کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جنگ قادسیہ اور جنگ جلولاء کا بیان
حدیث نمبر: 36039
٣٦٠٣٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عاصم الأحول قال: (سأل) (١) (صبيح) (٢) أبا عثمان النهدي وأنا أسمع فقال له: هل أدركت النبي ﷺ؟ قال: نعم، أسلمت على عهد النبي ﷺ، وأديت إليه ثلاث صدقات ولم ألقه، وغزوت على ⦗٣٥⦘ عهد عمر غزوات، شهدت فتح القادسية وجلولاء (وتستر) (٣) ونهاوند واليرموك وآذربيجان ومهران ورستم، فكنا نأكل السمن ونترك الودك، فسألته عن الظروف، فقال: لم نكن نسأل عنها -يعني طعام المشركين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم احول فرماتے ہیں کہ صبیح نے ابو عثمان نہدی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لایا تھا اور تین مرتبہ آپ کی طرف زکوٰۃ بھی بھجوائی تھی، لیکن میری حضور سے ملاقات نہیں ہوئی۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مختلف لڑائیوں میں حصہ لیا، میں قادسیہ، جلولائ، تستر، نہاوند، یرموک، آذربائیجان، مہران اور رستم کی لڑائی میں شریک رہا۔ ہم چربی کھایا کرتے تھے اور تیل چھوڑ دیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے مشرکین کے برتنوں میں کھانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم ان کے بارے میں سوال نہیں کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36039
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٧/ ٩٧، والخطيب في التاريخ ١٠/ ٢٠٤، والعجلي في معرفة الثقات ٢/ ٤١٦، وابن عساكر ٣٥/ ٤٧٤، وابن عبد البر في الاستيعاب ٢/ ٨٥٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36039، ترقيم محمد عوامة 34468)
حدیث نمبر: 36040
٣٦٠٤٠ - حدثنا عائذ بن حبيب عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم قال: ضرب يوم القادسية للعبيد بسهامهم كما ضرب للأحرار (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں قادسیہ میں آزاد لوگوں کی طرح غلاموں کو بھی حصہ دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36040
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36040، ترقيم محمد عوامة 34469)
حدیث نمبر: 36041
٣٦٠٤١ - حدثنا الفضل بن دكين عن جعفر عن ميمون قال: لما جاء وفد القادسية حبسهم ثلاثة أيام لم يأذن لهم، ثم أذن لهم، قال: يقولون: التقينا فهزمنا، بل اللَّه الذي هزم وفتح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ جب قادسیہ کا وفد آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین دن تک انہیں ملاقات کی اجازت نہ دی، پھر انہیں اجازت دی تو فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ ہم لڑے اور ہم نے دشمن کو شکست دی حالانکہ فتح اور شکست دینے والا تو اللہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36041
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36041، ترقيم محمد عوامة 34470)
حدیث نمبر: 36042
٣٦٠٤٢ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا الصلت بن بهرام حدثنا (جميع) (١) بن عمير (التيمي) (٢) عن عبد اللَّه بن عمر قال: شهدت جلولاء فابتعت من الغنائم بأربعين ألفًا، فقدمت بها على عمر فقال: ما هذا؟ قلت: ابتعت من الغنائم بأربعين ألفًا، فقال: يا صفية (احفظي) (٣) بما قدم به عبد اللَّه (بن عمر) (٤)، عزمت عليك أن تخرجي منه شيئًا، قالت: يا أمير المؤمنين، وإن كانت غير طيب، قال: ذاك لك، ⦗٣٦⦘ قال: فقال لعبد اللَّه بن عمر: أرأيت (لو) (٥) انطلق بي إلى النار أكنت (مفتدي) (٦)، قلت: نعم ولو بكل شيء أقدر عليه، قال: فإني كأنني شاهدك يوم جلولاء وأنت تبايع (الناس) (٧) ويقولون: هذا عبد اللَّه بن عمر صاحب رسول اللَّه ﷺ وابن أمير المؤمنين وأكرم أهله عليه، و (أنت) (٨) كذلك قال: فإن (يرخصوا) (٩) عليك بمائة أحب إليهم من أن يغلوا عليكم بدرهم، وإني (مخاصم) (١٠)، وسأعطيك من الربح أفضل ما يربح رجل من قريش، أعطيك ربح الدرهم (درهمًا) (١١)، قال: فخلى علي سبعة أيام ثم دعا التجار فباعه بأربعمائة ألف، فأعطاني ثمانين ألفا، وبعث بثلاثمائة ألف وعشرين ألفا إلى سعد، فقال: اقسم هذا المال بين الذين شهدوا الوقعة، فإن كان (مات فيهم) (١٢) أحد فابعث بنصيبه إلى ورثته (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جلولاء کی جنگ میں شریک ہوا اور میں نے مال غنیمت سے چالیس ہزار حاصل کئے۔ پھر میں نے وہ حضرت عمر کی خدمت میں پیش کئے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے مال غنیمت سے حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اے صفیہ ! جو چیز عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لائے ہیں اس کی حفاظت کرو۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم نے اس میں سے کچھ نہیں نکالنا۔ انہوں نے کہ اے امیر المومنین ! اگر کوئی چیز غیر طیب ہو تو ؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ وہ تمہارے لئے ہے۔ (٢) پھر حضرت عمر نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اگر مجھے آگ کی طرف لے جایا جارہا ہو تو کیا تم یہ چیز فدیہ دے کر مجھے چھڑاؤ گے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں ضرور ایسا کروں گا بلکہ ہر وہ چیز جو میرے پاس ہو میں فدیے میں دے دوں گا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ جلولاء کی جنگ میں لوگوں نے تمہارا خیال رکھا، تمہارے ہاتھ پر بیعت کی اور کہا کہ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ امیر المومنین کے بیٹے ہیں، ان کے معزز ترین فرد ہیں اور آپ واقعی ایسے ہیں۔ وہ آپ کو سو درہم کی رعایت کریں یہ انہیں زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ وہ آپ سے ایک درہم زیادہ وصول کریں۔ میں تقسیم کرتا ہوں میں تمہیں قریش کے ہر آدمی سے زیادہ نفع دوں گا۔ پھر آپ نے تاجروں کو بلایا اور ان کی چیزیں چار لاکھ کی بیچ دیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے مجھے اسی ہزار دیئے اور تین لاکھ بیس ہزار حضرت سعد کو بھجوا دیئے اور فرمایا کہ یہ مال ان مجاہدین میں تقسیم کردو جو جنگ میں شریک تھے۔ اگر ان میں سے کوئی مرچکا ہو تو اس کے ورثہ کو دے دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36042
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جميع بن عمير، أخرجه أبو عبيد في الأموال (٦٣٨)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36042، ترقيم محمد عوامة 34471)
حدیث نمبر: 36043
٣٦٠٤٣ - حدثنا أبو المورع عن مجالد عن الشعبي قال: لما فتح سعد جلولاء أصاب المسلمون ثلاثين الف ألف، قسم للفارس ثلاثة آلاف مثقال، وللراجل ألف مثقال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب حضرت سعد نے جلولاء کو فتح کیا تو مسلمانوں کو لاکھوں کے حساب سے مال غنیمت حاصل ہوا۔ آپ نے گھڑ سوار کو تین ہزار اور پیدل کو ایک ہزار مثقال عطا فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36043
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف مرسل؛ الشعبي تابعي ومجالد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36043، ترقيم محمد عوامة 34472)
حدیث نمبر: 36044
٣٦٠٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: أتي (١) عمر بغنائم من غنائم جلولاء فيها ذهب وفضة، فجعل يقسمها بين الناس، فجاء ابن له يقال له عبد الرحمن فقال: يا أمير المؤمنين اكسني خاتمًا، فقال: اذهب إلى أمك تسقيك شربة من سويق، قال: فواللَّه ما أعطاه شيئًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس جلولاء کا مال غنیمت لایا گیا اس میں سونا اور چاندی بھی موجود تھے۔ آپ وہ مال غنیمت لوگوں میں تقسیم کررہے تھے کہ ان کے ایک بیٹے جن کا نام عبد الرحمن تھا، وہ آئے اور عرض کیا اے امیر المومنین ! مجھے ایک انگوٹھی دے دیجئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں ستو کا شربت پلائے گی۔ آپ نے انہیں کچھ نہ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36044
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال هشام بن سعد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36044، ترقيم محمد عوامة 34473)
حدیث نمبر: 36045
٣٦٠٤٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا هشام بن سعد قال: ثنا زيد بن أسلم عن أبيه قال: سمعت عبد اللَّه بن الأرقم صاحب بيت مال المسلمين يقول لعمر بن الخطاب: يا أمير المؤمنين عندنا حلية من حلية جلولاء وآنية ذهب وفضة (فر) (١) (فيها) (٢) رأيك، فقال: إذا رأيتني فارغا (فآذني) (٣) فجاء يوما فقال: إني أراك اليوم فارغًا يا أمير المؤمنين قال: ابسط لي نطعا في الجسر، فبسط له نطعا، ثم أتى بذلك المال فصب عليه فجاء فوقف عليه (ثم قال) (٤): اللهم إنك ذكرت هذا المال فقلت: ﴿زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ﴾ [آل عمران: ١٤]، وقلت: ﴿لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ﴾ [الحديد: ٢٣]، اللهم إنا لا نستطيع إلا أن نفرح بما زينت لنا، اللهم (٥) أنفقه في حق وأعوذ بك من شره (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ارقم مسلمانوں کے بیت المال کے امیر تھے۔ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! ہمارے پاس جلولاء کا زیور اور وہاں کے سونے و چاندی کے برتن ہیں۔ ان کے بارے میں اپنی رائے فرمادیجئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تم مجھے فارغ دیکھو تو اس بارے میں بتانا۔ ایک دن وہ حاضر ہوئے اور کہا کہ اے امیر المومنین ! آج آپ فارغ ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ایک چٹائی بچھاؤ۔ ایک چٹائی بچھائی گئی اور اس پر وہ سارا مال ڈالا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے اللہ تو نے اس مال کا ذکر کیا ہے اور تو نے فرمایا ہے { زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَائِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ } اور تو نے فرمایا ہے { لِکَیْلاَ تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ ، وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمَ } اے اللہ ہمارے بس میں یہ نہیں ہے کہ ہم اس چیز پر خوش نہ ہوں جو تو نے ہمارے لیے مزین فرمائی ہے۔ اے اللہ اسے حق کے راستے میں خرچ فرما اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36045
