حدیث نمبر: 34526
٣٤٥٢٦ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ رأى نساء وصبيانا من الأنصار مقبلين من عرس، فقال: "اللهم أنتم ⦗١٥١⦘ من أحب الناس إلي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں کو کسی شادی کی تقریب سے آتا دیکھ کر ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! تم لوگ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔
حدیث نمبر: 34527
٣٤٥٢٧ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن محمد بن عبد الرحمن عن ابن شرحبيل عن قيس بن سعد بن عبادة عن النبي ﷺ أنه قال: "اللهم صل على الأنصار، وعلى ذرية الأنصار، وعلى ذرية ذرية الأنصار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو انصار پر رحمت فرما، اور انصار کے بچوں پر بھی اور انصار کے بچوں کے بچوں پر بھی۔
حدیث نمبر: 34528
٣٤٥٢٨ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو سلك الناس واديًا وشعبًا وسلكتم واديًا وشعبًا لسلكت واديكم وشعبكم، أنتم شعار (١)، والناس دثار، ولولا الهجرة (كنت) (٢) امرءا من الأنصار"، ثم رفع يديه حتى إني لأرى بياض إبطيه ما تحت منكبيه فقال: "اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں اور اے انصار ! تم دوسری وادی اور گھاٹی میں چلو تو ضرور میں تمہاری وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ تم لوگ میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے کپڑے کا اندرونی حصہ اور باقی لوگ جیسے کپڑے کا بیرونی حصہ، اور اگر ہجرت اہم معاملہ نہ ہوتا تو میں انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے نیچے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : اے اللہ ! تو انصار کی مغفرت فرما۔ اور ان کی اولاد کی مغفرت فرما۔
حدیث نمبر: 34529
٣٤٥٢٩ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة قال: ثنا عدي بن ثابت عن البراء بن عازب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الأنصار لا يحبهم إلا مؤمن، ولا يبغضهم إلا منافق، ومن أحبهم أحبه اللَّه، ومن أبغضهم أبغضه اللَّه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انصار سے محبت نہیں کرے گا سوائے مومن کے، اور ان سے بغض نہیں رکھے گا سوائے منافق کے۔ اور جو شخص ان سے محبت رکھتا ہے اللہ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ اور جو شخص ان سے بغض رکھتا ہے، اللہ بھی ان سے بغض رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 34530
٣٤٥٣٠ - حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: ثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو أن الناس سلكوا واديًا أو شعبًا، وسلك الأنصار واديًا أو شعبًا، لسلكت وادي الأنصار أو شعبهم، ولولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر لوگ کسی ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں ضرور انصاری کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ اور اگر ہجرت اہم معاملہ نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔
حدیث نمبر: 34531
٣٤٥٣١ - [حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو قال: حدثنا أبو سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أحب الأنصار أحبه اللَّه، ومن أبغض الأنصار أبغضه اللَّه"] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص انصار سے محبت کرے گا تو اللہ بھی اس سے محبت کرے گا اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا تو اللہ بھی اس سے بغض رکھے گا۔
حدیث نمبر: 34532
٣٤٥٣٢ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا محمد بن عمرو قال: ثنا سعد بن المنذر عن حمزة بن أبي سيد الأنصاري عن الحارث بن زياد -من أصحاب بدر- قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أحب الأنصار أحبه اللَّه (حتى) (١) يلقاه، ومن أبغض الأنصار أبغضه اللَّه (حتى) (٢) يلقاه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن زیاد رضی اللہ عنہ جو کہ بدری صحابی ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص انصار سے محبت کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کریں گے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملاقات کرے اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا تو اللہ بھی اس سے بغض رکھیں گے یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملاقات کرے۔
حدیث نمبر: 34533
٣٤٥٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن (سعيد) (١) أن سعد بن إبراهيم أخبره عن الحكم بن ميناء عن يزيد بن (جارية) (٢) أنه كان جالسًا في نفر من ⦗١٥٣⦘ الأنصار فمر عليهم معاوية فسألهم عن حديثهم، فقالوا: كنا في حديث من حديث الأنصار فقال معاوية: أفلا أزيدكم حديثا سمعته من رسول اللَّه ﷺ؟ قالوا: بلى يا أمير المؤمنين، قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من أحب الأنصار أحبه اللَّه، ومن أبغض الأنصار أبغضه اللَّه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن مینائ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں انصار کے ایک گروہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ہم پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو انہوں نے لوگوں سے ان کی گفتگو کے متعلق پوچھا ؟ لوگوں نے عرض کیا : کہ ہم لوگ انصار کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کیا میں بھی تمہیں ایسی حدیث نہ سناؤں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ؟ لوگوں نے کہا : اے امیر المؤمنین : کیوں نہیں ! ضرور ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص انصار سے محبت کرے گا تو اللہ بھی اس سے محبت کریں گے۔ اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا تو اللہ بھی اس سے بغض رکھے گا۔
