کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 36698
٣٦٦٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا المسعودي عن علقمة بن مرثد عن ابن بريدة عن أبيه أن رجلا قال: يا رسول اللَّه (إني رجل) (١) أحب الخيل، فهل في الجنة خيل؟ فقال: "يا عبد اللَّه إن يدخلك اللَّه الجنة (فلا تشاء تركب فرسًا من ياقوت يطير بك في أي الجنة شئت إلا فعلت"، قال الرجل: يا رسول اللَّه هل في الجنة إبل؟ فقال: "يا عبد اللَّه إن يدخلك اللَّه الجنة) (٢) لك فيها ما اشتهت نفسك ولذت عينك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے گھوڑے بہت پسند ہیں کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عبد اللہ ! اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت میں داخل فرما دیا تو پھر آپ جس گھوڑے پر سوار ہونا چاہیں گے سوار ہوجائیں گے اور وہ گھوڑا یا قوت کا ہوگا جو آپ کو لے کر اڑے گا اور جس جنت میں چاہو گے وہ آپ کو لے جائے گا اس شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا جنت میں اونٹ ہوں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عبد اللہ ! اللہ اگر آپ کو جنت میں داخل فرما دے تو اس میں ہر وہ چیز ہے جس کی آپ کو خواہش ہو اور جس میں آپ کی آنکھوں کی لذت ہو۔
حدیث نمبر: 36699
٣٦٦٩٩ - حدثنا إسماعيل بن علية عن الجريري عن لقيط بن (المثنى) (١) الباهلي قال: قيل: يا أبا أمامة، يتزاور أهل الجنة قال: نعم، واللَّه على النجائب عليها المياثر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ سے دریافت کیا گیا کہ جنتی لوگ سیر کریں گے ؟ حضرت ابو امامہ نے فرمایا : ہاں خدا کی قسم تیز اونٹوں پر جن پر ریشمی زین ہوگی۔
حدیث نمبر: 36700
٣٦٧٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن منهال بن عمرو عن قيس بن السكن عن عبد اللَّه قال: إن الرجل من أهل الجنة ليؤتى بالكأس وهو جالس مع زوجته فيشربها ثم يلتفت إلى زوجته فيقول: قد ازددت في عيني سبعين ضعفا حسنا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک جنتی اپنی اہلیہ کے پاس بیٹھا ہوگا اس کے پاس پیالہ لایا جائے گا وہ اس میں سے مشروب پیئے گا پھر اپنی اہلیہ کی طرف متوجہ ہوگا پھر وہ کہے گا آپ کا حسن میری نظر میں ستر گنا زیادہ بڑھ گیا ہے۔
حدیث نمبر: 36701
٣٦٧٠١ - حدثنا وكيع وعبدة بن سليمان (عن) (١) الأعمش عن ثمامة بن عقبة (المحلمي) (٢) عن زيد بن أرقم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الرجل من أهل الجنة ليعطى قوة مائة رجل في الأكل والشرب والجماع والشهوة"، فقال رجل من اليهود: فإن الذي يأكل ويشرب تكون له الحاجة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "حاجة أحدكم عرق يفيض من جلده فإذا بطنه قد ضمر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک جنتی شخص کو کھانے پینے اور جماع اور شہوت کیلئے سو آدمیوں کی طاقت عطا کی جائے گی ایک یہودی شخص نے کہا جو شخص کھائے گا پیے گا اس کو قضائے حاجت کی تو ضرورت پیش آئے گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک کی حاجت اس طرح پوری ہوگی کہ اس کو پسینہ آئے گا اس پسینہ کی وجہ سے اس کا پیٹ خالی ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 36702
٣٦٧٠٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "قال اللَّه تعالى: أعددت لعبادي الصالحين ما لم تر عين ولم تسمع أذن ولم يخطر على قلب بشر"، قال أبو هريرة: (قال رسول اللَّه ﷺ) (١): "بله ما قد أطلعكم عليه، اقرءوا إن شئتم: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [السجدة: ١٧] " الآية، وكان أبو هريرة يقرأها: قرات أعين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے اپنے نیک بندوں کیلئے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی کان نے سنا نہیں، کسی کے دل پر خیال بھی نہیں گزرا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا بلکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر اطلاع دے چکا ہے اگر چاہو تو قرآن میں پڑھ لو { فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ } حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو قُرَّاتِ أَعْیُنٍ پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 36703
٣٦٧٠٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أول زمرة يدخلون الجنة من أمتي على صورة القمر ليلة ⦗١٥٠⦘ البدر، ثم الذين يلونهم على أشد نجم في السماء إضاءة، ثم هم بعد ذلك منازل لا يتغوطون ولا يبولون ولا (يمتخطون) (١) ولا يبزقون، أمشاطهم الذهب، ومجامرهم الألوة -قال أبو بكر: يعني العود- ورشحهم المسك، أخلاقهم على خَلْقِ رجل واحد على صورة أبيهم أدم (ستين) (٢) ذراعا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کا پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے پھر ان کے بعد جو داخل ہوں گے وہ آسمان کے بہت زیادہ روشن ستاروں کی طرح ہوں گے، پھر ان کے بعد کچھ رتبے ہوں گے، نہ وہ قضائے حاجت کریں گے اور نہ پیشاب کریں گے نہ ناک صاف کریں گے اور نہ وہ تھوکیں گے ان کی کنگھی سونے کی ہوگی اور ان کی دھونی عود ہندی کی ہوگی ان کا پسینہ مشک کا، ان کے اخلاق ایک شخص کے اخلاق جیسے ہوں گے، حضرت آدم (ان کے والد) کی طرح ساٹھ زراع قد ہوگا۔
حدیث نمبر: 36704
٣٦٧٠٤ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال النبي ﷺ: "أهل الجنة يأكلون فيها ويشربون ولا يتغوطون ولا يبولون ولا يبزقون ولا (يتمخطون) (١) طعامهم جشا ورشح كرشح المسك] (٢) (٣).
