حدیث نمبر: 34702
٣٤٧٠٢ - حدثنا حاتم عن حميد بن صخر عن المقبري عن أبي هريرة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: " (من) (١) جاء مسجدي هذا، -قال: أبو بكر (يعني) (٢) مسجد المدينة- لم يأته إلا لخير يعلمه أو (يتعلمه) (٣) فهو بمنزلة المجاهد في سبيل اللَّه، ومن جاء لغير ذلك فهو بمنزلة الرجل ينظر إلى متاع غيره" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص میری اس مسجد میں آیا …امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی مدینہ منورہ کی مسجد میں … اور وہ نہیں آیا مگر کوئی خیر کی بات سکھانے کے لیے یا سیکھنے کے لیے ۔ تو وہ شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے۔ اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آیا تو وہ ا س شخص کے درجہ میں ہوگا جو کسی دوسرے کا سامان دیکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 34703
٣٤٧٠٣ - حدثنا شبابة قال: ثنا ليث بن سعد عن نافع عن إبراهيم بن عبد اللَّه ابن معبد عن ابن عباس عن ميمونة قالت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "صلاة فيه -يعني مسجد المدينة- أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا مسجد مكة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : میری اس مسجد میں …یعنی مسجد نبوی ﷺ میں …ایک نماز کا پڑھنا اس کے علاوہ کسی اور مسجد میں ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ سوائے مکہ کی مسجد کے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کہ اہل مصر والوں نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے مگر ان لوگوں کی سند میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 34704
٣٤٧٠٤ - قال أبو بكر: ورواة أهل مصر لا يدخلون فيه ابن عباس (١).
حدیث نمبر: 34705
٣٤٧٠٥ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد اللَّه بن عامر عن (عمران) (١) بن أبي أنس عن سهل بن سعد عن أبي بن كعب عن النبي ﷺ قال: "المسجد الذي أسس على التقوى هو مسجدي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ مسجد جس کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی ہے وہ میری مسجد ہے۔