حدیث نمبر: 36077
٣٦٠٧٧ - حدثنا قراد أبو نوح قال: حدثنا عثمان بن معاوية القرشي عن أبيه عن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: لما نزل أبو موسى بالناس على الهرمزان ومن معه بتستر، (قال) (١): أقاموا سنة أو نحوها لا يخلصون إليه، قال: (وقد) (٢) كان الهرمزان قتل رجلا من (دهاقنتهم) (٣) وعظمائهم، فانطلق أخوه حتى أتى أبا موسى فقال: ما يجعل لي إن (دللتك) (٤) على المدخل. قال: سلني ما شئت، قال: أسألك أن تحقن دمي ودماء أهل بيتي وتخلي بيننا وبين ما في أيدينا من أموالنا ومساكننا، قال: فذاك لك، قال: أبغني إنسانا سابحا ذا عقل ولب يأتيك بأمر بين. ⦗٥٤⦘ قال: فأرسل أبو موسى إلى مجزأة بن ثور السدوسي فقال له: ابغني رجلا من قومك سابحا ذا عقل ولب، وليس بذاك في خطره، فإن أصيب كان مصابه على المسلمين يسيرًا، وإن سلم جاءنا (بثبت) (٥)، فإن لا أدري ما جاء به هذا الدهقان ولا آمن له ولا أثق به، قال: فقال مجزأة: قد وجدت، قال: من هو؟ فأت به، قال: أنا هو، قال أبو موسى: يرحمك اللَّه! ما هذا أردت فابغني رجلًا. قال: فقال مجزأة بن ثور: واللَّه لا أعمد إلى عجوز من بكر بن وائل (أفدي ابن) (٦) أم مجزأة بابنها، قال: أما إذا أبيت (فسر) (٧). فلبس الثياب البيض وأخذ منديلا وأخذ معه خنجرا، ثم انطلق إلى الدهقان حتى (سبح) (٨)، فأجاز المدينة فأدخله من مدخل الماء حيث يدخل على أهل المدينة. قال: فأدخله في مدخل شديد يضيق به أحيانا حتى ينبطح على بطنه، ويتسع أحيانا فيمشي قائمًا، ويحبو في بعض ذلك حتى دخل المدينة، وقد أمر أبو موسى أن يحفظ طريق باب المدينة وطريق (السور) (٩) ومنزل الهرمزان، فانطلق به الدهقان حتى (أراه) (١٠) طريق السور وطريق الباب. ثم انطلق به إلى منزل الهرمزان، وقد كان أبو موسى أوصاه: أن لا تسبقني بأمر، فلما رأى الهرمزان (قاعدا وحوله دهاقنته وهو يشرب فقال للدهقان: هذا الهرمزان؟) (١١) قال: نعم، قال: هذا الذي لقي المسلمون منه ما لقوا، أما واللَّه ⦗٥٥⦘ لأريحنهم منه، قال: فقال له الدهقان: لا تفعل فإنهم (يتحرزون) (١٢) ويحولون بينك وبين دخول هذا المدخل، فأبى مجزأة إلا أن يمضي على رأيه على قتل العلج، فأداره الدهقان و (ألاصه) (١٣) أن (يكف) (١٤) عن قتله، فأبى، فذكر الدهقان قول أبي موسى له: اتق أن لا تسبقني، بأمر، فقال: أليس قد أمرك صاحبك أن لا تسبقه بأمر؟ فقال: (هاه أما) (١٥) واللَّه (لولا هذا) (١٦) لأريحنهم منه. فرجع مع الدهقان إلى منزله فأقام يومه حتى أمسى، ثم رجع إلى أبي موسى فندب أبو موسى الناس معه، فانتدب ثلاثمائة ونيف، فأمرهم أن يلبس الرجل ثوبين لا يريد عليه، وسيفه، ففعل القوم، قال: فقعدوا على شاطئ النهر ينتظرون مجزأة أن يأتيهم وهو عند أبي موسى يوصيه ويأمره. قال عبد الرحمن بن أبي بكرة: وليس لهم هم غيره -يشير إلى الموت، لأنظرن (إلى) (١٧) ما يصنع والمائدة موضوعة بين يدي أبي موسى، قال: فكأنه (استحيا) (١٨) أن لا يتناول من المائدة شيئًا، قال: فتناول حبة من عنب فلاكها، فما قدر على أن يسيغها وأخذها رويدا فنبذها تحت الخوان، وودعه أبو موسى وأوصاه فقال مجزأة لأبي موسى: إني أسألك شيئا فأعطنيه، قال: لا تسألني شيئا إلا أعطيتكه، قال: فأعطني سيفك أتقلده إلى سيفي، فدعا له بسيفه فأعطاه إياه. ⦗٥٦⦘ فذهب إلى القوم وهم (ينتظرونه) (١٩) حتى كان في (وسط) (٢٠) منهم فكبر ووقع في الماء ووقع القوم جميعا، قال: يقول عبد الرحمن بن أبي بكرة: (كأنهم) (٢١) البط فسبحوا حتى (جاوزوا) (٢٢)، ثم انطلق بهم إلى (النقب) (٢٣) الذي يدخل الماء منه فكبر، ثم دخل. فلما أفضى إلى المدينة فنظر لم (يتم) (٢٤) معه إلا خمسة وثلاثون أو ستة وثلاثون رجلا، فقال لأصحابه: ألا أعود إليهم فأدخلهم؟ فقال رجل من أهل الكوفة يقال له الجبان لشجاعته: غيرك فليقل هذا يا مجزأة، إنما عليك نفسك، فامض لما أمرت به، فقال (له) (٢٥): أصبت. فمضى بطائفة منهم إلى الباب فوضعهم عليه ومضى بطائفة إلى السور، ومضى بمن بقي حتى سعد إلى السور، فانحدر عليه علج من الأساورة (ومعه نيزك) (٢٦) فطعن مجزأة (فأثبته) (٢٧)، فقال (لهم) (٢٨) مجزأة: امضوا لأمركم، لا يشغلنكم عني شيء، فألقوا عليه برذعة ليعرفوا مكانه ومضوا، وكبر المسلمون على السور و (عند) (٢٩) باب المدينة وفتحوا الباب وأقبل المسلمون على عادتهم حتى ⦗٥٧⦘ دخلوا المدينة، قال: قيل للهرمزان: (هذه) (٣٠) العرب قد دخلوا، قال: لا شك أنهم قد (دحسوها) (٣١) قال: من أين دخلوا؟ أمن السماء، قال: وتحصن في قصبة له. وأقبل أبو موسى يركض على فرس له عربي حتى دخل على أنس بن مالك وهو على الناس، قال: لكن نحن يا أبا حمزة لم نصنع اليوم شيئًا، وقد (فرغوا) (٣٢) من القوم (قتلوا) (٣٣) من قتلوا، وأسروا من أسروا، وأطافوا بالهرمزان (بقصبته) (٣٤) (فلم يخلصوا) (٣٥) إليه حتى أمنوه، ونزل على حكم عمر بن الخطاب أمير المؤمنين. قال: فبعث بهم أبو موسى مع أنس الهرمزان وأصحابه، فانطلقوا بهم حتى قدموا على عمر، قال: فأرسل إليه أنس: ما ترى في هؤلاء؟ أدخلهم عراة مكتفين، أو آمرهم فيأخذون حليهم و (بزتهم) (٣٦)، قال: فأرسل إليه عمر: لو (أدخلتهم) (٣٧) كما تقول عراة مكتفين لم يزيدوا على أن يكونوا أعلاجا، ولكن أدخلهم عليهم حليهم و (بزتهم) (٣٨) حتى يعلم المسلمون ما أفاء اللَّه عليهم، فأمرهم فأخذوا (بزتهم) (٣٩) وحليهم. ⦗٥٨⦘ ودخلوا على عمر، فقال الهرمزان لعمر: يا أمير المؤمنين! (أي كلام أكلمك، أكلام رجل حي له بقاء، أو كلام رجل مقتول؟ قال: فخرجت من عمر كلمة لم يردها: تكلم فلا بأس عليك، فقال له الهرمزان: يا أمير المؤمنين) (٤٠) قد علمت كيف منا وكنتم إذ كنا على ضلالة جميعًا، كانت القبيلة من قبائل العرب (ترى) (٤١) نشابة بعض أساورتنا فيهربون (الأرض) (٤٢) البعيدة، فلما هداكم اللَّه فكان معكم لم (نستطع) (٤٣) نقاتله. فرجع بهم أنس، فلما أمسى عمر أرسل إلى أنس أن اغد علي بأسراك أضرب أعناقهم، فأتاه أنس فقالوا: وللَّه يا عمر ما ذاك لك، قال: ولم؟ قال: إنك قد قلت للرجل: تكلم فلا بأس عليك، قال: لتأتيني على هذا ببرهان أو لأسوءنك، قال: فسأل أنس القوم جلساء عمر فقال: أما قال عمر للرجل تكلم فلا بأس عليك؟ قالوا: بلى! فكبر ذلك على عمر، قال: أما (لا) (٤٤). . فأخرجهم عني. فسيرهم إلى قرية يقال له: دهلك في البحر، فلما توجهوا بهم رفع عمر يديه فقال: اللهم اكسرها بهم -ثلاثًا، فركبوا السفينة، فاندقت بهم وانكسرت، وكانت قريبة من الأرض فخرجوا، فقال رجل من المسلمين: لو دعا أن يغرقهم لغرقوا ولكن إنما قال: اكسرها بهم قال: فأقرهم (٤٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ مجاہدین کو لے کر ہرمزان کی سرکوبی کے لئے تستر پر حملہ آور ہوئے تو انہوں نے یہاں ایک سال تک قیام کیا لیکن فتح یاب نہ ہوسکے۔ ہرمزان نے اس دوران تستر کے ایک معزز اور سرکردہ آدمی کو قتل کرادیا۔ مقتول کا بھائی ایک دن حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ اگر میں آپ کو ہرمزان کے قلعے میں داخل ہونے کا راستہ بتادوں تو کیا انعام پاؤں گا ؟ حضرت ابوموسیٰ نے کہا تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ آپ میرا اور میرے گھر والوں کا خون معاف کردیں، مجھے اور میرے گھر والوں کو مال و اسباب لے کر نکلنے دیں۔ حضرت ابو موسیٰ نے اس کی حامی بھرلی۔ اس نے کہا کہ اب مجھے کوئی ایسا آدمی دیجئے جو تیراکی جانتا ہو اور عقل مند ہو۔ وہ آپ کے پاس واضح خبر لائے گا۔ (٢) حضرت ابو موسیٰ نے مجزأۃ بن ثور سدوسی کو بلایا اور ان سے کہا کہ اپنی قوم میں سے کوئی ایسا آدمی دیجئے جو تیراکی جانتاہو اور خوب عقل مند ہو، لیکن وہ ایسا اہم آدمی نہ ہو جس کی شہادت مسلمانوں کے لیے مایوسی کا سبب ہو۔ اگر وہ سلامت رہا تو ہمارے پاس خبر لے آئے گا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ آدمی کیا چاہتا ہے ، نہ مجھے اس پر اعتماد ہے۔ (٣) حضرت مجزأۃ نے کہا کہ وہ شخص مل گیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ وہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے، میں یہ نہیں چاہتا، مجھے کوئی اور آدمی دیجئے۔ حضرت مجزأۃ بن ثور نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں بکر بن وائل کی اس بڑھیا پر بھی اعتماد نہیں کرتا جس نے ام مجزأۃ کے بیٹے پر اپنے بیٹے کو فدا کردیا۔ بہر حال اگر آپ مناسب سمجھیں تو موقع عنایت فرمائیں۔ (٤) حضرت مجزأۃ نے سفید کپڑے پہنے اور ایک رومال اور ایک خنجر ہمراہ لے لیا۔ پھر اس آدمی کے ساتھ چلے، راستے میں ایک ندی کو تیر کر عبور کیا۔ پھر ندی کے راستے سے ان کے قلعے میں داخل ہوئے۔ بعض اوقات راستہ اتنا تنگ ہوجاتا کہ پیٹ کے بل چلنا پڑتا اور بعض اوقات راستہ کھل جاتا تو قدموں پر چلتے۔ بعض اوقات گھٹنوں کے بل چلتے۔ یہاں تک کہ شہر میں داخل ہوگئے۔ حضرت ابو موسیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ شہر کے دروازے کا راستہ اور اس کی فصیل کا راستہ اور ہرمزان کے گھر کو یاد رکھیں۔ وہ آدمی انہیں لے گیا اور انہیں فصیل کا راستہ، دروازے کا راستے اور ہرمزان کا گھر دکھا دیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت مجزأۃ کو وصیت کی تھی کہ خود سے کوئی کارروائی نہ کرنا جب تک مجھے علم نہ ہوجائے۔ (٥) جب حضرت مجزأۃ نے دیکھا کہ ہرمزان اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا شراب پی رہا ہے تو انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ یہ ہرمزان ہے ؟ اس نے کہا ہاں یہی ہے۔ حضرت مجزأۃ نے کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی ہے۔ میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اس آدمی نے کہا کہ ایسا نہ کرو۔ اس کی حفاظت پر مامور لوگ تمہیں اس تک پہنچنے بھی نہیں دیں گے اور مسلمان بھی قلعہ میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ حضرت مجزأۃ اپنی بات پر اڑے رہے۔ اس آدمی نے بہت سمجھایا بالآخر حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی نصیحت یاد دلائی تو حضرت مجزأۃ رک گئے اور پھر اس آدمی کے گھر آگئے اور شام تک وہیں رہے۔ (٦) اگلے دن حضرت ابو موسیٰ کے پاس گئے، انہوں نے حضرت مجزأۃ کے ہمراہ تین سو سے زائد مجاہدین کا دستہ روانہ فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ ہر شخص صرف دو کپڑے پہنے اور تلوار ہمراہ رکھے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر سب مجاہدین نہر کے کنارے بیٹھ کر حضرت مجزأۃ کا انتظار کرنے لگے، حضرت مجزأۃ حضرت ابوموسیٰ کے پاس تھے اور احکام و ہدایات لے رہے تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو موت کے سوا کسی چیز کی چاہت نہ تھی۔ وہ منظر میری نظروں کے سامنے ہے کہ دستر خوان حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے بچھا ہوا تھا، لیکن حضرت مجزأۃ اس بات میں شرم محسوس کررہے تھے کہ دستر خوان سے کوئی چیز لیں۔ انہوں نے انگور کا ایک دانہ اٹھایا لیکن اسے بھی نگلنے کی ہمت نہ ہوئی اور اسے آہستگی سے نکال کر نیچے رکھ دیا۔ حضرت ابوموسیٰ نے انہیں نصیحتیں کیں اور انہیں رخصت کردیا۔ رخصت ہوتے ہوئے حضرت مجزأۃ نے حضرت ابو موسیٰ سے کہا کہ میں آپ سے ایک چیز مانگوں تو کیا آپ مجھے عطا فرمائیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ آپ نے جب بھی مجھ سے کوئی چیز مانگی ہے میں نے آپ کو پیش کی ہے۔ حضرت مجزأۃ نے کہا کہ مجھے اپنی تلوار دے دیجئے۔ چناچہ حضرت ابو موسیٰ نے اپنی تلوار ان کو دے دی۔ (٧) پھر حضرت مجزأۃ مجاہدین کے ساتھ آملے اور اللہ اکبر کہہ کر پانی میں کو دگئے۔ پیچھے سب لوگ بھی پانی میں کود گئے۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ وہ بطخوں کی طرح پانی میں تیر رہے تھے۔ انہوں نے ندی کو عبور کیا، پھر اس سوراخ کی طرف بڑھے جس سے پانی اندر جارہا تھا۔ جب وہ شہر کے قریب پہنچے تو ان ک
حدیث نمبر: 36078
٣٦٠٧٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن أنس قال: حاصرنا تستر فنزل الهرمزان على حكم عمر، فبعث به أبو موسى معي، فلما قدمنا على عمر (سكت) (١) الهرمزان (فلم) (٢) يتكلم، فقال له عمر: تكلم، فقال: أكلام حي أم كلام ميت؟ قال: تكلم فلا بأس، قال: إنا وإياكم معشر العرب ما خلى اللَّه بيننا وبينكم، فإنا كنا نقتلكم ونقصيكم، و (أما إذ) (٣) كان اللَّه معكم لم يكن لنا (بكم) (٤) يدان، فقال عمر: ما تقول يا أنس؟ قلت: يا أمير المؤمنين، تركت خلفي شوكة شديدة و (عددا) (٥) كثيرًا، إن قتلته أيس القوم من الحياة وكان أشد لشوكتهم، وإن استحييته طمع القوم، فقال: يا أنس أستحيى قاتل البراء بن مالك ومجزأة بن ثور، فلما خشيت أن يبسط عليه قلت: ليس إلى قتله سبيل، فقال عمر: لم؟ أعطاك؟ أصبت منه؟ قلت: ما فعلت ولكنك قلت له: تكلم فلا بأس، قال: لتجيئن بمن يشهد أو لأبدأن بعقوبتك (٦)، فخرجت من عنده فإذا أنا بالزبير قد حفظ ما حفظت، فشهد عنده فتركه (وأسلم الهرمزان) (٧) وفرض له (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تستر کا محاصرہ کیا تو ہرمزان نے حضرت عمر کی خلافت کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ہرمزان کے ساتھ مجھے حضرت عمر کی طرف بھیجا۔ جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہرمزان نے کوئی بات نہ کی اور خاموش رہا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ بات کرو۔ اس نے کہا کہ زندہ شخص کی بات کروں یامردہ کی ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم بات کرو تم پر کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا کہ اے اہل عرب اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور تمہارے درمیان بہت فرق کردیا ہے، ایک وقت وہ تھا جب ہم تمہیں قتل کرتے تھے اور تم پر غالب آتے تھے۔ اور جب اللہ تمہارے ساتھ ہوگیا تو اب ہمارا تم پر زور نہیں چلتا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ اے انس تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! میں نے اپنے پیچھے زبردست طاقت اور بڑی تعداد چھوڑی ہے۔ اگر آپ اس کو قتل کردیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہوجائیں گے اور یہ ان کی قوت کے لئے سخت ہوگا اور اگر آپ اسے زندہ چھوڑیں گے تو لوگ لالچ کریں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا میں براء بن مالک اور مجزأۃ بن ثور کے قاتل کو زندہ چھوڑ دوں ! حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ وہ اسے قتل کردیں گے تو میں نے کہا کہ آپ اسے قتل نہیں کرسکتے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں ؟ کیا تم نے اس سے کوئی مالی مدد لے لی ہے ؟ میں نے کہا میں نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تم بات کرو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اس بات پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ پس میں گواہ کی تلاش میں نکلا تو مجھے حضرت زبیر ملے، انہیں بھی وہ بات یاد تھی جو مجھے یاد تھی۔ انہوں نے اس بات کی گواہی دی تو حضرت عمر نے ہرمزان کو چھوڑ دیا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عمر نے اس کا وظیفہ مقرر کردیا۔
حدیث نمبر: 36079
٣٦٠٧٩ - حدثنا غندر (عن حبيب بن شهاب) (١) عن (أبيه) (٢) أنه غزا مع أبي موسى حتى إذا كان يوم قدموا تستر رمي الأشعري فصرع، فقمت من ورائه ⦗٦٠⦘ (بالترس) (٣) حتى إذا أفاق قال: (فكنت) (٤) أول رجل من العرب أوقد في باب تستر نارا؟ قال: فلما فتحناها وأخذنا السبي قال أبو موسى: اختر من الجند عشرة رهط ليكونوا معك على هذا السبي حتى نأتيك، ثم مضى وراء ذلك في الأرض حتى فتحوا ما فتحوا من (الأرضين) (٥)، ثم رجعوا عليه، فقسم أبو موسى بينهم الغنائم، فكان يجعل للفارس سهمين وللراجل سهما، وكان لا يفرق بين المرأة وولدها عند البيع (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہاب فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوموسیٰ کے ساتھ جہاد کیا۔ جس دن ہم تستر پہنچے، حضرت اشعری کو تیرلگا اور وہ زمین پر گرگئے۔ میں ان کے پیچھے کمان لے کر کھڑا ہوگیا۔ جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں عرب میں سے پہلا شخص ہوں جس نے تستر کے دروازے پر آگ جلائی ہے۔ جب ہم نے تستر کو فتح کرلیا اور قیدی پکڑ لئے تو حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا کہ فوج میں سے دس آدمیوں کا انتخاب کرلو کہ وہ ہماری واپسی تک ان قیدیوں کی نگرانی کے لئے تمہارے ساتھ رہیں۔ پھر وہ آگے بڑھے اور بہت سے علاقے فتح کرکے واپس آگئے۔ حضرت ابو موسیٰ نے مجاہدین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کیا، وہ گھڑ سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ دیتے تھے اور جب کسی قیدی عورت کو فروخت کرتے تو اس کو اس کے بچے سے جدا نہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 36080
