کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض لوگوں کو دوسروں پر فضیلت دیتے ہیں
حدیث نمبر: 34658
٣٤٦٥٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن محمد بن أبي يعقوب قال: سمعت عبد الرحمن بن أبي بكرة يحدث عن أبيه أن الأقرع بن حابس جاء إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: إنما بايعك سراق (الحاج) (١) من أسلم وغفار ومزينة -وأحسب- جهينة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أرأيت إن كان أسلم وغفار وأحسب جهينة خيرًا من بني تميم ومن بني عامر وأسد وغطفان، (أ) (٢) خابوا وخسروا؟ " قال: نعم، قال: "فوالذي نفسي بيده إنهم لأخير منهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد حضرت ابو بکرہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا : بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلہ اسلم ، غفار، مزینہ… راوی کہتے ہیں… میرا گمان ہے کہ قبیلہ جھینہ بھی کہا… کے چوروں نے بیعت کی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیری کیا رائے ہے اگر قبیلہ اسلم، اور غفار، اور جھینہ والے قبیلہ بنو تمیم اور بنو عامر ، اسد اور غطفان والوں سے بہتر ہوں تو کیا وہ لوگ خسارے اور نقصان میں نہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے یقینا یہ ان سے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34658
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥١٦)، ومسلم (٢٥٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34658، ترقيم محمد عوامة 33145)
حدیث نمبر: 34659
٣٤٦٥٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن ابن أبي بكرة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أرأيتم) (١) إن كانت جهينة وأسلم وغفار خيرا من بني تميم ومن بني عبد اللَّه بن غطفان وعامر بن صعصعة"، ومد بها صوته قالوا: يا رسول اللَّه فقد خابوا وخسروا قال: "فإنهم خير" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے اگر قبیلہ جھینہ، اسلم ، اور قبیلہ غفار والے قبیلہ بنو تمیم اور عبد اللہ بن غطفان ، اور عامر بن صعصعہ وغیرہ سے بہتر ہوں ؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے اپنی آواز کو لمبا کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر تو وہ لوگ خسارے اور نقصان میں ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا یہ ہی بہتر لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34659
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥١٥)، ومسلم (٢٥٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34659، ترقيم محمد عوامة 33146)
حدیث نمبر: 34660
٣٤٦٦٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: سمعت أبا سلمة يحدث عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: ["أسلم وغفار ومزينة ومن كان من جهينة أو جهينة، خير من بني تميم ومن بني عامر و (الحليفين) (٢) أسد وغطفان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قبیلہ اسلم، قبیلہ غفار، قبیلہ مزینہ اور جو لوگ قبیلہ جھینہ میں سے ہیں یا یوں فرمایا کہ قبیلہ جھینہ والے قبیلہ بنو تمیم اور قبیلہ بنو عامر اور ان دونوں کے حلیف قبیلہ اسد اور قبیلہ غطفان سے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34660
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥١٢)، ومسلم (٢٥٢١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34660، ترقيم محمد عوامة 33147)
حدیث نمبر: 34661
٣٤٦٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سعد بن إبراهيم عن عبد الرحمن بن هرمز عن أبي هريرة عن النبي ﷺ] (١) قال: "قريش والأنصار وأسلم وغفار موالي للَّه ولرسوله ولا مولى لهم غيره" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قبیلہ قریش ، انصار ، قبیلہ اسلم، اور قبیلہ غفار والے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دوست ہیں۔ ان لوگوں کا ان کے سوا کوئی دوست نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34661
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٠٤)، ومسلم (٢٥٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34661، ترقيم محمد عوامة 33148)
حدیث نمبر: 34662
٣٤٦٦٢ - حدثنا معاوية بن هشام عن عمر بن راشد عن إياس بن سلمة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أسلم سالمها اللَّه وغفار غفر اللَّه لها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قبیلہ اسلم والے اللہ ان کی حفاظت فرمائے اور قبیلہ غفار والے اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34662
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عمر بن راشد، أخرجه أحمد (١٦٥١٧)، والطبراني (٦٢٥٥)، والخطيب في الموضح ٢/ ٢٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34662، ترقيم محمد عوامة 33149)
حدیث نمبر: 34663
٣٤٦٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن إسحاق عن عمران بن أبي أنس عن حنظلة بن علي الأسلمي عن خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري قال: صلى بنا رسول اللَّه ﷺ، فلما رفع رأسه من الركعة الآخرة قال: "أسلم سالمها اللَّه، وغفار غفر اللَّه لها"، ثم أقبل فقال: "إني لست أنا قلت هذا، ولكن اللَّه (قاله) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو ارشاد فرمایا : قبیلہ اسلم والے اللہ ان کو سلامت رکھے۔ اور قبیلہ غفار والے اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : یقینا میں نے یہ بات نہیں کہی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34663
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34663، ترقيم محمد عوامة 33150)