حدیث نمبر: 35999
٣٥٩٩٩ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: شهدت القادسية وكان سعد على الناس وجاء رستم فجعل عمرو بن معدي كرب الزبيدي (يمر) (١) على الصفوف ويقول: يا معشر المهاجرين كونوا (أسودا) (٢) أشداء (أغنى) (٣) شأنه، إنما الفارسي تيس (بعد) (٤) أن يلقي (نيزكه) (٥). قال: وكان معهم (أسوار) (٦) لا تسقط له نشابة، فقلنا له: يا أبا ثور، اتق ذاك، قال: فإنا لنقول ذاك إذ رمانا فأصاب فرسه، فحمل عمرو عليه فاعتنقه ثم ذبحه فأخذ سلبه سواري ذهب كانا عليه ومنطقة وقباء ديباج. وفر رجل من ثقيف فخلا بالمشركين فأخبرهم فقال: إن الناس في هذا الجانب وأشار إلى (بجيلة) (٧)، قال: فرموا (إلينا) (٨) (ستة عشر) (٩) فيلا عليها المقاتلة، وإلى سائر الناس (فيلين) (١٠) قال: وكان سعد يقول يومئذ: سا بجيلة (١١). ⦗١٨⦘ قال قيس: وكنا ربع الناس يوم القادسية، فأعطانا عمر ربع السواد فأخذناه ثلاث سنين، فوفد بعد ذلك جرير إلى عمر ومعه عمار بن ياسر فقال عمر: ألا (تخبراني) (١٢) عن منزليكم هذين؟ ومع ذلك إني لأسلكها وإني لأتبين في وجوهها أي المنزلين خير؟ قال: فقال جرير: أنا أخبرك يا أمير المؤمنين أما أحد المنزلين فأدنى نخلة من السواد إلى أرض العرب، وأما المنزل الآخر فأرض فارس (وعكها) (١٣) وحرها وبقها -يعني المدائن، قال: فكذبني عمار فقال: كذبت، قال: فقال عمر: أنت أكذب، قال: (ثم) (١٤) قال: ألا تخبروني عن (أميركم) (١٥) هذا (أمجزئ) (١٦) هو؟ قالوا: لا واللَّه ما هو بمجرئ ولا (كاف ولا) (١٧) عالم بالسياسة، فعزله وبعث المغيرة بن شعبة (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ میں جنگ قادسیہ میں مسلمانوں کی طرف سے شریک تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص اس جنگ میں مسلمانوں کے امیر تھے۔ رستم اپنی فوج کو لے کر آیا تو حضرت عمرو بن معدی کرب زبیدی مسلمانوں کی صفوں میں سے گزرے اور ان سے کہا کہ اے مہاجرین کی جماعت ! بہادر شیر بن جاؤ، اصل شیر وہ ہے جو اپنی جان کی پروا نہ کرے۔ فارسیوں کا مزاج ہے کہ جب وہ اپنا نیزہ ڈال دیں تو بکرے کی طرح ہیں۔ ان کے علاقے کے گرد بڑی بڑی دیواریں ہیں جن سے تیر تجاوز نہیں کرتے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اے ابو ثور ! ان سے بچ کر رہنا۔ پھر ہم نے تیر چلائے، ایک تیر فارسیوں کے بادشاہ کے گھوڑے کو لگا، پھر حضرت عمرو نے اس پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا اور اس کا سامان حاصل کرلیا جس میں سونے کے دو کنگن تھے، ایک چادر تھی اور ایک ریشم کا چوغہ تھا۔ (٢) ثقیف کا ایک آدمی بھاگا اور اس نے جا کر مشرکین کو خبر دے دی اور اس نے بجیلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اس طرف سے آرہے ہیں، پھر انہوں نے ہماری طرف سولہ ہاتھی بھیجے جن پر جنگجو سوار تھے۔ اور تمام لوگوں کی طرف دوہاتھی بھیجے۔ حضرت سعد اس دن فرما رہے تھے کہ بجیلہ سے پیچھے ہٹ جاؤ۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ہم جنگ قادسیہ میں لوگوں کا ایک چوتھائی تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں آلات جنگ کا چوتھائی حصہ دیا اور ہم نے تین سال اسے استعمال کیا۔ (٣) اس کے بعد حضرت جریر حضرت عمار بن یاسر کی معیت میں ایک وفد کے ساتھ حضرت عمر کے پاس آئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ تم دونوں نے مجھے اپنے ان دو گھروں کے بارے میں نہیں بتایا۔ اس کے باوجود میں تم سے سوال کرتا ہوں اور میں تمہارے چہروں سے اندازہ کرسکتا ہوں کہ دونوں میں سے کون سا گھر بہتر ہے ؟ حضرت جریر نے کہا کہ اے امیر المومنین ! میں آپ کو خبر دیتا ہوں۔ ایک گھر تو وہ ہے جو سرزمین عرب سے کم کھجوریں دینے والا ہے اور دوسرا گھر سرزمین فارس ہے، اس کی گرمی، اس کی تپش اور اس کی وسیع وادی یعنی مدائن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمار نے میری تکذیب کی اور کہا کہ آپ نے جھوٹ بولا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں تمہارے امیر کے بارے میں بتاؤں کہ کیا وہ تمہارے لئے کافی ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ نہ تو وہ کافی ہیں اور نہ ہی سیاست کے رموز کو جانتے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے انہیں معزول کرکے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو امیر بنا کر بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 36000
٣٦٠٠٠ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: كان سعد قد اشتكى قرحة في رجله يومئذ، فلم يخرج إلى القتال، (قال: فكانت) (١) من الناس انكشافة، قال: فقالت امرأة سعد وكانت قبله تحت المثنى بن حارثة الشيباني: لا مثنى للخيل، فلطمها سعد فقالت: (جبنا) (٢) وغيرة، (قال: ثم هزمناهم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاؤں پر ایک پھوڑا نکل آیا اور وہ قتال کے لئے نہ جاسکے۔ لوگوں میں ایک بےچینی تھی۔ حضرت سعد کی زوجہ جو کہ پہلے مثنی بن حارثہ شیبانی کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ گھڑ سواروں کے لئے کوئی مثنی نہیں ہے ! اس پر حضرت سعد نے انہیں تھپڑ مارا۔ اس نے کہا کہ بزدلی اور غیرت کی وجہ سے ! ! ! راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے دشمنوں کو شکست دے دی۔
حدیث نمبر: 36001
٣٦٠٠١ - [حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل عن قيس أن امرأة سعد كان يقال لها سلمى بنت خصفة امرأة رجل من بني شيبان يقال له المثنى بن الحارثة، وأنها ذكرت شيئا من أمر مثنى فلطمها سعد فقالت: جبن وغيرة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی ایک بیوی جن کا نام سلمی بنت خصفہ تھا، وہ بنو شیبان کے ایک شخص مثنی بن حارثہ کے نکاح میں رہ چکی تھیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ حضرت سعد کے سامنے مثنی کا ذکر کیا تو حضرت سعد نے انہیں تھپڑ مارا۔ انہوں نے کہا بزدلی اور غیر ت کی وجہ سے مارتے ہو ! ! !