٣٦٠٨٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن حبيب بن شهاب قال: حدثني أبي قال: كنت أول من أوقد في باب تستر، ورمي الأشعري فصرع، فلما فتحوها وأخذوا السبي أمرني على عشرة من قومي ونفلني برجل سوى سهمي وسهم فرسي قبل الغنيمة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شہاب فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے تستر کے دروازے پر آگ جلائی۔ حضرت اشعری کو تیر لگا اور وہ زمین پر گرگئے۔ جب تستر کا دروازہ کھولا گیا اور دشمنوں کو قیدی بنایا گیا تو حضرت ابو موسیٰ نے مجھے دس لوگوں پر امیر بنادیا، اور انہوں نے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے مجھے میرے اور میرے گھوڑے کے حصے کے علاوہ ایک آدمی کا حصہ دیا۔
حدیث نمبر: 36081
٣٦٠٨١ - حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن العوام بن (مراجم) (١) عن خالد بن (سيحان) (٢) قال: شهدتْ تستر مع أبي موسى أربع نسوة أو خمس، فكن يستقين الماء ويداوين الجرحى، فأسهم لهن أبو موسى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن سیحان فرماتے ہیں کہ تستر میں حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ جہاد میں چار یا پانچ عورتیں بھی شریک تھیں جو پانی پلاتی تھیں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں، حضرت ابو موسیٰ نے انہیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ دیا۔
حدیث نمبر: 36082
٣٦٠٨٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام عن قتادة عن زرارة بن (١) أوفى عن مطرف بن مالك أنه قال: شهدت فتح تستر مع الأشعري، قال: فأصبنا دانيال بالسوس، قال: (فكان أهل) (٢) السوس إذا (أسنتوا) (٣) أخرجوه (فاستسقوا) (٤) به، وأصبنا معه ستين جرة نحتمة، قال: ففتحنا جرة من أدناها وجرة من أوسطها وجرة من أقصاها، فوجدنا في كل جرة عشرة آلاف، قال همام: ما أراه (إلا قال) (٥): عشرة آلاف، وأصبنا معه ريطتين من (كتان) (٦)، وأصبنا معه ربعة فيها كتاب، وكان أول رجل وقع عليه (رجل) (٧) من بلعنبر يقال (له) (٨) (حرقوس) (٩)، قال: (فأعطاه) (١٠) الأشعري (الريطتين) (١١) وأعطاه مائتي درهم، قال: ثم إنه طلب إليه (الريطتين) (١٢) بعد ذلك فأبى أن يردهما (١٣) وشقهما عمائم بين أصحابه. - قال: وكان معنا أجير نصراني يسمى نعيما (قال) (١٤): بيعوني هذه الربعة بما فيها، قالوا: إن لم يكن فيها ذهب أو فضة أو كتاب اللَّه، (قال) (١٥): فإن الذي فيها ⦗٦٢⦘ كتاب اللَّه، فكرهوا أن (يبيعوه) (١٦) الكتاب، (فبعناه) (١٧) الربعة بدرهمين، ووهبنا له الكتاب، قال قتادة: فمن ثم كره بيع المصاحف لأن الأشعري وأصحابه كرهوا بيع ذلك الكتاب (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف بن مالک فرماتے ہیں کہ میں تستر کی فتح میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ مقام سوس میں ہمیں حضرت دانیال علیہ السلام کی قبر ملی۔ اہل سوس کا معمول تھا کہ جب ان کے یہاں قحط آتا تو وہ ان کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے۔ ہمیں ان کے ساتھ ساٹھ گھڑے ملے جن کے منہ مہر سے بند کئے گئے تھے۔ ہم نے ایک گھڑے کو نیچے سے، ایک کو درمیان سے اور ایک کو اوپر سے کھولا تو ہر گھڑے میں دس ہزار درہم تھے۔ ساتھ ہمیں روئی کے کپڑے کے دو بنڈل ملے اور کتابوں کی ایک الماری ملی۔ سب سے پہلے بلعنبر کے ایک آدمی نے حملہ کیا تھا جس کا نام حرقوس تھا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے دو بنڈل اور دو سو درہم دیئے۔ بعد میں اس سے یہ دو بنڈل واپس مانگے گئے تو اس نے دینے سے انکار کردیا اور اسے کاٹ کر اپنے ساتھیوں کو عمامے بنا دیئے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ہمارے ساتھ ایک نصرانی مزدور تھا جس کا نام ” نُعیم “ تھا۔ اس نے کہا کہ مجھے یہ الماری بیچ دو ۔ اس سے کہا گیا کہ اگر اس میں سونا یا چاندی یا اللہ کی کتاب نہ ہو تو لے لو۔ دیکھا گیا تو اس میں اللہ کی کتاب تھی۔ لہٰذا لوگوں نے کتاب کے بیچنے کو ناپسند خیال کیا اور الماری اسے دو درہم میں بیچ دی اور کتاب اسے ہدیہ کردی۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے مصاحف کی بیع کو مکروہ خیال کیا جانے لگا کیونکہ حضرت اشعری اور ان کے ساتھیوں نے اسے مکروہ خیال کیا تھا۔ حضرت ابو تمیمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ حضرت دانیال کی قبر کو بیری اور ریحان کے پانی سے غسل دو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ انہوں نے دعا کی تھی کہ صرف مسلمان ہی ان کے وارث بنیں۔
حدیث نمبر: 36083
٣٦٠٨٣ - قال همام: فزعم فرقد السبخي قال: حدثني أبو تميمة أن عمر كتب إلى الأشعري أن تغسلوا دانيال بالسدر وماء الريحان، وأن يصلى عليه فإنه نبي دعا ربه أن (يواريه) (١) المسلمون (٢).