حدیث نمبر: 36705
٣٦٧٠٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أدنى أهل الجنة منزلة لرجل له دار من (لولؤة) (١) واحدة منها غرفها وأبوابها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمیر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک ادنیٰ جنتی کا جنت میں رتبہ یہ ہوگا کہ اس کیلئے ایک موتی کا گھر ہوگا جس کی کھڑکیاں اور دروازے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36706
٣٦٧٠٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن رجل عن كعب قال: إن أدنى أهل الجنة منزلة يوم القيامة ليؤتى بغدائه في سبعين ألف صحفة، في كل صحفة لون ليس كالآخر، فيجد للآخر لذة أوله ليس فيه رذل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ ادنیٰ جنتی کا مرتبہ قیامت کے دن اتنا ہوگا کہ اس کے پاس صبح کے وقت ستر ہزار پلیٹیں لائی جائیں گی ہر پلیٹ کا رنگ دوسرے سے مختلف ہوگا، وہ دوسرے میں بھی پہلے والی لذت پائے گا، اس میں رذالت نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 36707
٣٦٧٠٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أدنى أهل الجنة منزلة من يتمنى على اللَّه، ⦗١٥١⦘ فيقال له: ذلك لك ومثله معه، ويلقن كذا وكذا، فيقال له: ذلك لك ومثله معه"، فقال أبو سعيد الخدري: قال رسول اللَّه ﷺ: "ذلك (لك) (١) وعشرة أمثاله" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ادنیٰ مرتبہ والے جنتی کا رتبہ یہ ہوگا کہ وہ جس چیز کی اللہ سے تمنا کرے گا اس کو کہا جائے گا یہ بھی تیرے لیے ہے اور اسی کے مثل اور بھی ہو، اس کو مزید تلقین کی جائے گی اس کی کہ تمہارے لیے یہ بھی ہے اور اسی کے مثل اور بھی ہے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ بھی تیرے لیے ہے اور اسی کے مثل دس گنا اور بھی۔
حدیث نمبر: 36708
٣٦٧٠٨ - حدثنا حسين بن علي عن (ابن أبجر) (١) عن (ثوير) (٢) عن ابن عمر قال: إن أدنى أهل الجنة منزلة من ينظر (في) (٣) ملكه ألفي عام يرى أقصاه كما يرى أدناه، وإن أفضل أهل الجنة منزلة من ينظر إلى وجه اللَّه في كل يوم مرتين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ ادنیٰ جنتی کا جنت میں یہ رتبہ ہوگا اپنی ملکیت کو دیکھے گا دو ہزار سال تک اس کی انتہاء کو دیکھے گا جیسے اس کے قریب کو دیکھ رہا ہو، اور افضل جنتی کا رتبہ یہ ہوگا کہ وہ روزانہ دو مرتبہ اللہ کا دیدار کرے گا۔
حدیث نمبر: 36709
٣٦٧٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) (حريز) (٢) بن عثمان قال: حدثنا سليمان بن (شمير) (٣) الألهاني قال: حدثنا كثير بن مرة الحضرمي قال: إن (السحابة) (٤) (لتمر بأهل الجنة فتقول: ماذا تريدون فأمطره عليكم؟) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کثیر بن مرہ الحضرمی سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 36710
٣٦٧١٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا (حريز) (١) بن عثمان عن (سليمان ابن (عامر) (٢) عن سفيان بن عمير) (٣) عن عبد اللَّه بن عمر قال: إن الرجل من أهل الجنة ليجيء فتشرف عليه النساء فيقلن: يا فلان بن فلان ما أنت حين خرجت من عندنا بأولى بك منا، فيقول: ومن أنتن؟ فيقلن: نحن من اللاتي قال اللَّه تعالى: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة: ١٧].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ایک جنتی کو لایا جائے گا تو اس کو حوریں دیکھیں گی اور کہیں گی اے فلاں بن فلاں ! وہ پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ حوریں کہیں گی ہم ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : { فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ ، جَزَائً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ }۔
حدیث نمبر: 36711
٣٦٧١١ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: إنه لمكتوب في التوراة: لقد أعد اللَّه للذين تتجافى جنوبهم عن المضاجع ما لم تر عين ولم تسمع أذن (ولم يخطر) (١) على قلب بشر وما لا يعلمه ملك ولا مرسل، قال: ونحن نقرأها: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ. . .﴾ إلى آخر الآية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ تو راۃ میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے پہلو کثرت عبادت کی وجہ سے بستروں سے جدار ہے ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا، جن کی کسی فرشتہ یارسول کو بھی خبر نہیں اور ہم پڑھتے ہیں : { فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ } الخ الآیَۃِ ۔
حدیث نمبر: 36712
