ سکتا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب میں ملتا ہے کہ جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور کہے گی کہ اے لوگو ! مجھے تین قسم کے گناہ گاروں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ میں انہیں خوب جانتی ہوں۔ انہیں مجھ سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ ہر ظالم سرکش کی طرف بھیجا گیا ہے اور ہر باغی شیطان کی طرف بھیجا گیا ہے پھر وہ گردن ان لوگوں کو اچک لے گی اور حساب شروع ہونے سے چالیس دن یا چالیس سال پہلے انہیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر ایک قوم تیزی سے جنت کی طرف جا رہی ہوگی۔ فرشتے ان سے کہیں گے حساب کے لیے ٹھہرو۔ وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو مال دار تھے اور نہ حکمران تھے۔ ہمارا حساب کیسا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندوں نے سچ کہا۔ میں وعدے کو پورا کرنے والا ہوں۔ جنت میں داخل ہو جاؤ پھر وہ حساب شروع ہونے سے چالیس دن پہلے یا چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36889
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36889، ترقيم محمد عوامة 35315)
حدیث نمبر: 36890
٣٦٨٩٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن جويبر عن الضحاك: ﴿لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَأَنَّهُمْ مُفْرَطُونَ﴾ [النحل: ٦٢] قال: منسيون في النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن کریم کی آیت { لاَ جَرَمَ أَنَّ لَہُمُ النَّارَ وَأَنَّہُمْ مُفْرَطُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آگ میں داخل کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36890
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36890، ترقيم محمد عوامة 35316)
حدیث نمبر: 36891
٣٦٨٩١ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين (عن الحسن) (١): ﴿وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا﴾ [مريم: ٨٦] قال: [ظماء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت الحوضی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِینَ إِلَی جَہَنَّمَ وِرْدًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ پیاسے داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36891
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36891، ترقيم محمد عوامة 35317)
حدیث نمبر: 36892
٣٦٨٩٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن جويبر عن الضحاك: ﴿وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا﴾ قال: عطاشا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ بھی وردا کی تفسیر پیاس سے کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36892
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36892، ترقيم محمد عوامة 35318)
حدیث نمبر: 36893
٣٦٨٩٣ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا شيبان قال: قال قتادة: سمعت أبا نضرة يحدث عن سمرة بن جندب أنه سمع نبي اللَّه ﷺ (يقول) (١): "إن منهم من تأخذه النار إلى كعبيه، ومنهم من تأخذه النار إلى ركبتيه، ومنهم من تأخذه إلى حجزته، ومنهم من تأخذه إلى ترقوته" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بعض لوگوں کو آگ ٹخنوں تک پکڑے گی بعض کو گھٹنوں تک پکڑے گی بعض کو کمر تک اور بعض کو گردن تک آگ پکڑے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36893
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٤٥)، وأحمد (٢٠١٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36893، ترقيم محمد عوامة 35319)
حدیث نمبر: 36894
