کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو قبیلہ بنو عامر کے بارے میںمنقول ہیں
حدیث نمبر: 34669
٣٤٦٦٩ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج (عن) (١) عون (بن) (٢) أبي جحيفة عن أبيه قال: أتينا رسول اللَّه ﷺ (بالأبطح) (٣) في قبة له حمراء فقال: "من أنتم؟ "، قلنا: بنو عامر، قال: "مرحبا أنتم مني" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح مقام پر ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ چوغہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے عرض کیا : قبیلہ بنو عامر کے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خوش آمدید ۔ تم لوگ مجھ میں سے ہو۔
حدیث نمبر: 34670
٣٤٦٧٠ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنا كنا وأنتم في الجاهلية بني عبد مناف فنحن اليوم بنو عبد اللَّه، (وأنتم بنو عبد اللَّه) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نزال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا ہم لوگ اور تم لوگ زمانہ جاہلیت میں بنو عبد مناف کہلاتے تھے۔ پس آج کے دن ہم بھی بنو عبد اللہ ہیں اور تم بھی بنو عبد اللہ ہو۔
حدیث نمبر: 34671
٣٤٦٧١ - حدثنا وكيع عن (أبي) (١) هلال عن قتادة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم اكفني عامرًا واهد بني عامر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو میری کفایت فرما : عامر بن طفیل سے اور تو ہدایت عطا فرما قبیلہ بنو عامر بن صعصعہ کو۔
حدیث نمبر: 34672
٣٤٦٧٢ - حدثنا وكيع عن مسعر عن خشرم الجعفري أن (ملاعب الأسنة) (١) عامر بن مالك بعث إلى النبي ﷺ يسأله الدواء (والشفاء) (٢) من داء نزل (به) (٣)، فبعث إليه النبي ﷺ بعسل أو (عكة) (٤) من عسل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خشرم جعفری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عامر بن مالک رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک قاصد دوا مانگنے کے لیے یا کسی بیماری سے شفاء کے لیے بھیجا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف شہد یا شہد کا مشکیزہ بھیج دیا۔