حدیث نمبر: 36002
٣٦٠٠٢ - حدثنا أبو معاوية عن (عمرو) (١) بن مهاجر عن إبراهيم بن محمد بن سعد عن أبيه قال: أتي سعد بأبي محجن يوم القادسية وقد شرب الخمر فأمر به (إلى) (٢) (القيد) (٣). قال: وكان بسعد جراحة، فلم يخرج يومئذ إلى الناس قال: فصعدوا به فوق العذيب (٤) لينظر إلى الناس، قال: واستعمل على الخيل خالد بن عرفطة. فلما التقى الناس قال أبو محجن: كفى حزنا أن تردى الخيل بالقنا … وأترك مشدودا علي وثاقيا فقال لابنة خصفة امرأة سعد: أطلقيني، ولك علي إن سلمني اللَّه أن أرجع حتى أضع رجلي في القيد، وإن قتلت (استرحتم) (٥) قال: فحلته حين التقى الناس. قال: فوثب على فرس لسعد يقال لها البلقاء، قال: ثم أخذ رمحًا ثم خرج، فجعل لا يحمل على ناحية من العدو إلا هزمهم، قال: وجعل الناس يقولون: هذا ⦗٢٠⦘ ملك، لما يرونه يصنع، قال: وجعل سعد يقول: (الضبر ضبر) (٦) البلقاء، والطعن طعن أبي محجن، وأبو محجن في القيد، قال: فلما هزم العدو رجع أبو محجن حتى وضع رجليه في القيد. فأخبرت بنت خصفة سعدًا بالذي كان من أمره، قال: فقال سعد: واللَّه لا أضرب اليوم رجلا أبلى اللَّه المسلمين على يدلِه ما أبلاهم، قال: فخلى سبيله، قال: فقال أبو محجن: قد كنت أشربها حيث كان يقام علي الحد فأطهر منها، فأما إذ بهرجتني فلا واللَّه لا أشربها أبدا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سعد فرماتے ہیں کہ قادسیہ کی جنگ کے دوران ایک دن ابو محجن شاعر کو شراب پینے کے جرم میں حضرت سعد بن ابی وقاص کے پاس لایا گیا۔ حضرت سعد نے اسے بیڑیوں میں باندھنے کا حکم دے دیا۔ اس وقت حضرت سعد زخمی تھے اور لوگوں کے پاس نہ جاسکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مجاہدین کی نگرانی کے لئے عذیب نامی چشمے کے علاقے کو منتخب کیا اور معائنہ کرنے لگے۔ آپ نے خالد بن عرفطہ کو گھڑ سواروں کا قائد بنایا تھا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو ابو محجن نے ایک شعرکہا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ تم گھڑ سواروں کو ہلاک کررہے ہو اور مجھے بیڑیوں میں جکڑ رکھا ہے۔ (٢) پھر اس نے حضرت سعد کی بیوی بنت خصفہ سے کہا کہ تم مجھے آزاد کردو میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر زندہ رہا تو واپس آکر خود اس بیڑی میں خود کو جکڑ لوں گا اور اگر مار دیا گیا تو رحمت کی دعا کی درخواست کروں گا۔ پھر بنت خصفہ نے اس کھول دیا اورادھر میدان کارزار گرم ہوچکا تھا۔ (٣) اس نے ایک چھلانگ لگائی تو حضرت سعد کے بلقاء نامی گھوڑے پر سوار ہوا، ایک نیزہ پکڑا اور دشمنوں پر حملہ کردیا وہ جہاں جاتا تھا دشمنوں کو شکست دے دیتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ یہ بادشاہ ہے ! اور حضرت سعد فرما رہے تھے کہ چھلانگ تو میرے گھوڑے بلقاء کی ہے اور نیزہ چلانا ابو محجن کا ہے جب کہ ابو محجن تو قید میں ہے ! ! (٤) جب دشمن کو شکست ہوگئی تو ابو محجن واپس آیا اور خود کو بیڑی میں جکڑ لیا۔ بنت خصفہ نے سارا واقعہ حضرت سعد کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ایسے آدمی پر حد جاری نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائی۔ پھر حضرت سعد نے ابو محجن کو آزاد کردیا۔ اس پر ابو محجن نے کہا کہ جب مجھ پر حد قائم کی جاتی تھی تو میں شراب پیتا تھا اور حد کے ذریعہ پاک ہوجاتا تھا اور اب جبکہ آپ نے مجھ سے حد معاف کردی ہے تو خدا کی قسم میں شراب نہیں پیوں گا۔
حدیث نمبر: 36003
٣٦٠٠٣ - حدثنا عفان قال: ثنا أبو (عوانة) (١) قال: ثنا حصين عن أبي وائل قال: جاء سعد بن أبي وقاص (حتى) (٢) نزل القادسية ومعه الناس، قال: فما أدري لعلنا أن لا نزيد على سبعة آلاف أو ثمانية آلاف بين ذلك، والمشركون (ستون) (٣) ألفًا أو نحو ذلك، معهم الفيول. قال: فلما نزلوا قالوا لنا: ارجعوا وإنا لا نرى لكم عددًا، ولا نرى لكم قوة ولا سلاحًا، فارجعوا، قال: قلنا: ما نحن براجعين؟ قال: وجعلوا يضحكون بنبلنا ويقولون: (دوك) (٤) -يشبهونها بالمغازل. قال: فلما (أبينا) (٥) عليهم قالوا: ابعثوا إلينا رجلا عاقلا يخبرنا بالذي جاء ⦗٢١⦘ بكم من بلادكم، فإنا لا نرى لكم عددا ولا عدة، (قال) (٦): فقال المغيرة بن شعبة: أنا، قال: فعبر إليهم. قال: فجلس مع رستم على السرير، قال: (فنخر) (٧) ونخروا (حين جلس معه) (٨) على السرير، قال: قال المغيرة: ما زادني (٩) مجلسي هذا ولا نقص صاحبكم، قال: فقال: أخبروني ما جاء بكم من بلادكم، فإني لا أرى لكم عددا ولا عدة، قال: فقال: كنا قومًا في (شقاء) (١٠) وضلالة فبعث اللَّه فينا (نبيا) (١١) فهدانا اللَّه على يديه ورزقنا على يديه، فكان فيما رزقنا حبة زعموا أنها تنبت (بهذه) (١٢) الأرض، فلما أكلنا منها وأطعمنا منها أهلينا قالوا: لا خير لنا حتى (تنزلوا) (١٣) هذه البلاد فنأكل هذه الحبة، قال: فقال رستم: إذا نقتلكم، قال: فإن قتلتمونا دخلنا الجنة، وإن قتلناكم دخلتم النار، وإلا أعطيتم الجزية، قال: فلما قال: أعطيتم الجزية قال: صاحوا ونخروا وقالوا: لا صلح بيننا وبينكم، (قال) (١٤): (فقال) (١٥) المغيرة: (أتعبرون) (١٦) إلينا أو (نعبر) (١٧) ⦗٢٢⦘ إليكم، قال: فقال رستم: بل (نعبر) (١٨) إليكم (١٩). (قال) (٢٠): فاستأخر منه المسلمون حتى عبر منهم (من عبر) (٢١) قال: فحمل عليهم المسلمون فقتلوهم وهزموهم (٢٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اپنا لشکر لے کر قادسیہ پہنچے۔ میرے خیال میں ہم لوگ سات یا آٹھ ہزار سے زائد نہیں تھے۔ جبکہ مشرک دشمن ساٹھ ہزار سے زائد تھے۔ ان کے پاس ہاتھی بھی تھے۔ جب وہ میدان میں اترے تو انہوں نے ہم سے کہا کہ واپس چلے جاؤ، نہ تمہارے پاس تعداد ہے، نہ قوت ہے اور نہ ہی اسلحہ۔ واپس چلے جاؤ۔ ہم نے کہا کہ ہم واپس نہیں جائیں گے۔ وہ ہمارے تیروں کو دیکھ کر بھی ہنستے تھے اور انہیں چرخے سے تشبیہ دیتے تھے۔ جب ہم نے ان کی بات ماننے اور واپس جانے سے انکار کردیا تو انہوں نے کہا کہ کسی سمجھدار آدمی کو ہمارے پاس بھیجو جو تمہاری آمد کے مقصد کو ہمارے لئے واضح کردے کیونکہ ہم تو نہ تم میں کوئی تعداد دیکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی قوت ! (٢) اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کہا کہ میں ان کے پاس جاتا ہوں۔ حضرت مغیرہ ان کے پاس گئے اور جاکر رستم کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھ گئے۔ یہ بات رستم کو اور اس کے ساتھیوں کو بہت ناگوار محسوس ہوئی۔ حضرت مغیرہ نے کہا کہ میرے یہاں بیٹھنے سے نہ تو میری عزت میں اضافہ ہوا ہے اور نہ تمہارے بادشاہ کی شان میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ رستم نے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ تم اپنے شہر سے یہاں کیوں آئے ہو کیونکہ میں تم میں نہ کوئی تعداد دیکھتا ہوں اور نہ ہی قوت ؟ اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم ایک ایسی قوم تھے جو بدبختی اور گمراہی کا شکارتھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی کو بھیجا جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے ہمیں روزی بھی عطا کی۔ جو روزی ان کی وجہ سے ہمیں ملی اس میں ایک ایسا غلہ تھا جس کے بارے میں لوگوں کو خیال ہے کہ وہ اس سرزمین میں پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم نے اسے کھایا اور اپنے گھر والوں کو کھلایا تو لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے اس وقت تک کوئی بھلائی نہیں جب تک ہم اس سرزمین میں جاکر اس غلے کونہ کھالیں۔ (٣) رستم نے کہا کہ پھر ہم تمہیں قتل کریں گے۔ حضرت مغیرہ نے کہا کہ اگر تم ہمیں قتل کرو گے تو ہم جنت میں داخل ہوں گے اور اگر ہم نے تمہیں قتل کیا تو تم جہنم میں جاؤ گے۔ لڑائی نہ ہونے کی صورت میں تمہیں جزیہ دینا ہوگا۔ جب حضرت مغیرہ نے کہا کہ تمہیں جزیہ دینا ہوگا تو وہ لوگ چیخنے لگے اور شدید غصے کا اظہار کرنے لگے۔ اور کہا کہ تمہاری اور ہماری صلح نہیں ہوگی۔ پھر حضرت مغیرہ نے فرمایا کہ تم ہماری طرف پیش قدمی کرتے ہو یا ہم تمہاری طرف بڑھیں ؟ رستم نے کہا کہ ہم تمہاری طرف آتے ہیں۔ پس مسلمان پیچھے ہوئے اور ان میں سے جس نے آگے بڑھنا تھا آگے بڑھا اور مسلمانوں نے ان پر حملہ کیا، انہیں قتل کیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی حضرت حصین فرماتے ہیں کہ ان کے بادشاہ رستم کا تعلق آذربائیجان سے تھا۔ (٤) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ایک بزرگ عبید بن جحش کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہم آدمیوں کی پشتوں پر چل رہے تھے اور آدمیوں کی پشتوں پر خندق عبورکر رہے تھے۔ انہیں کسی ہتھیارنے چھوا تک نہیں تھا، انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا۔ ہمیں ایک شیشی میں کچھ کافورملی، ہم نے سمجھا کہ یہ نمک ہے۔ چناچہ ہم نے گوشت پکایا اور اس پرا سے چھڑکا لیکن ہمیں کچھ ذائقہ محسوس نہ ہوا۔ ہمارے پاس سے ایک قمیص میں ملبوس ایک عیسائی راہب گزرا اور اس نے کہا کہ اے عرب کے لوگو ! اپنا کھانا خراب نہ کرو۔ اس سرزمین کے نمک میں کوئی خیر نہیں۔ کیا میں تمہیں اسکے بدلے یہ قمیص دے دوں۔ چناچہ نے ہم نے وہ شیشی ایک قمیص کے بدلے اسے دے دی اور وہ قمیص اپنے ایک ساتھی کو دی اور وہ اس نے پہن لی۔ ہم اسے گھمانے لگے اور خوش ہونے لگے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس قمیص کی قیمت دودرہم ہے۔ (٥) عبید بن جحش نامی بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جس نے دو کنگن پہن رکھے تھے، اسکا ہتھیار ایک قبر میں تھا۔ میں نے اسے باہر نکلنے کو کہا وہ باہر نکلا، نہ اس نے ہم سے بات کی اور نہ ہم نے اس سے بات کی اور ہم نے اسے قتل کردیا۔ پھر ہم نے انہیں شکست دے دی اور وہ فرات چلے گئے۔ ہم نے انہیں تلاش کیا اور شکست خوردہ ہو کر سوراء تک چلے گئے۔ پھر ہم نے انہیں تلاش کیا، انہیں شکست دی تو وہ صراۃ چلے گئے، پھر ہم نے انہیں تلاش کیا، انہیں شکست دی تو وہ مدائن چلے گئے۔ پھر ہم کوثیٰ نامی جگہ ٹھہرے، وہاں مشرکین کے مسلح جنگجو تھے۔ مسلمانوں کے گھڑ سواروں نے ان سے جنگ کی تو وہ شکست کھا کرمدائن چلے گئے۔ (٦) پھر مسلمان چلے اور دریائے دجلہ کے کنارے جاکر پڑاؤ ڈالا۔ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت نے کلواذی یا اس کی نچلی جانب سے مدائن کو عبور کیا اور کافروں کا محاصرہ کرلیا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس کھانے کے لئے ان کے کتوں اور بلیوں کے سوا کچھ نہ بچا۔ پھر ایک رات کے بعد وہ جلولاء آئے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر چلے اور حضرت ہاشم بن عتبہ لوگوں کے آگے تھے۔ اس کے بعد
حدیث نمبر: 36004
٣٦٠٠٤ - قال حصين: كان ملكهم رستم من أهل آذربيجان (١).
حدیث نمبر: 36005
٣٦٠٠٥ - قال حصين: وسمعت شيخا منا يقال: له عبيد بن جحش قال: لقد رأيتنا نمشي على ظهور الرجال، نعبر الخندق على ظهور الرجال، ما مسهم (سلاح) (١)، قد قتل بعضهم بعضا. قال: ووجدنا جرابًا فيه كافور، قال: فحسبناه ملحًا لا نشك فيه أنه ملح، قال: فطبخنا لحما فطرحنا منه فيه، (فلم) (٢) نجد له طعما فمر بنا عبادي معه قميص، قال: فقال: يا معشر المعربين لا تفسدوا طعامكم فإن ملح هذه الأرض لا خير فيه، هل لكم أن أعطيكم فيه هذا القميص. قال: (فأعطانا) (٣) به قميصًا، فأعطيناه صاحبا لنا فلبسه، قال: فجعلنا ⦗٢٣⦘ نطيف به ونعجب (٤)، قال: فإذا (ثمن) (٥) القميص حين (عرفنا) (٦) الثياب درهمان. قال: ولقد رأيتني أشرت إلى رجل وإن عليه لسوارين من ذهب وإن سلاحه تحت في قبر من تلك القبور، وأشرت إليه فخرج إلينا، قال: فما (كلمنا ولا) (٧) كلمناه حتى ضربنا عنقه. فهزمناهم حتى بلغوا الفرات قال: فركبنا فطلبناهم فانهزموا حتى انتهوا [(سوراء) (٨)، قال: فطلبناهم فانهزموا حتى أتوا السراة، قال: فطلبناهم حتى انتهوا إلى] (٩) المدائن، قال: فنزلنا (كوثى) (١٠)، قال: ومسلحة (للمشركين) (١١) (بديري من) (١٢) (المسالح) (١٣)، فأتتهم خيل المسلمين فتقاتلهم، فانهزمت مسلحة المشركين حتى لحقوا بالمدائن. وسار المسلمون حتى نزلوا على شاطئ دجلة، وعبر طائفة من المسلمين من (كلواذي) (١٤) من أسفل من الدائن فحصروهم حتى ما (يجدون) (١٥) طعامًا إلا ⦗٢٤⦘ كلابهم (وسنانيرهم) (١٦)، قال: فتحملوا في ليلة حتى أتوا جلولاء، قال: فسار إليهم سعد بالناس وعلى مقدمته هاشم بن عتبة، قال: وهي الواقعة التي كانت، قال: فأهلكهم اللَّه وانطلق (فلهم) (١٧) إلى نهاوند.
حدیث نمبر: 36006
٣٦٠٠٦ - قال: وقال أبو وائل: إن المشركين لما انهزموا من جلولاء أتوا نهاوند، قال: فاستعمل عمر بن الخطاب على أهل الكوفة حذيفة بن اليمان، وعلى أهل البصرة مجاشع بن مسعود السلمي. قال: (فأتاه) (١) عمرو بن معدي كرب فقال له: أعطني (فرس مثلي) (٢)، وسلاح مثلي، قال: نعم، أعطيك من مالي، قال: فقال له عمرو بن معدي كرب: واللَّه لقد هاجيناكم (فما أفحمناكم) (٣) وقاتلناكم فما أجبناكم، وسألناكم فما (أبخلناكم) (٤) (٥).