٣٦٨٩٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير (قال) (١): حدثنا فضيل بن غزوان عن محمد الراسبي عن بشر بن عاصم قال: كتب عمر بن الخطاب (عهد بشر) (٢) بن عاصم فقال: لا حاجة لي فيه إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن الولاة (يجاء) (٣) بهم يوم القيامة (فيوقفون) (٤) على جسر جهنم، فمن كان مطواعا للَّه تناوله اللَّه بيمينه حتى ينجيه، ومن كان عاصيا للَّه (انحرف) (٥) به الجسر إلى واد من نار يلتهب التهابًا"، قال: فأرسل عمر إلى سلمان وأبي ذر فقال لأبي ذر: أنت سمعت هذا الحديث من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم واللَّه، وبعد الوادي واد آخر من نار، قال: وسأل سلمان فلم يخبر بشيء، فقال عمر: من يأخذها بما فيها؟ فقال: أبو ذر: من ⦗٢٠١⦘ سلب اللَّه (أنفه) (٦) وعينيه و (أضرع) (٧) خده إلى الأرض (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد راسبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت بشر بن عاصم کو گورنری سونپی تو حضرت بشر نے لکھا کہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حکمرانوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور جہنم کے پل پر کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ کے فرماں بردار حکمران کو اللہ تعالیٰ نجات عطا کرے گا اور نافرمان کو جہنم کی وادی میں جلنے کے لیے ڈال دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو حضرت سلمان نے لاعلمی کا اظہار فرمایا اور حضرت ابوذر نے کہا کہ ہاں میں اس حدیث کو جانتا ہوں۔ اور جہنم کی ایک وادی اور بھی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس میں کس کو ڈالا جائے گا۔ حضرت ابوذر نے فرمایا کہ جس کے ناک اور آنکھوں کو اللہ نے خاک آلود کیا اور اس کے رخسار کو زمین پر مل دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36894
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36894، ترقيم محمد عوامة 35320)
حدیث نمبر: 36895
٣٦٨٩٥ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن أبي (سنان) (١) عن عمرو بن مرة عن أبي صالح قال: يحاسب يوم القيامة الذين أرسل إليهم الرسل، فيدخل اللَّه الجنة من أطاعه ويدخل النار من عصاه، (ويبقى) (٢) قوم من الولدان والذين هلكوا في الفترة ومن غلب على (عقله فيقول اللَّه ﵎: إنكم قد رأيتم أنما أدخلت الجنة من أطاعني، وأدخلت) (٣) النار من عصاني وإني آمركم أن تدخلوا هذه النار، فيخرج لهم عنق منها، فمن دخلها كانت نجاته، ومن نكص فلم يدخلها كانت هلكته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی طرف رسول بھیجے ہیں ان کا حساب فرمائیں گے، پھر اللہ ان لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا جنہوں نے اس کی اطاعت کی ہے۔ اور جنہوں نے نافرمانی کی ہوگی ان کو جہنم میں داخل فرمائے گا پھر بچے باقی رہ جائیں گے اور وہ لوگ جو فترۃ الوحی کے زمانے میں فوت ہوئے ہوں گے اور وہ لوگ جو مجنوں تھے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بیشک تم نے دیکھ لیا جس نے میری نافرمانی کی اس کو جہنم میں داخل کردیا پس میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں داخل ہوجاؤ پھر ان کیلئے اس میں سے ایک گردن نمو دار ہوگی پس جو اس میں داخل ہوگا اس کیلئے نجات ہوگی اور جو رکے گا اور داخل نہ ہوگا اس کیلئے ہلاکت ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36895
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36895، ترقيم محمد عوامة 35321)
حدیث نمبر: 36896
٣٦٨٩٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح قال: لما مرض أبو طالب قالوا (له) (١): أرسل إلى ابن أخيك هذا فيأتيك بعنقود من جنته، لعله يشفيك به، قال: فجاء الرسول وأبو بكر عند النبي ﷺ جالس، فقال أبو بكر: إن اللَّه حرمها على الكافرين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح سے مروی ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کے پاس کسی کو بھیجو تاکہ وہ تمہارے پاس جنت سے انگور کا کوئی خوشہ لائے شاید کہ اس سے آپ کو شفاء مل جائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہانحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر اس کو (جنت کی نعمتوں کو) حرام کردیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36896
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو صالح تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36896، ترقيم محمد عوامة 35322)
حدیث نمبر: 36897
٣٦٨٩٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا الأزرق ابن (قيس) (١) قال: حدثني رجل من بني تميم قال: كنا عند أبي العوام فقرأ هذه الآية ﴿تِسْعَةَ عَشَرَ﴾ [المدثر: ٣٠] فقال: ما تقولون: (أتسعة) (٢) عشر ألف ملك أو تسعة عشر ملكا؟ قال: فقلت لا، بل تسعة عشر ملكًا قال: ومن أين تعلم ذلك؟ فقلت: لأن اللَّه يقول: ﴿وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [المدثر: ٣١] قال: صدقت بيد كل ملك مرزبة من حديد لها شعبتان فيضرب الضربة (فهوى) (٣) بها سبعين ألف (ملك) (٤) ما بين منكبي كل (ملك) (٥) منهم مسيرة كذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
