کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
٣٦٧٧٨ - حدثنا عبدة بن سليمان عن جويبر عن الضحاك قال: الرفرف: المجالس، والعبقري: الزرابي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ الرفرف سے مراد نیچے بچھانے والا کپڑا اور عبقری سے مراد مسند ہے۔
٣٦٧٧٩ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن هارون بن عنترة عن أبيه عن ابن عباس: ﴿مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفْرَفٍ خُضْرٍ﴾ قال: فضول المجالس والبسط والفرش (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کریم کی آیت { مُتَّکِئِینَ عَلَی رَفْرَفٍ خُضْرٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زائد چادریں اور مسندیں ہوں گی۔
٣٦٧٨٠ - حدثنا قبيصة عن سفيان عن رباح بن أبي معروف عن مجاهد ﴿وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ قال: الديباج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں عبقری حسان سے مراد ریشم ہے۔
٣٦٧٨١ - حدثنا ابن علية عن أبي رجاء عن الحسن: ﴿مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفْرَفٍ خُضْرٍ﴾ قال: البسط، كان أهل الجاهلية يقولون: هي البسط.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن کریم کی آیت { مُتَّکِئِینَ عَلَی رَفْرَفٍ خُضْرٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مسند مراد ہے زمانہ جاہلیت میں کہتے تھے مسندیں۔
٣٦٧٨٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سعيد عن قتادة عن عكرمة قال: الاستبرق الديباج الغليظ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ الاستبرق سے مراد ہے موٹا ریشم۔
٣٦٧٨٣ - حدثنا عبدة بن سليمان عن جويبر عن الضحاك قال: الاستبرق الديباج الغليظ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔
٣٦٧٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا همام قال: حدثنا زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن عبادة بن الصامت عن النبي ﷺ قال: "الجنة مائة درجة بين كل (درجتين) (١) كما بين السماء إلى الأرض، والفردوس أعلاها درجة، ومن فوقها يكون العرش، ومنها تفجر أنهار الجنة الأربعة، فإذا سألتم اللَّه الجنة فاسألوه الفردوس" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کے سو درجات ہیں ہر دو درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے، جنت کا سب سے اوپر والا درجہ جنت الفردوس ہے، اس کے اوپر عرش ہے اور اس سے چار نہریں بہتی ہیں جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو۔
٣٦٧٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿عَلَى سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ﴾ [الحجر: ٤٧] قال: لا ينظر بعضهم في قفا بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { عَلَی سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جنتی بعض بعض کی پشت کو نہ دیکھیں گے۔
٣٦٧٨٦ - حدثنا شريك عن سالم عن سعيد بن جبير: ﴿لَا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُونَ﴾ [الواقعة: ١٩] قال: لا تصدع رؤوسهم ولا (تنزف) (١) عقولهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { لاَ یُصَدَّعُونَ عَنْہَا وَلاَ یُنْزِفُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ نہ سروں میں درد ہوگا اور نہ ہی ان کی عقلیں زائل ہوں گی۔
٣٦٧٨٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن أبي جعفر عن حصين عن مجاهد: ﴿وَكَأسٍ مِنْ مَعِيْنٍ﴾ [الواقعة: ١٨] قال: خمر بيضاء، ﴿لَا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُونَ﴾ قال: لا تصدع رؤوسهم ولا (يعتريها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن کریم کی آیت (وَکَأْسٍ مِنْ مَعِینٍ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ سفید شراب ہوگی اور { لاَ یُصَدَّعُونَ عَنْہَا وَلاَ یُنْزِفُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے ان کے سر میں درد نہ ہوگا اور نہ ہی نشہ چڑھے گا۔
٣٦٧٨٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن أبي عتبة عن سعيد بن جبير
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قرآن کریم کی آیت { مَوْضُونَۃٍ } کا مطلب ہے کہ ان کو بنایا ہوگا سونے کی تاروں کے ساتھ۔
٣٦٧٨٩ - وعن حصين عن مجاهد في قوله: ﴿مَوْضُونَةٍ﴾ [الواقعة: ١٥] قال: أحدهما: (المرملة) (١)، وقال الآخر: (المرمولة) (٢) بالذهب.