حدیث نمبر: 36084
٣٦٠٨٤ - حدثنا (شاذان قال: حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن أبي عمران (الجوني) (٢) عن أنس أنهم لما فتحوا تستر قال: (وجدنا) (٣) رجلا أنفه ذراع في التابوت، كانوا يستظهرون (و) (٤) (يستمطرون) (٥) به، فكتب أبو موسى إلى عمر ابن الخطاب بذلك، فكتب عمر: إن هذا نبي من الأنبياء والنار لا تأكل الأنبياء، (و) (٦) الأرض لا ⦗٦٣⦘ تأكل الأنبياء، فكتب (إليه) (٧) أن انظر أنت و (رجل من) (٨) أصحابك -يعني أصحاب أبي موسى- فادفنوه في مكان لا يعلمه أحد غيركما، قال: فذهبت أنا وأبو موسى فدفناه (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے تستر کو فتح کیا تو ہم نے دیکھا کہ وہاں ایک آدمی کی قبر ہے جس کا جسم سلامت ہے۔ وہ لوگ اس کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا تو حضرت عمر نے جواب میں فرمایا کہ یہ کسی نبی کی قبر ہے کیونکہ زمین انبیاء کے جسم کو نہیں کھاتی۔ اور انہیں کسی ایسی جگہ دفن کردو جہاں تمہارے اور تمہارے ایک ساتھی کے سوا کوئی نہ جانتا ہو۔ چناچہ میں اور حضرت ابوموسیٰ ان کی میت کو لے کر گئے اور اسے دفن کردیا۔
حدیث نمبر: 36085
٣٦٠٨٥ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن (حبيب أبي) (١) يحيى أن خالد ابن زيد وكانت عينه أصيبت بالسوس قال: حاصرنا مدينتها فلقينا (جهدًا) (٢) وأمير الجيش أبو موسى، وأخذ الدهقان عهده وعهد من معه، فقال أبو موسى: اعزلهم، (فجعل يعزلهم) (٣)، (وجعل) (٤) أبو موسي يقول لأصحابه: إني لأرجو أن يخدعه اللَّه عن نفسه، فعزلهم وأبقى عدو اللَّه، فأمر (به) (٥) أبو موسى (ففادى) (٦) وبذل له مالًا كثيرًا، فأبى وضرب عنقه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ سوس کی لڑائی میں حضرت خالد بن زید کی آنکھ شہید ہوگئی تھی۔ ہم نے سوس کا محاصرہ کیا، اس دوران ہمیں بہت مشقت اٹھانا پڑی۔ لشکر کے امیر حضرت ابو موسیٰ تھے۔ وہاں کے ایک آدمی نے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا امان حاصل کیا تو حضرت ابو موسیٰ نے اس سے فرمایا کہ دشمنوں سے الگ ہوجا۔ اس نے اپنے اہل و عیال کو محفوظ مقام پر پہنچانا شروع کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دھوکہ دے۔ چناچہ وہ اپنے اہل کو محفوظ کرکے پھر لڑائی کے لئے دشمنوں کے ساتھ ہولیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے حکم دیا کہ اسے گرفتار کرکے لایا جائے، وہ لایا گیا اور اس نے اپنی جان کے بدلے بہت سا مال دینے کی فرمائش کی، لیکن حضرت ابو موسیٰ نے انکار کردیا اور اس کی گردن اڑا دی۔
حدیث نمبر: 36086
٣٦٠٨٦ - حدثنا أبو خالد عن حميد عن حبيب أبي يحيى عن خالد بن زيد عن أبي موسى بنحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 36087
٣٦٠٨٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا همام عن قتادة عن أنس أنه قال: شهدت فتح تستر مع الأشعري قال: فلم أصل صلاة الصبح حتى انتصف النهار وما سرني بتلك الصلاة الدنيا جميعًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تستر کی لڑائی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھا۔ ایک دن میری صبح کی نماز قضا ہوگئی اور میں آدھا دن گزرنے تک نما زنہ پڑھ سکا۔ مجھے اس نماز کے بدلے ساری دنیا بھی مل جائے تو مجھے خوشی نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 36088
٣٦٠٨٨ - حدثنا ريحان بن سعيد قال: حدثني (مرزوق) (١) بن (عمرو) (٢) قال: حدثني أبو فرقد قال: كنا مع أبي موسى يوم فتحنا سوق الأهواز، فسعى رجل من المشركين، وسعى رجلان من المسلمين خلفه قال: فبينا هو يسعى ويسعيان إذ قال له أحدهما: مترس، فقام الرجل فأخذاه، (فجاءا) (٣) به أبا موسى، وأبو موسى يضرب أعناق الأسارى حتى انتهى الأمر إلى الرجل، فقال أحد الرجلين: إن هذا (٤) جعل له الأمان، قال أبو موسى: وكيف جعل له الأمان؟ قال: إنه كان يسعى ذاهبا في الأرض فقلت له: مترس فقام، فقال (٥) أبو موسى: وما مترس؟ قال: لا تخف، قال: هذا أمان، خليا سبيله، قال: (فخليا) (٦) سبيل الرجل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فرقد فرماتے ہیں کہ جب ہم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اہواز کے بازار کو فتح کیا تو مشرکین کا ایک آدمی بھاگا۔ دو مسلمان بھی اس کے پیچھے بھاگے، دوڑتے ہوئے ایک مسلمان نے اس سے کہا ” مترس “ یہ سن کر وہ رک گیا، انہوں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابو موسیٰ کے پاس لے آئے۔ حضرت ابو موسیٰ قیدیوں کے سر قلم کررہے تھے، جب اس آدمی کی باری آئی تو اسے پکڑنے والے مسلمانوں نے کہا کہ اسے امان دی گئی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ اسے کیسے امان دی گئی ؟ اس آدمی نے کہا کہ یہ بھاگ رہا تھا میں نے اسے کہا ” مترس “ تو یہ کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ مترس کا کیا مطلب ہے ؟ اس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے مت ڈرو۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ یہ امان ہے۔ اس آدمی کو جانے دو ۔ لہٰذا اس آدمی کو آزاد کردیا گیا۔