بنو تمیم کے ایک شخص سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ابو عوام کے پاس تھے انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی { عَلَیْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ } اور فرمایا تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ انیس ہزار فرشتے ہیں یا صرف انیس ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا انیس انہوں نے دریافت فرمایا تمہیں کہاں سے معلوم ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ اس لیے کہ اللہ فرماتے ہیں { وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلاَّ فِتْنَۃً لِلَّذِینَ کَفَرُوا } انہوں نے فرمایا کہ تو نے ٹھیک کہا ہر فرشتہ کے ہاتھ میں ایک ہتھوڑا ہے جو لوہے کا ہے اور اس کے دو کونے ہیں وہ اس سے ایک مرتبہ مارتا ہے تو اس سے ستر ہزار فرشتے گرتے ہیں ہر فرشتے کے دو کندھوں کے درمیان اتنی اتنی مسافت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36897
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36897، ترقيم محمد عوامة 35323)
حدیث نمبر: 36898
٣٦٨٩٨ - حدثنا شبابة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: بلغني أن أهون أهل النار عذابا له نعل من نار يغلي منها دماغه (و) (١) يصيح قلبه ويقول: ما عذب أحد (بأشد) (٢) مما عذب به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید سے مروی ہے کہ سب سے ہلکا عذاب جس کو ہوگا اس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جس سے اس کا دماغ ابلے گا اور اس کا دل چیخے گا اور پھٹنے کے قریب ہوگا اور وہ کہے گا کہ کسی کو اتنا سخت عذاب نہیں دیا گیا جتنے سخت عذاب میں اس کو مبتلا کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36898
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36898، ترقيم محمد عوامة 35324)
حدیث نمبر: 36899
٣٦٨٩٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن سلمة عن سعيد بن جبير: ﴿فَسُحْقًا لِأَصْحَابِ السَّعِيرِ﴾ [الملك: ١١] قال: واد في جهنم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { فَسُحْقًا لأَصْحَابِ السَّعِیرِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے جہنم کی وادی مراد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36899
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36899، ترقيم محمد عوامة 35325)
حدیث نمبر: 36900
٣٦٩٠٠ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه: ﴿وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ [المؤمنون: ١٠٤] قال: كما (يُشيط) (١) الرأس عند الرآس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ قرآن کریم کی آیت { وَہُمْ فِیہَا کَالِحُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جیسے سری فروخت کرنے والے کے پاس سری کو آگ پر گرم کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36900
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ يحيى بن يمان فيه ضعف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36900، ترقيم محمد عوامة 35326)
حدیث نمبر: 36901
٣٦٩٠١ - حدثنا أبو عبد الرحمن المقرئ عن سعيد بن أبي أيوب قال: سمعت دراجا (أبا) (١) السمح قال: سمعت أبا الهيثم يقول: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "يسلط على الكافر في قبره تسعة وتسعون تنينا تنهشه وتلدغه حتى تقوم الساعة ولو أن تنينا منها نفخ في الأرض ما أنبتت خضراء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کافر کے قبر میں اس پر ننانویں اژ دھے مسلط کردیے جائیں گے جو اس کو قیامت تک کاٹتے رہیں گے اگر ان میں سے ایک اژ دھا بھی زمین پر پھونک مار دے تو زمین میں سبزا اگنا ختم ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36901
