کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
حدیث نمبر: 36828
٣٦٨٢٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن العلاء بن خالد الأسدي عن (شقيق) (١) ابن سلمة عن ابن مسعود في قوله: ﴿وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ﴾ [الفجر: ٢٣] قال: جيء بها تقاد بسبعين ألف زمام، مع كل زمام سبعون ألف ملك يجرونها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { وَجِیئَ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ } کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ جہنم کو ستر ہزار لگاموں میں لایا جائے گا ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36828
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الترمذي (٢٥٧٣)، وابن جرير ٣٠/ ١٨٨، وابن عساكر ٣٣/ ١٧٧، وابن أبي الدنيا في صفة النار (١٧٤)، والبيهقي في الشعب (٨٤٧٨)، وصحح الدارقطني في العلل ٥/ ٨٦، الموقوف، وقد ورد مرفوعًا، أخرجه مسلم (٢٨٤٢)، والترمذي (٢٥٧٣)، والحاكم ٤/ ٥٩٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36828، ترقيم محمد عوامة 35254)
حدیث نمبر: 36829
٣٦٨٢٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن المنهال عن شهر بن حوشب عن كعب قال: تزفر جهنم يوم القيامة زفرة، فلا يبقى ملك مقرب ولا نبي مرسل إلا وقع على ركبتيه (يقول) (١): يا رب نفسي نفسي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے مروی ہے کہ قیامت کے دن جہنم ایک لمبا سانس لے گی تو ہر مقرب فرشتہ اور نبی گھٹنوں کے بل جھک کر کہے گا یا رب نفسی نفسی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36829
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36829، ترقيم محمد عوامة 35255)
حدیث نمبر: 36830
٣٦٨٣٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (١) عن مالك بن الحارث عن مغيث ⦗١٨٣⦘ ابن سمي قال: إن لجهنم كل يوم زفرتين، ما يبقى شيء إلا (سمعهما) (٢) إلا الثقلين اللذين عليهما العذاب والحساب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیث سے مروی ہے کہ جہنم ہر دن دو مرتبہ سانس لیتی ہے، جن وانس کے سوا ہر مخلوق اس کو سنتی ہے (جن پر حساب و عذاب ہے وہ نہیں سنتے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36830
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36830، ترقيم محمد عوامة 35256)
حدیث نمبر: 36831
٣٦٨٣١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي ظبيان عن سلمان قال: النار (سوداء) (١) مظلمة، لا يضيء جمرها ولا يطفى لهبها، ثم قرأ: ﴿كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا (مِنْ غَمٍّ) (٢) أُعِيدُوا فِيهَا﴾ وقيل لهم: ﴿وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴾ [الحج: ٢٢] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے مروی ہے کہ جہنم کی آگ سیاہ ہے اس کی چنگاری روشن نہیں ہے اور اس کا شعلہ بجھتا نہیں ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی : { کُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ یَخْرُجُوا مِنْہَا مِنْ غَمٍّ ، أُعِیدُوا فِیہَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِیقِ }۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36831
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو ظبيان حصين بن جندب الجخبي ثقة، أخرجه الحاكم ٢/ ٤٢٠ (٣٤٥٩)، وابن أبي الدنيا في صفة النار (١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36831، ترقيم محمد عوامة 35257)
حدیث نمبر: 36832
٣٦٨٣٢ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن أبي سنان عن (ابن) (١) أبي الهذيل قال: لفحتهم النار لفحة فما أبقت لحما على عظم إلا ألقته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی الھزیل سے مروی ہے کہ جہنم کی آگ ان کے چہروں کو جھلسا دے گی، کسی بھی ہڈی پر کوئی گوشت باقی نہ بچے گا وہ گوشت گرجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36832
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36832، ترقيم محمد عوامة 35258)
حدیث نمبر: 36833