حدیث نمبر: 36089
٣٦٠٨٩ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن أبيه عن (سديس) (١) العدوي قال: غزونا مع الأمير (الأُبلّة) (٢)، فظفرنا (بها) (٣) (ثم انتهينا) (٤) ⦗٦٥⦘ (إلى) (٥) الأهواز (وبها ناس من الزط والأساوره فقاتلناهم قتالًا شديدًا) (٦) فظفرنا (بهم) (٧) وأصبنا سبيا كثيرا فاقتسمناهم، فأصاب الرجل الرأس والاثنين، فوقعنا على النساء، فكتب أميرنا إلى عمر بن الخطاب بالذي كان، فكتب إليه إنه لا طاقة لكم (بعمارة) (٨) الأرض، خلوا ما في أيديكم من السبي، ولا تملكوا أحدا منهم (أحدًا) (٩) واجعلوا عليهم من الخراج قدر ما في أيديهم من الأرض فتركنا ما في أيدينا من السبي، فكم من ولد لنا غلبه الهماس؟ وكان فيمن أصبنا أناس من الزط يتشبهون بالعرب (يوفرون) (١٠) لحاهم ويأتزرون ويحتبون في مجالسهم، فكتب فيهم إلى عمر، فكتب إليه عمر: أن أدنهم منك، فمن أسلم منهم فألحقه بالمسلمين، فلما (بلوا بالناس) (١١) لم يكن (عندهم) (١٢) (بأس) (١٣)، وكانت الأساورة أشد منهم بأسًا، فكتب فيهم إلى عمر فكتب إليه عمر: أن أدنهم منك فمن أسلم (منهم) (١٤) فألحقه بالمسلمين (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سدیس عدوی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے امیر کے ساتھ ابلہ کی لڑائی میں حصہ لیا۔ وہاں ہم کامیاب ہوئے، پھر ہم اہواز گئے، وہاں سوڈان اور اس اورہ کے لوگ تھے۔ ہم نے ان سے زبردست لڑائی کی اور ہم کامیاب ہوگئے۔ اس میں بہت سے قیدی ہمارے ہاتھ لگے اور ہم نے انہیں آپس میں تقسیم کرلیا۔ بعض لوگوں کو ایک اور بعض کو دو قیدی ملے۔ ہم نے اپنی مملوکہ عورتوں سے جماع بھی کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے ہمیں خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ تمہیں ان قیدیوں پر قبضہ جمانے کا کوئی حق نہیں، سب قیدیوں کو آزاد کردو اور تم ان میں سے کسی کے مالک نہیں ہو۔ ان کے پاس جتنی زمین ہے اس کے بقدر ان سے خراج لو۔ چناچہ اس حکم کے آنے کے بعد ہم نے سب قیدیوں کو آزاد کردیا۔ جن سوڈانی لوگوں پر ہم غالب آئے تھے ان میں سے بہت سے عربوں کے مشابہ تھے۔ لمبی داڑھی رکھتے تھے، ازار باندھتے تھے اور ٹانگوں کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھتے تھے۔ ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنے قریب کرو، ان میں سے جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ شامل کردو۔ جب وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جائیں گے تو ان میں سختی نہیں رہے گی۔ اس اورہ ان سے زیادہ زور آور تھے۔ ان کے بارے میں بھی حضرت عمر کو لکھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ ان کو قریب کرو جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ ملا دو ۔
حدیث نمبر: 36090
٣٦٠٩٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة قال: حدثنا أبو إسحاق عن المهلب قال: أغرنا على مناذر (١)، وأصبنا منهم، وكأنه كان لهم عهد، فكتب عمر: ردوا ⦗٦٦⦘ ما أصبتم منهم، قال: فردوا حتى ردوا النساء الحبالى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہلب فرماتے ہیں کہ ہم نے اہل مناذر پر چڑھائی کی اور ان پر غلبہ پا لیا۔ ان کا مسلمانوں کے ساتھ عہد تھا۔ جس کی وجہ سے حضرت عمر نے ہمیں خط میں لکھا کہ تم نے ان کا جو کچھ حاصل کیا ہے واپس کردو حتی کہ ان کی وہ عورتیں بھی واپس کردوجو حاملہ ہوچکی ہیں۔
حدیث نمبر: 36091
