حدیث نمبر: 34559
٣٤٥٥٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس قال: ثنا هاشم بن هاشم عن أبي جعفر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقدموا قريشا فتضلوا، ولا تأخروا عنها فتضلوا، خيار قريش خيار الناس، وشرار قريش شرار الناس، والذي نفس محمد بيده لولا أن تبطر قريش لأخبرتها (ما) (١) لخيارها عند اللَّه، أو ما لها عند اللَّه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم قریش سے آگے مت بڑھو ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور قریش سے پیچھے مت رہو ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔ قریش کے بہترین لوگ تمام لوگوں میں بہترین ہیں، اور قریش کے بدترین لوگ تمام لوگوں میں بدترین لوگ ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر قریش آپے سے باہر نہ ہوجاتے تو میں ان کو بتلاتا کہ وہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین ہیں۔
حدیث نمبر: 34560
٣٤٥٦٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن أبي (سفيان) (١) عن جابر قال: ⦗١٦١⦘ قال رسول اللَّه ﷺ: "الناس تبع لقريش في الخير والشر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ بھلائی اور برائی میں قریش کے تابع ہیں۔
حدیث نمبر: 34561
٣٤٥٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن خثيم عن إسماعيل بن (عبيد اللَّه) (١) ابن رفاعة عن أبيه عن جده قال: جمع رسول اللَّه ﷺ قريشا فقال: "هل فيكم من غيركم"، (قالوا: لا) (٢)، إلا ابن أختنا ومولانا و (حليفنا) (٣)، فقال: "ابن أختكم منكم، [ومولاكم منكم، (وحليفكم منكم) (٤)] (٥)، إن قريشا أهل صدق وأمانة، فمن بغى لهم العواثر كبه اللَّه على وجهه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جمع کیا اور فرمایا : کیا تم میں کوئی غیر تو نہیں ؟ لوگوں نے کہا : نہیں سوائے ہمارے بھانجوں کے اور ہمارے غلاموں اور حلیفوں کے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بھانجے تم میں سے ہیں اور تمہارے حلیف بھی تم میں سے ہیں اور تمہارے غلام بھی تم میں سے ہیں۔ بیشک قریش سچے اور دیانت دار ہیں۔ جو شخص ان کی غلطیاں اور لغزشیں تلاش کرے گا تو اللہ اس کو اوندھے منہ گرائیں گے۔
حدیث نمبر: 34562
٣٤٥٦٢ - حدثنا يعلى بن عبيد عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الناس تبع لقريش في هذا الأمر، خيارهم تبع لخيارهم، وشرارهم تبع لشرارهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ اس معاملہ میں قریش کے تابع ہیں۔ لوگوں میں سے بہترین لوگ قریش کے بہترین لوگوں کے تابع ہیں۔ اور لوگوں میں بدترین لوگ قریش کے بدترین لوگوں کے تابع ہیں۔
حدیث نمبر: 34563
٣٤٥٦٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن أبي ذئب عن الزهري عن طلحة بن عبد اللَّه بن عوف عن عبد الرحمن بن الأزهر عن جبير بن مطعم أن رسول اللَّه ﷺ ⦗١٦٢⦘ قال: "إن للقرشي مثل قوة رجلين من غير قريش" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک ایک قریشی کو غیر قریشی آدمیوں کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ اما م زہری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا : اس سے کیا مراد ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : رائے کی پختگی مراد ہے۔
حدیث نمبر: 34564
٣٤٥٦٤ - قيل للزهري: ما (عنى) (١) بذلك؟ قال: في نبل الرأي.
حدیث نمبر: 34565
٣٤٥٦٥ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سهل بن أبي (حثمة) (١) أن رسول اللَّه ﷺ قال: "تعلموا من قريش و (لا) (٢) تعلموها، وقدموا قريشًا ولا تؤخروها، فإن للقرشي قوة الرجلين من غير قريش" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ قریش سے سیکھو۔ ان کو سکھاؤ مت، اور قریش کو آگے کرو اور تم ان کو پیچھے مت کرو۔ یقینا ایک قریشی کو دو غیر قریشی آدمیوں جتنی طاقت حاصل ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 34566
٣٤٥٦٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد اللَّه بن (مبشر) (١) عن زيد (بن) (٢) (أبي) (٣) عتاب (قال) (٤): قام معاوية على المنبر فقال: قال النبي ﷺ: "الناس تبع لقريش في هذا الأمر، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا، واللَّه لولا ⦗١٦٣⦘ أن تبطر قريش لأخبرتها بما لخيارها عند اللَّه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ابی عتاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ قریش کے تابع ہیں اس معاملہ خلافت میں۔ قریش کے جو لوگ جاہلیت میں بہترین تھے وہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جبکہ ان کو سمجھ دی گئی ہو۔ اللہ کی قسم اگر قریش آپے سے باہر نہ ہوجاتے تو میں ان کو بتلاتا کہ وہ اللہ کے نزدیک کتنے بہترین آدمی ہیں !