٣٦٨٣٣ - حدثنا أبو أسامة عن سعيد (بن) (١) أبي عروبة عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد اللَّه بن عمرو قال: إن أهل النار نادوا: ﴿يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ فخلى عنهم أربعين عاما ثم أجابهم: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [الزخرف: ٧٧] قال: فقالوا: ﴿أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ قال: فخلى عنهم (مثل) (٢) الدنيا، ثم أجابهم: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: ١٠٧ و ١٠٨] قال: فلم (ينبس) (٣) القوم ⦗١٨٤⦘ بعد ذلك بكلمة، إن كان إلا الزفير والشهيق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جہنمی لوگ پکاریں گے { یَا مَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّک } چالیس سال تک ان کو جواب نہ دیا جائے گا پھر ان کو جواب دیا جائے گا کہ {إِنَّکُمْ مَاکِثُونَ } پھر جہنمی کہیں گے { أَخْرِجْنَا مِنْہَا ، فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ } پھر ان کو دنیا کی عمر کی بقدر جواب نہ دیا جائے گا اور پھر ان کو کہا جائے گا { اخْسَؤُوا فِیہَا ، وَلاَ تُکَلِّمُون } پھر اس کے بعد ان کے منہ سے سوائے چیخ و پکار کے کوئی اور کلمہ نہ نکلے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36833
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٣٩٥، وابن جرير ٢٥/ ٩٩، والبغوي في التفسير ٤/ ١٤٦، وابن أبي الدنيا في صفة النار (١٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36833، ترقيم محمد عوامة 35259)
حدیث نمبر: 36834
٣٦٨٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن مغيث بن سمي قال: إذا جيء بالرجل إلى النار قيل: انتظر حتى نتحفك، قال: فيؤتى بكأس من سم الأفاعي والأساود، إذا أدناها من فيه نثرت اللحم على حدة والعظم على حدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیث سے مروی ہے کہ جب جہنمی کو جہنم کی طرف لایا جائے گا تو اس کو کہا جائے گا ٹھہرو، تاکہ ہم تجھے تحفہ دیں پھر اس کے پاس سانپ کے زہر کا ایک پیالہ لایا جائے گا جب وہ اس کو منہ کے قریب کرے گا تو اس کا گوشت ایک طرف اور ہڈیاں ایک طرف بکھر جائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36834
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36834، ترقيم محمد عوامة 35260)
حدیث نمبر: 36835
٣٦٨٣٥ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل بن سميع عن أبي رزين: ﴿لَوَّاحَةٌ لِلْبَشَرِ﴾ [المدثر: ٢٩] قال: لوح جلده حتى تدعه أشد سوادا من الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { لَوَّاحَۃٌ لِلْبَشَرِ } کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کا رنگ تبدیل ہوجائے گا یہاں تک کہ رات سے زیادہ سیاہ ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36835
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36835، ترقيم محمد عوامة 35261)
حدیث نمبر: 36836
٣٦٨٣٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة عن خيثمة عن عبد اللَّه: ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ﴾ [النساء: ١٤٥] قال: في توابيت مبهمة عليهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ قرآن کریم کی آیت {إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ } کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ : منافقین تابوتوں میں جکڑے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36836
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36836، ترقيم محمد عوامة 35262)
حدیث نمبر: 36837
٣٦٨٣٧ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن هبيرة عن علي قال: أبواب النار بعضها فوق بعض يبدأ بالأسفل فيملأ فهو أسفل (سافلين) (١)، ثم الذي يليه، ثم الذي يليه حتى (يملأ) (٢) النار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جہنم کے دروازے ایک دوسرے کے اوپر ہیں سب سے پہلے سب سے نچلے سے ابتدا کی جائے گی اس کو بھرا جائے گا، وہ اسفل السافلین ہے پھر اس کے بعد والے کو پھر اس کے بعد والے کو یہاں تک کہ جہنم کو بھر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36837
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هبيرة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36837، ترقيم محمد عوامة 35263)
حدیث نمبر: 36838
٣٦٨٣٨ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن أبي هارون عن حطان بن عبد اللَّه قال: قال علي: أتدرون كيف أبواب النار؟ قالوا: نعم، نحو هذه الأبواب، قال: ⦗١٨٥⦘ لا، ولكنها هكذا -فوصف إطباقَ بعضها فوق بعض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو جہنم کے دروازے کیسے ہیں ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ان دروازوں کی طرح ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ وہ یوں ہیں اس کے بعض طبقات کو بعض کے اوپر رکھا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36838