حدیث نمبر: 36007
٣٦٠٠٧ - قال حصين: وكان النعمان بن مقرن على كسكر، قال: فكتب إلى عمر: يا أمير المؤمنين إن مثلي ومثل كسر كمثل رجل شاب عند مومسة (تلون) (١) له وتعطر، وإني أنشدك باللَّه لما عزلتني عن كسكر، وبعثتني في جيش من جيوش المسلمين، قال: فكتب إليه: سر إلى الناس بنهاوند فأنت عليهم. ⦗٢٥⦘ قال: فسار إليهم فالتقوا، فكان أول قتيل، قال: وأخذ سويد بن مقرن الراية ففتح اللَّه لهم وأهلك اللَّه المشركين، فلم يقم لهم جماعة بعد يومئذ، قال: وكان أهل (كل) (٢) مصر يسيرون إلى عدوهم (و) (٣) بلادهم. قال حصين: لما هزم المشركون من المدائن لحقهم يحلولاء، ثم رجع وبعث عمار بن ياسر فسار حتى نزل المدائن، قال: وأراد أن ينزلها بالناس، فاجتواها الناس وكرهوها. فبلغ عمر أن الناس كرهوها فسأل: هل يصلح بها الإبل؟ قالوا: لا؛ لأن بها البعوض، قال: فقال عمر: فإن العرب لا تصلح بأرض لا يصلح بها الإبل، قال: (فرجعوا) (٤)، قال: فلقي سعد (عباديا) (٥)، قال: فقال: أنا أدلكم على أرض ارتفعت من البقة وتطأطأت من السبخة وتوسطت الريف وطعنت في أنف التربة، قال: أرض بين الحيرة والفرات (٦).
حدیث نمبر: 36008
٣٦٠٠٨ - حدثنا ابن أبي زائدة عن مجالد عن الشعبي قال: كتب عمر إلى سعد يوم القادسية: إني قد بعثت إليك أهل الحجاز وأهل اليمن، فمن أدرك منهم القتال قبل أن (يتفقؤا) (١) فأسهم لهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد کے نام ایک خط لکھا جس میں لکھا کہ میں آپ کی طرف حجاز والوں کو اور یمن والوں کو بھیج رہا ہوں، ان میں سے جو قتال کے قابل ہو اسے مال غنیمت میں سے حصہ دیجئے۔
حدیث نمبر: 36009
٣٦٠٠٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن حبيب بن أبي ثابت عن نعيم بن أبي (هند) (١) قال: قال رجل يوم القادسية: اللهم إن (حديةَ) (٢) (سوداءُ) (٣) (بذية) (٤)، (فزوجني) (٥) اليوم من الحور العين، ثم تقدم فقتل، قال: فمروا عليه وهو معانق رجل عظيم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن ابی ہند فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں ایک آدمی نے دعا کی کہ اے اللہ ! میری بیوی حدیہ کالی اور دیہاتن ہے آج میری شادی موٹی آنکھوں والی حور سے کردے۔ پھر وہ میدان جنگ میں آگے بڑھا اور شہید ہوگیا۔ جب لوگوں کا اس کی نعش کے پاس سے گزر ہوا تو وہ ایک بہت بڑے پہلوان سے لپٹا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 36010
٣٦٠١٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم قال: مروا على رجل يوم القادسية وقد قطعت يداه ورجلاه وهو يفحص وهو يقول: ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴾ [النساء: ٦٩]، قال: فقال: من أنت يا عبد اللَّه؟ قال: أنا امرؤ من الأنصار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ قادسیہ کی جنگ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے تھے۔ وہ قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے : { مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا } ان کے پاس سے گزرنے والے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں ایک انصاری ہوں۔
حدیث نمبر: 36011
٣٦٠١١ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن سعد بن عبيدة عن البراء قال: أمرني عمر أن أنادي بالقادسية لا ينبذ في دباء ولا (حنتم) (١) ولا مزفت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے حکم دیا کہ میں قادسیہ میں یہ اعلان کروں کہ کدو کے بنے ہوئے برتن، لکڑی کے برتن اور تارکول چڑھے برتن میں نبیذ نہیں بنائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 36012
٣٦٠١٢ - حدثنا أبو معاوية (عن الأعمش) (١) عن شقيق قال: جاءنا كتاب أبي بكر بالقادسية، وكتب عبد اللَّه بن الأرقم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ قادسیہ میں ہمارے پاس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خط آیا اور وہ حضرت عبد اللہ بن ارقم نے لکھا تھا۔
حدیث نمبر: 36013
٣٦٠١٣ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن الأسود بن قيس العبدي عن شبر بن علقمة قال: لما كان يوم القادسية قام رجل من أهل فارس فدعا إلى المبارزة فذكر من عظمه، فقام إليه رجل قصير يقال له شبر بن علقمة، قال: فقال له الفارسي: هكذا -يعني احتمله ثم ضرب به الأرض فصرعه، قال: فأخذ شبر خنجرا كان مع الفارسي، فقال به في بطنه هكذا -يعني فحصحصه، قال: ثم انقلب عليه فقتله، ثم جاء بسلبه إلى سعد فقوم باثني (عشر) (١) ألفا فنفله سعد (إياه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شبر بن علقمہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں اہل فارس کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے مقابلے کی دعوت دی۔ اس نے اپنی بہادری کا ذکر کیا۔ پھر ایک چھوٹے قد کے آدمی جن کا نام شبر بن علقمہ تھا۔ وہ اس کی طرف آگے بڑھے، اس فارسی پہلوان نے شبر کو اٹھا کر زمین پردے مارا۔ شبر نے اس فارسی پہلوان کا خنجر پکڑا، اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ پھر اسے مار ڈالا۔ پھر اس کا سامان لے کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم کی قیمت لگائی اور اسے مال غنیمت کے طور پردے دیا۔
حدیث نمبر: 36014
