کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو قبیلہ بنو عبس کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 34673
٣٤٦٧٣ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن سالم عن سعيد بن جبير قال: جاءت ابنة خالد بن (سنان) (١) العبسي إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: "مرحبا بابنة أخي مرحبا بابنة (نبي) (٢) ضيعه قومه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضر ت خالد بن سنان العبسی کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا : خوش آمدید میرے بھائی کی بیٹی کو خوش آمدید، نبی کی بیٹی کو جس کو اس کی قوم نے ضائع کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 34674
٣٤٦٧٤ - حدثنا أبو نعيم عن شريك عن أبي إسحاق قال: قال النبي ﷺ: "يا بني عبس ما شعاركم؟ " قالوا: حرام، قال: "بل شعاركم حلال" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بنو عبس والو ! تمہاری نشانی کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : حرام۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تمہاری نشانی تو ” حلال “ ہے۔
حدیث نمبر: 34675
٣٤٦٧٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو الضريس عقبة بن (عمار) (١) العبسي عن مسعود بن (حراش) (٢) أخ لربعي بن (حراش) (٣) أن عمر بن الخطاب سأل العبسيين: أي الخيل وجدتموه أصبر في حربكم؟ قالوا: الكميت (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعود بن حراش رحمہ اللہ جو حضرت ربعی بن حِراش رحمہ اللہ کے بھائی ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنو عبس والوں سے پوچھا : تم لوگ جنگوں میں کون سا گھوڑا زیادہ صابر پاتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : سیاہ و سرخ رنگ کے گھوڑے کو۔