حدیث نمبر: 36579
٣٦٥٧٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن الزهري قال: كنت إذا لقيت عبيد اللَّه فكأنما أفجر به بحرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جب میری حضرت عبد اللہ سے ملاقات ہوئی تو گویا میں ان کے ذریعہ سمندر کو جاری کر رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 36580
٣٦٥٨٠ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن (عبد الملك) (١) بن ميسرة قال: لم يلق الضحاكُ ابنَ عباس إنما لقي سعيد بن جبير بالري فأخذ عنه التفسير
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا لملک بن میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات نہیں ہوئی، حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی ان سے مقام ری میں ملاقات ہوئی اور ان سے تفسیر سیکھی۔
حدیث نمبر: 36581
٣٦٥٨١ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن الحسن بن محمد أن فاطمة دفنت ليلًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ کو رات کے وقت دفن کیا گیا۔
حدیث نمبر: 36582
٣٦٥٨٢ - حدثنا شبابة بن سوار حدثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن عبد اللَّه بن مغفل قال: مر عبد اللَّه بن سلام في أرض إلى جنبه، فقال: إن (هذه) (١) رأسَ أربعين سنة تكون عندها صلح، قال: (فكانت) (٢) جماعة معاوية عند رأس الأربعين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام ایک زمین سے گزرے اور فرمایا : یہ چالیس ہجری کی ابتدا ہے اس میں صلح ہوئی ہے راوی فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جماعت چالیس ہجری کے شروع میں تھی۔
حدیث نمبر: 36583
٣٦٥٨٣ - حدثنا أبو داود عن شعبة قال: أخبرني مشاش قال: سألت الضحاك: رأيت ابن عباس؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مشاش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ضحاک سے دریافت کیا کہ آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی ہے ؟ فرمایا کہ نہیں۔
حدیث نمبر: 36584
٣٦٥٨٤ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن منصور بن عبد الرحمن عن الشعبي قال: مات أبو بكر وعمر وعلي ولم يجمعوا القرآن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ما اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا لیکن وہ قرآن جمع نہ کرسکے۔
حدیث نمبر: 36585
٣٦٥٨٥ - حدثنا ابن علية عن يونس قال: لما توفي سعيد بن (أبي) (١) الحسن وجد عليه الحسن، وجدا شديدًا، فكلم في ذلك فقال: ما سمعت اللَّه عاب على يعقوب الحزن.
مولانا محمد اویس سرور
یونس سے مروی ہے کہ حضرت سعید بن ابو الحسن کا جب انتقال ہوا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ بہت سخت غمگین اور پریشان ہوئے، ان سے اس کے بارے میں کہا گیا تو آپ نے فرمایا : میں نے نہیں سنا کہ اللہ نے حضرت یعقوب کی پریشانی اور غم کو جو حضرت یوسف کی جدائی پر لاحق ہوئی تھی اس کی عیب بیان فرمایا ہو، حضرت حسن نے فرمایا : جب حضرت عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بہت غمگین ہوئے، جب ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو فرمایا : خدا کی قسم اللہ تعالیٰ نے جب فیصلہ فرما دیا جو فیصلہ فرمایا تو میں اس بات کو نہیں پسند کرتا کہ میں اس کے بارے میں دعا کروں اور میری دعا قبول کی جائے۔
حدیث نمبر: 36586
٣٦٥٨٦ - وقال الحسن: لما توفي عتبة بن مسعود وجد عليه ابن مسعود، فلما كلم في ذلك قال: أما واللَّه إذا قضى ما قضى ما أحب أني دعوته فأجابني (١).
