کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 36738
٣٦٧٣٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن جويبر عن الضحاك: ﴿أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ﴾ [الفرقان: ٧٥] قال: الغرفة الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { أُولَئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غرفہ سے مراد جنت ہے۔
حدیث نمبر: 36739
٣٦٧٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن يعلى بن مسلم عن مجاهد أن عمر بن الخطاب قرأ على المنبر: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ [التوبة: ٧٣] فقال: وهل تدرون ما جنات عدن؟ قال: قصر في الجنة له خمسة آلاف باب، على كل باب خمسة وعشرون ألفا من الحور العين، لا يدخله إلا نبي، هنيئا لصاحب القبر -وأشار إلى قبر رسول اللَّه ﷺ وصديق هنيئا لأبي بكر، وشهيد وأنى لعمر (بالشهادة) (١)، ثم قال: والذي أخرجني من (منزلي) (٢) ⦗١٦٤⦘ (بالجثمة) (٣) إنه لقادر على أن يسوقها إلي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر قرآن کریم کی آیت جنات عدن تلاوت فرمائی اور فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو جنات عدن کیا ہیں ؟ فرمایا وہ جنت میں ایک محل ہے جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پچیس ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی داخل ہوں گے، مبارک خوشخبری ہے اس قبر والے کیلئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف اشارہ فرمایا اور اس میں صدیق داخل ہوں گے خوشخبری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے اور اس میں شہید داخل ہوں گے اور بیشک میں شہادت کا منتظر ہوں وَأَنَّی لِعُمَرَ بِالشَّہَادَۃ پھر فرمایا، قسم اس ذات کی جس نے مجھے میرے گھر سے نکالا وہ اس بات پر قادر ہے کہ اس شہادت کو میری طرف لے آئے۔
حدیث نمبر: 36740
٣٦٧٤٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن أبي الضحى عن مسروق عن عبد اللَّه ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ قال: بطنان الجنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنات عدن سے مراد جنت کا درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 36741
٣٦٧٤١ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن حميد بن هلال عن (بُشَيْر) (١) بن كعب قال: قال كعب: إن في الجنة ياقوتة ليس فيها صدع ولا وصل فيها سبعون ألف دار، في كل دار سبعون ألفا من الحور العين، لا يدخلها إلا نبي أو صديق أو شهيد أو إمام عادل أو محكم في نفسه، قال: قلنا: يا كعب وما المحكم في نفسه؟ قال: الرجل (يأخذه) (٢) العدو فيحكمونه بين أن يكفر أو يلزم الإسلام فيقتل، فيختار أن يلزم الإسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنت میں ایک یا قوت ہے جس میں نہ سوراخ ہے اور نہ ہی جوڑ ہے جنت میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ستر ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی، صدیق، شہید، عادل بادشاہ یا وہ شخص داخل ہوگا جو اپنے نفس پر فیصلہ کرنے والا ہوگا راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے کعب ؟ محکم فی نفسہ کون شخص ہے ؟ فرمایا وہ شخص جس کو دشمن پکڑ لیں پھر اس کو اختیار دیں کہ وہ کفر اختیار کرلے یا پھر اسلام کو لازم پکڑے تو اس کو شہید کردیا جائے اور وہ اسلام پر ثابت قدم رہنے کو لازم پکڑے۔
حدیث نمبر: 36742
٣٦٧٤٢ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو (عن عمرو) (١) بن أوس عن عبد اللَّه ابن (عمرو) (٢) يبلغ به النبي ﷺ قال: "إن المقسطين عند اللَّه على منابر من نور عن يمين الرحمن -وكلتا يديه يمين- الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما ولوا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن الرحمن کے داہنی جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، رحمن کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں منصفین وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں، اھل و عیال کے ساتھ اور جس چیز میں ان کو ولایت دی جائے اس میں انصاف کریں۔
حدیث نمبر: 36743
٣٦٧٤٣ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن عبد اللَّه بن عمرو أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن المقسطين في الدنيا على منابر من لؤلؤ يوم القيامة بين يدي الرحمن بما أقسطوا في الدنيا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انصاف کرنے والے قیامت کے دن اپنے انصاف کی وجہ سے رحمن کے سامنے موتیوں کے منبروں پر ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36744