حدیث نمبر: 34567
٣٤٥٦٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش قال: ثنا (سهل) (١) (أبو الأسد) (٢) عن بكير الجزري عن أنس قال: أتانا رسول اللَّه ﷺ ونحن في بيت رجل من الأنصار فأخذ بعضادتي الباب ثم قال: "الأئمة من قريش" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ ہم لوگ ایک انصاری آدمی کے گھر میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پکڑے پھر ارشاد فرمایا : ائمہ قریش میں سے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 34568
٣٤٥٦٨ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن زياد بن مخراق عن أبي كنانة عن أبي موسى قال: قام (١) رسول اللَّه ﷺ على باب (٢) فيه نفر من قريش فقال: "إن هذا الأمر في قريش" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دروازے پر کھڑے ہوئے جہاں قریش کا گروہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک یہ خلافت کا معاملہ قریش میں ہی ہوگا۔
حدیث نمبر: 34569
٣٤٥٦٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن ⦗١٦٤⦘ القاسم ابن الحارث عن (عبيد اللَّه) (١) بن عتبة عن أبي مسعود قال: قال رسول اللَّه ﷺ لقريش: ["إن هذا الأمر فيكم وأنتم ولاته" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا : بیشک یہ خلافت کا معاملہ تمہارے درمیان ہی ہوگا اور تم ہی نگران ہو گے۔
حدیث نمبر: 34570
٣٤٥٧٠ - حدثنا معاذ بن معاذ عن عاصم بن محمد بن زيد قال: سمعت أبي يقول: سمعت ابن عمر يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يزال هذا الأمر في قريش] (١) ما بقي من الناس اثنان"، قال عاصم: في حديثه وحرك إصبعيه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خلافت کا معاملہ قریش میں رہے گا جب تک دو ولوگ بھی باقی ہوں۔ حضرت عاصم رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو حرکت بھی دی۔
حدیث نمبر: 34571
٣٤٥٧١ - حدثنا يونس بن محمد عن ليث بن سعد عن يزيد بن الهاد عن إبراهيم ابن سعد عن صالح بن كيسان عن ابن (شهاب) (١) عن محمد (بن) (٢) أبي سفيان عن يوسف بن (أبي) (٣) عقيل عن سعد قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "من يرد هوان قريش يهنه اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص قریش کی اہانت کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ اسے ذلیل کردیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 34572
٣٤٥٧٢ - حدثنا قبيصة بن عقبة عن سفيان بن الحارث بن حصيرة عن ⦗١٦٥⦘ أبي صادق عن علي قال: قريش أئمة العرب، أبرارها أئمة أبرارها، وفجارها أئمة فجارها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قریش عرب کے سردار ہیں۔ ان کے نیک لوگ نیکو کاروں کے سردار ہیں، اور ان کے فاسق و فاجر لوگ فساق و فجار کے سردار ہیں۔
حدیث نمبر: 34573
٣٤٥٧٣ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عثمان بن المغيرة الثقفي عن أبي صادق عن ربيعة بن ناجد عن علي قال: إن قريشًا هم أئمة العرب، أبرارها أئمة أبرارها، وفجارها أئمة فجارها، ولكل حق، فأدوا إلى كل ذي حق حقه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیعہ بن ناجد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بیشک قریش عرب کے سردار ہیں۔ اور ان کے نیک لوگ نیکوکاروں کے سردار ہیں۔ اور ان کے بد لوگ بدکاروں کے سردار ہیں۔ اور ہر ایک کا حق ہوتا ہے ۔ پس تم ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو۔
حدیث نمبر: 34574
٣٤٥٧٤ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني معاوية بن صالح قال: حدثني أبو مريم قال: سمعت أبا هريرة يقول: إن رسول اللَّه ﷺ (قال) (١): "الملك في قريش، والقضاء في الأنصار، والأذان في الحبشة، والسرعة في اليمن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خلافت قریش میں ہوگی۔ اور قضاء انصار میں ہوگی۔ اور اذان کا شعبہ حبشہ میں ہوگا اور جلدی یمن میں ہوگی۔
حدیث نمبر: 34575
٣٤٥٧٥ - حدثنا شبابة بن سوار قال: ثنا شعبة عن عمرو بن دينار قال: سمعت عبيد بن عمير يقول: دعا رسول اللَّه ﷺ لقريش فقال: "اللهم كما أذقت أولهم عذابًا، فأذق آخرهم نوالًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے لیے یوں دعا فرمائی۔ اے اللہ ! جیسے تو نے پہلے لوگوں کو عذاب چکھایا ایسے ہی تو ان کے آخری لوگوں کو اپنی نعمت اور عطاء چکھا دے۔
حدیث نمبر: 34576
٣٤٥٧٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا إبراهيم بن (مرثد) (١) قال: حدثني عمي أبو صادق عن علي قال: الأئمة من قريش (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ائمہ قریش میں سے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 34577
٣٤٥٧٧ - حدثنا علي بن مسهر عن زكريا عن الشعبي قال: أخبرني عبد اللَّه بن مطيع بن الأسود عن أبيه قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (١): يوم فتح مكة (٢): "لا يقتل قرشي صبرًا بعد هذا اليوم إلى يوم القيامة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آج کے دن کے بعد قیامت کے دن تک کسی قریشی کو نشانہ لے کر قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 34578
٣٤٥٧٨ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن ابن أبي ذئب عن جبير بن أبي صالح عن الزهري عن سعد بن أبي وقاص (قال) (١): إن رجلا قتل، فقيل للنبي ﷺ، فقال: "أبعده اللَّه، إنه كان (يبغض) (٢) قريشًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی قتل ہوگیا پس اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا : اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اس کو اپنی رحمت سے دور کرے۔ بیشک وہ قریش سے بغض رکھتا تھا۔
حدیث نمبر: 34579
٣٤٥٧٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا زكريا قال: ثنا سعد بن إبراهيم أنه بلغه أن النبي ﷺ قال: "الناس تبع لقريش، برهم لبرهم، وفاجرهم لفاجرهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو خبر پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ قریش کے تابع ہیں، نیکو کار نیکوکاروں کے تابع ہیں، اور بدکردار بدکاروں کے تابع ہیں۔