کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کی طرف لشکر کی روانگی
حدیث نمبر: 36107
٣٦١٠٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: لما أتى أبو عبيدة الشام حصر هو وأصحابه وأصابهم جهد شديد (١) فكتب إليه عمر: سلام عليكم أما بعد فإنه لم تكن شدة إلا جعل اللَّه بعدها فرجا، ولن يغلب عسر يسرين، وكتب إليه: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [آل عمران: ٢٠٠]، قال: وكتب إليه أبو عبيدة: سلام عليكم، أما بعد فإن اللَّه قال: ﴿أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ. .﴾ [الحديد: ٢٠] إلى آخر الآية، قال: فخرج عمر بكتاب أبي عبيدة (فقرأه) (٢) على الناس فقال: يا أهل المدينة! إنما كتب أبو عبيدة يعرض بكم ويحثكم على الجهاد، قال زيد: (قال أبي) (٣): قال: إني لقائم في السوق (إذا قبل) (٤) قوم مبيضين قد هبطوا من الثنية فيهم حذيفة بن اليمان يبشرون، قال: فخرجت أشتد حتى دخلت على عمر فقلت: يا أمير المؤمنين أبشر بنصر اللَّه والفتح، فقال عمر: اللَّه أكبر، رب قائل: لو كان خالد بن الوليد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ شام آئے تو وہ اور ان کے ساتھی گھیر لئے گئے اور انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ حضرت عمر نے ان کی طرف خط لکھاجس میں سلام کے بعد تحریر کیا کہ اللہ نے ہر پریشانی کے بعد آسانی رکھی ہے۔ کوئی ایک پریشانی دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔ آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت بھی ان کی طرف لکھ بھیجی { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ } راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ نے انہیں جواب میں تحریر کیا {إِنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَزِینَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلاَدِ } پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ کا خط لوگوں کو سنایا اور ان سے فرمایا کہ اے مدینہ والو ! حضرت ابو عبیدہ تمہیں جہاد کی ترغیب دے رہے ہیں۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا کہ میں بازار میں کھڑا تھا کہ کچھ لوگ وادی سے اترتے ہوئے آئے، ان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ فتح کی خوشخبری دے رہے تھے۔ میں بھی خوشی میں باہر آیا اور حضرت عمر کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین اللہ کی مدد اور فتح کی خوشخبری ہو۔ حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔ کسی کہنے والے نے کہا کہ کاش خالد بن ولید ہوتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36107، ترقيم محمد عوامة 34532)
حدیث نمبر: 36108
٣٦١٠٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن أبي وائل عن (عزرة) (١) بن ⦗٧٤⦘ قيس البجلي أن عمر بن الخطاب لما عزل خالد بن الوليد واستعمل أبا عبيدة على الشام قام خالد فخطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: إن أمير المؤمنين استعملني على الشام حتى إذا كانت (بثنية) (٢) وعسلا عزلني وآثر بها غيري، قال: فقام رجل من الناس من تحته فقال: اصبر أيها الأمير فإنها الفتنة، قال: فقال خالد: أما وابن الخطاب حي فلا، ولكن إذا كان الناس (بذي بلي وبذي بلي) (٣)، وحتى يأتي الرجل الأرض يلتمس فيها ما ليس في أرضه فلا يجده (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عزرہ بن قیس بجلی فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر نے حضرت خالد بن ولید کو معزول کردیا اور شام میں حضرت ابو عبیدہ کو حاکم مقرر کردیا تو حضرت خالد نے خطبہ دیا، اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا کہ بیشک امیر المومنین نے مجھے شام پر عامل مقرر کیا، پھر جب مکھن اور شہد رہ گیا تو مجھے معزول کرکے مجھ پر کسی دوسرے کو ترجیح دے دی۔ اس پر ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا کہ اے امیر صبر کیجئے، یہ ایک فتنہ ہے۔ حضرت خالد نے فرمایا کہ جب تک حضرت عمر حیات ہیں تب تک تو کوئی فتنہ نہیں، پھر جب لوگ بغیر امیر کے ہوجائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی ایک سرزمین میں آئے گا اور اس میں وہ چیز تلاش کرے گا جو اس کی سرزمین میں نہیں ہے لیکن وہ اسے نہیں پائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36108