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو هارون إبراهيم بن العلاء الغنوي ثقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36838، ترقيم محمد عوامة 35264)
حدیث نمبر: 36839
٣٦٨٣٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو قال: حدثني يحيى ابن عبد الرحمن بن حاطب عن أبيه قال: جلسنا إلى كعب الأحبار في المسجد وهو يحدث، فجاء عمر فجلس في ناحية القوم فناداه فقال: ويحك يا كعب خوفنا، فقال: والذي نفسي بيده إن النار لتقرب يوم القيامة لها زفير وشهيق حتى إذا أدنيت وقربت زفرت زفرة ما خلق اللَّه من نبي ولا صديق ولا شهيد إلا وجثا لركبتيه ساقطًا، حتى يقول كل نبي وكل صديق وكل شهيد: اللهم لا أكلفك اليوم إلا نفسي، ولو كان لك يا ابن الخطاب عمل سبعين نبيا لظننت أن لا تنجو، قال عمر: (واللَّه) (١) إن الأمر لشديد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت کعب بن احبار رحمہ اللہ کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے وہ حدیث بیان کر رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے کنارے پر تشریف فرما ہوگئے پھر ان کو پکارا اور کہا اے کعب تیرا ناس ہو، آج آپ نے ہمیں خوف زدہ کردیا حضرت کعب نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قیامت کے دن آگ قریب ہوجائے گی اس کیلئے چیخ و پکار ہوگی یہاں تک کہ جب وہ قریب ہوجائے گی تو وہ ایک مرتبہ سانس لے گی اس کی ہیبت کی وجہ سے تمام انبیاء صدیقین اور شہداء گھٹنوں کے بل جھک جائیں گے، اور پھر ہر نبی صدیق اور شہید کہے گا : اے اللہ آج میں آپ سے صرف اپنا ہی سوال کرتا ہوں اور اے ابن خطاب ! اگر تیرے لیے نبیوں کا عمل بھی ہو پھر بھی تجھے خوف ہوگا کہ تیری نجات نہ ہوگی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : خدا کی قسم معاملہ بہت زیادہ سخت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36839
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو بن علقمة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36839، ترقيم محمد عوامة 35265)
حدیث نمبر: 36840
٣٦٨٤٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء قال: يلقى على أهل النار الجوع حتى يعدل عنهم ما هم فيه من العذاب، قال: فيستغيثون فيغاثون بالضريع لا يسمن ولا يغني من جوع فيستغيثون فيغاثون بطعام ذي غُصّة فيذكرون أنهم كانوا يجيزون الغصص بالشراب، فيستغيثون فيغاثون بماء من حميم في كلاليب من حديد، فإذا أدنوه إلي وجوههم شوى وجوههم، فإذا أدخلوه بطونهم قطع ما في بطونهم، قال: فينادون: ﴿دْعُوا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِنَ الْعَذَابِ﴾ قال: فيجابون: ﴿أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا بَلَى (قَالُوا) (١) فَادْعُوا وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ﴾ [غافر: ٤٩ و ٥٠] قال: فيقولون: نادوا مالكا فينادون: ﴿يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ قال: فأجابهم: ⦗١٨٦⦘ ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [الزخرف: ٤٣] قال: فيقولون ادعوا ربكم فلا شيء أرحم بكم من ربكم قال: فيقولون: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾! قال: فيجيبهم: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: ١٠٧ و ١٠٨] قال: فعند ذلك يئسوا من كل خير ويأخذون في الويل والشهيق والثبور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء سے مروی ہے کہ جہنمیوں کو بھوک ستائے گی، پھر وہ مدد طلب کریں گے، ان کی ضریع سے مدد کی جائے گی جو ان کا پیٹ نہیں بھرے گی اور نہ ہی ان کو صحت مند کرے گی وہ پھر مدد طلب کریں گے تو ان کی طعام ذی غصۃ سے مدد کی جائے گی (جو گلے میں اٹک جاتی ہے) پھر وہ یاد کریں گے کہ گلے میں اٹک جانے والی چیز کو پینے والی چیز سے دور کرتے تھے، پھر وہ طلب کریں گے پھر ان کو لوہے کے برتنوں میں گرم کھولتا پانی پیش کیا جائے گا، جب وہ اس کو قریب کریں گے تو وہ ان کے چہروں کو جلا دے گا، اور جب اس کو پییں گے تو ان کے پیٹ کے تمام اعضاء کو کاٹ ڈالے گا، پھر وہ پکاریں گے { اُدْعُوَا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِنَ الْعَذَابِ } ان کو جواب دیا جائے گا کہ { أَوَلَمْ تَکُ تَأْتِیکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنَاتِ ، قَالُوا بَلَی ، قَالُوا فَادْعُوَا ، وَمَا دُعَائُ الْکَافِرِینَ إِلاَّ فِی ضَلاَلٍ } پھر وہ کہیں گے مالک کو آواز دو تو وہ کہیں گے { یَا مَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّک } مالک ان کو جواب دے گا {إِنَّکُمْ مَاکِثُونَ } پھر وہ کہیں گے اپنے رب کو پکارو، بیشک تمہارے رب سے زیادہ کوئی چیز رحم کرنے والی تم پر نہیں ہے، پھر وہ کہیں گے { رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْہَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ } ان کو جواب دیا جائے گا کہ { اِخْسَؤُوا فِیہَا وَلاَ تُکَلِّمُونِ } پھر وہ ہلاکت و بربادی اور چیخ و پکار کو لازم پکڑیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36840
