کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 36818
٣٦٨١٨ - [حدثنا الفضل بن دكين عن أبي قدامة عن أبي عمران الجوني عن أبي بكر بن عبد اللَّه بن قيس عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن للعبد المؤمن في الجنة لخيمة من لؤلوة طولها ثلاثون ميلًا، للعبد المؤمن فيها أهلون لا يرى بعضهم بعضًا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عبد اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں مومن کیلئے ایک موتی کا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی تیس میل ہوگی، مومن کیلئے اس میں اس کے گھر والے ہوں گے، ان میں سے بعض بعض کو نہ دیکھیں گے۔
حدیث نمبر: 36819
٣٦٨١٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن أبي قدامة عن أبي عمران الجوني عن أبي بكر بن عبد اللَّه بن قيس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "جنات الفردوس أربع اثنتان من ذهب حليتهما وآنيتهما وما فيهما وثنتان من فضة حليتهما وآنيتهما وما فيهما وليس بين القوم وبين أن ينظروا إلى ريهم إلا رداء الكبرياء على وجهه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت الفردوس چار ہیں دو سونے کی ہیں اس کے زیور، اس کے برتن اور جو کچھ بھی اس میں ہے وہ سونے کا ہے اور دو چاندی کے ہیں اس کے زیور، اس کے برتن اور جو کچھ بھی ہے وہ چاندی کا ہے اور نہیں ہوگا لوگوں کے درمیان اور ان کے اپنے رب کو دیکھنے کے درمیان مگر کبریائی کی چادر اس کے چہرہ پر ہوگی۔
حدیث نمبر: 36820
٣٦٨٢٠ - حدثنا وكيع عن ابن فضالة عن لقمان بن عامر عن أبي أمامة قال: سمعته يقول: ﴿جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا﴾ [الكهف: ١٠٧] قال: سرة الجنة قال: وسط الجنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ قرآن کریم کی آیت { جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً } کے متعلق فرماتے ہیں کہ جنت کے درمیان میں مہمان نوازی ہوگی۔
حدیث نمبر: 36821
٣٦٨٢١ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن يزيد عن عبد اللَّه بن الحارث عن كعب: ﴿جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا﴾ قال: جنات الأعناب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب قرآن کریم کی آیت { جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً } کے متعلق فرماتے ہیں جنت الاعناب مراد ہے۔ (انگوروں کے باغات)
حدیث نمبر: 36822
٣٦٨٢٢ - [حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: يدخل أهل الجنة الجنة على صورة آدم في مثل طوله: ستون ذراعًا، جرد مرد مكحلون، أبناء ثلاثة وثلاثين، نساؤهم أبكار، ورجالهم مرد] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جنتی جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت میں داخل ہوں گے، ساٹھ گز لمبا قد ہوگا، جسم پر بال نہ ہوں گے اور سرمہ لگا ہوگا ان کی عمریں تینتیس برس ہوں گی ان کی بیویاں باکرہ ہوں گی اور ان کے خاوندوں کے جسموں پر بال نہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36823
٣٦٨٢٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن هشام عن الحسن قال: نخل الجنة جذوعها ذهب، و (كربها) (١) زمرد وياقوت، وسعفها حلل، يخرج الرطب أمثالى القلال أحلى من العسل وأبيض من اللبن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ جنت کے کھجور کے درختوں کے تنے سونے کے اور اس کی جڑ زمرد اور یاقوت اور اس کے پتے زیور ہوں گے، کھجور ان درختوں سے گنبد کے برابر کھجور حاصل ہوگی جو شہد سے زیادہ میٹھی اور دودھ سے زیادہ سفید ہوگی۔
حدیث نمبر: 36824
٣٦٨٢٤ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن محمد بن زياد قال: سمعت أبا هريرة يحدث عن النبي ﷺ قال: "عجب اللَّه من قوم جيء بهم في السلاسل حتى يدخلهم الجنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس قوم پر تعجب فرمائے گا جن کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا جائے گا یہاں تک کہ ان کو جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 36825
٣٦٨٢٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن مغيرة قال: قال حميد بن هلال: ذكر لنا أن الرجل إذا (أدخل) (١) الجنة (فصوّر) (٢) صورة أهل الجنة، وألبس لباسهم، وحُلي حليتهم، ورأى أزواجه وخدمه ومساكنه في الجنة، فأخذه سوار فرح (٣) لو كان ينبغي (٤) أن يموت لمات، قال: فيقول: (أرأيت) (٥) سوار فرحتك هذه فإنها قائمة لك أبدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن ہلال سے مروی ہے کہ جنتی شخص جب جنت میں داخل ہوگا اس کو جنتیوں کی صورت دی جائے گی، اور ان کا لباس اس کو پہنایا جائے گا، اور جنتیوں والا زیور پہنایا جائے گا وہ اپنی بیویوں کو، خدمت گاروں کو اور رہائش گاہ کو جنت میں دیکھے گا، اس پر خوشی کا خمار سوار ہوجائے گا اگر اس کیلئے مرنا ممکن ہو، تو وہ اس خوشی کی وجہ سے مرجاتا، اس کو کہا جائے گا، کیا تو نے اپنی خوشی کی انتہا دیکھ لی، یہ خوشی ہمیشہ تیرے لیے رہے گی۔
حدیث نمبر: 36826
٣٦٨٢٦ - حدثنا عفان (١) قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن لأهل الجنة سوقًا يأتونها كل جمعة فيها كثبان المسك، فإذا خرجوا إليها هبت ريح -قال: حماد أحسبه قال-: شمال فتملأ وجوههم (وثيابهم) (٢) وبيوتهم مسكًا فيزدادون حسنًا وجمالًا، (قال: فيأتون أهليهم فيقولون لهن: لقد ازددتم بعدنا حسنًا وجمالًا ويقلن لهم: وأنتم قد زددتم بعدنا حسنًا وجمالًا) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں جنتیوں کا ایک بازار ہوگا وہ جمعہ کے دن وہاں آئیں گے، وہاں پر مشک کے ٹیلے ہوں گے جب وہ اس کی طرف آئیں گے تو ہوا چلے گی، حضرت حماد فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ شمال ہوگی، ان کے چہرے ان کے کپڑے اور گھر مشک سے بھر جائیں گے، ان کے حسن و جمال میں اضافہ ہوجائے گا، پھر وہ اپنے گھر والوں کے پاس آئیں گے، اور گھر والوں سے کہیں گے کہ ہمارے بعد تمہارے حسن و جمال میں اضافہ ہوگیا ہے، ان کے گھر والے ان سے کہیں گے کہ تمہارے حسن و جمال میں بھی ہمارے بعد اضافہ ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 36827
٣٦٨٢٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن ميسرة الأشجعي عن عكرمة عن ابن عباس قال: سألت كعبا ما سدرة المنتهى؟ فقال: سدرة ينتهي إليها علم الملائكة، وعندها يجدون أمر اللَّه لا يجاوزها (علم) (١)، وسألته عن جنة المأوى فقال: جنة فيها طير خضر ترتقي فيها أرواح الشهداء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت کعب سے دریافت کیا سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے ؟ حضرت کعب نے فرمایا : وہ ایک درخت ہے یہاں پر ملائکہ کا علم ختم ہوجاتا ہے وہاں وہ ا ﷲکا حکم پاتے ہیں وہاں سے ان کا علم تجاوز نہیں کرتا، میں نے ان سے جنت الماوی کے متعلق دریافت کیا ؟ حضرت کعب فرمایا : وہ جنت ہے جس میں سبز پرندے ہیں جس میں شہداء کی روحیں جاتی ہیں۔