حدیث نمبر: 36050
٣٦٠٥٠ - حدثنا معاوية بن عمرو قال: حدثنا زائدة قال: ثنا عاصم بن كليب الجرمي قال: حدثني أبي أنه أبطأ على عمر خبر نهاوند وبن مقرن وأنه كان يستنصر وأن الناس كانوا يرون من استنصاره أنه لم يكن له ذكر (إلا) (١) نهاوند وابن مقرن، قال: فقدم عليهم أعرابي، فقال: ما بلغكم عن نهاوند وابن مقرن؟ قالوا: وما ذاك؟ قال: لا شيء، قال: (فنمت) (٢) إلى عمر، قال: فأرسل إليه فقال: ما ذكرك نهاوند وابن مقرن؟ فإن جئت بخبر فأخبرنا، قال: يا أمير المؤمنين أنا فلان بن فلان العلاني، خرجت بأهلي ومالي مهاجرا إلى اللَّه ورسوله حتى نزلنا موضع كذا وكذا، فلما ارتحلنا إذا رجل على جمل أحمر لم أر مثله، فقلنا: من أين أقبلت؟ قال: من العراق، قلنا: فما خبر الناس؟ قال: التقوا فهزم اللَّه العدو وقتل ابن مقرن ولا ⦗٤٠⦘ (واللَّه لا) (٣) أدري (٤) (ما) (٥) نهاوند ولا ابن مقرن (قال) (٦): أتدري أي يوم ذلك من الجمعة، قال: (لا) (٧) واللَّه ما أدري، (قال) (٨): لكني أدري، فعد (منازلك) (٩)، قال: ارتحلنا يوم كذا وكذا فنزلنا موضع كذا وكذا فعد منازله، قال: ذاك يوم كذا وكذا من الجمعة، ولعلك أن تكون لقيت (بريدا) (١٠) من برد الجن، فإن لهم بردًا، قال: فمضى ما شاء اللَّه ثم جاء الخبر بأنهم التقوا في ذلك اليوم (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نہاوند اور حضرت نعمان بن مقرن کی خبر آنے میں دیر ہوگئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بارے میں لوگوں سے پوچھا کرتے تھے، لیکن نہاوند اور ابن مقرن کی کوئی خبر انہیں حاصل نہ ہوئی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ تمہیں نہاوند اور ابن مقرن کے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ کیا خبر ہے ؟ اس نے کہا کچھ نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس دیہاتی کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے نہاوند اور ابن مقرن کا ذکر کیوں کیا تھا ؟ اگر تمہارے پاس کوئی خبر ہے تو ہمیں بتادو۔ اس دیہاتی نے کہا کہ اے امیر المومنین ! میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں فلاں قبیلے سے ہوں۔ میں اپنے اہل و عیال اور مال کو لے کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی غرض سے نکلا ہوں۔ ہم نے فلاں فلاں جگہ قیام کیا ہے۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے سرخ اونٹ پر ایک ایسا آدمی دیکھا جو ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ہم نے اس سے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں عراق سے آیا ہوں۔ ہم نے کہا کہ وہاں لوگوں کی کیا خبر ہے ؟ اس نے کہا کہ وہاں جنگ ہوئی ہے، اللہ نے دشمن کو شکست دے دی اور ابن مقرن شہید ہوگئے۔ خدا کی قسم میں نہاوند اور ابن مقرن کو نہیں جانتا۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم بتاسکتے ہو کہ وہ کون سا دن تھا ؟ اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس کس جگہ قیام کیا ہے۔ مجھے اپنے قیام کی جگہیں بتاؤ۔ اس نے کہا کہ ہم فلاں دن نکلے تھے اور ہم نے فلاں فلاں جگہ قیام کیا تھا۔ اس طرح دن کو معلوم کرلیا گیا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ شاید تم جنوں کے کسی قاصد سے ملے تھے۔ پھر کچھ عرصہ گزرا تو نہاوند کی خبر آگئی اور وہ جنگ اسی دن ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 36051