٣٦٧١٢ - حدثنا وكيع بن الجراح عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة قال: ﴿وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا. . .﴾ [الزمر: ٧٣] حتى إذا انتهوا إلى باب من أبواب الجنة وجدوا عند بابها شجرة (يخرج) (١) من تحت (ساقها) (٢) عينان فيأتون إحداهما كأنما أمروا بها فيتطهرون (منها) (٣) فتجري عليهم نضرة ⦗١٥٣⦘ النعيم، قال: فلا (تتغير) (٤) أبشارهم بعدها أبدا، ولا تشعث شعورهم بعدها أبدا، كأنما دهنوا (بالدهان) (٥)، قال: ثم يعمدون إلى الأخرى فيشربون منها فتذهب (ما) (٦) في بطونهم من أذى (و) (٧) قذى وتتلقاهم الملائكة فيقولون: ﴿سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ﴾ قال: ويتلقى كل غلمان صاحبهم يطيفون به فعل الولدان بالحميم يقدم من الغيبة، (٨) أبشر قد أعبد اللَّه لك من الكرامة كذا، (قال) (٩): ويسبق غلمان من غلمانه إلى أزواجه من الحور العين فيقولون (لهن) (١٠): هذا فلان -باسمه في الدنيا- قد أتاكن، قال: فيقلن: أنتم رأيتموه؟ فيقولون: نعم قال: فيستخفهن الفرح حتى يخرجن إلى أسكفة الباب، قال: ويدخل الجنة فإذا نمارق مصفوفة وأكواب موضوعة وزرابي مبثوثة، فيتكئ على أريكة من أرائكه، قال: فينظر إلى تأسيس بنيانه فإذا هو قد أسس على جندل اللؤلؤ بين أصفر وأحمر وأخضر ومن كل لون، قال: ثم يرفع طرفه إلى سقفه فلولا أن اللَّه قدره له لألم بصره أن يذهب بالبرق ثم قرأ: ﴿وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا (وَمَا كنا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ) (١١)﴾ [الأعراف: ٤٣] (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کریم آیت { وَسِیقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ جب جنتی جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پہنچیں گے تو اس کے دروازے کے پاس ایک درخت پائیں گے اس کی جڑوں سے دو چشمے جاری ہوں گے وہ جنتی انہی میں سے ایک پر آئیں گے جیسا کہ ان کو حکم دیا گیا ہو اور پھر وہ اس سے طہارت حاصل کریں گے، پھر ان پر نضرۃ النعیم کا پانی چلایا جائے گا پھر اس کے بعد ان کے بدن میں تبدیلی نہ آئے گی پھر اس کے بعد پراگندہ نہ ہوں گے گویا کہ ان پر تیل یا روغن ملا ہو پھر وہ دوسرے چشمے پر آئیں گے اور اس میں سے پییں گے، اس کے پینے کی وجہ سے ان کے پیٹ کی ہر قسم کی بیماری اور تکلیف دور ہوجائے گی۔ ٢۔ فرشتوں کی ان سے ملاقات ہوگی فرشتے ان سے کہیں گے { سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ ، فَادْخُلُوہَا خَالِدِینَ } راوی فرماتے ہیں : خوشخبری ہے تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کرامت تیار کر رکھی ہے، پھر ان کے غلاموں میں سے کچھ غلام ان کی حوروں کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے یہ فلاں ہے (ان کے دنیا کے نام کے ساتھ پکاریں گے) تمہارے پاس آئیں گے، وہ حوریں پوچھیں گی تم نے ان کو دیکھا ہے ؟ وہ کہیں گے کہ جی ہاں، پس وہ حوریں خوشی کو ہلکا سمجھیں گی اور دروازے کی دہلیز سے نکل جائیں گی۔ ٣۔ وہ جتنی جنت میں داخل ہوگا تکیے لگے ہوں گے پیالے رکھے ہوں گے، کپڑے بکھرے ہوں گے، وہ ان میں سے ایک تکیہ پر ٹیک لگائے گا، پھر وہ ان کی بنیادوں کی طرف دیکھے گا، ان کی بنیادیں زرد سرخ اور سبز رنگ کے بڑے موتیوں سے رکھی گئیں ہیں، پھر وہ چھت کی طرف دیکھے گا، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو قدرت نہ دی ہوتی تو اس چمک کی وجہ سے اس کی بینائی زائل ہوجاتی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانَا لِہَذَا ، وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلاَ أَنْ ہَدَانَا اللَّہُ }۔
حدیث نمبر: 36713
٣٦٧١٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي عن (أبي) (١) (حازم) (٢) عن أبي هريرة قال: والذي أنزل الكتاب على محمد ﷺ إن أهل الجنة ليزدادون جمالا وحسنا كما يزدادون في الدنيا قباحة وهرمًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ قسم اس ذات کی جس نے محمد ﷺ پر قرآن نازل فرمایا جنتیوں کے حسن و جمال میں اضافہ ہوتا رہے گا جیسے دنیا میں بد صورتی اور بڑھاپے میں اضافہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 36714
٣٦٧١٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن علي بن (زيد) (١) عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "يدخل أهل الجنة الجنة جردا مردا بيضا جعادا مكحلين أبناء ثلاث وثلاثين على خلق آدم طوله ستون ذراعا في عرض سبع أذرع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنتی جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسم پر بال نہ ہوں گے، سر کے بال گھنگریالے ہوں گے اور آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا ہوگا، تینتیس سال کے جوان ہوں گے ان کے قد کی لمبائی ساٹھ گز اور چوڑائی سات گز ہوگی۔
حدیث نمبر: 36715
٣٦٧١٥ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: يقول غلمان أهل الجنة: من أين نقطف لك؟ من أين نسقيك (١)؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنتیوں کے خدام لڑکے کہیں گے کہاں سے تمہارے لیے پھل توڑ کر لائیں اور کہاں سے آپ کو جام پلائیں ؟
حدیث نمبر: 36716
