حدیث نمبر: 34639
٣٤٦٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن شعبة عن معاوية بن قرة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شام والے بگڑ جائیں تو تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 34640
٣٤٦٤٠ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا شعبة عن يزيد بن (خمير) (١) عن أبي (زبيد عن أبي) (٢) أيوب الأنصاري قال: ليهاجرن الرعد والبرق (والبركات) (٣) إلى الشام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ضرور بالضرور گرج، بجلی اور بارش شام کی طرف آئے گی۔
حدیث نمبر: 34641
٣٤٦٤١ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: مد (الفرات) (١) على عهد عبد اللَّه فكره الناس ذلك قال: أيها الناس، لا تكرهوا مده فإنه يوشك أن (يلتمس) (٢) فيه طست من ماء فلا يوجد، (وذاك) (٣) حين يرجع كل ماء إلى عنصره، فيكون الماء وبقية المؤمنين يومئذ بالشام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن عبد الرحمن رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فرات دریا بہت زیادہ بھر گیا ، تو لوگوں نے اسے برا سمجھا۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! اس کے بڑھنے کو بُرا مت سمجھو۔ بیشک وہ وقت قریب ہے کہ اس میں پانی کی سلفچی تلاش کی جائے گی تو وہ بھی نہیں ملے گی۔ اور یہ اس وقت ہوگا جب سارا پانی اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے گا۔ اور اس دن پانی اور بقیہ مومنین صر ف شام میں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 34642
٣٤٦٤٢ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب ﴿وَآوَيْنَاهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ﴾ [المؤمنون: ٥٠]، قال: دمشق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر یوں بیان کی : آیت { وَآوَیْنَاہُمَا إِلَی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِینٍ } اس میں دمشق شہر مراد ہے۔
حدیث نمبر: 34643
٣٤٦٤٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن أبي بكر الغساني عن حبيب قال: قال كعب: أحب البلاد إلى اللَّه الشام، وأحب الشام إليه القدس، وأحب القدس إليه جبل بنابلس، ليأتين على الناس زمان يتماسونه أو يتماسحونه (بالحبال) (١) (بينهم) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر غسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حبیب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : شہروں میں محبوب ترین شہر اللہ کے نزدیک شام ہے۔ اور شام میں محبوب ترین جگہ مقام قدس ہے ، اور مقام قدس میں محبوب ترین جگہ اللہ کے نزدیک نابلس کا پہاڑ ہے۔ ضرور بالضرور لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ اس کے درمیان رسی ڈال کر اس کو چھوئیں گے۔
حدیث نمبر: 34644
٣٤٦٤٤ - حدثنا عيسى بن يونس عن أبي بكر عن أبي الزاهرية قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "معقل المسلمين من الملاحم دمشق، ومعقلهم من الدجال بيت المقدس، ومعقلهم من يأجوج ومأجوج بيت الطور" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزاھریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنگوں کے دوران دمشق مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا۔ اور دجال سے جنگ کی صورت میں بیت المقدس مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا اور یاجوج ماجوج سے جنگ کے وقت بیت الطور مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 34645
٣٤٦٤٥ - حدثنا يحيى بن إسحاق قال: أخبرنا يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب أن عبد الرحمن بن شماسة المهري أخبره عن زيد بن ثابت قال: بينما نحن حول رسول اللَّه ﷺ نؤلف القرآن من الرقاع إذ قال: "طوبى للشام؟ " قيل: يا رسول اللَّه (بم) (١) ذاك ولم ذاك؟ قال: "إن ملائكة الرحمن باسطة أجنحتها عليها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد جمع تھے اور قرآن کو جمع کر رہے تھے چمڑوں سے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شام کے لیے خوشخبری ہے۔ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کس وجہ سے اور کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا رحمت کے فرشتوں نے ان پر اپنے پَر پھیلائے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 34646
٣٤٦٤٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حصين عن أبي مالك: ﴿الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا﴾ [الأنبياء: ٧١]، قال: الشام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مالک رحمہ اللہ نے قرآن کی اس آیت { الأَرْضِ الَّتِی بَارَکْنَا فِیہَا } ترجمہ : وہ زمین جس کو ہم نے بابرکت بنادیا۔ “ کے بارے میں فرمایا : کہ اس میں شام مراد ہے