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36840، ترقيم محمد عوامة 35266)
حدیث نمبر: 36841
٣٦٨٤١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن الرقاشي عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يلقى البكاء على أهل النار فيبكون حتى ينفد الدموع، قال: ثم يبكون الدم حتى أنه ليصير في وجوههم أخدودا لو أرسلت فيه السفن لجرت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہنمیوں پر رونا، دھونا ڈال دیا جائے گا، وہ اتنا روئیں گے کہ ان کے آنسو خشک ہوجائیں گے پھر وہ خون کے آنسو روئیں گے ان کے چہروں پر گڑھے (کنویں کی مانند) پڑجائیں گے اگر ان آنسوؤں پر کشتیوں کو چلایا جاتا تو البتہ وہ چل پڑتیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36841
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبان الرقاشي، أخرجه ابن ماجة (٤٣٢٤)، وهناد في الزهد (٣١١)، وأبو يعلى (٤١٣٤)، وابن المبارك (٢٩٥)، والبيهقي في البعث (٥٩٤)، والخطيب ١١/ ٢٨٢، وابن عدي ٤/ ٢٤٥، وابن أبي الدنيا في صفة النار (٢٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36841، ترقيم محمد عوامة 35267)
حدیث نمبر: 36842
٣٦٨٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١): عن سلام بن مسكين عن قتادة عن أبي بردة عن أبي موسى قال: إن أهل النار ليبكون في النار حتى لو أجريت السفن في دموعهم لجرت، ثم إنهم ليبكون الدم بعد الدموع وبمثل ما هم فيه (فليبك له) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ جہنمی لوگ جہنم میں روئیں گے یہاں تک کہ اگر ان کے آنسوؤں میں کشتیوں کو چلایا جاتا تو ہ بھی چل پڑتیں، پھر آنسوؤں کے بعد خون کے آنسو روئیں گے اور اسی کے مثل ان کو رلایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36842
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦١، والخطيب ٥/ ٤٤٧، وورد مرفوعًا أخرجه الحاكم ٤/ ٦٠٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36842، ترقيم محمد عوامة 35268)
حدیث نمبر: 36843
٣٦٨٤٣ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي إسحاق عن النعمان بن بشير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أهون أهل النار عذابا من له نعلان وشراكان (من ⦗١٨٧⦘ نار) (١) يغلي منهما دماغه كما يغلي المرجل، ما يرى أن أحدا أشد عذابا منه، وإنه لأهونهم عذابا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس کو ہوگا جس کو آگ کے جوتے پہنائیں جائیں گے اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا جیسے ہانڈی ابلتی ہے وہ شخص نہیں دیکھے گا کہ کسی کو اس سے زیادہ سخت عذاب ہو رہا ہو، بیشک وہ سب سے کم اور ہلکے عذاب والا ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36843
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالتحديث عند أحمد (١٨٣٩٠)، وأخرجه البخاري (٦٥٦٢)، ومسلم (٢١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36843، ترقيم محمد عوامة 35269)
حدیث نمبر: 36844
٣٦٨٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أدنى أهل النار عذابًا لرجل عليه نعلان يغلي منهما دماغه كأنه مرجل، مسامعه جمر، وأضراسه جمر، وأشفاره لهب النار، ويخرج أحشاء جنبيه من قدميه، وسائرهم (كالحب) (١) القليل في الماء الكثير فهو يفور" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہنم میں سب سے کم عذاب اس شخص کو ہوگا کہ جس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا اس کے کان انگارے کے ہوں گے اس کی ڈاڑھیں انگارے کی ہوں گی اس کے ہونٹ آگ کے ہوں گے اس کی ایڑیاں پاؤں کی طرف سے نکل جائیں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36844
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عبيد تابعي، وأخرجه هناد (٣٥٩)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٢٧٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36844، ترقيم محمد عوامة 35270)
حدیث نمبر: 36845
