حدیث نمبر: 34688
٣٤٦٨٨ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل عن الشعبي قال: أول من بايع يوم الحديبية أبو سنان الأسدي (١).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : غزوۂ حدیبیہ والے دن سب سے پہلے بیعت کرنے والے شخص حضرت ابو سنان اسدی رضی اللہ عنہ تھے۔
حدیث نمبر: 34689
٣٤٦٨٩ - حدثنا محمد بن الحسن قال: ثنا حماد بن سلمة عن عاصم بن بهدلة عن أبي وائل أن وقد بني أسد أتوا رسول اللَّه ﷺ فقال: "من أنتم؟ " فقالوا: نحن بنو زنية، فقال: "أنتم بنو رشدة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو اسد کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : ہمارا تعلق قبیلہ بنو زِنَیَۃ سے ہے۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم تو بنو رشدہ ہو۔ ( زنیہ سے زنا کی طرف ذہن منتقل ہونے کی وجہ سے بنو رشدہ لقب عطا فرمایا) ۔
حدیث نمبر: 34690
٣٤٦٩٠ - حدثنا محمد بن الحسن قال: ثنا الوليد عن سماك بن حرب قال: أدركت (ألفين) (١) من بني أسد قد شهدوا القادسية في ألفين، وكانت راياتهم في يد سماك صاحب المسجد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سماک بن حرب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میں نے بنی اسد کے دو ہزار آدمیوں کو پایا جو قادسیہ کی جنگ میں شریک ہوئے تھے اور ان کے جھنڈے سماک صاحب مسجد کے ہاتھ میں تھے۔
حدیث نمبر: 34691
٣٤٦٩١ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عكرمة قال: جاء علي بسيفه فقال: ⦗١٩٨⦘ (خذيه حميدا) (١)، فقال: النبي ﷺ: "إن كنتَ أحسنتَ القتالَ اليومَ فقد أحسنه سهل بن حنيف وعاصم بن ثابت والحارث بن (الصمة) (٢) وأبو دجانة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اس تعریف شدہ کو پکڑو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آج کے دن تم نے شاندار قتال نہیں کیا تحقیق شاندار لڑائی تو سھل بن حنیف، عاصم بن ثابت، حارث بن الصمبہ اور ابو دجانہ رضی اللہ عنہ م نے لڑی۔ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن ارشاد فرمایا : کون شخص اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ پکڑے گا ؟ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں پکڑوں گا۔ اور تلوار پکڑی پھر اس کے ساتھ لڑے یہاں تک کہ تلوار کو واپس لائے اس حال میں کہ و ہ ٹیڑھی ہوچکی تھی۔ اور فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں !۔
حدیث نمبر: 34692
٣٤٦٩٢ - (وقال النبي ﷺ: "من يأخذ هذا السيف بحقه؟ "، فقال أبو دجانة) (١): (أنا) (٢)، وأخذ السيف فضرب به حتى جاء به قد حناه فقال: يا رسول اللَّه أعطيته حقه؟ قال: "نعم" (٣).