٣٦٠٩١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثني عطاء بن السائب عن أبي زرعة بن (عمرو) (١) (بن) (٢) جرير أن رجلا كان ذا صوت ونكاية على العدو مع أبي موسى، فغنموا مغنما فأعطاه أبو موسى نصيبه ولم يوفه، فأبى أن يأخذه إلا (جميعا) (٣) فضربه عشرين سوطا وحلقه، فجمع شعره (وذهب) (٤) إلى عمر فدخل عليه فقال جرير: وأنا أقرب الناس منه، فأخرج شعره من (ضبنه) (٥) فضرب (بها) (٦) صدر عمر فقال: أما واللَّه لولاه، فقال عمر: صدق لولا النار، فقال: مالك؟ فقال: كنت رجلا ذا صوت ونكاية على العدو، فغنمنا مغنمًا، وأخبره بالأمر، وقال: حلق رأسي وجلدني عشرين سوطا يرى أنه لا يقتص منه، فقال عمر: لأن يكون الناس كلهم على مثل صرامة هذا أحب من جميع (ما أتى) (٧) (علي) (٨)، قال: فكتب عمر إلى أبي موسى: سلام (عليكم) (٩)، أما بعد: فإن فلان بن فلان أخبرني بكذا وكذا، وإني أقسم عليك إن كنت فعلت به ما فعلت في ملأ من الناس لما جلست في ملأ منهم فاقتص منك، وإن كنت فعلت به ما فعلت في ⦗٦٧⦘ خلاء فاقعد له في خلاء فيقتص منك، فقال له الناس: اعف عنه، فقال: لا واللَّه لا أدعه لأحد من الناس، فلما (دفع) (١٠) إليه الكتاب قعد للقصاص فرفع رأسه إلى السماء وقال: قد عفوت عنه (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زرعہ بن عمرو بن جریر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھیوں میں ایک آدمی بہت بہادر اور دلیر تھا۔ جب مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل ہوا تو حضرت ابو موسیٰ نے اسے اس کا حصہ پورا نہ دیا۔ اس نے کم حصہ لینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے بیس کوڑے لگوائے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ اس نے اپنے بال جمع کئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بال ان کے سینے پر مارے اور کہا کہ خدا کی قسم ! اگر وہ نہ ہوتی ! حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ سچ کہتا ہے کہ اگر جہنم نہ ہوتی۔ پھر حضرت عمر نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ساری بات بتائی اور کہا کہ حضرت ابو موسیٰ کا خیال ہے کہ ان سے اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان برابری کرنا میرے نزدیک مال غنیمت کے حصول سے بہتر ہے۔ پھر حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا جس میں سلام کے بعد فرمایا کہ فلاں بن فلاں نے مجھے یہ خبر دی ہے اور میں تمہیں قسم دے کر کہتاہوں کہ اگر تم نے اس کے ساتھ یہ زیادتی لوگوں کے سامنے کی ہے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اسے بدلہ دو اور اگر تنہائی میں کی ہے تو تنہائی میں اسے بدلہ دو ۔ لوگوں نے حضرت عمر سے درخواست کی کہ انہیں معاف فرمادیجئے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں انصاف کو کسی کے لئے پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ جب خط انہیں ملا تو وہ بدلے کے لئے بیٹھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا لیکن اس آدمی نے کہا کہ میں نے آپ کو معاف کردیا۔
حدیث نمبر: 36092
٣٦٠٩٢ - وقال حماد أيضًا: فأعطاه أبو موسى بعض سهمه، وقد قال أيضًا جرير: وأنا أقرب القوم (منه) (١)، (قال: وقال) (٢) أيضًا: قد عفوت عنه للَّه (٣).
حدیث نمبر: 36093
٣٦٠٩٣ - حدثنا عفان قال: (ثنا) (١) أبو عوانة قال: حدثنا المغيرة عن سماك بن سلمة أن المسلمين لما فتحوا تستر وضعوا بها وضائع المسلمين، وتقدموا لقتال عدوهم، قال: فغدر بهم دهقان تستر فأحمى لهم تنورًا، وعرض عليهم لحم الخنزير و (الخمر) (٢) أو التنور، قال: فمنهم من أكل فترك، قال: فعرض على (نهيت) (٣) ابن الحارث (الضبي) (٤) فأبى، فوضع في التنور، قال: ثم إن المسلمين رجعوا فحاصروا أهل المدينة حتى صالحوا الدهقان، فقال ابن أخ (لنهيت) (٥) لعمه: يا عماه هذا قاتل (نهيت) (٦)، قال: يا ابن أخي إن له ذمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے تستر کو فتح کیا اور دشمن سے قتال کے لئے آگے بڑھ گئے تو وہاں کے ایک مالدار آدمی نے مسلمان مجاہدین سے غداری کی اور انہیں گرفتار کرلیا۔ پھر اس نے ایک تنور جلایا اور ان کے ساتھ خنزیر کا گوشت اور شراب رکھی اور ان سے کہا کہ یا تو یہ کھالو یا تنور میں ڈال دیئے جاؤ گے۔ چناچہ جس نے شراب پی لی اور خنزیر کا گوشت کھالیا اسے چھوڑ دیا گیا۔ حضرت نہیب بن حارث کے سامنے یہ چیزیں پیش کی گئیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ اور اس پر انہیں تنور میں ڈال دیا گیا مسلمان جب جنگی مہمات سے واپس آئے اور شہر کا محاصرہ کیا اور تستر والوں سے صلح ہوئی تو اس مالدار آدمی سے بھی صلح ہوگئی۔ ایک دن حضرت نہیب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے کہا کہ اے چچا جان یہ آدمی نہیب کا قاتل ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اب یہ لوگ مسلمانوں کے عہد میں آچکے ہیں اس لئے اب ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جب اس سارے واقعہ کی اطلاع حضرت عمر کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہیب پر رحم فرمائے اگر وہ مجبوری میں جان بچانے کے لئے وہ چیزیں کھالیتے تو کوئی گناہ نہ ہوتا۔
حدیث نمبر: 36094
٣٦٠٩٤ - قال سماك: بلغني أن عمر بلغه ذلك فقال: يرحمه اللَّه وما عليه لو كان أكل (١).
