حدیث نمبر: 35984
٣٥٩٨٤ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا مجالد قال: أخبرنا عامر قال: كتب خالد إلى مرازبة فارس وهو بالحيرة ودفعه إلى (بني) (١) بُقَيَلة، قال عامر: وأنا قرأته عند (بني) (٢) بقيلة: بسم اللَّه الرحمن الرحيم من خالد بن الوليد إلى مرازبة فارس، ⦗١١⦘ سلام على من اتبع الهدى، فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد ((أ) (٣) حمد اللَّه) (٤) الذي (فض) (٥) خدمتكم وفرق كلمتكم ووهن بأسكم وسلب ملككم، فإذا جاءكم كتابي هذا فابعثوا إلي بالرهن، واعتقدوا مني الذمة، وأجيبوا إلى الجزية، فإن لم تفعلوا فواللَّه الذي لا إله إلا هو لأسيرن إليكم بقوم يحبون الموت كحبكم الحياة، والسلام على من اتبع الهدى (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید حیرہ میں تھے۔ انہوں نے وہاں سے فارس کے سرداروں کے نام خط لکھا، وہ خط انہوں نے بنو بقیلہ کو دیا اور میں نے ان کے پاس پڑھا تھا۔ اس خط میں تحریر تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم : خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے سرداروں کے نام۔ ہدایت کا اتباع کرنے والوں پر سلامتی نازل ہو۔ میں اس اللہ کی حمد بیان کرتاہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہاری قوتوں کو منتشر کردیا اور تمہارے دلوں کو جدا کردیا اور تمہاری قوت کو کمزور کردیا اور تمہارے مالوں کو چھین لیا۔ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تم میرے پاس جزیہ بھیجو، ہمارے پاس ذمی بن کر رہنا قبول کرلو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تمہاری طرف ایک ایسی قوم کو بھیجوں گا جو موت کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔ اور ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر سلامتی ہو۔
حدیث نمبر: 35985
٣٥٩٨٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا بن أبي زائدة عن خالد بن سلمة القرشي عن عامر الشعبي قال: كتب خالد بن الوليد (زمن الحيرة) (١) إلى مرازبة فارس: ﷽ من خالد بن الوليد إلى مرازية فارس، سلام على من اتبع الهدى، أما بعد فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، الحمد للَّه الذي (فض) (٢) خدمتكم وفرق جمعكم وخالف بين كلمتكم، فإذا جاءكم كتابي هذا فاعتقدوا مني الذمة، وأجيبوا إلى الجزية، فإن لم تفعلوا أتيتكم بقوم يحبون الموت (حبكم) (٣) الحياة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فارس کے سرداروں کے نام حیرہ سے ایک خط لکھا جس میں تحریر تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم : خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے سرداروں کے نام۔ ہدایت کا اتباع کرنے والوں پر سلامتی نازل ہو۔ میں اس اللہ کی حمد بیان کرتاہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہاری قوتوں کو منتشر کردیا اور تمہارے دلوں کو جدا کردیا اور تمہاری قوت کو کمزور کردیا اور تمہارے مالوں کو چھین لیا۔ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تم میرے پاس جزیہ بھیجو، ہمارے پاس ذمی بن کر رہنا قبول کرلو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تمہاری طرف ایک ایسی قوم کو بھیجوں گا جو موت کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 35986
٣٥٩٨٦ - حدثنا جعفر بن عون قال: أخبرنا يونس عن أبي السفر قال: لما قدم خالد بن الوليد إلى الحيرة نزل على بني المرازبة قال: فأتي ⦗١٢⦘ بالسم (فأخذه) (١) (فجعله) (٢) في راحته وقال: بسم اللَّه، فاقتحمه، فلم يضره بإذن اللَّه شيئا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفر فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حیرہ آئے اور بنو مرازبہ کے پاس ٹھہرے تو وہاں ان کے پاس زہر لایا گیا اور اسے اپنی ہتھیلی پر رکھا اور پھر اللہ کا نام لے کر اسے پی لیا۔ لیکن وہ زہر اللہ کے حکم سے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچا سکا۔
حدیث نمبر: 35987
٣٥٩٨٧ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي قال: ثنا حسن بن صالح عن الأسود بن قيس عن أبيه قال: صالحنا أهل الحيرة على ألف درهم (ورحل) (١)، قال: قلت: يا أبة، ما كنتم تصنعون (بالرحل) (٢)؟ قال: لم يكن لصاحب لنا رحل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن قیس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے حیرہ والوں سے ایک ہزار درہم اور ایک کجاوے کے بدلے صلح کی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابا جان ! آپ لوگ کجاو وں کا کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے کسی ساتھی کے پاس کجاوہ نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 35988
٣٥٩٨٨ - حدثنا (هشيم عن) (١) حصين قال: لما قدم خالد بن الوليد هاهنا إذ هو بمشيخة لأهل فارس عليهم رجل يقال له هزارمرد، فذكروا من عظيم (خلقه) (٢) وشجاعته، قال: فقتله خالد بن الوليد، ثم دعا بغدائه فتغدى وهو متكئ على (جيفته) (٣) - (يعني جسده) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فارس کو فتح کرنے کے لئے آئے تو معلوم ہوا کہ یہاں ایک آدمی ہے جس کا نام ہزار مرد ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ بہت بہادر اور توانا ہے۔ حضرت خالد نے اسے قتل کیا اور پھر اس کا کھانا منگوا کر اس کی لاش کے پاس بیٹھ کرکھایا۔
حدیث نمبر: 35989
٣٥٩٨٩ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن عاصم عن أبي وائل أن خالد بن الوليد كتب: ⦗١٣⦘ ﷽ من خالد بن الوليد إلى رستم (ومهران) (١) وملأ (فارس) (٢)، سلام على من اتبع الهدى، فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد فإني أعرض عليكم الإسلام، فإن أقررتم به فلكم ما لأهل الإسلام، وعليكم ما على أهل الإسلام، وإن أبيتم فإني أعرض عليكم الجزية، فإن أقررتم بالجزية فلكم ما لأهل الجزية، وعليكم ما على أهل الجزية، (وإن) (٣) أبيتم فإن عندي رجالا (تحب) (٤) القتال كما تحب فارس الخمر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے خط میں لکھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم : خالد بن ولید کی طرف سے رستم، مہران اور فارس کے سرداروں کے نام۔ ہدایت کی اتباع کرنے والوں پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ حمد وصلوۃ کے بعد ! میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر تم اسلام قبول کرلو تو تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو اہل اسلام کے لئے ہے اور تم پر وہ سب باتیں لازم ہوں گی جو مسلمانوں پر لازم ہیں۔ اگر تم اسلام قبول کرنے سے انکار کرو تو میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ تم جزیہ ادا کرو، اگر تم جزیہ ادا کرنے لگو تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو جزیہ ادا کرنے والوں کو ملتی ہے اور تم پر ہر وہ چیز لازم ہوگی جو جزیہ ادا کرنے والوں پر لازم ہوتی ہے۔ اور اگر تم انکار کردو تو میرے پاس ایسے مرد ہیں جو قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارس والے شراب کو پسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 35990
٣٥٩٩٠ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا إسماعيل عن قيس قال: سمعت خالد بن الوليد يحدث بالحيرة (عن) (١) يوم مؤتة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حیرہ میں غزوہ موتہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا ہے۔