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال دراج، وأخرجه أحمد (١١٣٣٤)، وابن حبان (٣١٢١)، وعبد بن حميد (٩٢٩)، والدارمي ٢/ ٣٣١، والآجري في الشريعة (ص ٣٥٩)، كما أخرجه أبو يعلى (١٣٢٩)، والبيهقي في إثبات عذاب القبر (٦١)، والطبري في التفسير ١٦/ ٢٢٧، نحوه موقوفًا على أبي سعيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36901، ترقيم محمد عوامة 35327)
حدیث نمبر: 36902
٣٦٩٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي الأشهب عن الحسن قال: ﴿إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾ [الفرقان: ٦٥] قال: (علموا) (١) أن كل غريم (يفارق) (٢) (غريمه) (٣) إلا غريم جهنم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن کریم کی آیت {إِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جان لو ہر قرض خواہ اپنے قرض دار سے جدا ہونے والا ہے سوائے جہنم کے قرض دار کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36902
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36902، ترقيم محمد عوامة 35328)
حدیث نمبر: 36903
٣٦٩٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن الحسن: ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ﴾ قال: الجنة: ﴿وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ﴾ [الحديد: ١٣]، قال: النار.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن کریم کی آیت { فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُورٍ لَہُ بَابٌ بَاطِنُہُ فِیہِ الرَّحْمَۃُ } سے مراد ہے جنت اور { وَظَاہِرُہُ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ } سے مراد ہے جہنم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36903
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36903، ترقيم محمد عوامة 35329)
حدیث نمبر: 36904
٣٦٩٠٤ - حدثنا يحيى بن يمان عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير قال: بعث موسى وهارون ابني هارون بقربان يقربانه (فقالا) (١): أكلته النار (وكذبا) (٢) فأرسل للَّه عليهما نارًا؛ فأكلتهما، فأوحى اللَّه إليهما: هكذا أفعل بأوليائي فكيف بأعدائي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت ہارون کے دو بیٹوں کو قربانی کیلئے بھیجا انہوں نے آ کر جھوٹ بولا کہ اس کو آگ کھا گئی ہے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر آگ نازل فرمائی جس نے ان دونوں کو جلا دیا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی طر ف وحی فرمائی اور فرمایا میں اپنے اولیاء کے ساتھ ایسا کرتا ہوں تو اپنے دشمنوں کے ساتھ کیسا معاملہ کروں گا ؟ !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36904
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36904، ترقيم محمد عوامة 35330)
حدیث نمبر: 36905
٣٦٩٠٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن إسماعيل عن الحسن أن هرم بن حيان كان يقول لم أر مثل النار نام هاربها، ولا مثل الجنة نام طالبها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہرم بن حیان فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اس آگ کے مثل نہیں دیکھا کہ جس سے بھاگنے والا سویا ہوا ہے اور میں نے جنت کے مثل نہیں دیکھا کہ اس کا طالب سویا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36905
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36905، ترقيم محمد عوامة 35331)
حدیث نمبر: 36906
٣٦٩٠٦ - حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبيد اللَّه بن المغيرة عن سليمان بن عمرو بن عبد العتواري (أحد بني) (١) ليث وكان في حجر أبي سعيد الخدري عن أبي سعيد الخدري قال: سمعته يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "يوضع الصراط بين ظهراني جهنم عليه (حسك كحسك) (٢) السعدان، ثم (يستجيز) (٣) الناس فناج مسلم و (مخدوج) (٤) به ثم (ناج) (٥) (و) (٦) محتبس (٧) منكوس فيه، فإذا فرغ اللَّه من القضاء بين العباد (يفقد) (٨) المؤمنون رجالا كانوا في (الدنيا) (٩) كانوا يصلون صلاتهم ويزكون زكاتهم ويصومون صيامهم ويحجون حجهم ويغزون غزوهم فيقولون: أي ربنا، عباد من عبادك، كانوا معنا في (الدنيا) (١٠)، يصلون صلاتنا ويزكون زكاتنا ويصومون صيامنا ويغزون غزونا لا نراهم، قال: فيقول: اذهبوا إلى النار فمن وجدتم فيها فأخرجوه منها، (فيجدونهم) (١١) قد ⦗٢٠٥⦘ أخذتهم النار على قدر أعمالهم، فمنهم من أخذته إلى قدميه، ومنهم من أخذته إلى نصف ساقيه، (ومنهم من أخذته إلى ركبتيه، ومنهم من أزرته، ومنهم من أخذتهم إلى ثديه) (١٢)، ومنهم من أخذته إلى عنقه ولم يغش الوجه، فيطرحونهم في ماء الحياة"، قيل يا رسول اللَّه وما ماء الحياة؟ قال: "غسل أهل الجنة، فينبتون كما تنبت الزريعة في (غثاء) (١٣) السيل، ثم يشفع الأنبياء فيمن كان يشهد أن لا إله إلا اللَّه مخلصا، ثم يتحنّنُ (اللَّه) (١٤) برحمته على من فيها، فما يترك فيها عبدا في قلبه مثقال حبة من (ايمان) (١٥) إلا أخرجه منها" (١٦)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائے گا۔ اس میں سعدان نامی بوٹی جیسے کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگ اسے عبور کرنا شروع کریں گے۔ بعض لوگ تو سلامتی کے ساتھ نجات پالیں گے۔ بعض ایسے ہوں گے جو اس سے مل کر نجات پالیں گے۔ بعض ایسے ہوں گے جو اس میں قید کرلیے جائیں گے اور اس میں پھینک دیے جائیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو اہل ایمان کو کچھ ایسے لوگ نظر نہ آئیں گے جو دنیا میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ زکوٰۃ دیا کرتے تھے۔ روزے رکھا کرتے تھے، حج کرتے تھے اور جہاد کیا کرتے تھے۔ مومن کہیں گے : اے ہمارے رب ! آپ کے بعض بندے ایسے ہیں جو دنیا میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ زکوٰۃ دیا کرتے تھے۔ روزے رکھا کرتے تھے، حج کرتے تھے اور جہاد کیا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم جہنم کی طرف جاؤ، تمہیں ان میں سے جو نظر آئے اسے نکال لو۔ وہ جہنم کی طرف جائیں گے تو آگ نے لوگوں کو ان کے اعمال کے بقدر پکڑ رکھا ہوگا۔ بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کے قدموں تک آگ ہوگی، بعض کی آدھی پنڈلیوں تک آگ ہوگی۔ بعض کے گھٹنوں تک، بعض کے پیٹ تک، بعض کے سینوں تک اور بعض کی گردن تک آگ میں لپٹا ہوگا۔ پھر انہیں آبِ حیات میں ڈالا جائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آبِ حیات کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ پانی جس سے اہل جنت غسل کرتے ہوں گے۔ پھر وہ یوں اگ آئیں گے جیسے پانی میں کھیتی اگتی ہے۔ پھر انبیاء ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت مزید اہل جہنم پر فرمائیں گے اور ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیں گے جس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36906
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، أخرجه أحمد (١١٠٨١)، وابن ماجه (٤٢٨٠)، والحاكم ٤/ ٥٨٥، والطبري ١٦/ ١١٣، وابن خزيمة في التوحيد (ص ٣٢٥)، والمروزي في زيادات زهد ابن المبارك (١٢٦٨)، وأصله في البخاري (٤٥٨١)، ومسلم (١٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36906، ترقيم محمد عوامة 35332)
حدیث نمبر: 36907
٣٦٩٠٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا سعيد بن زيد قال: سمعت أبا سليمان العصري قال: حدثني عقبة بن صُهْبان قال: سمعت أبا (بكرة) (١) عن النبي ﷺ قال: "يحمل الناس على الصراط يوم القيامة فتقادع بهم (جنبتا) (٢) الصراط تقادع الفراش في النار قال: (فيتحنن) (٣) اللَّه برحمته على من يشاء، قال: ثم يؤذن للملائكة والنبيين والشهداء أن يشفعوا، فيشفعون ويخرجون، ويشفعون ويخرجون، (ويشفعون ويخرجون) (٤) من ⦗٢٠٦⦘ كان في قلبه (ما يزن) (٥) ذرة من ايمان" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو قیامت کے دن پل صراط پر لایا جائے گا۔ لوگ اس پر سے یوں آگ میں گریں گے جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے گا اپنی رحمت فرمائے گا۔ پھر فرشتوں، نبیوں اور شہداء سے کہا جائے گا کہ سفارش کرو۔ وہ سفارش کریں گے اور جہنمیوں کو جہنم سے نکالیں گے۔ پھر سفارش کریں گے پھر نکالیں گے۔ پھر سفارش کریں گے پھر نکالیں گے۔ پھر ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36907
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ العصري ثقة واسمه كعب بن شيبب، وسعيد بن زيد صدوق، أخرجه أحمد وابنه (٢٠٤٤٠)، والبخاري في الكنى (ص ٣٧)، والبزار (٣٦٧١)، وابن أبي عاصم في السنة (٨٣٨)، والدولابي ١/ ١٩٥، والطبراني في الصغير (٩٢٩)، والخطيب في تاريخ بغداد ٣/ ٤٢٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36907، ترقيم محمد عوامة 35333)