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36108، ترقيم محمد عوامة 34533)
حدیث نمبر: 36109
٣٦١٠٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (١) مبارك عن الحسن قال: قال عمر: لما بلغه (قول) (٢) خالد بن الوليد: لأنزعن خالدا ولأنزعن المثنى حتى يعلما أن اللَّه ينصر دينه، ليس إياهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو حضرت خالد بن ولید کی بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ میں خالد اور مثنی کو معزول کردوں گا تاکہ ان دونوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ اپنے دین کی مدد کرتا ہے ان دونوں کی نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36109
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36109، ترقيم محمد عوامة 34534)
حدیث نمبر: 36110
٣٦١١٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن القاسم عن أسلم مولى عمر قال: لما قدمنا مع عمر الشام أناخ بعيره وذهب لحاجته، فألقيت فروتي بين شعبتي الرحل، فلما جاء ركب على الفروة، فلقينا أهل الشام يتلقون عمر ⦗٧٥⦘ فجعلوا ينظرون، فجعلت أشير إليهم، قال: يقول: تطمح أعينهم إلى مراكب من لا خلاق له -يريد مراكب العجم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر کے خادم حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت عمر کے ساتھ شام آئے تو انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھایا اور حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ میں نے کجاوے میں پوستین بچھا دی، جب وہ واپس آئے تو پوستین پر سوار ہوئے۔ پھر ہم اہل شام کو ملے وہ مجھ سے حضرت عمر کا پوچھتے تھے تو میں ان کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ ان کی صورتحال دیکھ کر حضرت عمر فرماتے تھے کہ ان کی آنکھیں ان سواریوں کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں جو درستی سے خالی ہیں۔ یعنی عجمیوں کی سواریوں کی طرف۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36110
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36110، ترقيم محمد عوامة 34535)
حدیث نمبر: 36111
٣٦١١١ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: لما قدم عمر الشام استقبله الناس وهو على (بعيره) (١) فقالوا: يا أمير المؤمنين، لو ركبت برذونا يلقاك عظماء الناس ووجوههم، فقال عمر: (لا) (٢) أراكم هاهنا، إنما الأمر من (هاهنا) (٣) -وأشار بيده إلى السماء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام آئے تو لوگوں نے ان کا استقبال کیا، وہ اپنے اونٹ پر سوار تھے، لوگوں نے کہا کہ امیر المومنین ! اگر آپ اعلیٰ نسل کے گھوڑے پر سوار ہوتے تو اچھا ہوتا، کیونکہ آپ سے یہاں کے بڑے اور سرکردہ لوگ ملیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ معاملات یہاں نہیں بلکہ وہاں طے ہوتے ہیں اور آپ نے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36111
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36111، ترقيم محمد عوامة 34536)
حدیث نمبر: 36112
٣٦١١٢ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: جاء بلال إلى عمر وهو بالشام وحوله أمراء الأجناد جلوسا فقال: يا عمر، فقال: ها أنا (ذا) (١) عمر، فقال له بلال: إنك بين هؤلاء وبين اللَّه وليس بينك وبين اللَّه أحد، فانظر (عن يمينك، وانظر) (٢) عن شمالك، وانظر من بين يديك و (من) (٣) خلفك، إن هؤلاء الذين حولك واللَّه إن يأكلون إلا لحوم الطير، فقال عمر: صدقت، واللَّه لا أقوم من مجلسي هذا حتى يتكلفوا لكل رجل من المسلمين مدي طعام وحظهما من الخل والزيت، فقالوا: ذاك إلينا يا أمير المؤمنين، قد أوسع اللَّه الرزق وأكثر الخير، قال: فنعم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر شام میں تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہان کے پاس آئے، اس وقت حضرت عمر کے آس پاس لشکروں کے قائدین بیٹھے تھے۔ حضرت بلال نے آواز دی اے عمر ! حضرت عمر نے فرمایا کہ عمر یہاں ہے۔ حضرت بلال نے ان سے کہا کہ آپ ان لوگوں کے اور اللہ کے درمیان ہیں اور آپ کے اور اللہ کے درمیان کوئی نہیں، آپ اپنے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں دیکھئے، جو لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے ہیں یہ صرف پرندوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔ میں اپنی اس نشست سے اس وقت تک نہیں اٹھوں گا جب تک ہر مسلمان کو اس بات کا پابند نہ کردوں کہ وہ دو مد غلہ اور سرکہ اور زیتون استعمال کرے۔ لوگوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! کیا ہمارے لئے یہ ہوگا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رزق کو وسیع اور خیر کو زیادہ کردیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36112، ترقيم محمد عوامة 34537)
