کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
حدیث نمبر: 36658
٣٦٦٥٨ - حدثنا (أبو عبد الرحمن قال) (١): حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن أبي شيبة عن سفيان ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: أرض الجنة (٢) من ورق، وترابها: مسك، وأصول شجرها ذهب وفضة، وأفنانها: لؤلؤ وزبرجد وياقوت، والورق والثمر تحت ذلك، فمن أكل قائما لم يؤذه، ومن أكل جالسا لم يؤذه، ومن أكل مضطجعا لم يؤذه، ﴿وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا﴾ [الإنسان: ١٤].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جنت کی زمین چاندی کی، اس کی مٹی مشک کی، اس کے درختوں کی جڑیں سونے اور چاندی کی، اس کی شاخیں موتی، زبر جد اور یا قوت کی ہیں، اس کے پتہ اور پھل اس کے نیچے ہیں، جو کھڑے ہو کر کھائے اس کو بھی نقصان نہیں، جو بیٹھ کر کھائے اس کو بھی نقصان نہیں اور جو لیٹ کر کھائے اس کو بھی نقصان نہ دے گا، پھر { وَذُلِّلَتْ قُطُوفُہَا تَذْلِیلاً } تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 36659
٣٦٦٥٩ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا علي بن صالح عن (عمر) (١) بن ربيعة عن الحسن عن ابن عمر قال: سئل رسول اللَّه ﷺ (عن الجنة) (٢) كيف هي؟ قال: "من يدخل الجنة يحيا لا يموت، وينعم لا يبأس، ولا تبلى ثيابه، ولا يبلى شبابه"، قيل: يا رسول اللَّه كيف بناؤها؟ قال: "لبنة من فضة، ولبنة من ذهب، ملاطها مسك، وحصباؤها اللولؤ والياقوت، وترابها الزعفران" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کے متعلق دریافت کیا گیا کہ وہ کیسی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص جنت میں داخل ہوگا، وہ ہمیشہ زندہ رہے گا اس کو موت نہ آئے گی، اس کو جو نعمتیں ملیں گی وہ ختم نہ ہوں گی نہ کپڑے خراب ہوں گے نہ جوانی ختم (بوسیدہ) ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اس کی تعمیر کیسی ہوگی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی اینٹیں سونے اور چاندی کی ہیں اس کا گارا مشک کا ہے، اس کی شاخیں موتی اور جواہرات اور اس کی مٹی زعفران کی ہے۔
حدیث نمبر: 36660
٣٦٦٦٠ - حدثنا أبو أسامة عن الجريري (عن أبي نضرة) (١) عن أبي سعيد ⦗١٣٨⦘ الخدري أن ابن صياد سأل رسول اللَّه ﷺ عن تربة الجنة؟ فقال: "درمكة بيضاء، مسك خالص" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابن صیاد نے رسول اکرم ﷺ سے جنت کی مٹی کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سفید آٹا اور خالص مشک کی ہے۔
حدیث نمبر: 36661
٣٦٦٦١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم ابن جابر قال: إن اللَّه ﵎ لم يمس بيده من خلقه غير ثلاثة أشياء: (غرس) (١) الجنة بيده ثم جعل ترابها الورس والزعفران، وجبالها المسك، وخلق آدم بيده، وكتب التوراة لموسى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے چھوا ہے جنت کے درخت اپنے ہاتھ سے لگائے اس کی مٹی ورس اور زعفران کی اور اس کے پہاڑ مشک کے بنائے حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کیلئے توراۃ ہاتھ سے لکھی ۔
حدیث نمبر: 36662
٣٦٦٦٢ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة (١) عن مسروق عن عبد اللَّه قال: أنهار الجنة تفجر من جبل من مسك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جنت کی نہریں مشک کے پہاڑ سے جاری ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 36663
٣٦٦٦٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن مسروق قال: أنهار الجنة (تجري) (١) في غير أخدود، و (ثمرها) (٢) كالقلال، كلما نزعت ثمرة عادت أخرى، والعنقود (اثنا) (٣) عشر ذراعًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت کی نہریں بغیر کنویں (گڑھے) کے جاری ہیں، اور اس کے پھل ٹوکریوں کی طرح ہیں جب بھی کوئی پھل توڑا جائے اس کی جگہ دوسرا پھل آجاتا ہے اس کے انگور کا خوشہ بارہ زراع کا ہے۔
حدیث نمبر: 36664
٣٦٦٦٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي سنان عن (ابن) (١) أبي الهذيل قال: سمعت عبد اللَّه بن عمرو قال: العنقود أبعد من صنعاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ انگور صنعاء سے زیادہ دور نکلے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 36665
٣٦٦٦٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: سعف الجنة منه كسوتهم ومقطعاتهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت کی کھجور اس سے ان کے کپڑے اور چھوٹا لباس ہوگا، فرمایا جنت کے پھل کی گٹھلی نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 36666
٣٦٦٦٦ - قال: وقال ابن عباس: وثمرها ليس له عجم (١).
