کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو کوفہ والوں کی فضیلت میں ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 34620
٣٤٦٢٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأجلح عن عبد اللَّه بن شريك عن جندب الأزدي قال: خرجنا مع سلمان إلى الحيرة فالتفت إلى الكوفة فقال: قبة الإسلام، ما من (أخصاص) (١) يدفع عنها ما يدفع عن هذه، (إلا أخصاص) (٢) كان بها محمد ﷺ، ولا تذهب (الدنيا) (٣) حتى يجتمع كل مؤمن فيها أو رجل هواه إليها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب ازدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حیرہ مقام کی طرف نکلے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اسلام کا خیمہ ہے۔ اس کے گھروں میں سے کوئی گھر بھی افضل نہیں ہے سوائے محمد ﷺ کے گھروں کے، اور دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مؤمن اس میں جمع ہوگا یا اس میں آنے کی خواہش کرے گا۔
حدیث نمبر: 34621
٣٤٦٢١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن سفيان عن عبد اللَّه بن شريك قال: حدثني جندب قال: كنا مع سلمان ونحن جاؤون من الحيرة فقال: الكوفة قبة الإسلام -مرتين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، اور ہم حیرہ مقام سے آئے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے دو مرتبہ فرمایا : کوفہ اسلام کا خیمہ ہے۔
حدیث نمبر: 34622
٣٤٦٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم عن حذيفة قال: ما يدفع (١) عن أخبية ما يدفع عن أخبية كانت بالكوفة ليس أخبية كانت مع محمد ﷺ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوئی گھر بھی اہل کوفہ کے گھروں سے افضل نہیں ہے سوائے محمد ﷺ کے گھروں کے۔
حدیث نمبر: 34623
٣٤٦٢٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن ربيع بن عميلة عن حذيفة قال: اختلف رجل من أهل الكوفة ورجل من أهل الشام فتفاخرا، فقال الكوفي: نحن أصحاب يوم القادسية ويوم كذا وكذا ويوم كذا، وقال الشامي: نحن أصحاب اليرموك ويوم كذا ويوم كذا، فقال حذيفة: كلاهما لم يشهده اللَّه هلك عاد وثمود، (و) (١) لم يؤامره اللَّه فيهما لما أهلكهما، وما من قرية (أحرى) (٢) أن (تدفع) (٣) عنها عظيمة -يعني الكوفة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن عمیلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوفہ کے ایک آدمی اور شام کے ایک آدمی کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ یہ دونوں آپس میں فخر کرنے لگے۔ کوفی نے کہا : ہم تو جنگ قادسیہ کے دن والے لوگ ہیں ۔ اور شامی کہنے لگا : ہم تو جنگ یرموک والے ہیں اور فلاں فلاں دن والے لوگ ہیں۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اللہ نے عاد اور ثمود کی ہلاکت میں ان دونوں کو گواہ نہیں بنایا تھا اور نہ ہی ان دونوں سے اس بارے میں مشورہ کیا تھا اور کوئی بستی بھی اس لائق نہیں کہ اس شہر جتنی اس کی فضیلت بیان کی جائے، یعنی کوفہ جتنی۔
حدیث نمبر: 34624
٣٤٦٢٤ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن حبة العرني أن عمر بن الخطاب قال: يا أهل الكوفة أنتم رأس العرب و (جمجمتها) (١) وسهمي الذي أرمي به إن أتاني شيء من هاهنا وهاهنا، وإني بعثت إليكم بعبد اللَّه بن مسعود واخترته لكم وآثرتكم به على نفسي (إثرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبہ العرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے کوفہ والو ! تم عرب کی بنیاد ہو، اور میرا شہر ہو جس کے ذریعہ میں مقابلہ کرتا ہوں اگر کوئی چیز میرے پاس ادھر ادھر سے آجائے ، اور بیشک میں نے تمہاری طرف حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھیجا ہے اور میں نے ان کو تمہارے لیے چنا۔ اور ان کے معاملہ میں تم لوگوں کو اپنے آپ پر ترجیح دی۔
حدیث نمبر: 34625