٣٦٨٤٥ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: حدثنا زهير بن محمد عن سهيل بن أبي صالح عن النعمان بن أبي عياش عن أبي سعيد الخدري أن رسول اللَّه ﷺ قال: " (١) أدنى أهل النار عذابا ينتعل بنعلين من نار يغلى دماغه من حرارة نعليه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہنمیوں میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جس کی حرارت کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36845
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١١)، وأحمد ١٣/ ٣ (١١١١٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36845، ترقيم محمد عوامة 35271)
حدیث نمبر: 36846
٣٦٨٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا ثابت عن أبي عثمان عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن أهون أهل النار عذابا أبو طالب وهو منتعل بنعلين من نار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہوگا اس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36846
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١٢)، وأحمد (٢٦٣٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36846، ترقيم محمد عوامة 35272)
حدیث نمبر: 36847
٣٦٨٤٧ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن النعمان بن بشير قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ وهو على المنبر يقول: "أنذركم النار -حتى سقط إحدى عطفي ردائه ⦗١٨٨⦘ عن منكبيه- وهو يقول: أنذركم النار، حتى لو كان في مكاني هذا لأسمع أهل السوق أو من شاء اللَّه منهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ : تم لوگوں کو آگ سے ڈراتا ہوں یہاں تک کہ آپ کی چادر مبارک آپ کے ایک کندھے سے گرگئی پھر فرمایا : تم لوگوں کو آگ سے ڈراتا ہوں، یہاں تک کہ اگر میری اس جگہ پر ہوتا تو میں بازار والوں کو سنوا دیتا، یا انہیں سے جس کو اللہ چاہتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36847
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه أحمد (١٨٣٦٠)، وابن حبان (٦٤٤)، والحاكم ١/ ٢٨٧، والطيالسي (٧٩٢)، والدارمي (٢٨١٢)، والبيهقي ٣/ ٢٠٧، والبزار (٣٢٢٤/ كشف)، وعبد اللَّه ابن أحمد في الزهد (ص ٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36847، ترقيم محمد عوامة 35273)
حدیث نمبر: 36848
٣٦٨٤٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اشتكت النار إلى ربها فقالت: رب أكل بعضي بعضا، فجعل لها نفسين: نفس في الصيف ونفس في الشتاء، فشدة ما تجدون من البرد من زمهريرها، وشدة ما تجدون من الحر من سمومها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہنم نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی اور کہا اے اللہ ! میرے بعض حصہ نے بعض کھالیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے دو سانس متعین فرما دیئے، ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس سردی میں پس سردی میں جو تم شدت پاتے ہو وہ اس کی سردی کی وجہ سے ہوتی ہے اور گرمیوں میں جو تم گرمی میں شدت پاتے ہو وہ اس کی گرمی کی وجہ سے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36848
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٣٦)، ومسلم (٦١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36848، ترقيم محمد عوامة 35274)
حدیث نمبر: 36849
٣٦٨٤٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق عن عبد اللَّه في قوله: ﴿زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ﴾ [النحل: ٨٨] قال: زيدوا عقارب (أذنابها) (١) كالنخل الطوال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ قرآن کریم کی آیت { زِدْنَاہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ : زیادہ کردو بچھوؤں کو جن کی دمیں کھجور کے درختوں کی طرح لمبی ہوں گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36849
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٥٩٣، وعبد الرزاق في التفسير ٢/ ٣٦٢، وهناد في الزهد (٢٦٠)، وابن جرير ١٤/ ١٦٠، والطبراني (٩١٠٣)، وأبو يعلى (٢٦٥٩)، وابن أبي الدنيا في صفة النار (٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36849، ترقيم محمد عوامة 35275)
حدیث نمبر: 36850
٣٦٨٥٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن يونس عن حميد بن هلال قال: حدثت عن كعب قال: إن في جهنم تنانير ضيقها كضيق زج رمح أحدكم في الأرض تطبق على قوم بأعمالهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے مروی ہے کہ بیشک جہنم میں کئی تنور ہیں ان کی تنگی ایسی ہے جیسے تم میں سے کسی ایک کے نیزے کا نچلا حصہ ہو لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اس میں ڈالا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36850