حدیث نمبر: 34534
٣٤٥٣٤ - حدثنا أبو أسامة عن زكريا عن عطية عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ألا إن عيبتي التي آوى إليها (١) أهل بيتي، وإن كرشي الأنصار، فاعفوا عن مسيئهم واقبلوا من محسنهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار میرے خاص لوگ جن کی طرف میں نے پناہ پکڑی وہ میرے گھر کے لوگ ہیں۔ اور یقینا میرے راز دار انصار ہیں ۔ پس تم لوگ ان کی برائیوں سے درگزر کرو اور ان کی نیکیوں کو پسند کرو۔
حدیث نمبر: 34535
٣٤٥٣٥ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عدي عن البراء أن النبي ﷺ قال: "أقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم"، -يعني الأنصار (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان کی نیکیوں کو پسند کرو اور ان کی برائیوں سے درگزر کرو۔ یعنی انصار کے لوگوں کی۔
حدیث نمبر: 34536
٣٤٥٣٦ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي (شميلة) (١) قال: حدثني رجل عن سعيد الصراف، (أو) (٢) هو عن سعيد الصراف عن إسحاق بن سعد بن عبادة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن هذا الحي من ⦗١٥٤⦘ الأنصار (محنة) (٣)، (حبهم) (٤) إيمان وبغضهم نفاق" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا یہ انصار کا قبیلہ آزمائش ہیں۔ ان سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔
حدیث نمبر: 34537
٣٤٥٣٧ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: ثنا زهير بن محمد عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن الطفيل بن أبي عن أبيه قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار، ولو سلك الناس واديًا أو شعبًا (لسلكت) (٢) مع الأنصار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اُبیّ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر ہجرت اہم معاملہ نہ ہوتا تو میں بھی انصار ہی میں سے ایک آدمی ہوتا، اور اگر انصار کسی ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انصار کے ساتھ چلوں گا۔
حدیث نمبر: 34538
٣٤٥٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الناس دثار، والأنصار شعار، الأنصار كرشي وعيبتي، ولولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ میرے لیے کپڑے کے بیرونی حصہ کی طرح ہیں۔ اور انصار میرے لیے کپڑے کے اندرونی حصہ کی طرح ہیں۔ اور انصار میرے خاص رازدار لوگ ہیں۔ اگر ہجرت اہم معاملہ نہ ہوتا تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔
حدیث نمبر: 34539
٣٤٥٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أبي بكر بن أنس قال: كتب زيد بن أرقم إلى أنس يعزيه بولده وأهله الذين أصيبوا يوم الحرة، ⦗١٥٥⦘ فكتب في كتابه: وإني مبشرك ببشرى من اللَّه، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار (ولنساء الأنصار) (١) ولنساء أبناء الأنصار ولنساء أبناء أبناء الأنصار" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر بن انس رحمہ اللہ نے فرمایا : کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان سے ان کے بچہ اور بیوی کی تعزیت کی جو حرّہ کے دن شہید ہوگئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خط میں لکھا : اور میں تمہیں اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! تو انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کی اولاد کی، اور انصار کی اولاد کی اولاد کی، اور انصار کی عورتوں کی، اور انصار کی اولاد کی عورتوں کی ۔ اور انصار کی اولاد کی اولاد کی عورتوں کی بھی۔
حدیث نمبر: 34540
٣٤٥٤٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر قال: كان رسول اللَّه ﷺ (إذا ذكر الأنصار) (١) قال: "أعفة صبر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی انصار کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ پاک دامنی اور صبر سے لبریز ہیں۔
حدیث نمبر: 34541
٣٤٥٤١ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر (بن) (١) قتادة (أن قتادة) (٢) بن النعمان سقطت عينه على (وجنتيه) (٣) يوم أحد، فردها رسول اللَّه ﷺ فكانت أحسن عينيه وأحدهما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی آنکھ غزوہ احد کے دن ان کے رخسار سے گرگئی تھی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس کو اس کی جگہ پر لوٹا دیا تو آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھ پہلے سے زیادہ خوبصورت اور تیز ہوگئی تھی۔
حدیث نمبر: 34542
