کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا ابو عبید(ابن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ )کی مہران میں جنگ اور اس کی تفصیلات کا بیان
حدیث نمبر: 35991
٣٥٩٩١ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل بن أبي خالد (١) سمعت أبا عمرو الشيباني يقول: كان (مهران) (٢) أول السنة، وكانت القادسية (٣)، فجاء رستم ⦗١٤⦘ فقال: إنما كان (مهران) (٤) يعمل عمل الصبيان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ مہران سے جنگ سال کے شروع میں اور جنگ قادسیہ سال کے آخر میں ہوئی۔ رستم نے کہا تھا کہ مہران بچوں والا کام کیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35991
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35991، ترقيم محمد عوامة 34424)
حدیث نمبر: 35992
٣٥٩٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: كان أبو عبيد بن مسعود عبر الفرات إلى (مهران) (١) فقطعوا الجسر خلفه فقتلوه هو وأصحابه، قال: فأوصى إلى عمر بن الخطاب قال: فرثاه أبو محجن الثقفي فقال: أمسى أبو (خير) (٢) خلاء بيوته … بما كان يغشاه الجياع الأرامل (٣) أمسى أبو عمرو لدى (الجسر) (٤) منهم … إلى جانب الأبيات حرم ونابل (٥) فما زلت حتى كنت آخر رائح … (وقتل) (٦) حولي الصالحون الأماثل (وقد كنت في نحر خيارهم) (٧) … لدى (الفيل) (٨) يدمي نحرها والشواكل (٩)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ابو عبید بن مسعود نے مہران کی طرف جانے کے لئے دریائے فرات کو عبور کیا، دشمنوں نے ان کے گذرنے کے بعد پل کو توڑ دیا اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ابو محجن کو ان کی یاد میں اشعار کہنے کا حکم دیا اور انہوں نے اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے :” ابوجبر کا گھر ویران ہوگیا اور وہاں بھوکی بیوائیں ہیں۔ پل کے پاس بنو عمرو کناروں پر بےسروسامان پڑے ہیں۔ میں زندہ بچ جانے والوں میں سے آخری ہوں اور میرے پاس نیک لوگوں کو شہید کیا گیا۔ میرے گھوڑے کا خون بہا اور ایسابہا کہ ہر خاص وعام راستے پر اس کا خون تھا “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35992
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35992، ترقيم محمد عوامة 34425)
حدیث نمبر: 35993
٣٥٩٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: عبر أبو عبيد بن مسعود يوم مهران في أناس فقطع بهم (الجسر) (١)، فأصيبوا، قال: قال قيس: فلما كان يوم مهران قال أناس فيهم خالد بن عرفطة لجرير: يا جرير، لا واللَّه لا (نريم) (٢) عن عرصتنا هذه، فقال: اعبريا جرير بنا إليهم، فقلت: أتريدون أن تفعلوا بنا ما فعلوا بأبي عبيد إنا قوم لسنا (بسبّاح) (٣) أن نبرح أو أن نريم العرصة حتى يحكم اللَّه بيننا وبينهم، فعبره المشركون فأصيب يومئذ مهران (وهو) (٤) (عند) (٥) النخيلة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبید بن مسعود مہران کی جنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے۔ ان کے گزرنے کے بعد پل کو کاٹ دیا گیا اور وہ شہید کردیئے گئے۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ مہران کی جنگ میں کچھ لوگوں نے جن میں حضرت خالد بن عرفطہ بھی شامل تھے۔ حضرت جریر سے کہا کہ اے جریر ! ہم تو اپنی جگہ ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے جریر ! ہمیں یہ دریا عبور کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ ہمارے ساتھ بھی وہی کچھ کریں جو انہوں نے ابو عبید کے ساتھ کیا ہے۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو تیراکی نہیں جانتی۔ ہم اپنا علاقہ اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہ فرمادے۔ پس مشرکین نے اسے عبور کیا اور اس دن مہران مارا گیا اس وقت وہ نخیلہ نامی مقام میں تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35993
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35993، ترقيم محمد عوامة 34426)
حدیث نمبر: 35994
٣٥٩٩٤ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: قال لي جرير: انطلق بنا إلى مهران، فانطلقت معه حيث (اقتتلوا) (١)، فقال لي: لقد رأيتني فيما هاهنا في مثل حريق النار، يطعنوني من كل جانب (بنيازكهم) (٢)، فلما رأيت الهلكة جعلت أقول: يافرسي ألا يا جرير، فسمعوا صوتي فجاءت قيس، ما يردهم (شيء) (٣) حتى (تخلصوني) (٤)، قلت: (فلقد) (٥) عبرت شهرًا ما أرفع لي ⦗١٦⦘ (جنبًا) (٦) من أثر (النيازك) (٧) قال: قال قيس: لقد رأيتنا نخوض دجلة وإن أبواب المدائن لمغلقة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
! اس اثر کا مضمون واضح نہیں ہوا۔ محققِ مصنف ابن ابی شیبہ محمد عوامہ اس حدیث کے حاشیہ میں لکھتے ہیں : وفی الخبر کلمات لم اتبینھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35994
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35994، ترقيم محمد عوامة 34427)
حدیث نمبر: 35995
٣٥٩٩٥ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: ثنا التيمي عن أبي عثمان قال: لما قتل أبو عبيد وهزم أصحابه قال عمر: أنا فئتكم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبید شہید کردیئے گئے اور ان کے ساتھی شکست کھا گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں تمہاری طرف سے بدلہ لوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35995
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35995، ترقيم محمد عوامة 34428)
حدیث نمبر: 35996
٣٥٩٩٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن ابن سيرين قال: لما بلغ عمر قتل أبي عبيد الثقفي قال: إن كنت له فئة لو انحاز إليَّ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ابو عبید ثقفی کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں ان کا بدلہ لوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35996
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35996، ترقيم محمد عوامة 34429)
حدیث نمبر: 35997
٣٥٩٩٧ - حدثنا محبوب القواريري عن حنش بن الحارث النخعي قال: ثنا أشياخ النخع أن جريرًا لما قتل مهران نصب أو رفع رأسه على رمح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنش بن حارث نخعی قبیلہ کے بزرگوں سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت جریر نے جب مہران کو قتل کیا تو اس کے سر کو ایک نیزے پر نصب کردیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35997
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35997، ترقيم محمد عوامة 34430)
حدیث نمبر: 35998
٣٥٩٩٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم أنه مُرَّ برجل يوم أبي عبيد وقد قطعت يداه ورجلاه وهو يقول: ﴿مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴾ [النساء: ٦٩]، فقال (له) (١) بعض من مر عليه: من أنت؟ قال: امرؤ من الأنصار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ حضرت ابو عبید کی شہادت کے دن ایک آدمی کے پاس سے گزرے اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے تھے۔ وہ قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے : { مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا } ان کے پاس سے گزرنے والے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں ایک انصاری ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35998
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35998، ترقيم محمد عوامة 34431)