٣٦٠٥١ - حدثنا حسين عن زائدة عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: أبطأ على عمر خبر نهاوند وخبر النعمان فجعل يستنصر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس نہاوند اور حضرت نعمان بن مقرن کی خبر آنے میں دیرہوگئی تو آپ لوگوں سے اس بارے میں مدد طلب کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 36052
٣٦٠٥٢ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا إسماعيل عن قيس بن أبي حازم عن مُدْرِك ابن عوف الأَحْمَسي قال: بينا أنا عند عمر إذ أتاه رسول النعمان بن مقرن، فسأله عمر عن الناس، قال: فذكروا عند عمر من أصيب يوم نهاوند، فقالوا: قتل فلان وفلان وآخرون لا نعرفهم، فقال عمر: لكن اللَّه يعرفهم، قالوا: ورجل (شرى) (١) نفسه -يعنون عوف بن أبي حية أبا شبيل الأحمسي، (قال) (٢) مدرك ⦗٤١⦘ بن عوف: ذاك واللَّه (خالي) (٣) يا أمير المؤمنين يزعم الناس أنه ألقى بيديه إلى التهلكة، فقال عمر: كلذب أولئك ولكنه من الذين اشتروا الآخرة بالدنيا (٤). - قال إسماعيل: وكان أصيب وهو صائم فاحتمل وبه رمق فأبى أن يشرب حتى مات (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مدرک بن عوف احمسی کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس تھا کہ ان کے پاس حضرت نعمان بن مقرن کا قاصد آیا۔ حضرت عمر نے اس سے لوگوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے نہاوند کی جنگ میں شہید ہونے والے مجاہدین کا تذکرہ کیا۔ اور بتایا کہ فلاں بن فلاں شہید ہوگئے اور کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ حضرت عمر نے فرمایا لیکن اللہ انہیں جانتا ہے۔ اس جنگ کے بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک آدمی بہت بہادری سے لڑا جس کا نام عوف بن ابی حیہ ابو شبیل احمسی ہے۔ یہ سن کر مدرک بن عوف نے کہا کہ خدا کی قسم ! اے امیر المومنین وہ میرے ماموں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کو خرید لیا۔ اسماعیل فرماتے ہیں کہ جب وہ زخمی ہوئے تو روزہ کی حالت میں تھے۔ ان میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ انہیں پانی پیش کیا گیا لیکن انہوں نے پینے سے انکار کردیا اور اسی حال میں انتقال کرگئے۔
حدیث نمبر: 36053
٣٦٠٥٣ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا شعبة عن علي بن زيد عن أبي عثمان قال: أتيت عمر بنعي النعمان بن مقرن فوضع يده على رأسه وجعل يبكي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعثمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس نعمان بن مقرن کی شہادت کی خبر لایا تو آپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور رونا شروع کردیا۔
حدیث نمبر: 36054
٣٦٠٥٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن أياس بن معاوية قال: جلست إلى سعيد بن المسيب قال: إني لأذكر عمر بن الخطاب حين نعى النعمان بن مقرن (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت نعمان بن مقرن کی شہادت کی خبر آئی۔
حدیث نمبر: 36055
٣٦٠٥٥ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا مهدي بن ميمون قال: ثنا محمد بن عبد اللَّه ابن أبي يعقوب عن بشر بن شغاف عن عبد اللَّه بن سلام قال: لما كان حين فتحت نهاوند أصاب المسلمون سبايا من سبايا اليهود، قال: وأقبل رأس الجالوت يفادي سبايا اليهود، قال: وأصاب رجل من المسلمين جارية (بسرة) (١) صبيحة، قال: فأتاني فقال: (هل) (٢) لك أن تمشي معي إلى هذا الإنسان عسى أن يثمن لي بهذه الجارية، قال: فانطلقت معه فدخل على شيخ مستكبر له ترجمان فقال لترجمانه: سل هذه الجارية هل وقع عليها هذا (العربي) (٣)؟ قال: ورأيته غار حين رأى ⦗٤٢⦘ حسنها، قال: فراطنها بلسانه ففهمت الذي قال: فقلت له: (أثمت) (٤) بما في كتابك بسؤالك هذه الجارية على ما وراء ثيابها، فقال لي: كذبت ما يدريك ما في كتابي، قلت: أنا أعلم بكتابك منك، (قال) (٥): أنت أعلم بكتابي مني؟ قلت: أنا أعلم بكتابك منك، قال: من هذا؟ قالوا: عبد اللَّه بن سلام، قال: فانصرفت ذلك اليوم، قال: فبعث إلي رسولا يعزمه ليأتيني، قال: وبعث إلي بدابة، قال: فانطلقت إليه لعمر اللَّه احتسابا رجاء أن يسلم، فحبسني عنده ثلاثة أيام أقرأ عليه التوراة ويبكي، (قال: وقلت له: إنه واللَّه لهو النبي الذي تجدونه في كتابكم، قال: فقال لي: كيف أصنع باليهود) (٦)؟ قال: قلت له: إن اليهود لن يغنوا عنك من اللَّه شيئًا، قال: فغلب عليه الشقاء و (أبى) (٧) أن يسلم (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب نہاوند فتح ہوا تو بہت سے جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ ایک مالدار شخص ان قیدیوں کا فدیہ دے کر انہیں چھڑا رہا تھا۔ ایک مسلمان کو ایک بہت خوبصورت اور جوان باندی ملی تھی۔ وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرے ساتھ اس مالدار کی طرف چلو شاید وہ مجھے اس باندی کی قیمت دے دے۔ (٢) چنانچہ میں اس کے ساتھ چلا ، ہم ایک مغرور بوڑھے کے پاس پہنچے جس کا ایک ترجمان تھا۔ اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس باندی سے سوال کرو کہ کیا اس عربی نے اس سے جماع کیا ہے ؟ وہ اس باندی کے حسن کو دیکھ کر غیرت میں آگیا تھا۔ اس نے باندی سے اپنی زبان میں کچھ مجہول بات کی جسے میں سمجھ گیا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ تو نے اس باندی سے اس کی خفیہ بات کے بارے میں سوال کرکے اپنی کتاب کی روشنی میں گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، تمہیں کیا معلوم کہ میری کتاب میں کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں تمہاری کتاب کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا تم میری کتاب کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو ؟ میں نے کہا کہ ہاں میں تمہاری کتاب کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبد اللہ بن سلام ہیں۔ پھر اس دن میں واپس آگیا۔ (٣) پھر اس نے میری طرف ایک قاصد کو بھیجا اور مجھے تاکید کے ساتھ اپنے پاس بلایا۔ میں اس کے پاس اس نیت سے گیا کہ شاید وہ اسلام قبول کرلے اور میرے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوجائے۔ اس نے مجھے اپنے پاس تین دن تک روکے رکھا۔ میں اسے تورات پڑھ کر سناتا تھا اور وہ روتا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ واللہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تم تورات میں پاتے ہو۔ اس نے کہا کہ پھر میں یہود کا کیا کروں ؟ میں نے کہا کہ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتے۔ بہرحال اس پر بدبختی غالب آگئی اور اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔
حدیث نمبر: 36056
٣٦٠٥٦ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا أبو عمران الجوني عن علقمة بن عبد اللَّه المزني عن معقل بن يسار أن عمر بن الخطاب شاور الهرمزان في فارس وأصبهان وأذربيجان فقال: أصبهان الرأس، وفارس وأذربيجان الجناحان، [فإن قطعت أحد الجناحين مال الرأس بالجناح الآخر، وإن قطعت الرأس وقع الجناحان] (١)، فابدأ بالرأس، فدخل المسجد فإذا هو بالنعمان بن مقرن يصلي، فقعد إلى جنبه، فلما قضى صلاته قال: ما أراني إلا مستعملك، قال: أما جابيًا فلا، ولكن غازيًا، قال: فإنك غاز، فوجهه وكتب إلى أهل الكوفة أن يمدوه، قال: ومعه الزبير بن العوام وعمرو بن معدي كرب وحذيفة وابن عمر والأشعث بن ⦗٤٣⦘ قيس، قال: فأرسل النعمان المغيرة بن شعبة إلى ملكهم وهو يقال: له (ذو الجناحين) (٢)، فقطع إليهم (نهرهم) (٣) فقيل لذي الجناحين: إن رسول العرب هاهنا، فشاور أصحابه فقال: ما ترون؟ (أقعد له في) (٤) بهجة الملك وهيئة الملك أو (٥) في هيئة الحرب؟ قالوا: لا، (بل) (٦) أقعد له في بهجة الملك، فقعد على سريره ووضع التاج على رأسه، وقعد أبناء الملوك سماطين، عليهم القِرَطة (٧) و (أساور) (٨) الذهب والديباج، قال: فأذن للمغيرة فأخذ بضبعة رجلان، ومعه رمحه وسيفه، قال: فجعل يطعن برمحه في بسطهم يخرقها ليتطيروا حتى قام بين يديه، قال: فجعل يكلمه والترجمان يترجم بينهما: إنكم معشر العرب أصابكم جوع وجهد فجئتم، فإن شئتم (مِرْناكم) (٩) ورجعتم، قال: فتكلم المغيرة بن شعبة فحمد اللَّه وأثنى عليه (ثم قال) (١٠): إنا معشر العرب كنا أذلة يطؤنا (الناس) (١١) ولا نطأهم، ونأكل الكلاب والجيفة وإن اللَّه ابتعث منا نبيا في شرف منا، أوسطنا حسبا وأصدقنا حديثًا، ⦗٤٤⦘ قال: فبعث النبي ﷺ بما بعثه به، فأخبرنا بأشياء وجدناها كما قال، وأنه وعدنا فيما وعدنا أنا سنملك ما هاهنا ونغلب (عليه) (١٢)، وأني أرى هاهنا بزة وهيئة ما من خلفي بتاركها حتى يصيبها، قال: فقالت لي نفسي: لو جمعت (جراميزك) (١٣) (فوثبت) (١٤) فقعدت مع العلج على سريره حتى يتطير، قال: فوثبت وثبة، فإذا أنا معه على سريره، فجعلوا يطؤوني بأرجلهم و (يجرُّوني) (١٥) بأيديهم فقلت: إنا لا نفعل هذا برسلكم، فإن كنت عجزت (أو) (١٦) استحمقت فلا تؤاخذوني، فإن الرسل لا يفعل بهم هذا، فقال الملك: إن شئتم قطعنا إليكم وإن شئتم قطعتم إلينا، فقلت: (لا بل) (١٧) نحن نقطع إليكم، قال: فقطعنا إليهم (فتسلسلوا) (١٨) كل خمسة وسبعة وستة وعشرة في سلسلة حتى لا يفروا، فعبرنا إليهم فصاففناهم فرشقونا حتى أسرعوا فينا، فقال المغيرة للنعمان: إنه قد أسرع في الناس قد خرجوا، قد أسرع فيهم، فلو حملت؟ قال النعمان: إنك لذو مناقب وقد شهدت مع رسول اللَّه ﷺ، (ولكن) (١٩) شهدت مع رسول اللَّه ﷺ، فكان إذا لم يقاتل أول النهار ينتظر حتى تزول الشمس وتهب الرياح و (ينزل) (٢٠) النصر؛ ثم قال: إني هازٌّ لوائي ثلاث هزات، فأما أول هزة فليقض الرجل حاجته وليتوضأ، وأما الثانية ⦗٤٥⦘ (فلينظر) (٢١) الرجل إلى (شسعه) (٢٢) ورمَّ من سلاحه (٢٣)، فإذا هززت الثالثة فاحملوا، ولا يلوين أحد على أحد، وإن قتل النعمان فلا يلوين عليه أحد، وإني داعٍ اللَّه بدعوة فأقسمت على كل امرئ مسلم لما أمن عليها، فقال: اللهم ارزق النعمان اليوم الشهادة في نصر وفتح عليهم، قال: فأمن القوم (فهز) (٢٤) ثلاث هزات ثم قال: سل درعه ثم حمل وحمل الناس، قال: وكان أول صريع، قال (معقل) (٢٥): فأتيت عليه فذكرت عزمته فلم ألو عليه وأعلمت علما حتى أعرف مكانه، قال: فجعلنا إذا قتلنا الرجل شغل عنا أصحابه (به) (٢٦) قال: ووقع ذو الجناحين عن بغلة له شهباء فانشق بطنه، ففتح اللَّه على المسلمين، فأتيت مكان النعمان وبه رمق، فأتيته بإداوة فغسلت عن وجهه فقال: من هذا؟ (فقلت) (٢٧): معقل بن يسار، (قال) (٢٨): ما فعل الناس؟ قلت: فتح اللَّه عليهم، قال: للَّه الحمد، اكتبوا (بذلك) (٢٩) إلى عمر، وفاضت نفسه، واجتمع الناس إلى الأشعث بن قيس، قال: فأرسلوا إلى (٣٠) أم ولده: هل عهد إليك النعمان عهدا، أم عندك كتاب؟ قالت: (سَفَطٌ) (٣١) فيه ⦗٤٦⦘ كتاب، فأخرجوه فإذا فيه: إن قتل النعمان ففلان، وإن قتل فلان ففلان (٣٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے فارس، اصبہان اور آذربائیجان کے بارے میں مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اصبہان کی مثال سر کی سی ہے اورفارس اور آذربائیجان کی مثال بازوؤں کی سی ہے۔ اگر آپ ایک بازو کو کاٹ دیں گے تو سر دوسرے بازو کے سہارے باقی رہے گا اور اگر آپ سر کو کاٹ دیں گے تو بازو خود ہی گرجائیں گے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں گئے تو دیکھا کہ حضرت نعمان بن مقرن نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ ان کے قریب بیٹھ گئے، جب انہوں نے نماز پوری کرلی تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں امیر بنانا چاہتاہوں۔ انہوں نے عرض کیا کہ اگر کسی علاقے کا بنانا ہے تو میں راضی نہیں اور اگر جہاد پر بھیجنے کا بنانا ہے تو مجھے قبول ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جہاد کے لئے امیر بن کر جاؤ گے۔ آپ نے انہیں روانہ فرمایا اور اہل کوفہ سے فرمایا کہ ان کی مدد کرو۔ ان کے ساتھ زبیر بن عوام، عمرو بن معدی کرب، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ، مغیرہ بن شعبہ، ابن عمر رضی اللہ عنہما اور اشعث بن قیس بھی تھے۔ (٢) حضرت نعمان بن مقرن نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو ان کے بادشاہ کے پاس بھیجا جس کا نام ” ذوالحاجبین “ تھا۔ اسے بتایا گیا کہ عربوں کا قاصد آرہا ہے۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ میں اس کے ساتھ بادشاہوں کے انداز میں بیٹھوں یا جنگجو کے انداز میں ؟ انہوں نے مشورہ دیا کہ بادشاہوں کے انداز میں بیٹھو۔ پس وہ اپنے تخت پر بیٹھا اور اپنے سر پر تاج رکھا۔ اس کے شہزادے بھی اس کے آس پاس بیٹھ گئے جن کے کانوں میں بالیاں اور ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے اور ان کے جسموں پر ریشم کا لباس تھا۔ حضرت مغیرہ کو ملاقات کی اجازت ملی، آپ کو دو آدمیوں کے پہرے میں لایا گیا، آپ کی تلوار اور آپ کا نیزہ آپ کے ہاتھ میں تھے۔ حضرت مغیرہ نے اپنے نیزے سے ان کے قالین میں سوراخ کردیئے تاکہ وہ اس سے بدفالی لیں۔ وہ بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے۔ دونوں کے درمیان ایک شخص ترجمان تھا۔ بادشاہ نے کہا کہ اے اہل عرب تمہیں بھوک اور تکلیف نے ستایا ہے اور تم ہماری طرف آلپکے ہو، اگر تم چاہو تو ہم تمہیں مال دے کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ (٣) حضرت مغیرہ بن شعبہ نے گفتگو شروع کی، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر فرمایا کہ ہم عرب ذلیل لوگ تھے۔ لوگ ہم پر ظلم ڈھاتے تھے لیکن ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔ ہم کتے اور مردارکھاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک ایسے نبی کو مبعوث فرمایا جن کی بعثت سے ہمیں عزت بخشی، وہ خاندان کے اعتبار سے سب سے بہتر اور گفتگو کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دین عطا فرمایا اور جو باتیں آپ نے فرمائیں وہ سب سچ ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ہم سے ایک وعدہ یہ بھی کیا تھا کہ فلاں فلاں علاقے کے مالک بنیں گے اور لوگوں پر غالب آئیں گے۔ میں تمہارے اس علاقے میں بہت زیب وزینت اور آرائش دیکھ رہا ہوں اور جو لوگ میرے پیچھے ہیں وہ کبھی ان چیزوں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ پھر میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر میں چھلانگ لگا کر اس کے تخت پر بیٹھ جاؤں تو یہ اس سے بدفالی لیں گے۔ پس میں نے چھلانگ لگائی اور بادشاہ کے ساتھ اس کے تخت پر جا بیٹھا۔ وہ مجھے اپنی ٹانگوں سے مارنے لگے اور اپنے ہاتھوں سے کھینچنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہم تمہارے قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے۔ اگر میں نے نادانی کی ہے تو تم مجھے سزا نہ دو کیونکہ قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا۔ (٤) بادشاہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو ہم تم پر حملہ کریں اور اگر تم چاہو تو تم ہم پر حملہ کردو۔ میں نے کہا کہ ہم تم پر حملہ کریں گے۔ پس لوگ پانچ، سات، چھ اور دس کی ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے تاکہ بھاگ نہ سکیں۔ ہم ان کی طرف بڑھے اور ان کے سامنے صف بنا کر کھڑے ہوگئے۔ وہ تیزی سے ہماری طرف دوڑے۔ حضرت مغیرہ نے حضرت نعمان سے کہا کہ وہ جلدی سے آگئے ہیں، وہ نکل پڑے ہیں اگر آپ حملہ کردیں تو بہتر ہے۔ حضرت نعمان نے کہا کہ آپ بہت سے فضائل اور مناقب والے ہیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک رہے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے کہ آپ دن کے شروع حصے میں قتال نہیں فرماتے تھے، جب سورج زائل ہوجاتا، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہوتی تو پھر آپ قتال کرتے تھے۔ (٥) پھر حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنا جھنڈا تین مرتبہ ہلاؤں گا۔ جب میں پہلی مرتبہ جھنڈے کو حرکت دوں ہر شخص اپنی حاجت کو پورا کرکے وضو کرلے۔ جب میں دوسری مرتبہ جھنڈا ہلاؤں تو ہر شخص اپنا ہتھیار اٹھا لے اور جب میں تیسری مرتبہ جھنڈا ہلاؤں تو حملہ کردینا۔ کوئی شخص کسی کی طرف متوجہ نہ ہو، اگر نعمان بھی مار دیا جائے تو کوئی اسکی طرف بھی متوجہ نہ ہو۔ میں اللہ کی طرف بلانے والا ہوں۔ میں ہر شخص کو قسم دیتا ہوں کہ وہ اس چیز کی حفاظت کرے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ نعمان کو آج مدد اور کامیابی والی شہادت
حدیث نمبر: 36057
٣٦٠٥٧ - (قال حماد) (١) قال علي بن زيد: فحدثنا أبو عثمان قال: ذهبت بالبشارة إلى عمر فقال: ما فعل النعمان؟ قلت: قتل، قال: ما فعل فلان؟ قلت: قتل، قال: ما فعل فلان؟ قلت: قتل، فاسترجع، قلت: وآخرون لا نعلمهم، قال: لا (نعلمهم) (٢) لكن اللَّه يعلمهم (٣).
حدیث نمبر: 36058
٣٦٠٥٨ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن حبيب بن الشهيد عن محمد قال: لما حمل النعمان قال: واللَّه ما وطئنا (كتفيه) (١) حتى ضرب في القوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ جب حضرت نعمان نے حملہ کیا تو خدا کی قسم ابھی ہم نے پوری طرح حملہ بھی نہیں کیا تھا کہ لوگوں کے درمیان وہ نشانہ بن گئے۔
حدیث نمبر: 36059
٣٦٠٥٩ - حدثنا شاذان قال: ثنا حماد بن سلمة عن أبي عمران الجوني عن علقمة بن عبد اللَّه عن معقل بن يسار قال: شاور عمر الهرمزان -ثم ذكر نحوا من حديث عفان إلا أنه قال: فأتاهم النعمان بنهاوند وبينهم وبينه نهر فسرح المغيرة بن شعبة فعبر إليهم النهر، وملكهم يومئذ ذو (الجناحين) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ہرمزان سے مشورہ کیا۔ (پھر انہوں نے عفان جیسی حدیث نقل کی) اس میں یہ اضافہ ہے : حضرت نعمان انہیں لے کر نہاوند گئے اور ان کے اور لوگوں کے درمیان دریا تھا۔ حضرت مغیرہ نے لوگوں کو دریا عبورکرایا اور اس وقت ان کا بادشاہ ذوالحاجبین تھا۔
حدیث نمبر: 36060