٣٤٥٤٢ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق أن رسول اللَّه ﷺ رد يد ⦗١٥٦⦘ خبيب ابن (يساف) (١) و (ضرب) (٢) يوم بدر على حبل العاتق، فردها رسول اللَّه ﷺ فلم ير منها إلا مثل (خط) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خبیب بن اساف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ان کی جگہ پر لوٹا دیا، جو غزوہ بدر کے دن گردن اور مونڈھے کے درمیان سے کٹ گیا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوٹا دیا۔ وہ جگہ یوں معلوم ہوتی تھی جیسے کوئی ہلکا سا نشان ہو۔
حدیث نمبر: 34543
٣٤٥٤٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر قال: جاء رجل إلى رسول اللَّه ﷺ فجعل يذكر قريشًا وما جمعت، وجعل (يتوعده بهم) (١)، فقال له رسول اللَّه ﷺ: "يأبى ذلك عليك بنو قيلة، إنهم قوم في حدهم فرط" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اور قریش اور ان کی جمعیت کا ذکر کر کے ان کی طرف سے دھمکیاں دینے لگا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ارشاد فرمایا : قبیلہ اوس اور خزرج والے تیرے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور بیشک یہ ایسی قوم ہیں کہ جن کے غصہ کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔
حدیث نمبر: 34544
٣٤٥٤٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت أبا حمزة قال: قالت الأنصار: يا رسول اللَّه، إن لكل نبي أتباعًا، وإنا قد اتبعناك، فادع اللَّه أن يجعل أتباعنا منا، فدعا لهم أن يجعل أتباعهم منهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حمزہ رحمہ اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ انصار نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! بیشک ہر نبی ﷺ کے پیروکار ہوتے ہیں اور تحقیق ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار بنادیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ ان کو پیروکاروں میں سے بنا دے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اس کی سند حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔
حدیث نمبر: 34545
٣٤٥٤٥ - قال: فنميت ذلك إلى عبد الرحمن ابن أبي ليلى فقال: قد زعم ذلك زيد (١).
حدیث نمبر: 34546
٣٤٥٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة عن قتادة عن أنس عن أسيد ابن حضير أن رسول اللَّه ﷺ قال للأنصار: "إنكم سترون بعدي أثرة"، قالوا: فما تأمرنا؟ قال: " (تصبرون) (١) حتى تلقوني على الحوض" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسید بن حضیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا : عنقریب میرے بعد تم پاؤ گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے عرض کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم صبر کو اختیار کرنا یہاں تک کہ مجھے حوض کوثر پر آملو۔
حدیث نمبر: 34547
٣٤٥٤٧ - حدثنا عفان قال: ثنا وهيب قال: ثنا عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن عبد اللَّه بن زيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار، ولو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار وشعبهم، الأنصار شعار والناس دثار، وإنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر ہجرت اہم معاملہ نہ ہوتا تو میں بھی انصار ہی میں سے ایک شخص ہوتا۔ اگر لوگ کسی ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں ، تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار میرے لیے کپڑے کے اندرونی حصہ کی طرح ہیں۔ اور باقی لوگ میرے لیے کپڑے کے بیرونی حصہ کی طرح ہیں۔ اور بیشک عنقریب تم لوگ دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔ پس تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات کرو۔
حدیث نمبر: 34548
٣٤٥٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن سعد بن إبراهيم عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "قريش والأنصار وجهينة ومزينة وأسلم وغفار موالي اللَّه ورسوله، لا مولى لهم غيره" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قریش، انصار، قبیلہ جھینہ، قبیلہ مزینہ اور قبیلہ اسلم اور غفار والے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دوست ہیں۔ ان کے سوا ان کا کوئی دوست نہیں۔
حدیث نمبر: 34549
٣٤٥٤٩ - حدثنا أبو خالد عن حميد عن أنس قال: خرج رسول اللَّه ﷺ غداة باردة، والمهاجرون والأنصار يحفرون الخندق، فلما نظر إليهم قال: "ألا إن العيش عيش الآخرة … فاغفر للأنصار والمهاجرة" (فأجابوه) (١): نحن الذين بايعوا محمدا … على الجهاد ما بقينا أبدا (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے نکلے اس حال میں کہ مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو یہ شعر پڑھا : ترجمہ : خبردار ! اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ اے اللہ ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ پس صحابہ رضی اللہ عنہ م نے جواباً یہ شعر پڑھا : ہم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ سے بیعت کی، جہاد پر جب تک ہم لوگ باقی ہیں۔
حدیث نمبر: 34550
٣٤٥٥٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عدي عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يبغض الأنصارَ رجلٌ يؤمن باللَّه واليوم الآخر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انصار سے بغض نہیں رکھے گا ایسا شخص جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 34551