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36850، ترقيم محمد عوامة 35276)
حدیث نمبر: 36851
٣٦٨٥١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن (عون) (١) بن عبد اللَّه ابن عتبة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اختصمت الجنة والنار ⦗١٨٩⦘ فقالت النار: فيَّ (المتكبرون) (٢) وأصحاب الأموال والأشراف، وقالت الجنة: مالي لا يدخلني إلا الضعفاء والمساكين، فقال اللَّه تعالى للجنة: أنت رحمتي أدخلك من شئتُ، وقال للنار: أنت عذابي أعذب بك من شئت، وكلاكما سأملأ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : جنت وجہنم کا آپس میں مخاصمہ ہوا، جہنم نے کہا مجھ میں متکبرین مالدار اور عزت دار لوگ ہیں جنت نے کہا مجھ میں صرف ضعفاء اور مساکین داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت کی جگہ ہے جس کو چاہوں گا تجھ میں داخل کروں گے اور جہنم سے فرمایا : تو میرے عذاب کی جگہ ہے جس کو چاہوں گا تیرے ذریعہ عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھر دوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36851
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط ورواية ابن فضيل عنه بعد اختلاطه، أخرجه الآجري في الشريعة (ص ٣٩١)، وقد ورد من غير طريق عطاء، أخرجه البخاري (٧٤٤٩)، ومسلم (٢٨٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36851، ترقيم محمد عوامة 35277)
حدیث نمبر: 36852
٣٦٨٥٢ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد عن النبي ﷺ قال: "يخرج عنق من النار يوم القيامة له (لسان) (١) ينطق فيقول: إني أمرت بثلاثة: أمرت بمن جعل مع اللَّه إلها آخر، وبكل جبار عنيد -وذكر حرفا آخر (٢) - فينطوي عليهم فيقذفهم في غمرات جهنم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی جس کی زبان ہوگی اور وہ بولے گی کہ مجھے تین کاموں کا حکم دیا گیا ہے، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو اللہ کے ساتھ غیر کو شریک ٹھہرائے، اور ہر سرکش متکبر (کو اپنے اندر داخل کروں) اور ایک اور کا ذکر کیا پھر وہ ان پر لیٹ جائے گی اور ان کو جہنم کی مصائب اور سختیوں میں پھینک دے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36852
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى وعطية العوفي، أخرجه أحمد (١٢٣٥٤)، وأبو يعلى (١١٤٦)، وعبد ابن حميد (٨٩٦)، والبزار (٣٥٠٠/ كشف)، والطبراني في الأوسط (٣٩٩٣)، والبيهقي في البعث والنشور (٥٧٧)، والحارث (٧٧٧/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36852، ترقيم محمد عوامة 35278)
حدیث نمبر: 36853
٣٦٨٥٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد قال: إن لجهنم (جبابا) (١) فيها حيات أمثال أعناق البخت و (عقارب) (٢) كالبغال الدلم، قال: (فيهرب أهل) (٣) جهنم إلى تلك (الجباب قال: فتأخذ تلك) (٤) الحيات والعقارب ⦗١٩٠⦘ (بشفاههم) (٥) (فتكشط) (٦) ما بين الشعر إلى الظفر، قال: فما ينجيهم (إلا هرب) (٧) إلى النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ جہنم میں کچھ گڑھے ہیں جن میں بختی اونٹوں کے برابر سانپ ہیں اور سیاہ خچروں کی طرح بچھ وہیں جہنمی بھاگ کر ان گڑھوں کی طرف جائیں گے تو وہ سانپ اور بچھو ان کو ان کے منہ سے پکڑ لیں گے۔ پس ان کو اس سے نجات نہ ملے گی سوائے آگ کی طرف بھاگ کر جانے کے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36853
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36853، ترقيم محمد عوامة 35279)
حدیث نمبر: 36854
٣٦٨٥٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد قال: يلقى الجرب على أهل النار، قال: فيحكون حتى تبدو العظام، قال: فيقولون: ربنا بم أصابنا هذا؟ قال: (فيقال) (١): بأذاكم المؤمنين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ جہنمیوں کو خارش لگ جائے گی وہ خارش کریں گے یہاں تک کہ ان کی ہڈیاں ظاہر ہوجائیں گی وہ عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں یہ تکلیف کیوں دی گئی ؟ ان کو کہا جائے گا کہ مومنوں کو تکلیف دینے کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36854
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36854، ترقيم محمد عوامة 35280)
حدیث نمبر: 36855
٣٦٨٥٥ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن أبي يحيى عن مجاهد عن ابن عباس قال: لو أن قطرة من زقوم جهنم أنزلت (إلى) (١) أهل الأرض (لأفسدت) (٢) على الناس معايشهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں ڈال دیا جائے تو لوگوں کا رہن سہن برباد ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36855