٣٦٧١٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل أن موسى -أو غيره- من الأنبياء قال: يا رب كيف يكون هذا منك؟ أولياؤك في الأرض (خائفون) (١) يقتلون، ويطلبون (ويقطعون) (٢)، وأعداؤك يأكلون ما شاؤوا ويشربون ما شاؤوا -ونحو هذا- فقال: انطلقوا بعبدي إلى الجنة فينظر ما لم يُر مثلُه ⦗١٥٥⦘ قط إلى أكواب موضوعة ونمارق مصفوفة وزرابي مبثوثة، وإلى الحور العين وإلى الثمار وإلى الخدم كأنهم لؤلؤ مكنون، فقال: ما ضر أوليائي ما أصابهم في الدنيا إذا كان مصيرهم إلى هذا، ثم قال: انطلقوا بعبدي (٣)، فانطلق به إلى النار فيخرج منها عنق فصعق العبد، ثم أفاق (فقال) (٤): ما نفع أعدائي ما أعطيتهم في الدنيا إذا كان مصيرهم إلى هذا، قال: لا شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن ابو الھذیل سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا اے اللہ ! یہ معاملہ آپ کی طرف سے کیسا عجیب ہوتا ہے ؟ آپ کے دوست (نیک لوگ) دنیا میں خوفزدہ رہتے ہیں ان کو قتل کیا جاتا ہے، ان کو پکڑا جاتا ہے پھر ان کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں اور آپ کے دشمن جو چاہتے ہیں کھاتے ہیں اور جو چاہتے ہیں پیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میرے بندے کو جنت کی سیر کر واؤ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہاں وہ نعمتیں دیکھیں جو اس سے پہلے نہ دیکھی تھیں، رکھے ہوئے پیالے، سیدھے رکھے ہوئے تکیے اور بکھرے ہوئے کپڑے، اور حورعین اور مختلف پھل اور خدام جیسے کہ وہ چھپے ہوئے موتی ہوں ان سب کی سیر کروائی گئی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جب میرے دوستوں کا ٹھکانا یہ ہو تو دنیا میں جو بھی تکالیف انہیں پہنچے ان کو نقصان ہے ؟ پھر ارشاد فرمایا : میرے بندے کو جہنم کی سیر کر واؤ، چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جہنم لے جایا گیا، اس میں ایک جماعت دیکھی، ان کو دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام بےہوش ہوگئے، پھر آپ کو کچھ افاقہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرے دشمنوں کا ٹھکانہ یہ ہو تو پھر دنیا میں ان کو جو بھی نعمتیں ملیں ان کو فائدہ ہے ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کچھ بھی نہیں۔
حدیث نمبر: 36717
٣٦٧١٧ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني عنبسة بن سعيد قاضي الري عن جعفر (بن) (١) أبي المغيرة عن (شمر) (٢) بن عطية عن كعب قال: إن للَّه ملكا (من يوم خلق) (٣) يصوغ حلي أهل الجنة (٤) إلى أن تقوم الساعة، ولو أن (قلبًا) (٥) من حلي أهل الجنة أخرج لذهب بضوء شعاع الشمس، فلا تسألوا بعدها عن حلي أهل الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا فرمایا ہے، جس دن سے اس کو پیدا کیا گیا ہے وہ جنتیوں کیلئے زیور تیا رکر رہا ہے اور قیامت تک تیار کرتا رہے گا، اگر ان زیورات میں سے ایک کنگن بھی دنیا پر ظاہر کردیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑجائے، پس اس کے بعد جنت کے زیورات کے متعلق سوال نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 36718
٣٦٧١٨ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن أبي (بلج) (١) قال: سمعت إبراهيم يقول: في الجنة (جماع) (٢) ما شاؤوا ولا ولد، قال: (فيلتفت) (٣) فينظر النظرة (فتنشأ) (٤) له الشهوة، ثم ينظر النظرة (فتنشأ) (٥) له شهوة أخرى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جنتی جتنا مرضی چاہے ہمبستری کرے اولاد نہ ہوگی، وہ ایک لمحے کیلئے پلٹے گا تو اس کیلئے دوبارہ شہوت پیدا ہوجائے گی پھر ایک لمحے کیلئے توقف کے بعد اس کیلئے دوبارہ شہوت پیدا ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 36719
٣٦٧١٩ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن منصور قال: سئل ابن عباس أفي الجنة ولد؟ قال: إن شاؤوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیا جنت میں اولاد ہوگی ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اگر وہ چاہیں تو ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 36720
٣٦٧٢٠ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة قال: حدثني محمد بن كعب عن عوف بن مالك الأشجعي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأعلم آخر أهل الجنة دخولا الجنة، رجلا كان يسأل اللَّه أن يزحزحه عن النار، إذا دخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار كان بين ذلك، فقال: يا رب أدنني من باب الجنة، فقيل: يا ابن آدم ألم تسأل أن تزحزح عن النار، (فقال) (١): (يا رب) (٢) ومن مثلُك؟ فأدنني من باب الجنة (٣)، فنظر إلى شجرة عند باب الجنة فقال: أدنني منها لأستظل بظلها وآكل من ثمرها، قال: يا ابن آدم ألم تقل، فقال: يا رب ومن مثلُك؟ فأدنني منها (فرأى) (٤) أفضل من ذلك، فقال: يا رب أدنني (منها) (٥)، فقال: يا ابن آدم ألم تقل، حتي قال: يا رب ومن مثلك؟ فأدنني، فقيل: اعْدُ -قال أبو بكر: العدو: الشد- فلك ما بلغته قدماك ورأته عيناك، قال: فيعدو حتى إذا بلح -يعني أعيا- قال: يا رب، هذا لي وهذا لي، فيقال: لك مثله وأضعافه، فيقول: قد رضي عني ربي، فلو أذن لي في كسوة أهل الدنيا وطعامهم لأوسعتهم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف بن مالک سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جس کو جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شخص ہوگا جو اللہ سے سوال کرے گا کہ اس کو جہنم سے نکال دیا جائے یہاں تک کہ جب جنتیوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور جہنمی لوگ جہنم میں داخل ہوجائیں یہ ان کے درمیان ہوگا وہ عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم ! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے ؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم ! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے ؟ وہ عرض کرے گا آپ کی طرح کون ہے اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ پھر وہ جنت کے دو وازے کے پاس درخت دیکھے گا تو عرض کرے گا، مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور امن کا پھل کھا سکوں اللہ فرمائیں گے ابن آدم ! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ پھر سوال نہ کروں گا ؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، پھر وہ اس سے بھی اعلیٰ دیکھے گا تو عرض کرے گا اے میرے اللہ ! مجھے اس کے قریب کر دے اللہ فرمائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ دوبارہ سوال نہ کروں گا ؟ وہ عرض کرے گا اللہ جی ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا جنت کی طرف دوڑ جتنی جنت پر تیرے قدم پڑیں اور تیری آنکھیں جتنی جنت کو دیکھے وہ تیرے لیے ہے وہ دوڑے گا یہاں تک کہ تھک کر چکنا چور ہوجائے گا تو عرض کرے گا اے اللہ ! کیا یہ اور وہ میرے لیے ہے ؟ اللہ فرمائے گا اس کے مثل اور اس سے دو گنا بھی تیرے لیے ہے، وہ عرض کرے گا میرا رب مجھ سے راضی ہوگیا، اگر مجھے دنیا والوں کے لباس اور ان کی خوراک کی اجازت دی جائے تو میں اس پر قادر ہوسکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 36721
٣٦٧٢١ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: ثنا زهير بن محمد عن (سهيل) (٢) ابن أبي صالح عن النعمان بن أبي عياش عن أبي سعيد الخدري أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن أدنى أهل الجنة منزلة رجل صرف اللَّه (٣) وجهه عن النار قبل الجنة، ومثل له شجرة ذات ظل فقال: أي رب! قدمني إلى هذه الشجرة أكون في ظلها، فقال اللَّه: هل عسيتَ إن فعلتُ أن تسألني غيره؟ فقال: لا وعزتك، فقدمه اللَّه إليها، ومثل له شجرة أخرى ذات ظل وثمرة فقال: أي رب! قدمني إلى هذه الشجرة (لأكون) (٤) في ظلها وآكل من ثمرها، فقال اللَّه: هل عسيت إن (أعطيتك) (٥) ذلك أن تسألني غيره؟ فقال: لا وعزتك، فقدمه اللَّه إليها، فتمثل له شجرة أخرى ذات ظل وثمر وماء فيقول: أي رب، قدمني إلى هذه الشجرة أكون في ظلها وآكل من ثمرها وأشرب من مائها، (فيقول) (٦): هل عسيت إن فعلت أن تسألني غيره؟ فيقول: لا وعزتك، لا أسألك غيره، فيقدمه اللَّه إليها، قال: فيبرز له باب الجنة فيقول: أي رب! قدمني إلى باب الجنة فكون تحت (نجاف) (٧) الجنة وانظر إلى أهلها، فيقدمه اللَّه إليها فيرى أهل الجنة وما فيها فيقول: أي رب! أدخلني الجنة، فيدخله اللَّه الجنة فإذا دخل الجنة قال: هذا (وهذا) (٨) لي، فيقول اللَّه: تمن، فيتمنى، ويذكره اللَّه: سل من كذا وكذا، حتى إذا انقطعت به الأماني قال اللَّه: هو لك وعشرة أمثاله، قال: ⦗١٥٨⦘ ثم يدخل بيته فيدخل عليه زوجتاه من الحور العين فتقولان له: الحمد للَّه الذي اختارك لنا واختارنا لك، فيقول: ما أعطي أحد مثل ما أعطيت" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ادنیٰ جنتی کا رتبہ جنت میں یہ ہوگا کہ اللہ ایک شخص کا چہرہ جہنم سے جنت کی طرف پھیر دیں گے، اس کیلئے ایک سایہ دار درخت ظاہر کیا جائے گا وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر تجھے اس کے قریب کر دوں تو کیا تو اس کے علاوہ مجھ سے کچھ سوال کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں تیری عزت کی قسم نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ اس شخص کو درخت کے قریب فرما دے گا پھر اس کو ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو سایہ دار اور پھل دار ہوگا وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پھل کھا سکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تجھے یہ عطا کر دوں تو اس کے علاوہ مجھ سے دوبارہ کچھ سوال کرے گا وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم نہیں اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب فرما دے گا پھر اس کیلئے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو سایہ دار پھل دار اور پانی والا ہوگا وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پھل کھا سکوں اور اس کا پانی پی سکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر تجھے دے دوں تو کیا تو دوبارہ مجھ سے سوال کرے گا وہ شخص عرض کرے گا تیری عزت کی قسم اس کے علاوہ سوال نہ کروں گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب فرما دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کیلئے جنت کے دروازے کو ظاہر فرمائے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کی چوکھٹ کے نیچے بیٹھ کر اس کے رہنے والوں کو دیکھ سکوں اللہ تعالیٰ اس کو قریب فرما دے گا پھر وہ شخص جنتی لوگوں کو اور جنت کی نعمتوں کو دیکھے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اللہ جی مجھے جنت میں داخل فرما دے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرما دے گا جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو کہے گا یہ میرے لیے ہے اور یہ بھی میرے لیے ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو خواہش کر وہ خواہش کرے گا، اللہ پاک اس کو یاد دلائیں گے کہ یہ یہ سوال کر، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات مکمل ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ بھی تیرے لیے ہے اور اس کی مثل دس گنا اور بھی پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس کے پاس اس کی دو بیویاں جو حورعین میں سے ہوں گی آئیں گی اور کہیں گی تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے آپ کو ہمارے لیے اور ہمیں آپ کے لیے منتخب کیا وہ جنتی کہے گا جس طرح مجھے عطا کیا گیا ہے اس جیسا کسی کو عطا نہیں کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 36722
٣٦٧٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن (سعد) (١) عن علي في هذه الآية: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ [مريم: ٨٥]، (قال) (٢): ثم قال: هل تدرون على أي شيء يحشرون؟ أما واللَّه ما يحشرون على أقدامهم، ولكنهم يؤتون بنوق لم تر الخلائق مثلها، عليها رحال الذهب، وأزمتها الزبرجد، فيجلسون عليها، ثم ينطلق بهم حتى يقرعوا باب الجنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کس چیز پر ان کو جمع کیا جائے گا ؟ خدا کی قسم ان کو قدموں کے بل (چل کر) نہیں جمع کیا جائے گا بلکہ وہ ایسے اونٹوں پر آئیں گے جن کے مثل لوگوں نے پہلے دیکھا نہ ہوگا ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، ان کی لگا میں زبر جد کی ہوں گی وہ متقین ان پر بیٹھیں ہوں گے پھر وہ جانور ان کو لے کر چلیں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازوں کو کھٹکھٹائیں گے۔
حدیث نمبر: 36723
٣٦٧٢٣ - حدثنا قراد أبو نوح قال: حدثنا شعبة عن إسماعيل بن أبي خالد (عن رجل) (١) عن أبي هريرة في قوله: ﴿يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا﴾ على الإبل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ اونٹوں پر جمع کئے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 36724
٣٦٧٢٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أني لأعرف آخر أهل النار خروجا من النار رجل يخرج منها زحفا فيقال له: انطلق فأدخل الجنة، قال: فيذهب فيدخل الجنة فيجد الناس قد اتخذوا المنازل فيرجع فيقول: يا رب قد أخذ الناس المنازل قال: فيقال له: أتذكر الزمان الذي كنت فيه، فيقول: نعم، قال: فيقال له: تمن، فيتمنى، فيقال ⦗١٥٩⦘ (له) (١): لك الذي تمنيت وعشرة أضعاف الدنيا، قال: فيقول له: أتسخر بي وأنت الملك؟ " قال: لقد رأيت رسول اللَّه ﷺ ضحك حتى بدت نواجذه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا : میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جو جہنم سے نکلے گا یہ وہ شخص ہوگا جو جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا اس کو کہا جائے گا چلو اور جنت میں داخل ہوجاؤ وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہوجائے گا وہ وہاں جائے گا تو لوگ پہلے ہی رتبہ حاصل کرچکے ہوں گے۔ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا اے اللہ ! لوگوں نے تو اپنے رتبے حاصل کرلیے ہیں اس سے کہا جائے گا کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا ؟ وہ عرض کرے گا جی اس سے کہا جائے گا تو تمنا اور خواہش کر وہ خواہش کرے گا اسے کہا جائے گا جو تو نے خواہش کی ہے یہ بھی تیرے لیے ہے اور دنیا سے دس گنا زیادہ بھی تیرے لیے ہے وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ ! آپ بادشاہ ہو کر مجھ سے مزاق کر رہے ہیں ؟ راوی فرماتے ہیں کہ یہ بات بیان کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں مبارک میں نے دیکھیں۔
حدیث نمبر: 36725