حدیث نمبر: 36587
٣٦٥٨٧ - حدثنا يحيى بن آدم حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق قال: حدثت أن قيس بن سعد بن عبادة خدم النبي ﷺ (سنتين) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ نے دو سال حضور اکرم ﷺ کی خدمت فرمائی۔
حدیث نمبر: 36588
٣٦٥٨٨ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن رجل حدثه أن أبا بكر طاف بعبد اللَّه بن الزبير (في خزمة) (٢) وكان أول مولود ولد في الإسلام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابواسحاق سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کپڑے میں لپیٹ کر حضور ﷺ کے پاس لے گئے، یہ پہلے بچے تھے جو اسلام پر پیدا ہوئے تھے، (مدینہ میں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے) ۔
حدیث نمبر: 36589
٣٦٥٨٩ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا همام قال: دخل أبو داود الأعمى على قتادة، فلما خرج قالوا له: هذا يروي عن ثمانية عشر بدريًا، (قال: هذا كان) (١) سائلًا قبل الجارف لا يعرض لشيء (من هذا) (٢)، فواللَّه ما حدثنا (الحسن) (٣) وسعيد ابن المسيب عن بدري مشافهة إلا سعيد عن (سعد) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہمام فرماتے ہیں کہ حضرت ابوداؤد جو نابینا تھے حضرت قتادۃ کے پاس گئے، جب وہ ان کے پاس سے نکلے تو لوگوں نے حضرت قتادہ سے فرمایا : یہ شخص اٹھارہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہ م سے روایت کرتا ہے، حضرت قتادہ نے فرمایا : یہ تباہی پھیلا دینے والے طاعون سے پہلے سوال کرنے والا تھا۔ یہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتا خدا کی قسم حسن اور حضرت سعید بن مسیب نے بالمشافہہ کسی بدری صحابی سے روایت نہیں کی، سوائے حضرت سعید کے جو حضرت سعد سے روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 36590
٣٦٥٩٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: قلت لأبي عبيدة: أكان عبد اللَّه مع النبي ﷺ ليلة الجن؟ قال: لا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عبیدہ سے پوچھا : کیا لیلۃ الجن میں حضرت عبد اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ؟ فرمایا نہیں۔
حدیث نمبر: 36591
٣٦٥٩١ - حدثنا يعلى بن عبيد عن الأعمش عن إبراهيم قال: ذكر ذلك (١) ⦗١٣٢⦘ لعلقمة وقال: وددت أن (صاحبنا) (٢) كان (معه) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ سے اس کا ذکر کیا گیا تو فرمایا : میرا خیال ہے کہ ہمارے ساتھی حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔
حدیث نمبر: 36592
٣٦٥٩٢ - حدثنا حسين بن علي عن فضيل عن هشام قال: قلت: كم أدرك الحسن من أصحاب النبي ﷺ؟ قال: ثلاثين ومائة، قال: قلت: كم أدرك ابن سيرين؟ قال: ثلاثين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضل سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ حسن رحمہ اللہ نے کتنے صحابہ سے ملاقات کی ؟ فرمایا ایک سو تیس صحابہ سے، میں نے پوچھا کہ حضرت ابن سیرین نے کتنے صحابہ سے ملاقات کی ہے ؟ فرمایا تیس سے۔
حدیث نمبر: 36593
٣٦٥٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن عامر قال: حدثني عبد الرحمن بن أبزى قال: صليت مع عمر على زينب، وكانت أول نساء النبي ﷺ ماتت بعد النبي ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا جنازہ پڑھا ازواج مطہرات میں سے یہ پہلی خاتون تھیں جن کا حضور ﷺ کی وفات کے بعد انتقال ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 36594
٣٦٥٩٤ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: توفيت خديجة قبل أن يخرج النبي ﷺ إلى المدينة بسنتين أو قريبا من ذلك، ثم نكح عائشة وهي بنت ست سنين، (وبنى بها) (١) وهي بنت تسع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کی ہجرت مدینہ سے دو سال قبل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح ہوا اس وقت وہ چھ برس کی تھیں اور نو برس کی عمر تک رخصت ہوئی۔
حدیث نمبر: 36595
٣٦٥٩٥ - حدثنا يحيى بن آدم عن شريك قال: سمعت أبا إسحاق يقول: ولدت لسنتين من إمرة عثمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان کی خلافت کے دوسرے سال میں میں پیدا ہوا، حضرت شریک نے فرمایا : ان کو خوارج کے دنوں میں دفن کیا گیا۔
حدیث نمبر: 36596
٣٦٥٩٦ - قال شريك: ودفناه أيام الخوارج.
حدیث نمبر: 36597
٣٦٥٩٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي حدثنا (حبان) (١) عن مجالد عن الشعبي قال: كتب أبو موسى إلى عمر أنه يأتينا كتب ما نعرف تاريخها فأرخ، فاستشار أصحاب النبي ﷺ فقال بعضهم: أرخ لمبعث رسول اللَّه ﷺ وقال ⦗١٣٣⦘ بعضهم: أرخ لموت رسول اللَّه ﷺ، فقال عمر: (أؤرخ) (٢) لمهاجر رسول اللَّه ﷺ، فإن مهاجر رسول اللَّه ﷺ فرق بين الحق والباطل (فأرخ) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ہمارے پاس آپ کے مکتوب گرامی آئے ہیں ہمیں ان کی تاریخ کا علم نہیں ہوتا لہذا آپ ہمارے لیے تاریخ کا تعین کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م سے مشورہ فرمایا، بعض صحابہ نے رائے دی کہ حضور ﷺ کی بعثت سے تاریخ مقرر کی جائے، اور دیگر بعض صحابہ کی رائے تھی کہ حضور رضی اللہ عنہ کی وفات سے تاریخ مقرر کی جائے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں حضور ﷺ کی ہجرت سے تاریخ مقرر کروں گا کیوں کہ حضور ﷺ کی ہجرت حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے، پس انہوں نے ہجرت سے تاریخ مقرر فرمائی۔