٣٦٠٦٠ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: ثنا أسباط بن نصر عن السدي عن عبد خير عن الربيع بن خثيم عن عبد اللَّه بن سلام وقع له في سهمه عجوز يهودية، فمر برأس الجالوت فقال: يا رأس الجالوت، تشتري مني هذه الجارية؟ فكلمها فإذا هي على دينه، قال: بكم، قال: بأربعة آلاف، قال: لا حاجة لي فيها، فحلف عبد اللَّه بن سلام: لا ينقصه، فسارّ عبد اللَّه بن سلام بشيء فقرأ هذه الآية: ﴿وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ﴾ [البقرة: ٨٥] الآية، فقال عبد اللَّه بن سلام: أنت؟ قال: نعم، قال: لتشترينها أو لتخرجن من دينك، قال: قد أخذتها، قال: فهب لي ما شئت، قال: فأخذ منه ألفين ورد عليه ألفين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام کو نہاوند کے مال غنیمت کے حصے میں ایک بوڑھی یہودن ملی۔ وہ اسے لے کر یہودیوں کے ایک مالدار سردار کے پاس سے گزرے اور اس سے کہا کہ کیا اس کو خریدو گے۔ اس نے بڑھیا سے بات کی تو اسے معلوم ہوا کہ وہ اس کے دین پر ہے۔ اس نے پوچھا کہ کتنے میں بیچو گے ؟ حضرت عبد اللہ بن سلام نے فرمایا کہ چار ہزار میں۔ اس نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت عبد اللہ بن سلام نے قسم کھائی کہ وہ اس سے کم نہیں کریں گے۔ پھر حضرت عبد اللہ بن سلام سے اس نے سرگوشی کی اور قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی { وَإِنْ یَأْتُوکُمْ أُسَارَی تُفَادُوہُمْ } پھر اس نے کہا کہ تم عبد اللہ بن سلام ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ پھر اس سے کہا کہ یا تو یہ باندی مجھے بیچو یا اپنے دین سے نکل جاؤ۔ اس نے کہا کہ میں نے اس باندی کو لے لیا تم جو چاہو اس کی قیمت میں سے مجھے ہدیہ کردو۔ حضرت عبد اللہ بن سلام نے دو ہزار لے لئے اور دو ہزار اسے واپس کردیئے۔
حدیث نمبر: 36061
٣٦٠٦١ - حدثنا عفان قال: ثنا أبو عوانة قال: حدثني داود بن عبد اللَّه الأودي عن حميد بن عبد الرحمن الحميري أن رجلا كان يقال له: (حممة) (١) من أصحاب رسول اللَّه ﷺ، خرج إلى أصبهان غازيا في خلافة عمر فقال: اللهم إن (حممة) (٢) يزعم أنه يحب لقاءك فإن كان حممة صادقا فاعزم له بصدقه، وإن كان كاذبا فاعزم له عليه وإن كره، اللهم لا (ترد) (٣) (حممة) (٤) من سفره هذا، قال: فأخذه الموت فمات بأصهبان قال: فقام أبو موسى فقال: يا أيها الناس، ألا إنا (واللَّه) (٥) ما سمعنا فيما سمعنا من نبيكم ﷺ وما بلغ علمنا إلا أن ⦗٤٨⦘ (حممة) (٦) شهيد (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن حمیری فرماتے ہیں کہ ایک صحابی جن کا نام ” حممہ “ تھا۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اصبہان کی طرف جہاد کی نیت سے نکلے۔ انہوں نے اس غزوہ میں دعا کی کہ اے اللہ ! حممہ سمجھتا ہے کہ وہ تجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اگر حممہ سچا ہے تو اس کے سچ کو صادر فرمادے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو بھی اس کا فیصلہ فرمادے خواہ وہ اس کو ناپسند ہی کیوں نہ کرے۔ اے اللہ ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ بھیج۔ راوی کہتے ہیں کہ بعد ازاں اصبہان میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں کہا کہ اے لوگو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور ہمارے علم کے مطابق حممہ شہید ہیں۔
حدیث نمبر: 36062
٣٦٠٦٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: حاصرنا مدينة نهاوند فأعطيتُ معضدا ثوبا لي (فاعتجر) (١) به (فأصابه) (٢) حجر في رأسه فجعل يمسحه وينظر إلي ويقول: إنها لصغيرة، وإن اللَّه ليبارك في الصغيرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ہم نے شہر نہاوند کا محاصرہ کیا اور میں نے حضرت معضد کو اپنا ایک کپڑا دیا اور انہوں نے اس کی پگڑی باندھی۔ ان کے سر میں ایک پتھر آن لگا۔ وہ اپنے سر کو ملنے لگے اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگے۔ یہ بہت چھوٹا ہے اور اللہ تعالیٰ چھوٹے میں برکت عطا فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 36063