٣٦٧٤٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا أبو حيان عن أبي زرعة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "والذي نفسي بيده إن ما بين المصراعين من مصاريع الجنة كما بين مكة وهجر، أو كما بين مكة وبصرى" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کے دروازوں کے کواڑ کا درمیانی فاصلہ اتنا ہوگا جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ہے یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے، یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر ارشاد فرمائی۔
حدیث نمبر: 36745
٣٦٧٤٥ - حدثنا وكيع عن قرة عن حميد بن هلال عن خالد بن عمير وعن أبي نعامة سمعه من خالد بن عمير قال: خطبنا عتبة بن غزوان فقال: إن ما بين المصراعين من أبواب الجنة لمسيرة أربعين عاما، وليأتين على أبواب الجنة يوم وليس منها باب إلا وهو كظيظ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : جنت کے دروازوں کے کواڑ کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہوگا اور ضرور بضرور جنت کے دروازوں پر ایک دن آئے گا ہر دروازہ بھرا ہوا ہو گا۔
حدیث نمبر: 36746
٣٦٧٤٦ - حدثنا علي بن مسهر عن عاصم عن أبي عثمان عن كعب قال: ما بين مصراعي الجنة أربعون خريفا للراكب المجد، وليأتين عليه يوم وهو كظيظ الزحام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنت کے دو کو اڑوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس خریف ہے سر گرم اور تیز سوار کیلئے اور ان پر ایک دن ایسا آئے گا وہ ازدحام کی وجہ سے بھر جائیں گے۔
حدیث نمبر: 36747
٣٦٧٤٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن أبي المهزم قال: سمعت أبا هريرة قال: دار المؤمن في الجنة من لؤلؤة، فيها أربعون بيتا، في وسطها شجرة تنبت الحلل، فيأتيها فيأخذ بأصبعه سبعين حلة ⦗١٦٦⦘ (منطقة) (١) باللؤلؤ والمرجان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جنت میں مومن کا گھر موتیوں کا ہوگا، اس میں چالیس کمرے ہوں گے ان کے درمیان ایک درخت ہے جس پر کپڑے لگتے ہیں وہ جنتی اس درخت کے پاس آئے گا اور اپنی انگلی پر ستر جوڑے پکڑے گا، جن کی پٹی موتیوں اور مرجان کے ساتھ ہوگی۔
حدیث نمبر: 36748
٣٦٧٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن مجاهد عن عبد اللَّه ابن الحارث قال: أصحاب الأعراف ينتهي بهم إلى نهر يقال له: الحياة، حافتاه قصب ذهب، قال: أراه قال: مكلل باللؤلؤ، فيغتسلون منه اغتسالة فتبدو في نحورهم شامة بيضاء، ثم يعودون فيغتسلون فكلما اغتسلوا ازدادت بياضا، فيقال لهم: تمنوا ما شئتم، فيتمنون ما شاؤا، فيقال: لكم ما تمنيتم وسبعون ضعفًا، فهم مساكين أهل الجنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب الاعراف کو نہر حیات پر لایا جائے گا، ان کے کنارے سونے کے بانسوں کے ہوں گے۔ موتیوں کا تاج پہنے ہوئے، وہ اس نہر میں نہائیں گے جس کی وجہ سے ان کی گردن سفید ہوجائے گی اور پھر وہ دوبارہ لوٹیں گئے اور نہائیں گے، جب بھی نہائیں گے ان کی سفیدی میں اضافہ ہوگا، ان سے کہا جائے گا جو چاہو تمنا کرو، وہ جو چاہیں گے تمنا کریں گے، ان سے کہا جائے گا تمہارے لیے وہ سب ہے جس کی تم نے تمنا کی اور ستر گنا اور بھی ہے، یہ لو گ مساکین اہل الجنۃ میں سے ہیں۔
حدیث نمبر: 36749
٣٦٧٤٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد: ﴿فِيهِنَّ قَصِرَاتٌ الْطَّرْفِ﴾ [الرحمن: ٥٥] قال: قصر طرفهن على أزواجهن فلا يردن غيرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن کریم کی آیت { فِیہِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْف } کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھیں ان کے خاوندوں پر لگی ہوں گی وہ ان کے علاوہ کسی کو دیکھنے کا ارادہ نہ کریں گی۔
حدیث نمبر: 36750
٣٦٧٥٠ - حدثنا هشيم عن جويبر عن الضحاك ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ قال: ألوانهن كالياقوت واللؤلؤ في صفائه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { کَأَنَّہُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کے رنگ یا قوت کی مانند اور نکھار میں موتیوں کی مانند ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36751