حدیث نمبر: 36667
٣٦٦٦٧ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سلمة بن كهيل عن الحسن (العرني) (١) عن (هزيل) (٢) بن شرحبيل عن عبد اللَّه في قوله: ﴿سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى﴾ [النجم: ١٤] قال: صبر الجنة يعني: وسطها، عليها فضول السندس والإستبرق (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سدرۃ المنتہیٰ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ جنت کا درمیان ہے اس پر باریک اور موٹی ریشم کا لباس ہے۔
حدیث نمبر: 36668
٣٦٦٦٨ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرني يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد اللَّه (اليزني) (١) عن تُبَيع بن امرأة كعب قال: تزلف الجنة ثم تزخرف ثم ينظر إليها من خلق اللَّه من مسلم أو يهودي أو نصراني إلا رجلان: رجل قتل مؤمنًا متعمدًا، ورجل قتل معاهدا متعمدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تبیع ابن امراۃ کعب سے مروی ہے کہ جنت کو قریب کیا جائے گا پھر اس کو سجایا جائے گا، اللہ کی تمام مخلوق خواہ وہ مسلمان ہو، یہودی ہو یا عیسائی جنت کو دیکھیں گے، سوائے دو بدنصیبوں کے ایک وہ شخص جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے، دوسرا وہ شخص جو کسی معاہد کو (جس سے معاہد ہ ہے) جان بوجھ کر قتل کر دے۔
حدیث نمبر: 36669
٣٦٦٦٩ - [حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي ظبيان عن (جرير) (١) عن سلمان قال: الشجر والنخل، أصولها وسوقها اللؤلؤ أو الذهب، وأعلاها التمر] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ پھلوں اور کھجور کے درختوں کی جڑیں اور ان کے بازار موتی اور سونے کے ہوں گے، اور اس کے اوپر پھل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36670
٣٦٦٧٠ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن أبي ظبيان عن (جرير) (١) عن سلمان قال: الشجر والنخل أصولها وسوقها اللؤلؤ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ درخت، کھجور، ان کی جڑیں اور بازار موتی کے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 36671
٣٦٦٧١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما انتهيت إلى السدرة إذا ورقها مثل آذان الفيلة، وإذا نبقها أمثال القلال، فلما غشيها من أمر اللَّه ما غشيها تحولت (فذكر) (١) الياقوت" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب میں سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچا، اس کے پتے ایک خاص پودے کی طرح ہیں، اور اس کے پھل ٹو کرے کی مانند ہیں، پھر اس کو ڈھانپ لیا جس کا اللہ نے حکم دیا ڈھانپنے کا، پھر وہاں سے منتقل ہوگیا پس مجھے یاقوت یاد ہے۔
حدیث نمبر: 36672
٣٦٦٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (١) حسان عن مغيث بن سمي في قوله: ﴿طُوبَى﴾ قال: هي شجرة في الجنة، ليس (من أهل الجنة) (٢) دار إلا يظلهم غصن من أغصانها، فيها من ألوان الثمر، وتقع عليها طير أمثال البخت، قال: فإذا اشتهى الرجل الطائر دعاه فيجيء حتى يقع على (خوانه) (٣)، قال: فيأكل من أحد جانبيه قديدًا، ومن الآخر شواء، ثم يعود كما كان فيطير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیث ابن سمی، اللہ کے ارشاد ” طوبیٰ “ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ جنت کا ایک درخت ہے جنت کا کوئی گھر ایسا نہیں ہے مگر اس کی ٹہنیوں نے اس پر سایہ کیا ہوا ہے اس میں طرح طرح کے پھل ہیں اس پر اونٹ کے مثل پرندے ہیں جب کوئی جنتی کسی پر ندے کو کھانے کی خواہش کرے گا تو اس کو پکارے گا، وہ پر ندہ خود بخود اس کے دستر خوان پر آجائے گا، پھر وہ کھائے گا اس کی ایک جانب گوشت پکا ہوا اور دوسری جانب بھنا ہوگا، پھر وہ دوبارہ لوٹ جائے گا اور وہ پرندہ اسی طرح اڑنا شروع کر دے گا۔
حدیث نمبر: 36673
٣٦٦٧٣ - حدثنا وكيع عن العلاء بن عبد الكريم قال: سمعت ابن سابط يقول: إن الرسول يجيء إلى الشجرة من شجر الجنة فيقول: إن (ربي) (١) يأمرك (أن) (٢) تفتقي لهذا ما شاء، فإن الرسول ليجيء إلى الرجل من أهل الجنة فينشر عليه الحلة فيقول: قد رأيت الحلل فما رأيت مثل هذه.
