حدیث نمبر: 34679
٣٤٦٧٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) عن ابن عباس إن وفد عبد القيس أتوا رسول اللَّه ﷺ فقال رسول اللَّه ﷺ: "من الوفد أو من القوم؟ " قال: (قالوا) (٢): ربيعة، قال: "مرحبا بالوفد أو بالقوم غير خزايا ولا (ندامى) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبد القیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کون سا وفد ہے ؟ یا یوں کہا : کون لوگ ہیں ؟ ان لوگوں نے عرض کیا : قبیلہ ربیعہ کے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وفد کو یا یوں فرمایا : لوگوں کو خوش آمدید جو نہ دنیا میں رسوا ہوں نہ آخرت میں شرمندہ۔
حدیث نمبر: 34680
٣٤٦٨٠ - حدثنا أبو نعيم عن عمر بن الوليد قال: حدثني شهاب بن عباد العصري أن أباه حدثه أن عمر بن الخطاب وقف عليهم بعرفات فقال: لمن هذه الأخبية؟ فقالوا: لعبد القيس، فدعا لهم واستغفر لهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد العصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عرفات کے میدان میں ایک جگہ ٹھہرے اور پوچھا : یہ کن لوگوں کے خیمے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : قبیلہ عبد القیس کے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیئے دعا فرمائی اور ان کے لیے استغفار کیا۔
حدیث نمبر: 34681
٣٤٦٨١ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن يونس قال: ذَكَر عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: قال أشج بني عصر: قال لي رسول اللَّه ﷺ: ["إن فيك لخلقين يحبهما اللَّه"، فقلت: ما هما؟ قال: "الحلم والحياء"، قال: قلت: أقديما كان في أو حديثًا؟ قال: "بل قديما"، قال: قلت: الحمد اللَّه الذي] (١) جبلني على خلقين يحبهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت اشج بنو عصر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : یقینا تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں کہ اللہ ان کو پسند کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا : وہ دونوں کون سی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بردباری اور حیائ۔ میں نے پوچھا : یہ مجھ میں پرانی ہیں یا جدید ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ پرانی ہیں۔ میں نے کہا : اللہ کا شکر ہے جس نے میری جبلت میں دو خصلتیں پیدا کیں جن کو وہ پسند کرتا ہے۔