٣٦٧٢٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن شيبان عن فراس عن عطية عن أبي سعيد عن النبي ﷺ قال: "أول زمرة تدخل الجنة على صورة القمر ليلة البدر، والثانية على لون أحسن كوكب دري في السماء إضاءة، لكل واحد منهما زوجتان، على كل زوجة سبعون حلة، يبدو مخ ساقيها من ورائها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں کے چاند جیسے ہوں گے اور دوسرا گروہ موتی کی طرح چمکتے ہوئے تاروں کی طرح ہوں گے ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے ستر جوڑے ہوں گے اور ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا ان ستر جوڑوں میں بھی نظر آ رہا ہوگا۔
حدیث نمبر: 36726
٣٦٧٢٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن مجالد عن الشعبي عن المغيرة بن شعبة قال: قال موسى: يا رب (١) (ما لأدنى) (٢) أهل الجنة منزلة؟ قال: رجل يبقى في الدمنة (حيث) (٣) (يحبس) (٤) الناس، قال: فيقال له: قم فأدخل الجنة، قال: أين أدخل وقد سبقني الناس؟ قال: فيقال له: تمن أربعة ملوك من ملوك الدنيا ممن كنت تتمنى مثل ملكهم وسلطانهم، قال: فيقول: فلان، قال: فيعد أربعة ثم يقال له: تمن (بقلبك) (٥) ما شئت، قال: فيتمنى، قال: ثم يقال له: اشته ما شئت، قال: فيشتهي، قال: فيقال: لك هذا وعشرة أضعافه، قال: فقال موسى: ⦗١٦٠⦘ يا رب، فما لأهل صفوتك؟ قال: فقيل: هذا الذي أردت، قال: خلقت كرامتهم وعملتها بيدي، وختمت على خزائنها ما لا عين رأت ولا خطر على قلب بشر، ثم تلا: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة: ١٧] (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ ! ادنیٰ جنتی کا رتبہ کیا ہوگا ؟ فرمایا ایک شخص جانوروں کے باڑہ میں باقی رہے گا (کوڑے خانے میں) اس طور پر کہ لوگوں نے اس کو محبوس کیا ہوگا، اس کو حکم ہوگا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ عرض کرے گا کہاں سے داخل ہوجاؤں لوگوں نے تو مجھ سے سبقت کرلی ہے ؟ اس کو کہا جائے گا دنیا کے چار بادشاہوں کی بادشاہت اور سلطنت کے بقدر تمنا اور خواہش کر وہ کہے گا فلاں بادشاہ پس وہ چار بادشاہوں کو گنے گا پھر اس کو کہا جائے گا اپنے دل میں جو جو چاہے خواہش کر وہ تمنا کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا جو چاہو خواہش کرلے، وہ خواہش کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا یہ سب بھی تیرے لیے ہے اور دس گنا اور بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ ! آپ کے مخلص دوستوں کیلئے کیا نعمتیں ہیں ؟ ان سے کہا گیا، یہ ہے جو میں نے ارادہ کیا ہے میں نے ان کے اکرام کیلئے بنایا ہے اور اپنے ہاتھ سے بنا کر ان پر مہر لگا دی ہے، جن نعمتوں کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی بشر کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن }
حدیث نمبر: 36727
٣٦٧٢٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم بن بهدلة عن خيثمة (أن) (١) عبد اللَّه بن عمرو قال: إن لأهل عليين كوى يشرفون (منها) (٢) فإذا أشرف أحدهم أشرفت الجنة، قال: فيقول أهل الجنة: قد أشرف رجل من أهل عليين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ علیین والوں کیلئے کھڑکیاں ہوں گی جہاں سے وہ دیکھیں گے جب انہیں اوپر سے کوئی جنتی دیکھے گا تو اس کی وجہ سے جنت روشن ہوجائے گی جنتی لوگ کہیں گے علیین میں سے کسی نے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 36728
٣٦٧٢٨ - حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (لقاب قوس) (١) أحدكم (أو سوطه) (٢) من الجنة خير من الدنيا وما فيها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کسی کی کمان یا کوڑے کی مقدار جنت میں جگہ دنیا وما فیھا سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 36729
٣٦٧٢٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير في قوله: ﴿فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ﴾ [الروم: ١٥]، قال: الحبر السماع في الجنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر قرآن کریم کی آیت { فِی رَوْضَۃٍ یُحْبَرُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ الحبر سے مراد جنت میں سماع ہے گانا سننا ہے۔
حدیث نمبر: 36730
٣٦٧٣٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا (ربيعة) (١) بن كلثوم قال: سمعت الحسن يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "والذي نفس محمد بيده لو أن امرأة من نساء أهل الجنة أشرفت على أهل الأرض لملأت الأرض من ريح المسك، ولنصيف امرأة من نساء أهل الجنة خير من الدنيا وما فيها، هل تدرون ما النصيف؟ هو الخمار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر جنتی حوروں میں سے کوئی حور زمین والوں پر جھانک لے تو ساری زمین مشک کی خوشبو سے بھر جائے، جنتی عورت کا نصیف دنیا وما فیھا سے بہتر ہے کیا تمہیں معلوم ہے نصیف سے کیا مراد ہے ؟ وہ اوڑھنی ہے۔
حدیث نمبر: 36731