٣٦٧٥١ - حدثنا يحيى بن يمان عن الحر بن (جرموز) (١) قال: سمعت عبد اللَّه بن الحارث يقول: ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ قال: كأنهن اللؤلؤ في الخيط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { کَأَنَّہُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ لڑی میں موتیوں کی طرح ہیں۔
حدیث نمبر: 36752
٣٦٧٥٢ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا داود بن عبد الرحمن قال: سمعت (سليمًا) (١) أبا عبيد اللَّه عن مجاهد: ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ [الرحمن: ٥٨] قال: يرى مخ (سوقهن) (٢) من وراء الثياب كما يرى الخيط في الياقوتة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد { کَأَنَّہُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان کی پنڈلیوں کی سفیدی کپڑوں کے اندر سے نظر آئے گی جیسے موتیوں کے اندر سے لڑی نظر آتی ہے۔
حدیث نمبر: 36753
٣٦٧٥٣ - حدثنا أبو معاوية عن مغيرة بن مسلم عن عكرمة: ﴿لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ﴾ [الرحمن: ٧٤] قال: يجامعهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت { لَمْ یَطْمِثْہُنَّ إِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلاَ جَانٌّ} سے مراد ہے ہمبستری کرنا۔
حدیث نمبر: 36754
٣٦٧٥٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن شريك عن سالم عن سعيد بن جبير قال: يطأهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وطی کرنا مراد ہے۔
حدیث نمبر: 36755
٣٦٧٥٥ - حدثنا عبدة بن سليمان ووكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن (جارية) (١) بن سليمان عن (ابن) (٢) الزبير: ﴿مُدْهَامَّتَانِ﴾ [لرحمن: ٦٤] قال: خضراوان من الري (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { مُدْہَامَّتَانِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ گہرے سبز رنگ دیکھنے میں خوش منظر۔
حدیث نمبر: 36756
٣٦٧٥٦ - [حدثنا يزيد قال: أخبرنا إسماعيل عن أبي صالح قال: خضروان] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ سبز رنگ کے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36757
٣٦٧٥٧ - حدثنا ابن (فضيل) (١) عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس (يقال) (٢): ﴿مُدْهَامَّتَانِ﴾ خضراوان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 36758
٣٦٧٥٨ - حدثنا أسباط بن محمد عن عمرو بن قيس عن سلمة عن مجاهد في قوله: ﴿مُدْهَامَّتَانِ﴾ قال: خضراوان من ريهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
حدیث نمبر: 36759
٣٦٧٥٩ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي سنان عن الضحاك قال: سوداوان من الري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیاہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36760
٣٦٧٦٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبيه عن عطية قال: خضراوان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ سبز ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36761
٣٦٧٦١ - حدثنا وكيع عن واصل عن عطاء قال: خضراوان من الري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بھی حضرت ابو صالح کی مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 36762
٣٦٧٦٢ - حدثنا أسباط بن محمد عن عمرو بن قيس عن سلمة عن مجاهد قال: ﴿نَضَّاخَتَانِ﴾ [الرحمن: ٦٦]: بكل خير
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت نضا ختان کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ خیر کے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36763
٣٦٧٦٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير قال: ﴿نَضَّاخَتَانِ﴾: بالماء والفاكهة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ چشمے پانی اور پھلوں کے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36764
٣٦٧٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن القاسم بن أبي بزة عن أبي (عبيدة) (١) عن عبد اللَّه: ﴿فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ﴾ [الرحمن: ٧٠] قال: في كل خيمه خير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ قرآن کریم کی آیت { فِیہِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ} کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ہر خیر کے مکان میں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36765