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال هشام بن سعد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36045، ترقيم محمد عوامة 34474)
حدیث نمبر: 36046
٣٦٠٤٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا إسرائيل عن (أبي) (١) إسحاق عن سمرة بن (جعونة) (٢) العامري قال: أصبت قباء منسوجا بالذهب (٣) من ديباج يوم جلولاء فأردت بيعه فالقيته على منكبي، فمررت بعبد اللَّه بن عمر فقال: تبيع القباء؟ قلت: نعم، قال: بكم؟ قلت: بثلاثمائة درهم، قال: إن ثوبك لا يسوى ذلك، وإن شئت أخذت، قلت: قد شئت قال: فأخذه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جعونہ عامری فرماتے ہیں کہ مجھے جلولاء کی لڑائی میں ریشم کی بنی ہوئی اور سونے کی کڑھائی شدہ ایک قباء ملی۔ میں نے اسے بیچنے کا ارادہ کیا اور اسے اپنے کندھے پر رکھا۔ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم اس قباء کو بیچنا چاہتے ہو ؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو انہوں نے پوچھا کہ کتنے میں بیچو گے۔ میں نے کہا کہ تین سو درہم میں۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارایہ کپڑا اتنے کا نہیں ہے۔ اگر تم چاہو تو میں لے لوں۔ میں نے کہا میں چاہتا ہوں پھر انہوں نے وہ قباء لے لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36046
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36046، ترقيم محمد عوامة 34475)
حدیث نمبر: 36047
٣٦٠٤٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: ثنا حبان عن مجالد عن الشعبي قال: أتي عمر من جلولاء بستة، (آلاف) (١) ألف، ففرض العطاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس جلولاء سے ساٹھ لاکھ آئے۔ آپ نے اس میں سے سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36047
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ الشعبي لم يدرك عمر، ومجالد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36047، ترقيم محمد عوامة 34476)
حدیث نمبر: 36048
٣٦٠٤٨ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا يونس بن (عبيد) (١) اللَّه قال: ثنا الحكم بن الأعرج قال: سألت ابن عمر عن المسح على الخفين، (فقال) (٢): اختلفت أنا وسعد في ذلك ونحن بجلولاء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جلولاء میں میرے اور حضرت سعد کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36048
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36048، ترقيم محمد عوامة 34477)
حدیث نمبر: 36049
٣٦٠٤٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن وقاء بن إياس الأسدي عن أبي ظبيان قال: كنا مع سلمان في غزاة إما في جلولاء وإما في نهاوند، قال: فمر رجل وقد ⦗٣٩⦘ جنى فاكهة، فجعل يقسمها بين أصحابه، فمر سلمان فسبه، فرد على سلمان وهو لا يعرفه، قال: فقيل: هذا سلمان؟ قال: فرجع إلى سلمان يعتذر إليه قال: فقال له الرجل: ما يحل لنا من أهل الذمة يا أبا عبد اللَّه؟ قال: ثلاث من عماك إلى هداك، ومن فقرك إلى غناك، وإذا صحبت الصاحب منهم تأكل من طعامه ويأكل من طعامك، ويركب دابتك في أن لا تصرفه عن وجه (يريده) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ظبیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ وہ جلولاء کا غزوہ تھا یا نہاوند کا۔ ایک آدمی نے وہاں کسی باغ سے کچھ پھل توڑے تھے، اور اپنے ساتھیوں میں تقسیم کررہا تھا۔ وہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو حضرت سلمان نے اسے برا بھلا کہا۔ وہ حضرت سلمان کو جانتا نہ تھا لہٰذا اس نے جوابا انہیں برا بھلاکہا۔ اسے کسی نے بتایا کہ حضرت سلمان ہیں۔ پھر وہ حضرت سلمان کے پاس گیا اور ان سے معذرت کی۔ پھر اس نے سوال کیا کہ اے ابو عبد اللہ ! ہمارے لئے اہل ذمہ کی املاک میں سے کتنا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تین چیزیں : تمہارے نابینا پن سے تمہاری ہدایت تک، تمہارے فقر سے تمہارے غنا تک اور جب تم ان میں کسی کا ساتھ اختیار کرو تو ان کے کھانے میں سے کھاؤ اور وہ تمہارے کھانے میں سے کھائے۔ اور وہ تمہاری سواری پر سوار ہو اور تم اس کو اس جگہ سے نہ روکو جہاں وہ جانا چاہتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36049
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ وقاء صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36049، ترقيم محمد عوامة 34478)