مولانا محمد اویس سرور
ابن سابط سے مروی ہے کہ ایک رسول جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کے پاس آئے گا، اور عرض کرے گا کہ میرے رب ! کا حکم ہے کہ تو اس پر برسائے جو یہ چاہے پھر وہ رسول جنتیوں میں سے ایک شخص کو لے کر آئے گا وہ درخت اس پر عمدہ پوشاکیں برسائے گا وہ جنتی کہے گا کہ میں نے اس سے عمدہ پوشاکیں پہلے نہیں دیکھیں۔
حدیث نمبر: 36674
٣٦٦٧٤ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي صالح قال: طوبى شجرة في الجنة، ولو أن راكبا ركب جذعة أو حقة فأطاف بها ما بلغ (١) الموضع الذي (ركب) (٢) منه حتى يدركه الهرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ طوبیٰ جنت کا ایک درخت ہے اگر کوئی سوار اونٹ پر سوار ہو کر اس کے گرد چکر لگانا چاہے تو وہ چکر مکمل ہونے سے پہلے بوڑھا ہوجائے گا چکر مکمل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 36675
٣٦٦٧٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: أخبرنا معاوية بن صالح قال: أخبرني عمرو بن قيس قال: إن الرجل من أهل الجنة (ليشتهي) (١) الثمرة فتجيء حتى تسيل في فيه وإنها في أصلها في الشجرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن قیس سے مروی ہے کہ جنتی شخص پھل کھانا چاہے گا اور وہ درخت کے پاس آئے گا پھل خود ٹوٹ کر اس کے منہ میں آجائے گا۔ حالانکہ وہ درخ میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 36676
٣٦٦٧٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا زكريا عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن ابن عوسجة عن علقمة عن عبد اللَّه قال: الجنة سجسج لا قر فيها ولا حر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جنت کا موسم معتدل ہے، نہ سردی ہے نہ گرمی۔
حدیث نمبر: 36677
٣٦٦٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن سعد عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن في الجنة سوقًا ما فيها بيع ولا شراء إلا الصور من الرجال والنساء، فإذا اشتهى الرجل صورة دخل فيها، وإن فيها لمجتمعا للحور العين، يرفعن أصواتًا، لم ير الخلائق مثلها، يقلن: نحن الخالدات فلا نبيد، ونحن الراضيات فلا نسخط، ونحن الناعمات فلا نبأس، فطوبى لمن كان لنا وكنا له" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایک بازار ہے اس میں بیع وشراء نہ ہوگی اس میں مردوں اور عورتوں کی صورتیں ہوں گی جب کسی جنتی کو کوئی صورت اچھی معلوم ہوگی تو وہ اسی طرح ہوجائے گا۔ جنت میں اجتماع ہوگا حوروں کیلئے وہ بلند آواز سے بولیں گی، لوگوں نے ان کی طرح پہلے کسی کو نہ دیکھا ہوگا وہ کہیں گی کہ : ہم ہمیشہ کیلئے ہیں ہم ختم نہ ہوں گی ہم ہمیشہ خوش رہیں گی ناراض نہ ہوں گی، ہم ہمیشہ خواشگوار رہیں گی تنگ حال نہ ہوں گی پس خوشخبری ہے ان کیلئے جن کیلئے ہم ہیں اور جو ہمارے لیے ہیں۔
حدیث نمبر: 36678
٣٦٦٧٨ - حدثنا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن (سعد) (١) عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن في الجنة غرفا (يرى) (٢) ظهورها من بطونها وبطونها من ظهورها"، قال: فقام أعرابي فقال: (لمن هي) (٣) يا رسول اللَّه؟ فقال (رسول اللَّه ﷺ) (٤): "هي لمن طيب الكلام، وأطعم الطعام، وأفشى السلام، وصلى بالليل والناس نيام" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایک ایسا کمرہ ہے جس کا اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور باہر کا حصہ اندر سے ایک اعرابی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کمرہ کس کیلئے ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا وہ کمرہ اس کیلئے ہے جو عمدہ کلام کرے (سچ بولے) بھوکوں کو کھلانا کھلائے، سلام کو عام کرے اور رات میں جس وقت لوگ آرام کر رہے ہوں وہ نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 36679