٣٦٧٩٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن حسان (١) أبي الأشرس عن مغيث بن سمي قال: يجيء الطير فيقع على الشجرة فيأكل من أحد جنبيه قديدا ومن الآخر شواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیث سے مروی ہے کہ جنت میں پرندہ آئے گا اور درخت پر یا دستر خوان پر بیٹھے گا پس وہ جنتی اس کے ایک پہلو سے شوربے والا گوشت کھائے گا اور دوسرے پہلو سے بھنا ہوا۔
٣٦٧٩١ - حدثنا وكيع عن جعفر بن الزبير عن القاسم عن أبي (أمامة) (١) ﴿وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ﴾ [الواقعة: ٣٤] قال: لو خر من أعلاها فراش لهوى إلى قرارها كذا وكذا خريفا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ قرآن کریم کی آیت (وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر اس کے اوپر سے ایک بچھونا اس کی تہہ کی طرف گرے تو وہ اتنے اتنے خریف (موسم/ عرصہ) بعد تہہ تک پہنچے گا۔
٣٦٧٩٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي إسحاق عن البراء: ﴿قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ﴾ قال: يتناول الرجل (من) (١) فواكهها وهو قائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء { قُطُوفُہَا دَانِیَۃٌ} کے متعلق فرماتے ہیں کہ جنتی آدمی اپنی جگہ کھڑے کھڑے پھل تناول کرے گا۔
٣٦٧٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء: ﴿دَانِيَةٌ﴾ قال: أدنيت منهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء { دَانِیَۃٌ} کے متعلق فرماتے ہیں کہ پھل ان کے قریب کردیئے جائیں گے۔
٣٦٧٩٤ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن أبي إسحاق عن البراء: ﴿وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذلِيلَا﴾ [الإنسان: ١٤] قال: ذلك لهم يأخذون منها حيث شاؤوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء { وَذُلِّلَتْ قُطُوفُہَا تَذْلِیلاً } کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ اس کے پھل جہاں سے چاہیں گے توڑ لیں گے۔
٣٦٧٩٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل عن مجاهد قال: العبقري: الديباج الغليظ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ العبقری سے مراد موٹا ریشم ہے۔
٣٦٧٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي سنان عن عبد اللَّه بن الحارث قال: لما خلق اللَّه جنة عدن قال لها: تكلمي، قالت: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤمِنُونَ﴾ [المؤمنون: ١].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ رب العزت نے جنت عدن کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا میرے ساتھ کلام کر جنت بولی مومنین کامیاب ہوگئے۔
٣٦٧٩٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن مجاهد: ﴿عَلَى الْأَرَائِكِ مُتَّكِئُونَ﴾ [يس: ٥٦] قال: السرر عليها الحجال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت { عَلَی الأَرَائِکِ مُتَّکِئُونَ } سے مراد ہے کہ مسہریوں پر ہوں گے جن پر پازیب ہوں گے۔
٣٦٧٩٨ - حدثنا ابن علية عن أبي رجاء عن الحسن: ﴿يُسْقَوْنَ مِنْ رَحِيقٍ مَخْتُومٍ﴾ [المطففين: ٢٥] قال: هي الخمر.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن کریم کی آیت { یُسْقَوْنَ مِنْ رَحِیقٍ مَخْتُومٍ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس سے مراد شراب ہے۔
٣٦٧٩٩ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق (عن عبد اللَّه) (١) قال: الرحيق: الخمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ الرحیق سے مراد شراب ہے۔
٣٦٨٠٠ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق (عن عبد اللَّه) (١) مختوم (قال) (٢): ممزوج، ﴿خِتَامُهُ مِسْكٌ﴾ [المطففين: ٢٦] قال: طعمه وريحه، ﴿تَسْنِيمٍ﴾: عين في الجنة يشرب بها المقربون صرفًا ويمزج لأصحاب اليمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ ، مختوم کا مطلب بیان کرتے ہیں کہ اس میں آمیزش ہوگی ختامہ مسک کے متعلق فرماتے ہیں اس کا ذائقہ اور خوشبو مراد ہے، تسنیم کا مطلب ہے کہ جنت میں ایک چشمہ ہے جس میں سے صرف مقر بین پانی پئیں گے اور اس میں اصحاب الیمین کیلئے آمیزش کی جائے گی۔
