کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو مدینہ اور اس کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 34600
٣٤٦٠٠ - حدثنا إسماعيل بن علية (عن أيوب) (١) قال: نبئت عن نافع أنه حدث عن النبي ﷺ أنه قال: "من استطاع أن يموت بالمدينة فليمت بها، فإني أشفع ⦗١٧٣⦘ لمن مات بها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ وہ مدینہ میں مرجائے تو اس کو چاہیئے کہ وہ مدینہ میں مرے۔ پس بیشک میں اس شخص کے لیے شفاعت کروں گا جو اس میں مرے گا۔
حدیث نمبر: 34601
٣٤٦٠١ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن جابر بن سمرة قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "إن اللَّه سمى المدينة طابة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ یقینا اللہ نے مدینہ کا نام طابہ ( پاکیزہ) رکھا ہے۔
حدیث نمبر: 34602
٣٤٦٠٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن (أبي) (١) يحيى عن الحارث بن أبي يزيد سمع جابر بن عبد اللَّه يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "المدينة كالكير (ينفي) (٢) الخبث، كما ينفي الكير خبث الحديد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مدینہ لوہار کی دھونکنی کی طرح ہے یہ برائی کو ایسے ہی دور کرتا ہے جیسا کہ دھونکنی لوہے کا میل دور کردیتی ہے۔
حدیث نمبر: 34603
٣٤٦٠٣ - حدثنا علي بن مسهر عن مجالد عن الشعبي عن فاطمة بنت قيس عن النبي ﷺ قال: "هذه طيبة -يعني المدينة-، والذي نفس محمد بيده ما فيها طريق واسع ولا ضيق إلا عليه ملك شاهر بالسيف إلى يوم القيامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ طیبہ ( پاکیزہ ) ہے یعنی مدینہ منورہ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدر ت میں محمد ﷺ کی جان ہے اس میں کوئی کشادہ اور تنگ راستہ نہیں ہے مگر یہ کہ اس میں قیامت تک کے لیے ایک فرشتہ مقرر ہے جو تلوار سونتے ہوئے کھڑا ہے۔
حدیث نمبر: 34604
٣٤٦٠٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا مسعر عن سعد بن إبراهيم عن أبيه عن أبي بكرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لن يدخل المدينةَ رعبُ المسيح الدجال، لها ⦗١٧٤⦘ (يومئذ) (١) سبعة أبواب لكل باب ملكان" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہرگز مدینہ میں کانے دجال کا خوف داخل نہ ہو سکے گا۔ اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے، اور ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے۔
حدیث نمبر: 34605
٣٤٦٠٥ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن محمد بن المنكدر قال: سمعت جابرا (يحدث) (١) عن النبي ﷺ قال: "المدينة كالكير، تنفي خبثها وتنصع طِيبها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مدینہ لوہار کی دھونکنی کی طرح ہے جو گندگی کو ختم کرتا ہے۔ اور اس کی پاکیزگی میں نکھار پیدا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 34606
٣٤٦٠٦ - حدثنا ابن نمير عن هاشم بن (هاشم) (١) عن عبد اللَّه بن (نسطاس) (٢) عن جابر بن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أخاف أهل المدينة فعليه لعنة اللَّه والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل (اللَّه) (٣) منه صرفا ولا عدلًا، من أخافها فقد أخاف ما بين هذين (٤) ما بين جنبيه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے مدینہ والوں کو ڈرایا پس اس پر اللہ کی ، اس کے فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ، اس سے نہ کوئی نیکی قبول کی جائے گی اور نہ ہی کوئی فدیہ ، جس نے ان کو ڈرایا اس نے ان کے دونوں گوشوں والوں کو ڈرایا۔ یعنی دونوں کناروں کے لوگوں کو۔
حدیث نمبر: 34607
٣٤٦٠٧ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد اللَّه عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "الدجال يطوي الأرض كلها إلا مكة والمدينة، قال: فيأتي المدينة فيجد بكل (نقب من أنقابها) (١) صفوفا من الملائكة، فيأتي سبخة ⦗١٧٥⦘ (الحَرْفِ) (٢) فيضرب رواقه ثم ترجف المدينة ثلاث رجفات فيخرج إليه كل منافق ومنافقة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال ساری زمین کو طے کرے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے ۔ پس جب وہ مدینہ کے پا س آئے گا تو وہ اس کی دیواروں میں سے ہر دیوار پر فرشتوں کی صفیں پائے گا پھر وہ پانی کی کھوکھلی جگہ پر آ کر اس کی بنیاد کو پکڑے گا اور تین مرتبہ ہلائے گا ، پس ہر منافق مرد اور منافقہ عورت اس کی طرف نکل کر آجائے گی۔
حدیث نمبر: 34608
٣٤٦٠٨ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن خبيب بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک ایمان مدینہ کی طرف ایسے ہی سمٹ جائے گا جیسا کہ سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے۔
حدیث نمبر: 34609
٣٤٦٠٩ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن عدي بن ثابت عن عبد اللَّه بن يزيد عن زيد بن ثابت قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها طابة (وإنها) (١) تنفي الخبث"، -يعني المدينة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ طابہ ( پاکیزہ) ہے ، اور ہر برائی کو دور کردیتا ہے یعنی مدینہ منورہ۔
حدیث نمبر: 34610
٣٤٦١٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو عن سهل ابن حنيف قال: أهوى رسول اللَّه ﷺ بيده إلى المدينة فقال: "إنها (حرم) (٢) آمن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : بیشک یہ امن والا حرم ہے۔