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منكر، لحال أبي يحيى، أخرجه عبد اللَّه في زوائد المسند (٣١٣٧)، والبيهقي في البعث (٥٤٤)، وابن جرير في التفسير ٢٥/ ١٣١، وابن أبي الدنيا في صفة النار (٧٩)، وورد مرفوعًا بإسناد صحيح عند أحمد (٢٧٣٥)، والترمذي (٥٢٨٥)، وابن ماجه (٤٣٢٥)، والنسائي في الكبرى (١١٠٧٠)، وابن حبان (٧٤٧٠)، والحاكم ٢/ ٢٩٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36855، ترقيم محمد عوامة 35281)
حدیث نمبر: 36856
٣٦٨٥٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: لو أن دلوا من صديد جهنم دلي من السماء فوجد أهل الأرض ريحه لأفسد عليهم الدنيا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ اگر جہنم کے کچھ لہو کا ایک ڈول آسمان سے گرا دیا جائے اور زمین والے اس کی بدبو پالیں تو ان کیلئے دنیا میں رہنا مشکل ہوجائے۔ (دنیا فاسد ہوجائے۔ )
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36856
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36856، ترقيم محمد عوامة 35282)
حدیث نمبر: 36857
٣٦٨٥٧ - حدثنا وكيع (بن) (١) الجراح عن الأعمش عن مجاهد قال: إن ناركم هذه تعوذ من نار جهنم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ بیشک تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ سے پناہ مانگتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36857
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36857، ترقيم محمد عوامة 35283)
حدیث نمبر: 36858
٣٦٨٥٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن الرقاشي عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو أن حجرا مثل سبع (خلفات) (١) ألقي من شفير جهنم لهوى فيها سبعين عاما لا يبلغ قعرها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر حاملہ اونٹنی کے برابر پتھر جہنم کے گڑھے میں پھینکا جائے تو ستر سال تک وہ اس کے آخر تک (گڑھے تک) نہیں پہنچے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36858
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال يزيد الرقاشي، أخرجه أبو يعلى (٤١٠٣)، وابن عدي ٢/ ٢٤٧، والآجري في الشريعة (٩٣١)، وابن أبي الدنيا في صفة النار (١٤)، وهناد (٢٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36858، ترقيم محمد عوامة 35284)
حدیث نمبر: 36859
٣٦٨٥٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك قال: سمع رسول اللَّه ﷺ يوما دويا فقال: " (با) (١) جبريل من هذا؟ فقال: حجر ألقي في جهنم من سبعين خريفا الآن حين استقر في قعرها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک دن آواز سنی تو دریافت فرمایا اے جبرائیل ! یہ کیسی آواز ہے ؟ حضرت جبرئیل نے ارشاد فرمایا : ستر سال پہلے ایک پتھر جہنم کے گڑھے میں پھینکا گیا تھا اب وہ اس کی گہرائی تک پہنچا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36859
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد الرقاشي، أخرجه ابن أبي الدنيا في صفة النار (١٦)، والآجري في الشريعة (٩٣١)، وهناد في الزهد (٢٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36859، ترقيم محمد عوامة 35285)
حدیث نمبر: 36860
٣٦٨٦٠ - حدثنا محمد بن بشر عن هارون بن أبي إبراهيم عن أبي (نصر) (١) قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: أنا يوما عند رسول اللَّه ﷺ فرأيناه كئيبا فقال بعضهم: يا رسول اللَّه بأبي وأمي مالي أراك هكذا؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "سمعت هدة لم أسمع مثلها، فأتاني جبريل فسألته عنها فقال: هذا صخر قذف به في النار منذ سبعين خريفا فاليوم استقر قراره"، فقال أبو سعيد: والذي ذهب بنفس نبينا ﷺ ما رأيته ضاحكا بعد ذلك اليوم حتى واراه التراب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نے رسول اکرم ﷺ کو غمگین پایا تو کچھ حضرات نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں آپ کو ایسا کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ایک آواز سنی اس جیسی آواز پہلے نہ سنی تھی۔ میں نے حضرت جبرئیل سے دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا : ستر سال پہلے جہنم کی گہرائی میں ایک پتھر پھینکا گیا تھا آج وہ اس کی گہرائی میں پہنچا ہے، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو وفات دی، میں نے اس دن کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے ہوئے نہ دیکھا یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36860
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36860، ترقيم محمد عوامة 35286)