٣٦٨٠١ - حدثنا جرير عن منصور عن مالك بن الحارث: ﴿وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيمٍ (٢٧) عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ﴾ [المطففين: ٢٧ - ٢٨] صرفا ويمزج لسائر أهل الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن حارث رضی اللہ عنہ { وَمِزَاجُہُ مِنْ تَسْنِیمٍ ، عَیْنًا یَشْرَبُ بِہَا الْمُقَرَّبُونَ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ تمام جنت والوں کیلئے اس میں آمیزش کی جائے گی۔
٣٦٨٠٢ - حدثنا ابن علية عن أبي رجاء عن الحسن: ﴿وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيمٍ﴾ قال: خفايا أخفاها اللَّه لأهل الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن کریم کی آیت { وَمِزَاجُہُ مِنْ تَسْنِیمٍ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کو اللہ نے جنتیوں کے لیے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔
٣٦٨٠٣ - حدثنا يحيى بن آدم عن شريك عن سالم عن سعيد (وعن أبي) (١) روق عن الضحاك في قوله: ﴿خِتَامُهُ مِسْكٌ﴾ (قالا) (٢): آخر طعمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک قرآن کریم کی آیت ختامہ مسک کے متعلق فرماتے ہیں کہ جنتیوں کا آخری کھانا یہ ہوگا۔
٣٦٨٠٤ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن (ابن) (١) أبي خالد عن قرة بن شريك العجلي عن ابن سابط قال: أنبئت أن عن يمين الرحمن -وكلتا يديه يمين- قوم على منابر من نور، ووجوههم نور، عليهم ثياب خضر تغشى أبصار الناظرين (دونهم) (٢)، ليسوا بأنبياء ولا شهداء، قوم تحابوا في جلال اللَّه حين عصي اللَّه في الأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے رحمن کے داہنی جانب جب کہ ان کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں نور کے منبروں پر ایک قوم ہوگی جن کے چہرے بھی نورانی ہوں گے اور ان پر سبز کپڑے ہوں گے، دیکھنے والوں کی آنکھیں ان کے دیکھنے سے شب کور ہوں گی وہ نہ تو نبی ہوں گے اور نہ ہی شہداء وہ ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے اللہ کیلئے آپس میں محبت کی جب کہ زمین میں اللہ کی نافرمانی کی گئی۔
٣٦٨٠٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد العزيز بن عمر قال: حدثني إبراهيم بن أبي عبلة العقيلي أن العلاء بن زياد كان يحدث عن نبي اللَّه ﷺ قال: "عباد من عباد اللَّه ليسوا بأنبياء ولا شهداء، يغبطهم الأنبياء والشهداء يوم القيامة (لقربهم) (١) من اللَّه على منابر من نور، يقول الأنبياء والشهداء: من هؤلاء؟ فيقولون: هؤلاء كانوا (تحابوا) (٢) في اللَّه على غير أموال (تعاطوها) (٣)، ولا أرحام كانت بينهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن زیاد سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوں گے جو انبیاء یا شہداء تو نہ ہوں گے لیکن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے قیامت کے دن اللہ کے قرب کی وجہ سے نور کے منبروں پر ہوں گے، انبیاء اور شہداء دریافت کریں گے یہ کون لوگ ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کیلئے آپس میں محبت کرتے تھے نہ کہ کسی مال کی وجہ سے جو آپس میں ایک دوسرے کو دیا ہو اور نہ ہی ان کے درمیان کوئی رشتہ داری تھی۔
٣٦٨٠٦ - حدثنا (علي) (١) بن مسهر عن المختار عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الكوثر نهر وعدنيه ربي في الجنة، عليه (خير) (٢) كثير، هو حوض ترد عليه أمتي يوم القيامة، آنيته عدد النجوم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : کوثر جنت کی ایک نہر ہے جس کا اللہ نے جنت میں مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر خیر کثیر ہے، یہ وہ حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے دن آئے گی اس کے برتن کی تعداد ستاروں کے بقدر ہے۔
