کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جنگ یمامہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 35973
٣٥٩٧٣ - (حدثنا أبو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال) (١): حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن عمارة عن أبي بكر بن محمد أن حبيب بن زيد قتله مسيلمة، فلما كان يوم اليمامة خرج أخوه عبد اللَّه بن زيد (وأمه) (٢)، وكانت أمه نذرت أن لا يصيبها (غسل) (٣) حتى يقتل مسيلمة فخرجا في الناس، قال: قال عبد اللَّه بن زيد: جعلته من شأني فحملت عليه (فطعنته) (٤) بالرمح، فمشى إليّ في الرمح، قال: وناداني رجل من الناس أن (آجره) (٥) الرمح، قال: فلم يفهم، قال: (فناداه) (٦) أن ألق الرمح من يدك، قال: فألقى الرمح من يده (وغُلب) (٧) مسيلمة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن محمد فرماتے ہیں کہ حبیب بن زید کو مسیلمہ نے قتل کیا تھا۔ جنگ یمامہ میں ان کے بھائی عبد اللہ بن زید اور ان کی والدہ لڑائی کے لئے نکلے۔ ان کی والدہ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اس وقت تک پانی کو ہاتھ نہیں لگائیں گی جب تک مسیلمہ کو قتل نہیں کردیا جاتا۔ چناچہ وہ ماں بیٹا لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔ عبد اللہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے مسیلمہ کو اپنی نظر میں رکھا اور پھر اس پر حملہ کیا اور اسے نیزہ مارا۔ وہ نیزہ لے کر میری طرف بڑھا اور لوگوں میں سے ایک آدمی نے مجھے پکارا کہ اس کے منہ میں نیزہ مارو۔ وہ اس بات کو سمجھ نہ پایا۔ پھر اس نے اسے آواز دی کہ اپنے ہاتھ سے نیزہ پھینک دو ۔ اس نے اپنے ہاتھ سے نیزہ پھینک دیا اور مسیلمہ مغلوب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35973
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35973، ترقيم محمد عوامة 34407)
حدیث نمبر: 35974
٣٥٩٧٤ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن ثمامة بن عبد اللَّه عن أنس قال: ⦗٦⦘ أتيت على ثابت بن قيس يوم اليمامة وهو (يتحنط) (١)، فقلت: أي عم ألا ترى ما لقي الناس فقال: الآن يا ابن أخي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ کے دن حضرت ثابت بن قیس سے ملا درآنحالیکہ وہ شدید غصے کے عالم میں تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اے چچا جان ! آپ نہیں دیکھتے کہ آج لوگوں میں کیسی لڑائی ہوئی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں بھتیجے میں نے اب دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35974
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35974، ترقيم محمد عوامة 34408)
حدیث نمبر: 35975
٣٥٩٧٥ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد المزني عن أبي بكر بن عمرو بن عتبة عن ابن عمر قال: أتيت على عبد اللَّه بن مخرمة صريعًا (يوم) (١) اليمامة، (فوقفت) (٢) عليه فقال: يا عبد اللَّه بن عمر، هل أفطر الصائم؟ قلت: نعم، قال: فاجعل لي في هذا المجن ماء لعلي أفطر عليه، فأتيت الحوض وهو مملوء دما، فضربته (بحجفة) (٣) معي، ثم اغترفت (فيه) (٤) فأتيته فوجدته قد قضى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کے پاس آیا، وہ شدید زخمی حالت میں میدانِ جنگ میں پڑے تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ! کیا روزہ دار نے روزہ افطار کرلیا (یعنی کیا روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا) میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے لئے اس پیالے میں پانی لے آؤ تاکہ میں بھی روزہ افطار کرلوں۔ میں حوض کی طرف آیا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے خون کو ہٹا کر پیالے کو پانی سے بھرا اور ان کے پاس لایا تو وہ وفات پاچکے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35975