٣٦٦٧٩ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني سعيد بن عبد الرحمن قال: حدثنا أبو حازم عن سهل بن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ وذكر الجنة فقال: "فيها ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا (١) على قلب بشر (خطر) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں میں نے اپنے نیک بندوں کیلئے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا اگر تم چاہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو۔ { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } اور جنت میں ایک درخت ہے ایک (تیز) سوار سو سال تک اس کے سایہ میں دوڑتا رہے تو بھی اس کو ختم نہیں کرسکتا، اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو { وَظِلٍّ مَمْدُودٍ } اور جنت میں ایک کوڑے کی بقدر کی جگہ بھی دنیا وما فیھا سے بہتر ہے، اگر چاہو یہ آیت پڑھ لو، { فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ }
حدیث نمبر: 36680
٣٦٦٨٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن (عمرو) (١) عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "يقول اللَّه ﵎: أعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رأت ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر، اقرؤوا إن شئتم: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة: ١٧]، وفي الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها مائة عام لا (يقطعه) (٢)، اقرؤوا إن شئتم: ﴿وَظِلٍّ ⦗١٤٣⦘ مَمْدُودٍ﴾ [الواقعة: ٣٠]، لموضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها، إقرءوا إن شئمْ: ﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ (وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ) (٣)﴾ [آل عمرن: ١٨٥] " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے ماقبل کا مضمون اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 36681
٣٦٦٨١ - حدثنا يزيد بن هارون عن سليمان التيمي عن أنس بن مالك قال: إن أهل الجنة ليقولون: انطلقوا بنا إلى السوق، فيأتون جبالا من مسك، أو (حبالًا) (١) من مسك، أو كثبانًا من مسك، فيبعث اللَّه عليهم ريحًا فيدخلهم منازلهم فيقول لهم أهلوهم: لقد ازددتم بعدنا حسنا، ويقولون لأهليهم: مثل ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے مروی ہے کہ جنتی کہیں گے کہ ہمیں بازار لے چلو، پھر وہ مشک کے پہاڑوں پر آئیں گے، یا مشک کے ٹیلوں پر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان پر ایک ہوا بھیجے گا، پھر وہ اپنے گھروں میں داخل ہوں گے تو ان کے گھر والے ان سے کہیں گے ہمارے بعد تمہارے حسن میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ جنتی بھی اپنے گھر والوں سے اسی طرح کہیں گے۔
حدیث نمبر: 36682
٣٦٦٨٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن (صباح) (١) بن عبد اللَّه (البجلي) (٢) قال: حدثنا يحيى (بن) (٣) الجزار أن النبي ﷺ قال: "إن طير الجنة أمثال (البخاتي) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جزار سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت کے پرندے بختی اونٹوں کی طرح ہیں۔
حدیث نمبر: 36683
٣٦٦٨٣ - حدثنا مروان بن معاوية عن عوف عن الحسن أن النبي ﷺ نعت يوما الجنة وما فيها من الكرامة، فقال: "فيها يقول إن فيها طيرا أمثال البخت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا : جنت میں بختی اونٹوں کی مثل پرندے ہیں۔
حدیث نمبر: 36684
٣٦٦٨٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن ثور عن خالد بن معدان عن عبد اللَّه بن (عمرو) (١) قال: الجنة مطوية (معلقة) (٢) بقرون الشمس، تنشر في كل عام مرة وأرواح المؤمنين في (جوف) (٣) طير (خضر) (٤) كالزرازير، يتعارفون (و) (٥) يرزقون من ثمر الجنة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت لپٹی ہوئی سورج کے زمانوں کے ساتھ متعلق ہے، سال میں ایک مرتبہ پھیلتی ہے مومنوں کی ارواح زرازہ چڑیا کی طرح پرندوں میں ہیں، وہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں اور جنت کے پھلوں سے رزق حاصل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 36685