حدیث نمبر: 36095
٣٦٠٩٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (العلاء) (١) بن المنهال قال: حدثنا عاصم ابن كليب الجرمي قال: حدثني أبي قال: حاصرنا (توج) (٢) وعلينا رجل من بني سليم يقال: له مجاشع بن مسعود، قال: فلما فتحناها، قال: وعلى قميص (خلق) (٣) قال: فانطلقت إلى قتيل من القتلى (الذين) (٤) قتلنا (من العجم) (٥)، قال: فأخذت قميص بعض أولئك القتلى، قال: وعليهم الدماء، قال: فغسلته بين أحجار ودلكته حتى أنقيته ولبسته ودخلت القرية، فأخذت إبرة وخيوطا (فخطت) (٦) قميصي، فقام مجاشع فقال: يا أيها الناس لا تغلوا شيئًا، من غل شيئا جاء به يوم القيامة ولو كان مخيطا، قال: فانطلقت إلى ذلك القميص فنزعته وانطلقت إلى قميصي فجعلت أفتقه، حتى واللَّه يا بني جعلت أخرق قميصي توقيا على الخيط أن (ينقطع) (٧) فانطلقت بالقميص والإبرة (والخيوط) (٨) الذي كنت أخذته من المقاسم فألقيته فيها، ثم ما ذهبت من الدنيا حتى رأيتهم يغلون (الأوساق) (٩)، فإذا قلت: أي شيء؟ قالوا: نصيبنا من الفيء أكثر من هذا (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب جرمی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے توج نامی علاقے کا محاصرہ کیا تو ہماری قیادت بنوسلیم کے مجاشع بن مسعود کے ہاتھ تھی۔ جب ہم نے توج کو فتح کیا تو اس وقت میرے بدن پر ایک پرانی قمیص تھی۔ میں ایک عجمی مقتول کے پاس گیا اور میں نے اس کی قمیص اتاری، اسے دھویا اور صاف کرکے پہن کے بستی میں داخل ہوا۔ بستی میں سے میں نے ایک سوئی اور دھاگا لیا اور اپنی قمیص کو سی لیا۔ اس کے بعد حضرت مجاشع نے مجاہدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے لوگو ! کسی قسم کی خیانت نہ کرو، جس نے خیانت کی اسے قیامت کے دن خیانت کا حساب چکانا ہوگا خواہ وہ ایک سوئی ہی کیوں نہ ہو۔ پھر میں نے اس قمیص کو اتارا اور اپنی قمیص کے اس حصہ کو دوبارہ پھاڑ دیا جو اس دھاگے سے سیا تھا۔ پھر میں نے وہ سوئی اور دھاگا وہیں رکھ دیئے جہاں سے اٹھائے تھے۔ پھر میں نے اپنی زندگی میں وہ زمانہ دیکھاجب لوگ وسق کے وسق میں خیانت کرتے تھے، اگر ان سے کہا جائے کہ یہ کیا کررہے ہو تو کہتے ہیں کہ غنیمت میں ہمارا حصہ اس سے زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 36096
٣٦٠٩٦ - حدثنا ابن عيينة عن محمد بن عبد الرحمن عن أبيه قال: لما قدم (على) (١) عمر فتح تستر وتستر من أرض البصرة، سألهم: هل من (مغربة) (٢) قالوا: رجل من المسلمين لحق بالمشركين فأخذناه، قال: ما صنعتم به؟ قالوا: قتلناه، قال: أفلا أدخلتموه بيتا وأغلقتم عليه بابا وأطعمتموه كل يوم رغيفا (ثم) (٣) (استتبتموه) (٤) ثلاثًا، فإن تاب وإلا قتلتموه ثم قال: اللهم لم أشهد ولم آمر ولم أرض إذ بلغني أو حين بلغني (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد الرحمن کے والد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تستر کی فتح کی خبر ملی تو آپ نے پوچھا کہ کیا وہاں کوئی عجیب بات پیش آئی ؟ آپ کو بتایا گیا کہ ایک مسلمان مرتد ہوکر مشرکین سے جاملا، ہم نے اس پکڑ لیا۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے پھر اس کا کیا کیا ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اسے قید میں کیوں نہ رکھا، تمہیں چاہئے تھا کہ اسے تین دن قید میں رکھتے، اسے روزانہ ایک روٹی دیتے اور اسلام میں واپس آنے کا کہتے۔ اگر وہ توبہ کرلیتا تو ٹھیک وگرنہ تم اسے قتل کردیتے۔ پھر حضرت عمر نے دعا کی کہ اے اللہ ! تو گواہ رہنا میں نے اس کا حکم بھی نہیں دیا اور میں اس پر راضی بھی نہیں ہوں۔
حدیث نمبر: 36097
٣٦٠٩٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن المهلب بن أبي صفرة قال: حاصرنا مدينة (بالأهواز) (١) فافتتحناها -وقد كان ذكر صلح- فأصبنا نساء فوقعنا عليهن، فبلغ ذلك عمر فكتب إلينا خذوا (أولادكم) (٢) وردوا إليهم نساءهم، وقد كان صالح بعضهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ ہم نے اہواز کا محاصرہ کیا اور پھر اسے فتح کرلیا۔ وہاں صلح کا ذکر چلا اور ہم نے کچھ عورتوں کو قیدی بنا کر ان سے جماع کیا تھا۔ پھر یہ خبر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اپنی اولاد حاصل کرلو اور ان کی عورتیں انہیں واپس کردو۔
حدیث نمبر: 36098
٣٦٠٩٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد اللَّه بن الوليد عن (عمر بن محمد ابن حاطب) (١) قال: سمعت جدي محمد بن حاطب قال: ضرب علينا بعثٌ إلى (إصطحر) (٢) فجعل الفارس للقاعد (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حاطب فرماتے ہیں کہ ہمیں اصطخر کی طرف بھیجا گیا اور فارس کو قاعد کے لئے بنایا گیا۔
حدیث نمبر: 36099
٣٦٠٩٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن كيسان قال: سمعتُ شُويسا العدوي يقول غزوت ميسان فسبيت جارية فنكحتها حتى جاء كتاب من عمر: ردوا ما في أيديكم من سبي ميسان، فرددت، فلا أدري على أي حال رددت؟ حامل أم غير حامل حتى يكون أعَمَر لقراهم وأوفر لخراجهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شویس عدوی کہتے ہیں کہ میں نے میسان کی جنگ میں حصہ لیا، میں نے ایک باندی کو قیدی بنایا اور اس سے نکاح کیا۔ پھر ہمارے پاس حضرت عمر کا خط آیا جس میں لکھا تھا کہ میسان کے قیدیوں کو واپس کردو، میں نے اس باندی کو واپس کردیا اور میں نہیں جانتا کہ وہ حاملہ تھی یا نہیں تھی۔ یہ ان کی بستی کے لئے زیادہ آبادی اور زیادہ خراج کی وصولی کا سبب تھا۔