حدیث نمبر: 36861
٣٦٨٦١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود بن أبي هند قال: حدثنا عبد اللَّه بن قيس عن الحارث بن (أقيش) (١) أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن من أمتي من يعظم للنار حتى يكون أحد زواياها، وإن من أمتي من يدخل الجنة بشفاعته أكثر من مضر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کے بہت سے لوگ آگ کی جہنم میں جلائے جائیں گے اور میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی شفاعت سے قبیلہ مضر سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36861
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36861، ترقيم محمد عوامة 35287)
حدیث نمبر: 36862
٣٦٨٦٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن في قوله: ﴿كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا﴾ [النساء: ٥٦] قال: بلغني أنه يحرق أحدهم في اليوم سبعين ألف مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن کریم کی آیت { کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُہُمْ بَدَّلْنَاہُمْ جُلُودًا غَیْرَہَا } کے متعلق فرماتے ہیں ایک جہنمی کو دن میں ستر ہزار مرتبہ آگ میں جلایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36862
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36862، ترقيم محمد عوامة 35288)
حدیث نمبر: 36863
٣٦٨٦٣ - حدثنا وكيع عن أبي (خشينة) (١) عن الحكم عن أبي هريرة قال: يعظمون في النار حتى تصير شفاههم إلى (سررهم) (٢) مقبوحون يتهافتون في النار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اہل جہنم کو آگ میں ڈالا جائے گا یہاں تک کہ ان کے ہونٹ ان کی ناف تک پہنچ جائے گا۔ وہ آگ میں لوٹ پوٹ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36863
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36863، ترقيم محمد عوامة 35289)
حدیث نمبر: 36864
٣٦٨٦٤ - حدثنا وكيع عن أبي يحيى الطويل عن أبي يحيى (القتات) (١) عن مجاهد (٢) عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "إن أهل النار يعظمون في النار حتى يصير أحدهم مسيرة كذا وكذا، وإن ضرس أحدهم لمثل أحد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل جہنم کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو ان کا جسم بےتحاشا بڑا ہوجائے گا اور ان کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36864
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الطويل والقتات، وأخرجه أحمد (٤٨٠٠)، وعبد بن حميد (٨٠٨)، والطبراني (١٣٤٨٢)، والبيهقي في البعث (٦٢٥)، وابن عدي ٣/ ٢٣٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36864، ترقيم محمد عوامة 35290)
حدیث نمبر: 36865
٣٦٨٦٥ - [حدثنا أبو الأحوض عن أبي إسحاق عن هبيرة عن عبد اللَّه قال: إن ضرس الكافر في النار لمثل أحد] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ بیشک جہنم میں کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36865
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هبيرة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36865، ترقيم محمد عوامة 35291)
حدیث نمبر: 36866
٣٦٨٦٦ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي حيان عن يزيد بن حيان عن زيد بن أرقم قال: إن ضرس الكافر في النار مثل أحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ بیشک جہنم میں ایک کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36866
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وورد مرفوعًا عند أحمد (١٩٢٦٦)، والطبراني (٥٠٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36866، ترقيم محمد عوامة 35292)
حدیث نمبر: 36867
٣٦٨٦٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال ابن مسعود لأبي هريرة: (تدري) (١) كم غلظ جلد الكافر؟ قال أبو هريرة: لا، فقال عبد اللَّه: غلظ جلد الكافر اثنان وأربعون ذراعا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ کافر کی کھال کتنی موٹی ہوگی ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں حضرت عبد اللہ نے ارشاد فرمایا : کافر کی کھال کی موٹائی بیالیس گز ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36867
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في السنة (١١٩٢)، وورد مرفوعًا بنحوه، أخرجه الترمذي (٢٥٧٧)، وابن حبان (٧٤٨٦)، والحاكم ٤/ ٥٩٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36867، ترقيم محمد عوامة 35293)