کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قبیلہ بنو تمیم کا بیان
حدیث نمبر: 34682
٣٤٦٨٢ - حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن جامع بن (شداد) (٢) عن صفوان بن محرز المازني عن عمران بن حصين قال: جاءت بنو تميم إلى النبي ﷺ فقال: "أبشروا يا بني تميم"، فقالوا: يا رسول اللَّه، بشرتنا فأعطنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو تمیم والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بنو تمیم ! خوشی مناؤ۔ تو ان لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے ہمیں خوشخبری سنائی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کچھ عطا کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34682
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٩٠)، وأحمد (١٩٨٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34682، ترقيم محمد عوامة 33169)
حدیث نمبر: 34683
٣٤٦٨٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن واصل عن المعرور بن سويد عن ابن فاتك قال: قال لي كعب: إن أشد أحياء العرب على الدجال لقومك -يعني: بني تميم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن فاتک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : بیشک عرب کے زندہ لوگوں میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت تمہاری قوم ہوگی یعنی قبیلہ بنو تمیم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34683
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34683، ترقيم محمد عوامة 33170)
حدیث نمبر: 34684
٣٤٦٨٤ - حدثنا أبو نعيم عن مسافر الجصاص عن (فضيل) (١) بن عمرو قال: ذكروا بني تميم عند حذيفة فقال: إنهم أشد الناس على الدجال (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس قبیلہ بنو تمیم کا ذکر فرمایا : تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک بنو تمیم والے لوگوں میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے دجال کے مقابلہ میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34684
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34684، ترقيم محمد عوامة 33171)
حدیث نمبر: 34685
٣٤٦٨٥ - حدثنا أبو نعيم عن مندل عن ثور عن رجل قال: خطب رجل من الأنصار امرأة فقال له رسول اللَّه ﷺ: "ما يضرك إذا كانت ذات دين وجمال أن لا تكون من آل حاجب بن زرارة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثور رحمہ اللہ ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : یہ بات تیرے لیے نقصان دہ نہیں ہے کہ وہ عورت دیندار اور خوبصورت ہو اور نہ یہ بات کہ وہ حاجب بن زرارہ تمیمی کے خاندان میں سے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34685
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34685، ترقيم محمد عوامة 33172)
حدیث نمبر: 34686
٣٤٦٨٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن أبي خلدة عن أبي العالية قال: قرأ على النبي ﷺ من كل خمس رجلٌ، فاختلفوا في اللغة (فرضي) (١) قراءتهم كلهم، (فكان) (٢) بنو تميم (أعرب) (٣) القوم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر پانچ میں سے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قرآن مجید کی قرائت کی۔ پس ان لوگوں نے زبان میں اختلاف کیا پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سب کی قرائت سے راضی ہوئے اور قبیلہ بنو تمیم لوگوں میں سے زیادہ عربی زبان میں فصیح تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34686
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو العالية تابعي، أخرجه ابن جرير الطبري في التفسير ١/ ١٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34686، ترقيم محمد عوامة 33173)
حدیث نمبر: 34687
٣٤٦٨٧ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: ثنا شعبة عن خالد الحذاء عن ابن سيرين أن أبا موسى كتب إلى عمر في ثمانية عشر (تجفافا) (١) أصابها، ⦗١٩٧⦘ فكتب إليه عمر أن ضعها في أشجع حي من العرب، قال: فوضعها في بني رباح حي من بني تميم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے خط لکھ کر دریافت کیا ان اٹھارہ زرہوں کے بارے میں جو ان کو ملی تھیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جواب میں لکھا : کہ ان زرہوں کو عرب کے سب سے بہادر قبیلہ والوں کے دے دو ۔ راوی فرماتے ہیں : کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ زرہیں بنو ریاح جو بنو تمیم کی ایک شاخ ہے ان کو مرحمت فرما دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34687
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34687، ترقيم محمد عوامة 33174)