٣٦٠٦٣ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن (أبي) (١) الصلت وأبي (مسافع) (٢) (قالا) (٣): كتب إلينا عمر بن الخطاب ونحن مع النعمان بن مقرن: إذا لقيتم العدو فلا تفروا، وإذا غنمتم فلا تَغُلّوا، فلما لقينا العدو قال النعمان للناس: لا تواقعوهم، وذلك (في) (٤) يوم (جمعة) (٥) حتى يصعد أمير المؤمنين المنبر يستنصر، قال: ثم واقعناهم فانقض النعمان وقال: (سجوني) (٦) ثوبا، وأقبلوا على عدوكم ولا أهولنكم، قال: ففتح اللَّه علينا، قال: وأتى عمر ⦗٤٩⦘ الخبر أنه أصيب النعمان وفلان وفلان، ورجال لا نعرفهم يا أمير المؤمنين، قال: لكن اللَّه يعرفهم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلت اور حضرت ابو مسافع کہتے ہیں کہ ہم نعمان بن مقرن کے پاس تھے کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب کا خط آیا، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ جب تم دشمن کا سامناکرو تو مت بھاگنا، جب تمہیں مال ملے تو خیانت نہ کرنا۔ پس جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو حضرت نعمان نے لوگوں سے کہا کہ ان پر ابھی حملہ نہ کرنا۔ (وہ جمعہ کا دن تھا) جب تک امیرالمومنین منبر پر اللہ سے مدد کی دعا نہ کرلیں۔ پھر ہم نے دشمن پر چڑھائی کی اور حضرت نعمان فورا ہی موت کی زد میں آگئے۔ انہوں نے شدید زخمی ہونے کے بعد کہا کہ مجھ پر ایک کپڑا ڈال دو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو اور میری وجہ سے کمزور نہ ہونا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمادی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ہوئی کہ حضرت نعمان اور فلاں فلاں لوگ شہید ہوگئے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی جنہیں ہم نہیں جانتے تو حضرت عمر نے فرمایا کہ لیکن اللہ انہیں جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 36064
٣٦٠٦٤ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سمعت أبا إسحاق يقول سمعت أبا مالك وأبا (مسافع) (١) من مزينة يحدثان أن كتاب عمر أتاهم مع النعمان بن مقرن بنهاوند: أما بعد فصلوا الصلاة لوقتها، وإذا لقيتم العدو فلا تفروا، وإذا ظفرتم فلا تغلوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک اور ابو مسافع کہتے ہیں کہ ہم نہاوند میں حضرت نعمان بن مقرن کے ساتھ تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا جس میں لکھا تھا کہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، جب دشمن سے سامناہو توپیٹھ مت پھیرنا اور جب کامیاب ہوجاؤ تو خیانت نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 36065
٣٦٠٦٥ - حدثنا (ابن عيينة عن) (١) عبد الملك بن عمير قال: كتب عمر إلى النعمان بن مقرن: (استشر) (٢) واستعن في حربك (بطليحة) (٣) وعمرو بن معدي كرب ولا (توليهما) (٤) من الأمر شيئا، فإن كل صانع هو أعلم بصناعته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت نعمان بن مقرن کو خط میں لکھا کہ لڑائی میں حضرت طلیحہ اور حضرت عمرو بن معدی کرب سے مشورہ اور مدد لیتے رہنا۔ لیکن انہیں کوئی ذمہ داری نہ سونپنا۔ کیونکہ ہر بنانے والا اپنی بنائی ہوئی چیز کو خوب جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 36066
٣٦٠٦٦ - حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن أنس قال: كان النعمان بن مقرن على جند أهل الكوفة، وأبو موسى الأشعري على جند أهل البصرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن مقرن کوفہ کے لشکر کے اور حضرت ابو موسیٰ اشعری بصرہ کے لشکر کے امیر تھے۔