٣٦٦٨٥ - حدثنا مروان بن معاوية عن علي بن (أبي) (١) الوليد قال (٢): سئل مجاهد (فقيل له) (٣): هل في الجنة سماع؟ قال: إن في الجنة لشجرة لها سماع لم يسمع السامعون إلى مثله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے دریافت کیا گیا کہ کیا جنت میں سماع (گانا وغیرہ) ہوگا آپ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے جو اپنی مخصوص آواز میں گاتا ہے سننے والوں نے اس کی طرح نہ سنا ہوگا۔
حدیث نمبر: 36686
٣٦٦٨٦ - حدثنا رواد بن (الجراح) (١) (عن) (٢) الأوزاعي عن إسماعيل بن عبيد اللَّه عن (علي) (٣) بن عبد اللَّه بن عباس في قوله: ﴿وَلَسَوْفَ يُعْطِيِكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى﴾ [الضحى: ٥]، قال: ألف قصر من لؤلؤ ⦗١٤٥⦘ أبيض ترابه المسك وفيهن ما يصلحهن (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کریم کی آیت { وَلَسَوْفَ یُعْطِیک رَبُّک فَتَرْضَی } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ : سفید موتی کے ہزار محل ہیں۔
حدیث نمبر: 36687
٣٦٦٨٧ - حدثنا يحيى بن يمان عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير قال: أدنى أهل الجنة منزلة من له ألف قصر، فيه سبعون ألف خادم، ليس منهن خادم إلا في يدها صحفة سوى ما في يد صاحبها، لا يفتح بابه بشيء يريده، لو ضافه جميع أهل الدنيا لأوسعهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ سب سے ادنیٰ جنتی کا مرتبہ بھی اتنا ہوگا کہ اس کے ہزار محل ہوں گے جن میں ستر ہزار خدام ہوں گے ہر خادم کے ہاتھ میں رکابی ہوگی اس رکابی کے علاوہ جو اس کے ساتھیوں کے پاس ہے، اس کا دروازہ کسی چیز کے ساتھ نہیں کھولے گا جس کا وہ ارادہ کرے گا اگر وہ سارے دنیا والوں کی مہمان نوازی بھی کرنا چاہے تو ان کیلئے اتنی کشادگی ہوگی۔
حدیث نمبر: 36688
٣٦٦٨٨ - حدثنا يحيى بن يمان عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير قال: (١) طول الرجل من أهل الجنة تسعون ميلا، وطول المرأة (ثمانون) (٢) ميلا، ومقعدها جريب، وإن شهوته لتجري في جسدها سبعين عاما يجد اللذة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جبیر ارشاد فرماتے ہیں کہ جنتی مردوں کی لمبائی نوے میل ہوگی اور جنتی خواتین کی تیس میل ہوگی اور ان کی مقعد چار قفیز کے برابر ہوگی ان کی شہوت ان کے جسم میں ستر سال تک جاری ہوگی جس کی لذت وہ محسوس کریں گے۔
حدیث نمبر: 36689
٣٦٦٨٩ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن زياد مولى بني مخزوم قال: سمعت أبا هريرة يقول: (إن) (١) في الجنة لشجرة يسير الراكب في ظلها مائة عام واقرءوا إن شئتم: ﴿وَظِلٍّ مَمَّدُودٍ﴾ [الواقعة: ٣٠]، فبلغ ذلك كعبا (فقال) (٢): صدق (و) (٣) الذي أنزل التوراة على لسان موسى والفرقان على لسان محمد ﷺ لو أن رجلا ركب حقة أو جذعة ثم (أدار) (٤) بأصل تلك الشجرة ما بلغها حتى ⦗١٤٦⦘ يسقط هرما، إن اللَّه غرسها بيده ونفخ (فيها) (٥) من روحه، وإن أفنانها من وراء سور الجنة، وما في الجنة نهر إلا يخرج من أصل تلك الشجرة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے سوار سو سال تک اس کے سایہ میں دوڑ کر اس کی لمبائی ختم نہیں کرسکتا، اگر چاہو تو قرآن کریم کی آیت { وَظِلٍّ مَمْدُودٍ } پڑھ لو۔ حضرت کعب تک یہ بات پہنچی تو حضرت کعب نے فرمایا قسم اس خدا کی جس نے حضرت موسیٰ پر تورات نازل فرمائی اور حضور ﷺ کی زبان پر قرآن نازل فرمایا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے اگر کوئی سوار اونٹ پر سوار ہو اور پھر اس درخت کی جڑوں تک پہنچنا چاہے تو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہو کر گرپڑے اللہ تعالیٰ نے اس درخت کو اپنے ہاتھوں سے بویا ہے اور اس میں اپنی روح پھونکی ہے اس درخت کے کنارے جنت کی فصیل کے پیچھے ہیں اور جنت کی تمام نہریں اس درخت کی جڑوں سے جاری ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 36690