حدیث نمبر: 36113
٣٦١١٣ - حدثنا ابن (علية) (١) عن أيوب عن نافع عن أسلم مولى عمر قال: لما قدم عمر الشام أتاه رجل من الدهاقين فقال: إني قد صنعت طعاما فأحب أن تجيء فيرى أهل أرضي كرامتي عليك ومنزلتي عندك، أو كما قال، فقال: إنا لا ندخل هذه الكنائس أو هذه البيع التي فيها الصور (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر کے غلام حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام آئے تو ان کے پاس وہاں کے دہاقین میں سے ایک آدمی آیا، اس نے کہا کہ میں نے کھانا تیار کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر آئیں تاکہ میرے علاقے کے لوگوں کو آپ کے نزدیک میرے مقام اور مرتبے کا اندازہ ہوجائے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم ایسے عبادت خانوں میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصاویر ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36113
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36113، ترقيم محمد عوامة 34538)
حدیث نمبر: 36114
٣٦١١٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: لما قدم عمر الشام أتته الجنود وعليه إزار وخفان وعمامة وأخذ برأس بعيره يخوض الماء، فقالوا له: يا أمير المؤمنين، تلقاك الجنود وبطارقة الشام وأنت على هذا الحال، قال: فقال عمر: إنا قوم أعزنا اللَّه بالإسلام، فلن نلتمس العز بغيره (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام آئے تو آپ کے پاس بہت سے لشکر آئے، حضرت عمر کے جسم پر ازار، موزے اور عمامہ تھا، آپ نے اپنے اونٹ کو پکڑ رکھا تھا اور اسے پانی پلا رہے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! آپ کے پاس بہت سے لوگ اور شام کے حکمران آرہے ہیں اور آپ اس حال میں ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے، ہم اسلام کے علاوہ کسی چیز میں عزت تلاش نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36114
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36114، ترقيم محمد عوامة 34539)
حدیث نمبر: 36115
٣٦١١٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا هشام بن سعد قال: حدثني عروة ابن رويم عن القاسم عن عبد اللَّه بن (عمر) (١) قال: جئت عمر حين قدم الشام فوجدته قائلا في خبائه فانتظرته في (فيء) (٢) الخباء فسمعته حين تضور من نومه وهو يقول: اللهم اغفر لي رجوعي من غزوة سرغ -يعني حين رجع من أجل الوباء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنے خیمے میں دن کے وقت آرام فرما رہے تھے، میں نے خیمے کے سائے میں ان کا انتظار کیا۔ جب وہ بیدار ہوئے تو میں نے ان کی آواز سنی وہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ ! سرغ کے غزوہ سے میری واپسی کو معاف فرما۔ یعنی جب وہ وباء کی وجہ سے وہاں سے واپس آئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36115
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36115، ترقيم محمد عوامة 34540)
حدیث نمبر: 36116
٣٦١١٦ - حدثنا (ابن مسهر) (١) عن الشيباني عن (أسير) (٢) بن عمرو قال: لما ⦗٧٧⦘ أتى عمر الشام أتي ببرذون فركب عليه، فلما هزه نزل عنه ثم قال: قبحك اللَّه (وقبح) (٣) من علمك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسیر بن عمرو کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو آپ کے پاس سواری کے لئے ایک عجمی نسل کا گھوڑا لایا گیا، آپ اس پر سوار ہوئے تو وہ کانپنے لگا، آپ اس سے نیچے اتر گئے اور فرمایا کہ اللہ تیرا براکرے اور اس کا بھی برا کرے جس نے تجھے سدھایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36116
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36116، ترقيم محمد عوامة 34541)
حدیث نمبر: 36117