٣٦٧٣١ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن عطية عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لشبر من الجنة خير من الدنيا وما فيها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایک بالشت جگہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 36732
٣٦٧٣٢ - حدثنا يحيى بن عيسى عن الأعمش عن (ثوير) (١) عن ابن عمر قال: إن أدنى أهل الجنة منزلة رجل له ألف قصر، ما بين كل (قصرين) (٢) مسيرة سنة، يرى أقصاها كما يرى أدناها، في كل قصر من (الحور) (٣) العين والرياحين والولدان ما يدعو بشيء إلا أتي به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک ادنیٰ جنتی کا رتبہ یہ ہوگا کہ ایک شخص کے ہزار محل ہوں گے اور ہر دو محلوں کے درمیان ایک سال کا فاصلہ ہوگا وہ دیکھے اس کی انتہاء کو جیسے ان کے قریب کو دیکھے گا ہر محل میں حورعین، خوشبو دار پودے اور غلمان ہوں گے جو بھی وہ طلب کریں گے وہ ان کو پیش کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 36733
٣٦٧٣٣ - حدثنا محمد بن أبي عبيدة عن أبيه (عن الأعمش) (١) عن مالك (بن الحارث) (٢) قال: قال مغيث بن سمي: إن في الجنة (قصورا) (٣) من ذهب، وقصورا من فضة، وقصورا من ياقوت، وقصورا من زبرجد، جبالها المسك وترابها (الورس و) (٤) الزعفران.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیث سے مروی ہے کہ جنت میں کچھ محل سونے کے، کچھ چاندی کے، کچھ یا قوت کے، کچھ زبر جد کے ہیں، اس کے پہاڑ مشک کے اور مٹی ورس اور زعفران کی ہے۔
حدیث نمبر: 36734
٣٦٧٣٤ - حدثنا محمد بن بشر عن مسعر قال: حدثنا قتادة عن أنس قال: إن قائل أهل الجنة ليقول انطلقوا بنا إلى السوق، فيأتون جبالا من مسك فيجلسون فيتحدثون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنتیوں میں ایک کہے گا، ہمیں بازار لے چلو، پھر وہ مشک کے پہاڑوں پر آئیں گے اور وہاں بیٹھ کر باہم گفتگو کریں گے۔
حدیث نمبر: 36735
٣٦٧٣٥ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم التيمي قال: بلغني أنه يقسم للرجل من أهل الجنة شهوة مائة وأكلهم ونهمتهم، فإذا (كان: كان) (١) شرابا طهورا يخرج من جلده رشحا كرشح المسك ثم تعود شهوته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ ایک جنتی شخص کو سو بندوں کی شہوت عطا کی جائے گی ان کا کھانا اور ان کی ضرورت اور خواہش، جب وہ کھائے گا تو اس کو پاکیزہ شراب پلائی جائے گی جس کی وجہ سے اس کے بدن سے مشک کی طرح پسینہ نکلے گا اور اس کی شہوت اور خواہش دوبارہ ازسر نو لوٹ آئے گی۔
حدیث نمبر: 36736
٣٦٧٣٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن أبي (كثير) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: يجمعون فيقال: أين فقراء هذه الأمة ومساكينها؟ قال: فيبرزون فيقال: ما عندكم؟ فيقولون: يا رب! ابتليتنا فصبرنا وأنت أعلم، قال: وأراه قال: ووليت الأموال والسلطان غيرنا، قال: فيقال: صدقتم فيدخلون الجنة قبل سائر الناس (بزمن) (٢)، ويبقى شدة الحساب على ذوي الأموال والسلطان، قال: قلت: فأين المؤمنون يومئذ؟ قال: يوضع لهم كراسي من نور (ويظلل) (٣) عليهم الغمام ويكون ذلك اليوم أقصر عليهم من ساعة من نهار (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا پھر پکارا جائے گا اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں ؟ پھر ان کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا تمہارے پاس کیا ہے کیا لے کر آئے ہو ؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ! آپ نے ہمیں مختلف مصیبتوں میں آزمایا ہم ثابت قدم رہے آپ کو معلوم ہے راوی فرماتے ہیں کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے اموال اور بادشاہت کو ہم سے پھیرے رکھا ان کو کہا جائے گا تم نے سچ کہا، ان کو تمام لوگوں سے قبل جنت میں داخل کردیا جائے گا اور حساب وکتاب کی شدت مالداروں اور بادشاہوں پر باقی رہے گی، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اس دن مومنین کہاں ہوں گے ؟ فرمایا ان کیلئے نور کی کرسی رکھی جائے گی، ان پر بادلوں کا سایہ ہوگا، اور وہ دن ان پر دن کی گھڑی سے بھی کم وقت میں گزر جائے گا۔
حدیث نمبر: 36737
٣٦٧٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد عن أنس أن عبد اللَّه بن سلام أتى رسول اللَّه ﷺ (مقدمه المدينة) (١) (فسأله) (٢) ما أول ما يأكله أهل الجنة؟ فقال: "أخبرني جبريل آنفا: أن أول ما يأكله أهل الجنة زيادة كبد حوت" (٣). حدثنا زيد بن (الحباب) (٤) عن أسامة بن زيد عن محمد بن كعب قال: (يرى) (٥) في الجنة كهيئة البرق (فقيل) (٦): ما هذا؟ (قيل) (٧): رجل من أهل عليين تحول من غرفة إلى غرفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت فرمایا کہ جنتی لوگ پہلی چیز کیا کھائیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا یا ہے کہ جنتی لوگوں کی سب سے پہلے خوراک مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا حصہ ہوگا۔
…