٣٦٠١٤ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن الأسود بن قيس عن شبر بن علقمة قال: بارزت رجلًا يوم القادسية من الأعاجم فقتلته وأخذت سلبه فأتيت به سعدًا، فخطب سعد أصحابه ثم قال: هذا سلب شبر وهو خير من اثني عشر ألف درهم، وإنا قد نفلناه إياه (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شبر بن علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ قادسیہ میں ایک عجمی سے لڑائی کی اور اسے قتل کردیا۔ پھر میں اس کا سامان لے کر حضرت سعد بن ابی وقاص کے پا س آیا ۔ حضرت سعد نے اپنے ساتھیوں میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ شبر کالایا ہوا سامان ہے اور بارہ ہزار درہم سے بہتر ہے۔ اور ہم نے اسے مال غنیمت کے طور پردے دیا۔
حدیث نمبر: 36015
٣٦٠١٥ - حدثنا هشيم عن حصين عمن شهد القادسية قال: بينا رجل يغتسل إذ فحص له الماء (و) (١) التراب عن لبنة من ذهب، فأتى سعدًا فأخبره فقال: اجعلها في غنائم المسلمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین جنگ قادسیہ میں شریک ہونے والے ایک مجاہد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی غسل کررہا تھا کہ اسے پانی میں سونے کی ایک اینٹ ملی، وہ اس نے لا کر حضرت سعد کو دے دی۔ حضرت سعد نے فرمایا کہ اسے مال غنیمت میں رکھ دو ۔
حدیث نمبر: 36016
٣٦٠١٦ - حدثنا عباد عن (حصين) (١) عمن أدرك ذاك أن رجلا اشترى جارية من المغنم، قال: فلما رأت أنها قد (خلصت) (٢) له أخرجت حليا كثيرا كان معها، قال: فقال الرجل: ما أدري ما هذا، حتى أتى سعدا (فأسأله فأتاه) (٣) فسأله فقال: اجعله في غنائم المسلمين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین جنگ قادسیہ میں شریک ہونے والے ایک مجاہد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مال غنیمت سے ایک باندی خریدی۔ جب باندی نے دیکھا کہ وہ اس کی ہوچکی ہے تو اس نے بہت سا زیور نکال کر اسے دے دیا۔ اس آدمی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ اس زیور کا کیا حکم ہے۔ پھر وہ حضرت سعد کے پاس لے کر آیا اور اس کے بارے میں سوال کیا تو حضرت سعد نے فرمایا کہ اسے مسلمانوں کے مال غنیمت میں رکھ دو ۔
حدیث نمبر: 36017
٣٦٠١٧ - حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن حبيب بن أبي ثابت عن الأسود بن مخرمة قال: باع سعد طستا بألف درهم من رجل من أهل الحيرة، فقيل له: إن عمر بلغه هذا عنك فوجد عليك، قال: فلم يزل يطلب إلى النصراني حتى رد عليه الطست وأخذ (١) الألف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے اہل حیرہ کے ایک آدمی سے ایک طشت ایک ہزار درہم کا خریدا۔ انہیں بتایا گیا کہ حضرت عمر کو اس بات کی اطلاع ہوئی ہے اور وہ آپ پر سخت ناراض ہیں۔ اس کے بعد حضرت سعد اس نصرانی کو تلاش کرتے رہے اور اسے ڈھونڈ کر طشت اسے واپس دیا اور ایک ہزار درہم حاصل کئے۔
حدیث نمبر: 36018
٣٦٠١٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا (الصباح) (١) بن ثابت قال: ثنا أشياخ الحي قال جرير بن عبد اللَّه (٢): لقد أتى على نهر القادسية ثلاث ساعات من النهار ما (تجري) (٣) إلا بالدم مما قتلنا من المشركين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں ایک دن قادسیہ کے دریا میں تین گھنٹے تک پانی کی جگہ خون بہتا رہا اور یہ ان مشرکوں کا خون تھا جنہیں ہم نے قتل کیا تھا۔
حدیث نمبر: 36019
٣٦٠١٩ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا حنش بن الحارث قال: سمعت أبي يذكر قال: قدمنا من اليمن، نزلنا المدينة فخرج علينا عمر فطاف في النخع ⦗٢٩⦘ ونظر إليهم فقال: يا معشر النخع إني أرى (الشرف) (١) فيكم متربعًا، فعليكم بالعراق وجموع فارس، فقلنا: يا أمير المؤمنين لا بل الشام نريد الهجرة إليها، قال: لا بل العراق، فإني قد رضيتها لكم، قال: حتى قال بعضنا: يا أمير المؤمنين لا إكراه في الدين، قال: (فلا) (٢) إكراه في الدين، عليكم بالعراق، قال: فيها جموع العجم، ونحن ألفان وخمسمائة، قال: فأتينا القادسية فقتل من النخع وأحد، وكذا وكذا رجلا من سائر الناس ثمانون (٣)، فقال عمر: ما شأن النخع، أصيبوا من بين سائر الناس، أفر الناس عنهم؛ قالوا: لا بل ولو أعظم الأمر (وحدهم) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ جب ہم یمن سے واپس آئے اور مدینہ منور ہ ٹھہرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے قبیلہ نخع والوں میں ایک چکر لگایا اور ان سے فرمایا کہ اے نخع والو ! میں تم میں عزت کو اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ تم عراق یافارس چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! ہم تو شام کی طرف ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ نہیں عراق ٹھیک ہے۔ میں تمہارے لئے عراق سے راضی ہوں۔ ہم میں سے بعض نے کہا کہ اے امیر المومنین ! دین میں سختی نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ دین میں سختی نہیں ہے تمہارے لئے عراق ٹھیک ہے۔ اس میں عجم کی جماعتیں ہیں اور ہم صرف اڑھائی ہزار ہیں۔ پھر ہم قادسیہ آئے اور نخعی لوگوں میں سے صرف ایک آدمی شہید ہوا جبکہ باقی لوگوں میں سے اسی افراد مارے گئے۔ حضرت عمر کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا نخعی لوگوں نے کیا کیا کہ باقی لوگوں میں سے وہی شہید ہوئے، کیا لوگ انہیں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ لوگوں نے بتایا نہیں بلکہ وہ مشکل کاموں میں اپنی مرضی سے کودے تھے۔
حدیث نمبر: 36020