٣٤٦٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن نافع بن جبير قال: كتب عمر بن الخطاب (١) إلى أهل الكوفة: إلى وجوه الناس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں کی طرف خط لکھا : تو ان کو اس لقب سے نوازا۔ معزز لوگوں کی طرف۔
حدیث نمبر: 34626
٣٤٦٢٦ - حدثنا وكيع عن يونس عن الشعبي أن عمر كتب إلى أهل الكوفة إلى رأس العرب (١).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں کی طرف خط لکھا : تو انہیں اس لقب سے نوازا۔ عرب کی بنیاد کی طرف۔
حدیث نمبر: 34627
٣٤٦٢٧ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: كتب عمر إليهم: إلى رأس (أهل) (١) الإسلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں کی طرف خط لکھا تو ان کو اس لقب سے نوازا۔ اسلام کی بنیاد کی طرف۔
حدیث نمبر: 34628
٣٤٦٢٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأجلح عن عبد اللَّه أبي الهذيل قال: يأتي على الناس زمان يخيم كل مؤمن بالكوفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اجلح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ ابو الھذیل رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ہر مومن کوفہ میں پڑاؤ ڈالے گا۔
حدیث نمبر: 34629
٣٤٦٢٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن (شمر) (١) قال: قال عمر: الكوفة رمح اللَّه وكنز الإيمان وجمجمة العرب، (يحرزون) (٢) ثغورهم، ويمدون الأمصار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوفہ اللہ کا نیزہ ہے۔ اسلام کا خزانہ ہے۔ اور عرب کا معزز قبیلہ ہے ۔ یہ لوگ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور شہروں کو بڑھاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 34630
٣٤٦٣٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن الركين بن الربيع عن أبيه قال: قال حذيفة: ما (١) إخبية بعد إخبية كانت مع النبي ﷺ ببدر يدفع عنها ما يدفع عن هذه -يعني الكوفة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحاب بدر کے گھروں کے بعد کوئی گھر ایسا نہیں جس کی فضیلت اس سے زیادہ ہو یعنی کوفہ سے۔
حدیث نمبر: 34631
٣٤٦٣١ - حدثنا وكيع قال: ثنا شريك عن عبد اللَّه بن شريك عن جندب عن سلمان قال: الكوفة قبة الإسلام، يأتي على الناس زمان لا يبقى فيها مؤمن إلا بها أو قلبه يهوي إليها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوفہ اسلام کا خیمہ ہے۔ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں کوئی مومن باقی نہیں رہے گا مگر وہ اس میں جمع ہوگا یا اس کا دل اس میں جمع ہونے کی خواہش کرے گا۔
حدیث نمبر: 34632
٣٤٦٣٢ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن أبي رجاء قال: سألت الحسن أهل الكوفة أشرف أو أهل البصرة؟ قال: كان (١) يبدأ باهل الكوفة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رجاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا : اہل کوفہ زیادہ شریف ہیں یا اہل بصرہ ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : ابتداء تو کوفہ سے کی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 34633
٣٤٦٣٣ - حدثنا يعلى بن عبيد عن الأجلح عن عمار عن سالم بن أبي الجعد عن عبد اللَّه بن (عمرو) (١) قال: يا أهل الكوفة أنتم أسعد الناس بالمهدي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے کوفہ والو ! تم سب لوگوں میں ہدایت یافتہ ہونے کے اعتبار سے زیادہ خوش بخت ہو۔
حدیث نمبر: 34634
٣٤٦٣٤ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قال لي: ممن أنت؟ فقلت: من أهل الكوفة، فقال: والذي نفسي بيده ليسافر منها إلى أرض العرب، لا يملكون قفيزًا، ولا درهمًا ثم لا ينجيكم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو ؟ میں نے کہا : کوفہ والوں میں سے ہوں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ انہوں نے سفر کیا عرب کی ایسی زمین کی طرف جہاں نہ تم ایک قفیز کے مالک ہو گے نہ ہی ایک درہم کے۔ اور تمہیں نجات بھی نہیں ملے گی۔