٣٦٨٠٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن محارب بن دثار عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الكوثر نهر في الجنة، حافتاه من ذهب، ومجراه على الياقوت والدر، تربته أطيب من المسك، وماؤه أحلى من العسل وأشد بياضا من الثلج" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوثر جنت کی ایک نہر ہے جس کے کنارے سونے کے ہیں وہ یاقوت اور موتیوں پر جاری ہے اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور اس کا پانی اولے سے زیادہ سفید ہے۔
٣٦٨٠٨ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن عائشة قالت: الكوثر نهر بفناء الجنة، شاطئاه در مجوف، وفيه من الأباريق والآنية عدد النجوم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کوثر جنت کے کنارے میں ایک نہر ہے اس کے کناروں پر موتی ہیں اور اس میں برتن ہیں اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے۔
٣٦٨٠٩ - حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن حبيب بن أبي مرزوق عن عطاء ابن أبي رباح عن أبي مسلم الخولاني عن معاذ بن جبل وعبادة بن الصامت قالا: سمعنا رسول اللَّه ﷺ يحكي عن ربه يقول: "حقت محبتي على المتحابين في، وحقت محبتي على المتباذلين في، وحقت محبتي على المتزاورين في، والمتحابون في اللَّه على منابر من نور في ظل العرش يوم لا ظل إلا ظله" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میری محبت ان پر لازم ہیں جو میرے لیے آپس میں محبت کرتے ہیں میری محبت لازم ہے ان کیلئے جو میرے لیے آپس میں خرچ کرتے ہیں اور میری محبت لازم ہے ان کیلئے جو میرے لیے آپس میں ملاقات کرتے ہیں اللہ کیلئے محبت کرنے والے قیامت کے دن عرش کے سایہ تلے نور کے منبروں پر ہوں گے جس دن اس کے عرش کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔
٣٦٨١٠ - (حدثنا) (١) عبد اللَّه بن نمير عن حميد بن عطاء عن عبد اللَّه بن الحارث عن ابن مسعود عن النبي ﷺ قال: "المتحابون في اللَّه على عمود من ياقوتة ⦗١٧٧⦘ حمراء، في رأس العمود سبعون ألف غرفة، مشرفون على أهل الجنة، (٢) إذا اطلع أحدهم ملأ حسنه بيوت أهل الجنة، كما تملأ الشمس بضوئها بيوت أهل الدنيا، قال: فيقول أهل الجنة: اخرجوا بنا إلى المتحابين في اللَّه، قال: فيخرجون فينظرون في وجوههم مثل القمر ليلة البدر عليهم ثياب خضر، مكتوب في (وجوههم) (٣): هؤلاء المتحابون في اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کیلئے محبت کرنے والے قیامت کے دن سرخ یا قوت کے ستونوں پر ہوں گے ستون کے اوپر ستر ہزار کمرے ہوں گے جنتیوں پر جھانکیں گے جب ان میں سے کوئی جھانکے گا تو اس کے حسن سے جنتیوں کے گھر بھر جائیں گے جیسے سورج کی روشنی دنیا والوں کے گھروں کو بھر دیتی ہے پھر ایک جنتی کہے گا اللہ کیلئے آپس میں محبت کرنے والوں کو ہمارے سامنے لاؤ پھر ان کو نکالا جائے گا وہ ان کے چہروں کو دیکھیں گے جیسے چودہویں رات کا چاند ہو ان پر سبز رنگ کا لباس ہوگا، ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوگا، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کیلئے آپس میں محبت کرتے تھے۔
٣٦٨١١ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد (العمي) (١) عن أبي عمران الجوني عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر (قال) (٢): قلت يا رسول اللَّه ما آنية الحوض؟ قال: "والذي نفسي بيده لأنيته أكثر من عدد نجوم السماء وكواكبها في الليلة المظلمة المصحية، من شرب منها لم يظمأ، عرضه (٣) ما بين عثمان إلى إيلة، ماؤه أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا اے اللہ کے نبی ﷺ! حوض کوثر کے برتن کیا ہوں گے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس کے برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں اور اس کے ستارے سے اندھیری رات میں، جو اس میں سے پیے گا اس کو دوبارہ پیاس نہ لگے گی اس کی چوڑائی عمان سے ایلہ تک ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