٣٦١١٧ - حدثنا جعفر بن عون عن أبي العميس قال: أخبرني قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: لما قدم عمر الشام خطب الناس فقال: لا أعرفن رجلا طول (١) لفرسه في جماعة من الناس، قال: فأتى بغلام يحمل (قد ضربته رجل فرس، فقال له عمر: ما سمعت مقالتي بالأمس؟ قال: بلى يا أمير المؤمنين، قال: فما حملك على) (٢) ما صنعت؟ قال: رأيت من الطريق خلوة، (قال) (٣): ما أراك تعتذر بعذر، من (رجلان يحتسبان) (٤) على هذا فيخرجاه من المسجد فيوسعانه ضربًا، والقوم سكوت لا يجيبه منهم أحد، قال: ثم أعاد مقالته، فقال له أبو عبيدة: يا أمير المؤمنين! ما ترى في وجوه القوم كراهة أن تفضح صاحبهم، قال: فقال لأهل الغلام: انطلقوا به فعالجوه، فواللَّه لأن حدث به حدث لأجعلنك نكالًا، قال: فبريء الغلام وعافاه اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص لوگوں کے درمیان اپنے گھوڑے کی لگام کو ڈھیلا نہ کرے۔ پھر اگلے دن آپ کے پاس ایک غلام لایا گیا جس کو اس کے گھوڑے نے لات ماری تھی۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ کیا کل تم نے میری بات نہیں سنی تھی ؟ اس نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے آپ کی بات سنی تھی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر تم نے ایسی حرکت کیوں کی ؟ اس نے کہا کہ میں نے راستہ خالی دیکھا تو جانور کی رسی ڈھیلی کردی۔ پھر حضرت عمر نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کون دو آدمی اسے مسجد سے باہر لے جا کر اسے سزا دیں گے۔ یہ بات سن کر کسی نے جواب نہ دیا۔ حضرت عمر نے پھر اپنی بات دہرائی تو حضرت ابو عبیدہ نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! لوگوں کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان کا ساتھی یوں رسوا ہو۔ پھر حضرت عمر نے غلام کے رشتہ داروں سے کہا کہ اسے لے جاؤ اور اس کا علاج کراؤ۔ اگر آئندہ کسی نے یہ حرکت کی تو میں اسے سزا دوں گا۔ پھر وہ لڑکا درست ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے عافیت عطا فرمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36117
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36117، ترقيم محمد عوامة 34542)
حدیث نمبر: 36118
٣٦١١٨ - حدثنا أبو أسامة عن (ابن) (١) عون عن محمد قال: ذكر له أن عمر رجع من الشام حين سمع أن الوباء بها، فلم يعرفه وقال: إنما أخبر أن (الصائفة) (٢) لا تخرج العام، فرجع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے کسی نے بیان کیا کہ جب حضرت عمر نے سنا کہ شام میں وباء ہے تو وہاں سے واپس آگئے۔ اس پر انہوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ وہ اس لئے واپس آئے تھے کیونکہ ان سے کہا گیا کہ گرمی میں جنگ والے اس سال نہیں نکلیں گے، اس پر وہ واپس آگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36118
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36118، ترقيم محمد عوامة 34543)
حدیث نمبر: 36119
٣٦١١٩ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن يزيد الرحبي ومحمد الخولاني عن عروة بن رويم قال: كتب عمر إلى أبي عبيدة (كتابًا فقرأه على الناس بالجابية، من عبد اللَّه عمر أمير المؤمنين إلى أبي عبيدة) (١) سلام عليك أما بعد فإنه لم يُقِم أمر اللَّه في الناس إلا حصيف العقل بعيد القوة، لا يطلع الناس منه على عورة ولا (يحنق) (٢) في الحق على (حرته) (٣)، ولا يخاف في اللَّه لومة لائم -والسلام عليك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن رویم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو خط لکھا، جو حضرت ابو عبیدہ نے جابیہ میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا، اس میں تحریر تھا : اللہ کے بندے عمر امیر المومنین کی طرف سے ابو عبیدہ کے نام، تم پر سلامتی ہو، لوگوں میں اللہ کے حکم کو وہی شخص نافذ کرسکتا ہے جس کی عقل روشن ہو اور قوت خوب ہو، لوگ اس کے رازوں پر واقف نہ ہوسکیں اور وہ حق کے نفاذ میں گھبراتا نہ ہو اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ تم پر سلامتی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36119
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36119، ترقيم محمد عوامة 34544)
حدیث نمبر: 36120