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35975، ترقيم محمد عوامة 34409)
حدیث نمبر: 35976
٣٥٩٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن ثمامة بن أنس عن أنس قال: كنت بين يدي خالد بن الوليد وبين البراء يوم اليمامة. قال: فبعث خالد الخيل فجاؤا منهزمين، [وجعل البراء يرعد فجعلت ألحده إلى الأرض وهو يقول: (إني أجدني) (١) أفطر. قال: ثم بعث خالد الخيل فجاؤا منهزمين] (٢). ⦗٧⦘ قال: فنظر خالد إلى السماء ثم (بلد) (٣) إلى الأرض، وكان يصنع ذلك إذا أراد الأمر، ثم قال: يا براء، -وحدّ في نَفَسِه (٤) -، قال: فقال: الآن؟ قال: فقال: نعم الآن. قال: فركب البراء فرسه فجعل يضربها بالسوط، وكأني أنظر إليها (تمصع بذنبها) (٥) فحمد اللَّه وأثنى عليه وقال: يا أهل المدينة إنه لا مدينة لكم وإنما هو اللَّه وحده والجنة، ثم حمل وحمل الناس معه، فانهزم أهل اليمامة حتى أتى حصنهم (فلقيه) (٦) محكم اليمامة، (فقال: يا براء) (٧) فضربه بالسيف فاتقاه البراء (بالحجفة) (٨) فأصاب (الحجفة) (٩)، ثم ضربه البراء فصرعه فأخذ سيف محكم اليمامة فضربه به حتى انقطع، فقال: قبح اللَّه ما بقي منك، ورمى (به) (١٠) وعاد إلى سيفه (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت براء کے درمیان تھا۔ حضرت خالد نے ایک لشکر کو لڑائی کے لئے روانہ فرمایا تو وہ شکست کھاکر واپس آگیا۔ اس کے بعد حضرت براء پر لرزہ طاری ہوگیا اور میں نے انہیں سکون دینے کے لئے زمین کے ساتھ ملا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ پھر حضرت خالد نے ایک اور جماعت کو لڑائی کے لئے بھیجا وہ بھی شکست کھاکر واپس آگئی، حضرت خالد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر زمین کی طرف دیر تک دیکھتے رہے۔ حضرت خالد جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یونہی کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اے براء ! تم حملہ کرو۔ حضرت براء نے پوچھا ابھی ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ابھی۔ چناچہ حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے کوڑے مارنے لگے۔ وہ منظر گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ گھوڑا اپنی دم کو ہلا رہا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا کہ اے شہر والو ! تمہارا کوئی شہر نہیں ہے۔ وہ اللہ یکتا ہے اور اس کے پاس تمہارے لئے جنت ہے۔ پھر حضرت براء نے حملہ کیا اور ان کے ساتھ لوگوں نے بھی حملہ کیا اور اہل یمامہ کو شکست ہوگئی۔ پھر حضرت براء یمامہ والوں کے قلعے میں گئے اور یمامہ کے محکم سے سامنا ہوا۔ اس نے حضرت براء پر حملہ کیا۔ حضرت براء نے اس کے حملے کو ناکام بنا کر اس پر حملہ کیا اور اسے مار گرایا۔ پھر آپ نے یمامہ کے محکم کی تلوار پکڑی اور اس کا سر قلم کردیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تجھ میں سے جو باقی رہا اللہ اسے نامراد کرے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار کو پھینک دیا اور اپنی تلوار کو اٹھا لیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35976
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35976، ترقيم محمد عوامة 34410)
حدیث نمبر: 35977
٣٥٩٧٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن محمد قال: كان الزبير يتبع القتلى يوم اليمامة، فإذا رأى رجلا به رمق أجهز عليه، قال: فانتهى إلى رجل مضطجع مع القتلى فأهوى إليه بالسيف فلما وجد مس السيف وثب يسعى، وسعى الزبير خلفه وهو يقول: أنا ابن صفية المهاجر، قال: فالتفت إليه (الرجل) (١) ⦗٨⦘ فقال: كيف ترى شد أخيك الكافر؟ قال: (فحاصره) (٢) حتى نجا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ حضر ت زبیر رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ کے دن مقتولین کو تلاش کررہے تھے۔ جب وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرتے ، اس کا معائنہ کرتے، اگر اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہوتی تو اسے بھجوا دیتے۔ آپ ایک آدمی کے پاس پہنچے، جو مقتولین میں لیٹا ہوا تھا۔ آپ نے اسے تلوار لگائی تو وہ اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے بھاگے اور کہتے جاتے تھے کہ میں صفیہ کا مہاجر بیٹا ہوں۔ آدمی ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ آپ اپنے کافر بھائی کے پکڑنے کو کیسا سمجھتے ہیں۔ پھر انہوں نے اس کو گھیرا لیکن وہ آدمی بھاگ گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35977