٣٦٨١٢ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن معدان بن أبي طلحة اليعمري عن ثوبان أن النبي ﷺ سئل عن سعة الحوض، فقال: " (هو) (١) ما بين مقامي هذا إلى عثمان ما بينهما شهر أو نحو ذلك"، فسئل رسول اللَّه ﷺ عن شرابه، فقال: "أشد بياضا من اللبن وأحلى من ⦗١٧٨⦘ العسل، (يعب) (٢) فيه ميزابان مداده أو مدادهما من الجنة، أحدهما ورق والآخر ذهب" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حوض کوثر کی چوڑائی کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی چوڑائی یہاں سے لے کر عمان تک ہے اس کا درمیانی فاصلہ ایک مہینہ یا اس جتنا ہے آپ سے اس کے پانی کے متعلق دریافت کیا گیا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
٣٦٨١٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة عن عطية عن أبي سعيد أن النبي ﷺ قال: "إن لي حوضا طوله ما بين الكعبة إلى بيت المقدس، أبيض (مثل) (١) اللبن، آنيته عدد النجوم، وإني (لأكثر) (٢) الأنبياء تبعا يوم القيامة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بیشک جنت میں میرے لیے ایک حوض ہے جس کی لمبائی کعبہ سے لے کر بیت المقدس تک ہے، دودھ کی طرح سفید ہے اس کے برتن ستاروں کی بقدر ہیں اور بیشک قیامت کے دن میرے متبعین دیگر انبیاء سے زیادہ ہوں گے۔
٣٦٨١٤ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "دخلت الجنة فإذا أنا بنهر يجري، حافتاه خيام اللؤلو، قال: فضربت بيدي (١) الطين فإذا مسك أذفر فقلت: يا جبريل ما هذا؟ قال: الكوثر الذي أعطاك اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں ایک بہتی ہوئی نہر پر آیا جس کے کنارے موتیوں کے تھے، میں نے اپنا ہاتھ مٹی پر مارا تو وہ تیز خوشبو والی مشک تھی، میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ حوض کوثر ہے جو اللہ آپ کو عطا فرمائے گا۔
٣٦٨١٥ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق، عن عبد اللَّه قال: أنهار الجنة تفجر من جبل من مسك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ جنت کی نہریں مشک کے پہاڑ سے جاری ہوتی ہیں۔
٣٦٨١٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد (عن) (١) سعد الطائي قال: أخبرت أن اللَّه لما خلق الجنة قال لها: تزيني، فتزينت، ثم قال: تكلمي، فقالت: طوبى لمن رضيت عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد الطائی سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب جنت کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا : میرے لیے مزین ہوجا، وہ مزین ہوگئی پھر اس کو فرمایا میرے لیے مزین ہوجا وہ مزین ہوگی پھر اس سے فرمایا میرے سے کلام کر جنت نے کہا : خوشخبری ہے اس شخص کیلئے جس سے آپ راضی ہوگئے۔
٣٦٨١٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن سعيد ابن جبير (و) (١) عن عبد اللَّه بن الحارث عن ابن عباس قال: قال نبي من الأنبياء: اللهم العبد من عبيدك يعبدك ويطيعك ويجتنب سخطك، تزوي عنه الدنيا وتعرض له البلاء، والعبد يعبد غيرك ويعمل بمعاصيك فتعرض له الدنيا وتزوي عنه البلاء، قال: فأوحى اللَّه إليه إن العباد و (البلاد) (٢) لي، كل يسبح بحمدي، فأما عبدي المؤمن فتكون له سيئات فإنما أعرض له البلاء وأزوي عنه الدنيا، (فتكون كفارة لسيئاته، وأجزيه إذا لقيني، وأما عبدي الكافر فتكون له الحسنات فأزوي عنه البلاء وأعرض له الدنيا فتكون) (٣) جزاء لحسناته وأجزيه سيئاته حين يلقاني (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے اللہ ! تیرے بندوں میں سے ایک بندہ تیری عبادت کرتا ہے تیری اطاعت کرتا ہے اور آپ کی ناراضگی سے بچتا ہے، آپ دنیا کو اس سے دور کر کے مصائب اس کے قریب فرما دیتے ہیں اور وہ بندہ جو تیرے غیر کی پوجا کرتا ہے اور تیرے نافرمانی والے اعمال کرتا ہے آپ دنیا اس کے قریب اور مصائب کو اس سے دور کردیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ سب بندے اور شہر میرے ہیں سب میری تسبیح کرتے ہیں بہر حال مومن بندہ، اس کے کچھ گناہ بھی ہوتے ہیں میں مصائب کو اس کو قریب کر کے دنیا کو اس سے دور کردیتا ہوں وہ اس کی خطاؤں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور جب وہ میرے پاس آئے گا میں اس کو بدلہ دوں گا اور میرا کافر بندہ اس کی کچھ نیکیاں بھی ہوتی ہیں میں بلاؤں کو اس سے دور اور دنیا کو قریب کردیتا ہوں وہ اس کی نیکیوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں اور میں اس کے گناہوں کی سزا اس کو تب دوں گا جب وہ میرے پاس آئے گا۔
…