٣٦٧٦٥ - حُدثت عن ابن المبارك عن إسماعيل عن أبي صالح ﴿فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ﴾ قال: عذارى الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح قرآن کریم کی آیت { فِیہِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ} کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جنت کی دوشیزائیں مراد ہیں۔
حدیث نمبر: 36766
٣٦٧٦٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس قال: الخيمة (لؤلؤة) (١) مجوفة فرسخ في فرسخ لها أربعة آلاف ⦗١٦٩⦘ مصراع من ذهب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ موتیوں کا خیمہ ہوگا اور اندر سے خالی اور کشادہ ہوگا اتنا کشادہ کہ فرسخ میں ہو، اس کے چار ہزار سونے کے کواڑ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36767
٣٦٧٦٧ - حدثنا (عثام) (١) بن علي عن إسماعيل عن أبي صالح: ﴿حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ [الرحمن: ٧٤] قال: عذارى الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح قرآن کریم کی آیت { حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جنت کی دوشیزائیں مراد ہے۔
حدیث نمبر: 36768
٣٦٧٦٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمارة عن أبي مجلز عن النبي ﷺ أنه قال: في: ﴿حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ قال: در (مجوّف) (١) أو مَجُوف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے { حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ } کے متعلق فرمایا اندر سے خالی موتی کی طرح ہیں۔
حدیث نمبر: 36769
٣٦٧٦٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: در مجوف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 36770
٣٦٧٧٠ - حدثنا محمد بن مروان البصري عن أبي العوام عن قتادة عن ابن عباس: ﴿حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ قال: قال ابن عباس: الخيمة درة مجوفة فرسخ في فرسخ فيه أربعة الآف مصراع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ موتیوں کا خیمہ ہوگا اور اندر سے خالی اور کشادہ ہوگا اتنا کشادہ کہ فرسخ میں ہو، اس کے چار ہزار سونے کے کواڑ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36771
٣٦٧٧١ - حدثنا محمد بن مروان (عن عمارة) (١) عن عكرمة: ﴿حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ قال: در مجوف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ { حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ اندر سے خالی موتی کی طرح۔
حدیث نمبر: 36772
٣٦٧٧٢ - حدثنا وكيع عن سفيان (١) عن (حزن) (٢) بن بشير قال: سمعت عمرو ابن ميمون يقول: الخيمة درة مجوفة.
مولانا محمد اویس سرور
عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ خیمہ اندر سے خالی موتی کی طرح ہوگا۔
حدیث نمبر: 36773
٣٦٧٧٣ - حدثنا (يحيى) (١) بن يمان عن أبي جعفر عن الربيع عن أبي العالية ﴿حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ قال: محبوسات.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ { حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ خیموں میں رہنے والی۔
حدیث نمبر: 36774
٣٦٧٧٤ - حدثنا يحيى بن يمان عن أبي معشر عن محمد بن كعب القرظي في قوله: ﴿حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ قال: في الحجال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب سے مروی ہے کہ پازیب میں ہوں گی۔
حدیث نمبر: 36775
٣٦٧٧٥ - حدثنا وكيع عن سلمة عن الضحاك في قوله: ﴿حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ﴾ قال: در مجوف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ { حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِی الْخِیَامِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اندر سے خالی موتی کی طرح ہوگا۔
حدیث نمبر: 36776
٣٦٧٧٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد قال: الخيمة درة مجوفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 36777
٣٦٧٧٧ - حدثنا هشيم عن أبي بشر عن سعيد بن جبير في قوله: ﴿مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ [الرحمن: ٧٦] قال: الرفرف: رياض الجنة، والعبقري عتاق الزرابي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { مُتَّکِئِینَ عَلَی رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِیٍّ حِسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ الرفرف سے مراد ریاض الجنۃ (جنت کے باغات) اور عبقری سے مراد ہے نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے۔
…