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35977، ترقيم محمد عوامة 34411)
حدیث نمبر: 35978
٣٥٩٧٨ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبيد بن أبي الجعد عن عبد اللَّه ابن شداد بن الهاد قال: أصيب سالم مولى أبي حذيفة يوم اليمامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں کہ حضرت سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35978
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35978، ترقيم محمد عوامة 34412)
حدیث نمبر: 35979
٣٥٩٧٩ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه قال: كان شعار (المسلمين) (١) يوم مسيلمة يا أصحاب سورة البقرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کا شعار یہ جملہ تھا ” اے سورة البقرۃ والو ! “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35979
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35979، ترقيم محمد عوامة 34413)
حدیث نمبر: 35980
٣٥٩٨٠ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه قال: كانت في بني سليم ردة فبعث إليهم أبو بكر خالد بن الوليد، فجمع منهم (أناسًا) (١) في حظيرة حرقها عليهم بالنار، فبلغ ذلك عمر، فأتى (أبا) (٢) بكر فقال: انزع رجلا يعذب بعذاب اللَّه، فقال أبو بكر: واللَّه لا أشيم سيفا سله اللَّه على عدوه حتى يكون اللَّه هو يشيمه، وأمره فمضى من وجهه ذلك إلى (مسيلمة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب بنو سلیم کے لوگ مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر ان کی طرف روانہ فرمایا۔ وہاں انہوں نے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے انہیں آگ لگا دی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ آپ کو چاہئے کہ ایسے شخص کو قیادت سے معزول کردیں جو وہ عذاب دیتا ہے جو عذاب اللہ کا حق ہے ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ایسے اللہ کی تلوار کو نیام میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی تلوار کو نیام میں نہ رکھ دے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مسیلمہ کی طرف جانے کا حکم دے دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35980
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35980، ترقيم محمد عوامة 34414)
حدیث نمبر: 35981
٣٥٩٨١ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: ثنا ثمامة بن عبد اللَّه عن أنس أن خالد بن الوليد (وجه) (١) الناس يوم اليمامة (فأتوا) (٢) (على نهر) (٣) ⦗٩⦘ فجعلوا أسافل (أقبيتهم) (٤) في حجزهم، ثم قطعوا إليهم فتراموا فولى المسلمون مدبرين، فنكس خالد ساعة ثم رفع رأسه وأنا بينه وبين البراء، وكان خالد إذا (حزبه) (٥) أمر نظر إلى السماء ساعة ثم رفع رأسه إلى السماء، ثم (يفري) (٦) له رأيه، (فأخذ) (٧) البراء (أفكل) (٨) (فجعلت) (٩) ألحده إلى الأرض فقال: يا ابن أخي إني (لا أفطر) (١٠). ثم قال: يا براء قم، فقال البراء: الآن؟ قال: نعم الآن، فركب البراء فرسا له أنثى، فحمد اللَّه و (أثنى) (١١) عليه ثم قال: (أما) (١٢) بعد يا أيها الناس إنه ما إلى المدينة سبيل، إنما هي الجنة فحضهم ساعة ثم (مصع) (١٣) فرسه (مصعات) (١٤)، فكأني أراها (تمصع بذنبها) (١٥)، ثم كبس (١٦) وكبس الناس (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دشمنوں کی طرف روانہ فرمایا۔ وہ دریا کے کنارے پر پہنچے، دشمن نے ایک چال کے ذریعے مسلمانوں پر حملہ کیا تو مسلمان تتر بتر ہوگئے اور الٹے پاؤں واپس لوٹ آئے۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر سر جھکایا اور پھر سر اٹھایا۔ میں اس وقت ان کے اور حضرت براء کے درمیان کھڑا تھا۔ حضرت خالد کا معمول تھا کہ جب انہیں کوئی اہم کام پیش آتا تھا تو وہ کچھ دیر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تھے اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے۔ پھر وہ اپنی رائے کا اظہار فرماتے تھے۔ اتنے میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ پر کپکپی طاری ہوئی تو میں نے انہیں زمین کے ساتھ ملا دیا وہ کہنے لگے اے میرے بھائی ! میں روزہ توڑنا چاہتا ہوں۔ پھر حضرت خالد نے فرمایا کہ اے براء ! اٹھو۔ انہوں نے کہا اس وقت ؟ حضرت خالد نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت۔ (٢) پھر حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر فرمایا اے لوگو ! مدینہ جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، راستہ ہے تو جنت کا ہے۔ پھر آپ نے کچھ دیر انہیں ترغیب دی۔ پھر اپنے گھوڑے کو تھپکیاں دیں اور چل پڑے اور لوگ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ (٣) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمامہ والوں کے شہر میں ایک ٹیلہ تھا۔ یمامہ کے سربراہ نے اس پر اپنے پاؤں رکھے اور وہ ایک موٹا اور لمبا آدمی تھا۔ وہ رجز پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ میں یمامہ کا سربراہ ہوں، میں یہاں کے لوگوں کا ٹھکانہ ہوں اور میں، میں ہوں۔ (٤) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک پہلوان آدمی تھا۔ اس نے حضرت براء رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تو حضرت براء نے زرہ کے ذریعے اپنا بچاؤ کیا پھر حضرت براء نے اس کی پنڈلی پر وار کیا اور اسے مار ڈالا۔ یمامہ کے حاکم کے پاس ایک چوڑی ذرہ تھی، حضرت براء نے اپنی تلوار رکھی اور اس کی ذرہ لے کر اس سے مارا اور وہ ٹوٹ گیا پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ اس چیز کو رسوا کرے جو تیرے اور میرے درمیان ہے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار لے لی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35981
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35981، ترقيم محمد عوامة 34415)
حدیث نمبر: 35982
٣٥٩٨٢ - قال (حماد) (١) بن سلمة: فأخبرني عبيد اللَّه بن أبي بكر عن أنس ⦗١٠⦘ قال: كان في مدينتهم (ثلمة) (٢) فوضع محكم اليمامة رجليه عليها، وكان عظيما جسيمًا، فجعل يرتجز: أنا محكم اليمامة، أنا مدار الحلة، وأنا وأنا، قال: وكان رجلهم (٣)، فلما أمكنه من الضرب ضربه واتقاه البراء (بحجفته) (٤)، ثم ضرب البراء ساقه فقتله، ومع محكم اليمامة (صفيحة) (٥) عريضة، فألقى سيفه وأخذ صفيحة محكم، فحمل فضرب بها حتى انكسرت فقال: (قبح) (٦) اللَّه ما بيني وبينك وأخذ سيفه (٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35982
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن المبارك في الجهاد (١٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35982، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 35983
٣٥٩٨٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا (مسعر) (١) عن أبي عون الثقفي عن رجل لم يسمه أن أبا بكر لما أتاه فتح اليمامة سجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عون ثقفی روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یمامہ کی فتح کی خبر ملی تو آپ نے سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35983
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35983، ترقيم محمد عوامة 34416)