٣٦٠٢٠ - حدثنا ابن إدريس عن حنش بن الحارث عن (أبيه) (١) قال: مرت النخع بعمر فأقامهم فتصفحهم وهم ألفان وخمسمائة، وعليهم رجل يقال له أرطأة، فقال: إني لأرى (السرو) (٢) فيكم متربعًا سيروا إلى إخوانكم من أهل العراق، فقالوا: (لا) (٣) بل نسير إلى الشام، قال: سيروا إلى العراق، فقالوا: لا إكراه في الدين، فقال: سيروا إلى العراق، فلما قدموا العراق جعلوا يسحبون المهر فيذبحونه، فكتب إليهم أصلحوا فإن في الأمر معقلًا أو نفسًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نخعی لوگوں کے پاس سے گزرے اور انہیں گنا تو وہ اڑھائی ہزار تھے۔ ان کے سربراہ کا نام ارطاۃ تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تم میں عزت کو اترتے ہوئے دیکھتا ہوں تم عراق میں اپنے بھائیوں کے پاس چلے جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ہم تو شام کی طرف جائیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم عرا ق کی طرف جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ دین میں زبردستی نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم عراق کی طرف جاؤ۔ پس وہ عراق کی طرف گئے تو انہوں نے وہاں گھوڑے کے بچے کو پکڑ کر ذبح کرنا شروع کردیا۔ حضرت عمر نے انہیں خط لکھا : تم درست ہو جاؤ۔ اس لیے کہ ایسے معاملہ میں جان اہم ہے۔
حدیث نمبر: 36021
٣٦٠٢١ - وسمعت أبا بكر بن عياش يقول: كانت بنو أسد يوم القادسية أربعمائة، وكانت (بجيلة) (١) ثلاثة آلاف، وكانت النخع ألفين وثلاثمائة، وكانت (كندة) (٢) نحو النخع، وكانوا كلهم عشرة آلاف، ولم (يكن) (٣) في القوم أحد أقل من مضر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عیاش فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں بنو اسد چار سو، بجیلہ تین ہزار، نخعی دو ہزار تین سو، اور کندہ والے بھی اتنے ہی تھے۔ یہ سب لوگ کل دس ہزار تھے اور لوگوں میں قبیلہ مضر سے کم کوئی نہ تھا۔
حدیث نمبر: 36022
٣٦٠٢٢ - سمعت أبا بكر: أن عمر فضلهم، فأعطى بعضهم ألفين، وبعضهم ستمائة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے انہیں زیادہ دیا بعض کو دو ہزار اور بعض کو چھ سو۔
حدیث نمبر: 36023
٣٦٠٢٣ - وذكر أبو بكر بن عياش في قوله: ﴿فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ﴾ [المائدة: ٥٤]، قال: أهل القادسية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عیاش قرآن مجید کی آیت { فَسَوْفَ یَأْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قادسیہ والے ہیں۔
حدیث نمبر: 36024
٣٦٠٢٤ - حدثنا أبو أسامة عن (مسعر) (١) عن أبي بكر بن عمرو بن عتبة قال: كتب عمر إلى (سعد) (٢) وغيره من أمراء الكوفة: أما بعد فقد جاءني ما بين (العذيب) (٣) وحلوان، وفي ذلكم ما يكفيكم إن اتقيتم وأصلحتم، قال: وكتب: اجعلوا بينكم وبين العدو (مفازة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت سعد اور کوفہ کے دوسرے امراء کو خط لکھا کہ میرے پاس عذیب اور حلوان کے درمیان کا علاقہ آیا ہے۔ یہ تمہارے لئے کافی ہے اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور درستی سے چلو۔ اور اپنے اور اپنے دشمنوں کے درمیان خلا رکھو۔
حدیث نمبر: 36025
٣٦٠٢٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا مسعر عن عون (بن) (١) عبد اللَّه قال: مرَّ على رجل يوم القادسية وقد انتثر بطنه أو قصبه، قال لبعض من مر عليه: ضم إلي (منه) (٢)، أدنو قيد رمح أو رمحين في سبيل اللَّه، قال: فمر عليه وقد فعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں ایک مسلمان مجاہد کاپیٹ پھٹ گیا تھا اور اس کی انتڑیاں باہرنکل آئی تھیں۔ اس نے اپنے پاس سے گزرنے والے ایک شخص سے کہا کہ میری انتڑیوں کو اندرکردو اور مجھے چلاؤ تاکہ میں اللہ کے راستے میں تھوڑا اور آگے بڑھ سکوں۔ چناچہ اس آدمی نے ایسا ہی کیا۔
حدیث نمبر: 36026
٣٦٠٢٦ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق قال: رأيت أصحاب عبيد يشربون نبيذ القادسية وفيهم عمرو بن ميمون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے عبید کے ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ قادسیہ کی نبیذ پی رہے تھے اور ان میں عمرو بن میمون بھی تھے۔
حدیث نمبر: 36027
٣٦٠٢٧ - حدثنا حميد (عن) (١) (حسن) (٢) عن مطرف عن بعض أصحابه قال: اشترى طلحة بن (عبيد اللَّه) (٣) أرضًا من (النشاستج) (٤) (نشاستج) (٥) بني طلحة، هذا الذي عند (السيلحين) (٦) فأتى عمر فذحص ذلك له فقال: إني اشتريت أرضا معجبة، فقال (٧) عمر: ممن اشتريتها؟ أمن أهل الكوفة؟ قال: اشتريتها من أهل القادسية، قال طلحة: وكيف (أشتريها) (٨) من أهل القادسية كلهم؟ قال: إنك لم تصنع شيئًا، إنما هي فيء (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف نقل کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے کوفہ میں سیلحین سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا۔ پھر وہ حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے اس کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ میں نے ایک عمدہ اور خوبصورت زمین خریدی ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے کس سے خریدی ہے ؟ کوفہ والوں سے ؟ کیا تم نے قادسیہ والوں سے خریدی ہے ؟ حضرت طلحہ نے کہا کہ میں نے تمام قادسیہ والوں سے خریدی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم نے کچھ نہیں کیا یہ تو مال غنیمت ہے۔
حدیث نمبر: 36028
٣٦٠٢٨ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن الحسن عن ليث عمن يذكر أن أهل القادسية رغموا الأعاجم حتى قاتلوا ثلاثة أيام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ قادسیہ کے مجاہدین نے عجمیوں کو مقابلے کی دعوت دی اور ان سے تین دن تک لڑائی کی۔
حدیث نمبر: 36029