٣٦١٢٠ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام عن أبيه قال: لما قدم عمر الشام كان قميصه قد (تجوب) (١) عن مقعدته: قميص (سنبلاني) (٢) غليظ، فأرسل به إلى صاحب أذرعات أو (أيلة) (٣) قال: فغسله ورقعه، (وخيط) (٤) (له) (٥) قميص (قبطري) (٦)، فجاءه به فألقى إليه (القبطري) (٧) فأخذه عمر فمسه فقال: هذا (لين) (٨)، فرمى به إليه وقال: ألق إليَّ قميصي فإنه أنشفهما للعرق (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام آئے تو ان کی قمیص پیچھے کی جانب سے پھٹی ہوئی تھی، وہ ایک موٹی سنبلانی قمیص تھی۔ آپ نے وہ قمیص درزی کے پاس بھیجی وہ اس نے دھو کر رفو کی اور ان کے لئے ایک قبطری قمیص سی دی اور ان کی طرف دونوں قمیصوں کو لایا۔ اور قبطری قمیص آپ کی خدمت میں پیش کی۔ حضرت عمر نے اسے چھوا اور فرمایا کہ یہ نرم ہے۔ پھر آپ نے وہ قمیص اس کی طرف پھینک دی اور اس سے کہا میری قمیص مجھے دے دو وہ پسینے کو زیادہ جذب کرنے والی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36120
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36120، ترقيم محمد عوامة 34545)
حدیث نمبر: 36121
٣٦١٢١ - حدثنا ابن نمير عن ثور عن زياد بن أبي سودة عن أبي مريم قال: لما (قدم عمر) (١) الشام أتى محراب داود فصلى فيه فقرأ سورة ص، فلما انتهى إلى السجدة سجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مریم فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر شام آئے تو حضرت داود علیہ السلام کی جائے نماز میں نماز ادا کی اور سورة ص کی تلاوت کی، جب آیت سجدہ پر پہنچے تو سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36121
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36121، ترقيم محمد عوامة 34546)
حدیث نمبر: 36122
٣٦١٢٢ - حدثنا شريك عن أبي (الجويرية) (١) الجرمي قال: كنت فيمن سار إلى الشام يوم (الخازر) (٢) فالتقينا، و (هبت) (٣) الريح عليهم (وأدبروا) (٤) فقتلناهم عشيتنا وليلتنا حتى أصبحنا، قال: فقال إبراهيم: -يعني ابن الأشتر: إني قتلت البارحة رجلا وإني وجدت (منه) (٥) ريح طيب، وما أراه إلا ابن مرجانة، شرقت رجلاه وغرب رأسه (أو شرق رأسه وغربت) (٦) رجلاه، قال: فانطلقت فنظرت فإذا هو واللَّه -يعني (عبيد اللَّه) (٧) بن زياد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یوم خازر کو شام کی طرف گئے تھے۔ جب ہمارا دشمن سے سامنے ہوا تو ٹھنڈی ہوا چلی اور وہ سب ٹھنڈ سے گھبرا گئے، ہم نے شام سے لے کر صبح تک ان سے قتال کیا۔ ابراہیم بن اشتر نے بتایا کہ میں نے گزشتہ رات ایک آدمی کو قتل کیا اور مجھے اس سے اچھی خوشبو آئی۔ میرے خیال میں وہ ابن مرجانہ تھا۔ وہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا اس کے پاؤں مشرق کی طرف اور سر مغرب کی طرف یا سر مشرق کی طرف اور پاؤں مغرب کی طرف ہوگئے تھے۔ پس میں گیا اور میں نے دیکھا تو وہ وہی یعنی عبید اللہ بن زیاد تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36122
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36122، ترقيم محمد عوامة 34547)
حدیث نمبر: 36123
٣٦١٢٣ - حدثنا شريك عن عطاء عن (ابن وائل أو) (١) وائل بن علقمة أنه شهد الجيش بكربلاء، قال: فجاء رجل فقال: أفيكم حسين، فقال: من أنت؟ (قال) (٢): أبشر بالنار، فقال: بل رب غفور (و) (٣) شفيع مطاع، قال: ⦗٨٠⦘ (من أنت؟) (٤) قال: ابن (حويزة) (٥)، قال: اللهم جره إلى النار، قال: فذهب فنفر به فرسه على ساقية فتقطع فما بقي منه غير (رجليه) (٦) في الركاب (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن وائل یا وائل بن علقمہ فرماتے ہیں کہ میں کربلا میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کیا تم میں حسین ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو۔ اس نے کہا تمہیں جہنم کی خبر دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا رب معاف کرنے والا ہے اور سفارشی کی بات مانی جاتی ہے۔ تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ میں ابن حویزہ ہوں۔ حضرت حسین نے اسے بددعا دی اور کہا کہ اے اللہ اسے جہنم کی طرف کھینچ کرلے جا۔ اس کے بعد جب وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا تو اس کا گھوڑا بدک گیا اور اندھا دھند بھاگنے لگا، گھوڑے نے اسے ایسا گھسیٹا کہ گھوڑے کی زین میں اس کے پاؤں کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36123
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36123، ترقيم محمد عوامة 34548)