کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا بلال ، سیدنا صہیب اور سیدنا خبابرضی اللہ عنہ کے بارے میں منقو ل ہیں
حدیث نمبر: 34699
٣٤٦٩٩ - حدثنا أحمد بن (المفضل) (١) قال: ثنا أسباط بن (نصر) (٢) عن السدي عن أبي (سعيد) (٣) الأزدي عن أبي الكنود (عن خباب) (٤) بن الأرت: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ [الأنعام: ٥٢]، قال: جاء الأقرع بن حابس التميمي وعيينة بن (حصن) (٥) الفزاري فوجدوه قاعدًا مع بلال وعمار وصهيب وخباب بن الأرت في أناس من الضعفاء من المؤمنين، فلما رأوهم (حوله) (٦) حقروهم فأتوه فخلوا به، فقالوا: (إنا) (٧) نحب أن تجعل لنا منك مجلسا تعرف لنا به العرب فضلنا، فإن وفود العرب تأتيك فنستحي أن ترانا مع هذه الأعبد، فإذا نحن ⦗٢٠١⦘ جئناك فأقمهم عنا، وإذا نحن فرغنا فاقعد معهم إن شئت، قال: نعم، قالوا: فاكتب لنا كتابا فدعا بالصحيفة (لتكتب) (٨) ودعا عليًا ليكتب، فلما أراد ذلك ونحن قعود في ناحية إذ نزل عليه جبريل فقال: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ إلى قوله: ﴿فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنعام: ٥٢] (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الکنود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں فرمایا : آیت { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ } کہ اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری آئے اور ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ ، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور حضرت خباب بن الأرت رضی اللہ عنہ جو مسلمانوں میں سب سے کمزور لوگ تھے ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا۔ ان لوگوں نے ہمیں حقیر نظروں سے دیکھا۔ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلوت میں لے گئے اور کہنے لگے : کہ ہم یہ بات پسند کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے ایک الگ مجلس مقرر کریں تاکہ اہل عرب اس وجہ سے ہماری فضیلت کو جان لیں ۔ بیشک اہل عرب کے وفود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور ہم شرم کھاتے ہیں کہ وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں۔ لہٰذا جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو ہمارے پاس سے اٹھا دیا کریں ، اور جب ہم فارغ ہوجائیں تو پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو ان کے ساتھ بیٹھ جایا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ٹھیک ہے یہ لوگ کہنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایک تحریر لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستہ منگوایا تاکہ یہ بات لکھ دی جائے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا تاکہ وہ یہ لکھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھنے کا ارادہ کیا تو ہم لوگ ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے : { وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْہَہُ } سے لے کر { فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِینَ } تک۔