٣٤٥٥١ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يبغض الأنصار رجل يؤمن باللَّه واليوم الآخر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انصار سے بغض نہیں رکھے گا ایسا شخص جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 34552
٣٤٥٥٢ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا سليمان بن المغيرة قال: ثنا ثابت البناني عن (عبد اللَّه) (١) بن رباح قال: وفدنا وفودا لمعاوية وفينا أبو هريرة وذلك في رمضان فقال: ألا أعلمكم بحديمث من حديثكم يا معشر الأنصار، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يا معشر الأنصار"، قالوا: لبيك يا رسول اللَّه، قال: "قلتم أما الرجل فأدركته رغبة في قريته ورأفة بعشيرته"، (قالوا) (٢): قد قلنا ذاك يا رسول اللَّه، قال: "فما اسمي إذن"، قال: "كلا إني عبد اللَّه ورسوله هاجرت إليكم المحيا محياكم، والممات مماتكم"، قال: فأقبلوا إليه يبكون ويقولون: واللَّه يا رسول اللَّه ما قلنا الذي قلنا إلا الضن باللَّه ورسوله، قال: " (فكان) (٣) اللَّه ورسوله يصدقانكم ويعذرانكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی صورت میں آئے، اس حال میں کہ ہم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ اور یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے گروہ انصار ! کیا میں تمہیں تمہارے متعلق ایک حدیث نہ سناؤں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے گروہ انصار ! لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم حاضر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ کہتے ہو : ایک آدمی کو اپنے علاقہ میں رغبت ہوگئی اور اس کو اپنے قبیلہ سے محبت ہے ! ہم نے یہ کہا ہے ! اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تب تو یہ میر انام نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ بیشک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے تمہاری طرف ہجرت کی۔ جینا تمہارے ساتھ ہے اور مرنا بھی تمہارے ساتھ ۔ راوی کہتے ہیں سب صحابہ رونے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے یہ بات جو کہی صرف اس مقصد سے کہ اللہ اور ا س کے رسول ﷺ کا قرب مقصود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ اور اس کا رسول ﷺ دونوں تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 34553
٣٤٥٥٣ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن عبد اللَّه بن أبي قتادة قال: أخبرت أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لولا الهجرة لكنت امرءا من الأنصار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر ہجرت اہم معاملہ نہ ہوتا تو میں بھی انصار میں سے ایک شخص ہوتا۔
حدیث نمبر: 34554
٣٤٥٥٤ - حدثنا زيد بن حباب عن هشام بن هارون الأنصاري قال: حدثني معاذ بن رفاعة بن رافع عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم اغفر للأنصار، ولذراري الأنصار، ولذراري ذراريهم ولمواليهم وجيرانهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : اے اللہ ! تو انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کی اولاد کی بھی، اور ان کی اولاد کی اولاد کی بھی، اور ان کے غلاموں کی بھی اور ان کے پڑوسیوں کی بھی۔
حدیث نمبر: 34555
٣٤٥٥٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا ابن الغسيل قال: ثنا عكرمة عن ابن عباس قال: جلس رسول اللَّه ﷺ يومًا على المنبر عليه ملحفة متوشحًا بها (عاصبًا) (١) رأسه بعصابة دسماء، قال: فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: " (يا) (٢) أيها الناس تكثرون، و (يقل) (٣) الأنصار حتى (يكونوا) (٤) كالملح في الطعام، فمن ولي من أمرهم شيئًا فليقبل من محسنهم وليتجاوز عن مسيئهم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کو احرام کی سی حالت میں لیا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر کالی پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم لوگ زیادہ ہو اور انصار تھوڑے ہیں ۔ یہاں تک کہ یہ کھانے میں نمک کی مقدار کے برابر ہوجائیں گے۔ پس جس شخص کو ان سے کوئی واسطہ پڑے تو اس کو چاہیئے کہ وہ ان کی نیکیوں کو قبول کرے اور ان کی برائیوں سے درگزر کرے۔
حدیث نمبر: 34556
٣٤٥٥٦ - حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن طلحة قال: كان يقال: بغض الأنصار نفاق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یوں کہا جاتا تھا کہ انصار سے بغض رکھنا نفاق ہے۔
حدیث نمبر: 34557
٣٤٥٥٧ - حدثنا شبابة بن سوار قال: ثنا شعبة عن معاوية بن قرة أنه سمع أنسًا يحدث عن النبي ﷺ قال: "اللهم أصلح الأنصار والمهاجرة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔
حدیث نمبر: 34558
٣٤٥٥٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة عن هشام بن زيد عن أنس قال: رأى رسول اللَّه ﷺ نساء و (صبيانًا) (١) من الأنصار مقبلين من عرس فقال: "اللهم (٢) أحب الناس إلي (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں اور بچوں کو شادی کی ایک تقریب سے آتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا : اے اللہ ! لوگوں میں میرے سب سے عزیز ترین لوگ یہ ہیں۔