٣٦٦٩٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا همام بن يحيى عن أبي عمران الجوني عن أبي بكر بن أبي موسى عن أبيه عن النبي ﷺ قال: " (إن) (١) الخيمة درة طولها ستون ميلًا، في كل زاوية منها أهل للمؤمن لا يراهم غيرهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں موتی کا ایک خیمہ ہے جو ساٹھ میل لمبا ہے اس کے ہر ایک زاویہ پر مومن کیلئے اس کی گھر والی ہے جن کو اس کے علاوہ کوئی نہیں دیکھے گا۔
حدیث نمبر: 36691
٣٦٦٩١ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن حسان عن يزيد الرقاشي عن رجل عن كعب قال: لو أن امرأة من نساء أهل الجنة بدا معصمها لذهب بضوء الشمس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب نے فرمایا : ایک جنت کی حور اپنی مینڈھی کی چمک دنیا میں ظاہر کر دے تو سورج کی روشنی ختم (ماند پڑجائے) ہوجائے۔
حدیث نمبر: 36692
٣٦٦٩٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن سلمة بن نبيط عن الضحاك قال: لو أن امرأة من أهل الجنة أطلعت كفها لأضاء ما بين السماء والأرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک سے مروی ہے کہ اگر جنت کی حور اپنی ہتھیلی ظاہر کر دے تو آسمان و زمین کا درمیانی حصہ روشن ہوجائے۔
حدیث نمبر: 36693
٣٦٦٩٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن مجاهد قال: إنه ليوجد ريح المرأة من الحور العين من مسيرة خمسين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت کی حور کی خوشبو پچاس برس کی مسافت پر بھی محسوس ہوگی۔ (آئے گی) ۔
حدیث نمبر: 36694
٣٦٦٩٤ - حدثنا شبابة بن سوار عن ابن أبي ذئب عمن سمع أنسا يقول إن الحور العين في الجنة ليتغنين يقلن: ⦗١٤٧⦘ نحن الخيرات (الحسان) (١) … حبسنا للأزواج الكرام (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جنت کی حوریں گائیں گی وہ کہیں گی ہم نیک سیرت اور خوبصورت ہیں ہمارے لیے ہمارے معزز خاوند کافی ہیں۔
حدیث نمبر: 36695
٣٦٦٩٥ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن عطاء بن السائب عن عمرو بن ميمون قال: حدثنا عبد اللَّه بن مسعود أن المرأة من نساء أهل الجنة تلبس سبعين حلة من حرير فيرى بياض ساقها وحسن ساقها ومخ ساقها من وراء ذلك كله، وذلك أن اللَّه يقول: ﴿كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ [الرحمن: ٥٨]، (إلا) (٢) وإنما الياقوت حجر، (فإن) (٣) أخذت سلكا (و) (٤) جعلته في ذلك الحجر ثم استصفيته رأيت السلك من وراء الحجر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جنت کی حور ریشم کے ستر کپڑے پہنے گی، اس میں سے بھی اس کی پنڈلی کی سفیدی نظر آئے گی، اور اس کی پنڈلی کا گود ابھی اس میں مکمل نظر آئے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا : { کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ } یا قوت تو ایک پتھر ہے، اگر آپ ایک دھاگا لیں اور اس کو اس پتھر پر رکھیں، پھر اس کو چنیں تو آپ اس دھاگے کو اس پتھر کے پیچھے سے دیکھیں گے۔
حدیث نمبر: 36696
٣٦٦٩٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام عن قتادة عن أبي أيوب الأزدي أو شهر بن حوشب -شك همام- عن عبد اللَّه بن عمرو قال: في الجنة من عتاق الخيل وكرام النجائب يركبها أهلها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما نے ارشاد فرمایا : جنت میں عمدہ گھوڑے اور بہترین اونٹ ہیں جن پر جنتی سواری کریں گے، اور فرمایا حناء جنت کی خوشبوؤں کی سردار ہے۔
حدیث نمبر: 36697
٣٦٦٩٧ - وقال: الحناء سيد ريحان الجنة (١).
…