حدیث نمبر: 34700
٣٤٧٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي المقدام عن حبة قال: جاء رجل إلى علي بن أبي طالب فقال: إني اشتريت بعيرًا وتجهزت وأريد المقدس، فقال: بع بعيرك وصل في هذا المسجد، -قال أبو بكر: يعني مسجد الكوفة- فما من مسجد بعد مسجد الحرام أحب إلي منه، لقد نقص مما (أسس) (١) خمسمائة ذراع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : بیشک میں نے ایک اونٹ خریدا ہے اور میں نے سامان سفر تیار کرلیا ہے اور میرا بیت المقدس جانے کا ارادہ ہے۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اپنے اونٹ کو بیچ دو اور اس مسجد میں نماز پڑھا کرو۔ امام ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یعنی کوفہ کی مسجد میں …اس لیے کہ مسجد حرام کے بعد کوئی بھی مسجد مجھے اس سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 34701
٣٤٧٠١ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: ثنا إسرائيل (عن إبراهيم بن مهاجر) (١) عن إبراهيم عن الأسود قال: لقيني كعب ببيت المقدس فقال: من أين ⦗٢٠٢⦘ جئت؟ فقلت: من مسجد الكوفة، (فقال) (٢): لأن أكون جئتُ من حيث جئتَ أحب إلي من أن أتصدقه بألفي دينار، أضع كل دينار منها في يد كل مسكين، ثم حلف إنه لوسط الأرض كقعر الطست.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ مجھے بیت المقدس میں ملے اور پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے کہا : کوفہ کی جامع مسجد سے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بھی وہاں سے آیا ہوں۔ جہاں سے تم آئے ہو۔ اور وہ جگہ مجھے اس بات سے زیادہ پسندید ہ ہے کہ میں دو ہزار دینار صدقہ کروں اور ان میں سے ہر ایک دینار کو ہر مسکین کے ہاتھ میں دوں۔ پھر قسم اٹھا کر ارشاد فرمایا : بیشک وہ مسجد زمین کے بالکل درمیان میں ہے جیسا کہ تھال کا پیندا ہوتا ہے۔