٣٦٠٢٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن (ربيع) (١) ابن عميلة عن حذيفة قال: اختلف رجل من أهل الكوفة ورجل من أهل الشام فتفاخرا، فقال الكوفي: نحن أصحاب يوم القادسية ويوم كذا وكذا، وقال الشامي: نحن أصحاب يوم اليرموك ويوم كذا ويوم كذا، فقال حذيفة: كلاكما لم يشهده اللَّه هُلكَ عاد وثمود، ولم (يؤامره) (٢) اللَّه فيهما إذا (أهلكهما) (٣)، وما من قرية (أحرى) (٤) أن (تدفع) (٥) عظيمة (عنها) (٦) يعني الكوفة (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن عمیلہ فرماتے ہیں کہ کوفہ اور شام کے دو آدمیوں کا باہم مناظرہ ہوا، کوفی نے کہا کہ ہم قادسیہ کی جنگ میں شریک ہونے والے ہیں اور فلاں فلاں لڑائی لڑنے والے ہیں۔ شامی نے کہا کہ ہم نے یرموک کی لڑائی لڑی ہے اور فلاں فلاں لڑائی میں شریک ہوئے ہیں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے وہ وقت نہیں دیکھا جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد اور قوم ثمودکو ہلاک کیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کیا تو ان کی ایک دوسرے پر افضلیت کو نہیں دیکھا تھا۔ کوفہ کی بستی سے بڑھ کر کوئی بستی ایسی نہیں جسے کوئی بڑی ذمہ داری سونپی جائے۔
حدیث نمبر: 36030
٣٦٠٣٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا أبو عوانة (١) عن جرير بن (رياح) (٢) عن أبيه أنهم أصابوا قبرا بالمدائن، فوجدوا فيه رجلًا عليه ثياب منسوجة بالذهب، ووجدوا معه مالًا، فأتوا به عمار بن ياسر فكتب فيه إلى عمر بن الخطاب فكتب إليه عمر: أن أعطهم ولا تنزعه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ریاح فرماتے ہیں کہ مسلمان مجاہدین کو مدائن میں ایک قبر ملی، جس میں ایک آدمی تھا جس کے بدن پر سونے کی تاروں والے کپڑے اور بہت سا مال تھا۔ مجاہدین اسے حضرت عمار بن یاسر کے پاس لائے۔ حضرت عمار نے اس بارے میں حضرت عمر بن خطاب کو خط لکھا۔ حضرت عمر نے انہیں حکم دیا کہ یہ سارا مال مجاہدین کو دے دو ۔
حدیث نمبر: 36031
٣٦٠٣١ - حدثنا حفص عن الشيباني عن محمد بن عبيد اللَّه أن عمر استعمل السائب بن الأقرع على المدائن، فبينما هو في مجلسه إذ أتي (بتمثال) (١) من صفر، كأنه رجل قائل بيديه هكذا -وبسط يديه وقبض بعض أصابعه- فقال: هذا لي، هذا مما أفاء اللَّه علي، فكتب فيه (إلى) (٢) عمر، فقال عمر: أنت عامل من عمال المسلمين، فاجعله في بيت مال المسلمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے سائب بن اقرع کو مدائن کا حاکم بنایا۔ ایک دن وہ اپنی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ان کے پاس تانبے کا ایک تھال لایا گیا جو آدمی کے ہاتھ کی شکل کا بنا ہوا تھا۔ سائب بن اقرع نے اس تھال میں ہاتھ ڈالا اور ایک مٹھی بھر کر کہا کہ یہ میرا ہے یہ اللہ نے مجھے عطا کیا ہے۔ پھر انہوں نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ تم تو محض مسلمانوں کے ایک گورنر ہو، یہ سب کچھ مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کرادو۔
حدیث نمبر: 36032
٣٦٠٣٢ - حدثنا أبو داود الطيالسي عن حماد بن سلمة عن سماك عن النعمان ابن حميد أن عمارًا أصاب مغنمًا فقسم بعضه وكتب (يعتذر) (١) إلى عمر يشاوره قال: (تبايع) (٢) الناس إلى قدوم الراكب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن حمید فرماتے ہیں کہ حضرت عمار کو کچھ مال غنیمت ملا اور اس کا کچھ حصہ آپ نے تقسیم کردیا۔ پھر انہوں نے حضرت عمر سے معذرت کرنے اور مشورہ لینے کے لئے حضرت عمر کو خط لکھا۔ آپ نے فرمایا کہ سوار کے آنے تک لوگوں کو روکے رکھو۔
حدیث نمبر: 36033
٣٦٠٣٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا إسماعيل عن شبل بن عوف كان من أهل القادسية وكان يصفر لحيته (١).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ شبل بن عوف اہل قادسیہ میں سے ہیں اور داڑھی کو زرد کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 36034
٣٦٠٣٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن (ملحان بن سليمان ابن ثروان) (١) قال: كان سلمان أمير المدائن، فإذا كان يوم الجمعة قال: يزيد ⦗٣٤⦘ قم فذكر قومك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان مدائن کے امیر تھے۔ جمعے کے دن وہ فرماتے کہ اے زید اٹھو اور اپنی قوم کو نصیحت کرو۔
حدیث نمبر: 36035
٣٦٠٣٥ - حدثنا عفان قال: ثنا أبو هلال عن قتادة عن أنس قال: كان على ابن أم مكتوم يوم القادسية (درع) (١) سابغ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں ابن ام مکتوم پر ایک لمبی چادر تھی۔
حدیث نمبر: 36036
٣٦٠٣٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا حصين عن محارب بن دثار عن ابن عمر قال: اختلفت أنا وسعد بالقادسية في المسح على الخفين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنگ قادسیہ میں میرے اور حضرت سعد کے درمیان موزوں پر مسح کے بارے میں اختلاف ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 36037
٣٦٠٣٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن منصور عن إبراهيم قال: فر رجل من القادسية أو مهران أو بعض تلك المشاهد، فأتى عمر فقال: إني قد هلكت فررت، فقال عمر: كلا أنا فئتك (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی قادسیہ یا مہران کی جنگ سے فرار ہوا اور حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں ہلاک ہوگیا، میں میدانِ جنگ سے فرار ہوگیا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا ہرگز نہیں میں تمہاری مدد کروں گا۔
حدیث نمبر: 36038
٣٦٠٣٨ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي قال: ثنا الوليد عن سماك بن حرب قال: أدركت ألفين من بني أسد قد شهدوا القادسية في ألفين ألفين، و (كانت) (١) راياتهم في يد سماك صاحب المسجد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ بنو اسد کے دو ہزار لوگ قادسیہ کی لڑائی میں شریک تھے اور ان کے جھنڈے مسجد والے سماک کے ہاتھ میں تھے۔
…