کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جبل کا بیان، آیا وہ صلح سے حاصل ہوا تھایا زبردستی لیاگیا تھا
حدیث نمبر: 36074
٣٦٠٧٤ - حدثنا (حميد عن) (١) (حسن) (٢) عن مجالد قال: صالح أهل (الجبل) (٣) كلهم لم يؤخذ شيء (من الجبل) (٤) عنوة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجالد فرماتے ہیں کہ تمام اہل جبل نے صلح کی تھی اور جبل کا کوئی حصہ زبردستی نہیں لیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 36075
٣٦٠٧٥ - حدثنا حميد عن (حصين) (١) عن مطرف قال: ما فوق حلوان فهو ذمة، وما دون حلوان من السواد فهو فيء، قال: سوادنا هذا فيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حلوان سے اوپر کا حصہ ذمہ میں ہے اور حلوان کے علاوہ فیٔ ہے اور ہمارا یہ علاقہ فیٔ ہے۔
حدیث نمبر: 36076
٣٦٠٧٦ - حدثنا شاذان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء (بن) (١) السائب عن أبي العلاء، قال: (كنت) (٢) فيمن افتتح تكريت، فصالحناهم على أن يبرزوا لنا سوقا وجعلنا لهم الأمان، قال: فابرزوا لنا سوقا، قال: فقتل (قين) (٣) منهم فجاء قسهم (فقال) (٤): أجعلتم لنا ذمة نبيكم (٥) وذمة أمير المؤمنين وذمتكم (٦)، ثم (أخفرتموها) (٧) فقال: أميرنا إن أقمتم شاهدين ذوي عدل على قاتله أقدناكم، وإن ⦗٥٣⦘ شئتم حلفتم وأعطيناكم الدية، كان شئتم حلفنا لكم ولم نعطكم شيئا، قال: فتواعدوا للغد فحضروا فجاء (قسهم) (٨) فحمد اللَّه وأثنى عليه، ثم ذكر السماوات والأرض وما شاء اللَّه أن يذكر حتى ذكر يوم القيامة ثم قال: أول ما يبدأ به من الخصومات الدماء، قال: فيختصم (أبنا) (٩) آدم فيقضى له على صاحبه، ثم يؤخذ الأول فالأول، حتى ينتهي الأمر إلى صاحبنا وصاحبكم، قال: فيقال له: فيم قتلتني؟ قال: أفلا تحب أن يكون لصاحبكم على صاحبنا حجة أن يقول: قد أخذ أهلُك من بعدك ديتَك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو علاء فرماتے ہیں کہ میں بھی تکریت کی فتح میں شامل تھا۔ ہم نے ان سے اس بات پر صلح کی کہ وہ ہمیں مال کی ایک مقررہ مقدار دیں اور ہم ان کو امان دیں گے۔ چناچہ انہوں نے ہمیں مال دے دیا۔ پھر ان میں سے ایک شخص کو کسی نے قتل کردیا تو ان کا راہب ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیا تم نے اپنے نبی ﷺ اور اپنے امیر المومنین اور اپنا عہد نہیں دیا تھا، پھر تم نے اس عہد کی پاسداری نہیں کی ؟ ! ہمارے امیر نے کہا کہ تم اس کے قاتل پر دو عادل گواہ پیش کردو تو ہم قاتل تمہارے حوالے کردیں گے اور اگر تم چاہو تو قسم کھالو ہم تمہیں فدیہ دے دیں گے اور اگر تم چاہو تو ہم قسم کھا لیں اس صورت میں تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ پس اگلے دن کی ملاقات طے ہوئی، ان کا پادری آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، زمین و آسمان کا تذکرہ کیا، قیامت کے دن کا ذکر کیا پھر اس نے کہا کہ خصومات میں سب سے پہلے خون کا حساب ہوگا۔ آدم علیہ السلام کے دو بیٹے فریق ہوں گے اور ایک کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا۔ پھر ایک ایک کرکے خون کا حساب ہوگا معاملہ ہمارے اور تمہارے ساتھی تک آپہنچے گا۔ پس مقتول قاتل سے کہے گا کہ تو نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تمہارا ساتھی ہمارے ساتھی کو یہ جواب دے کر خاموش کرادے کہ تیرے بعد والوں نے تیری دیت وصول کرلی تھی۔