کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: بلنجر کی لڑائی کابیان
حدیث نمبر: 36067
٣٦٠٦٧ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن أبي وائل قال: غزونا مع سلمان بن ربيعة بلنجر (فحرّج) (١) علينا أن نحمل على دواب الغنيمة، ورخص لنا في الغربال والحبل والمنخل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ ہم بلنجر کی لڑائی میں سلمان بن ربیعہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے ہمیں مال غنیمت کے جانوروں پر سوار ہونے سے منع کیا اور ہمیں مال غنیمت کے ڈھول، رسی اور چھاننی استعمال کرنے کی اجازت دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36067
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم سيء الحفظ في روايته عن أبي وائل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36067، ترقيم محمد عوامة 34495)
حدیث نمبر: 36068
٣٦٠٦٨ - حدثنا شريك عن ابن الأصبهاني عن الشيباني عن الشعبي عن مالك ابن صُحَار قال: غزونا بلنجر فجرح أخي فحملته خلفي فرآني حذيفة فقال: من هذا؟ (فقلت) (١): أخي جرح (نرجع) (٢) (قابلا) (٣) نفتحها إن شاء اللَّه، فقال (حذيفة) (٤): لا واللَّه لا يفتحها (٥) علي أبدا ولا القسطنطينية ولا الديلم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن صحار فرماتے ہیں کہ ہم نے بلنجر کی لڑائی میں حصہ لیا۔ اس میں میرا بھائی زخمی ہوگیا۔ میں نے اسے اپنی کمر پر سوار کیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ میں نے کہا کہ میرا بھائی ہے، زخمی ہوگیا ہے۔ ہم اگلے سال اسے فتح کرنے کے لئے آئیں گے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ پر فتح نہیں فرمائے گا نہ قسطنطینیہ کو اور نہ دیلم کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36068
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36068، ترقيم محمد عوامة 34496)
حدیث نمبر: 36069
٣٦٠٦٩ - حدثنا بن إدريس عن مسعر عن أبي حصين عن الشعبي عن مالك بن صحار قال: غزونا بلنجر فلم يفتحوها، (فقالوا) (١): نرجع قابلا نفتحها فقال حذيفة: لا تفتح هذه ولا مدينة الكفر ولا الديلم إلا على رجل من أهل بيت محمد ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن صحار فرماتے ہیں کہ ہم نے بلنجر کے جہاد میں حصہ لیا۔ لیکن ہمیں فتح حاصل نہ ہوئی۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اگلے سال اسے فتح کرنے کے لئے آئیں گے۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ علاقہ، کفر کا شہر اور دیلم محمد ﷺ کے اہل بیت میں سے ایک آدمی کے ہاتھ پر فتح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36069
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36069، ترقيم محمد عوامة 34497)
حدیث نمبر: 36070
٣٦٠٧٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء ومحمد بن سوقة عن الشعبي قال: لما غزا سلمان بلنجر أصاب في قسمته صرة من مسك، فلما رجع (استودعها) (١) امرأته، فلما مرض مرضه الذي مات فيه، قال لامرأته وهو يموت: أريني الصرة التي استودعتك، فأتته بها فقال: ائتني بإناء نظيف، (فجاءت) (٢) به فقال: (أوجفيه) (٣) ثم انضحي به حولي فإنه يحضرني خلق من خلق اللَّه لا يأكلون الطعام ويجدون الريح، ثم قال: اخرجي عني وتعاهديني، فخرجت ثم رجعت وقد قضى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان نے جب بلنجر کے علاقے میں جہاد میں حصہ لیا تو ان کے حصے میں مشک کی ایک تھیلی آئی جو انہوں نے اپنی بیوی کے پاس امانت کے طورپر رکھوا دی۔ پھر اپنے مرض الوفات میں انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ تھیلی مجھے لا دو ۔ پھر آپ نے ایک صاف برتن منگوایا اور اپنی بیوی سے فرمایا کہ اس خوشبو میں پانی ملا کر اسے میرے ارد گرد چھڑک دو ، کیونکہ میرے پاس اللہ کی ایسی مخلوق (فرشتے) آرہی ہے جو کھانا نہیں کھاتے لیکن خوشبو محسوس کرتے ہیں۔ پھر تم باہر چلی جاؤ۔ ان کی بیوی یہ عمل کرکے باہر چلی گئیں جب واپس آئیں تو ان کا انتقال ہوچکا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36070
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36070، ترقيم محمد عوامة 34498)
حدیث نمبر: 36071
٣٦٠٧١ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن سفيان عن الركعين عن أبيه قال: منا مع سلمان بن ربيعة ببلنجر، فرأيت هلال شوال يوم تسع وعشرين ليلة ثلاثين ضحى، قال: فقال: (أرنيه) (١)، فأريته فأمر الناس فأفطروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رکین کے والد فرماتے ہیں کہ ہم سلمان بن ربیعہ کے ساتھ بلنجر میں تھے۔ میں نے رمضان کے انتیس روزے رکھنے کے بعد تیسویں دن چاشت کے وقت چاند دیکھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے دکھاؤ، میں نے انہیں چاند دکھایا تو انہوں نے لوگوں کو روزہ توڑنے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36071
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36071، ترقيم محمد عوامة 34499)
حدیث نمبر: 36072
٣٦٠٧٢ - حدثنا ابن إدريس قال: سمع أباه وعمه يذكران قال: قال سلمان: قتلت بسيفي هذا مائة مستلئم كلهم يعبد غير اللَّه، ما قتلت منهم رجلا صبرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان فرماتے تھے کہ میں نے اپنی اس تلوار سے سو آدمیوں کو قتل کیا ہے وہ سب اللہ کے غیر کی عبادت کرتے تھے۔ میں نے اس سے کسی صبر کرنے والے آدمی کو قتل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36072
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36072، ترقيم محمد عوامة 34500)
حدیث نمبر: 36073
٣٦٠٧٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن بعض أصحابه عن حذيفة قال: لا يفتح القسطنطينية ولا الديلم ولا الطبرستان إلا رجل من بني هاشم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ قسطنطنیہ، دیلم اور طبرستان بنوہاشم کے ایک آدمی کے ہاتھ پر فتح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36073
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36073، ترقيم محمد عوامة 34501)