کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 34515
٣٤٥١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن جرير بن عبد اللَّه قال: ما حجبني رسول اللَّه ﷺ منذ أسلمت، ولا رآني قط إلا تبسم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی محروم نہیں رکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میری طرف نہیں دیکھا مگر یہ کہ تبسم فرماتے ۔
حدیث نمبر: 34516
٣٤٥١٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن يونس (بن) (١) أبي إسحاق عن المغيرة ابن شبيل بن عوف عن جرير قال: لما دنوت من المدينة (أنخت) (٢) راحلتي ثم ⦗١٤٧⦘ حللت عيبتي ولبست حلتي، قال: فدخلت ورسول اللَّه ﷺ يخطب، فسلمت على النبي ﷺ فرماني الناس بالحدق، فقلت لجليسي: يا عبد اللَّه أذكر رسول اللَّه ﷺ من أمري شيئًا؟ قال: نعم، ذكرك بأحسن الذكر، قال: فبينما رسول اللَّه ﷺ يخطب إذ عرض له في خطبته فقال: "أنه سيدخل عليكم من هذا الفج أو من هذا الباب من خير (ذوي) (٣) يمن على وجهه مسحة ملك"، قال جرير: فحمدت اللَّه على ما أبلاني (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شبل بن عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب میں مدینہ منورہ کے قریب ہوا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر میں نے اپنا گندا جوڑا اتارا۔ اور صاف جوڑا پہنا۔ پھر میں مدینہ میں داخل ہوا اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو لوگوں نے بڑی عزت کی نگاہ سے مجھے دیکھا اس پر میں نے اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے معاملہ کے بارے میں کچھ ذکر فرمایا تھا ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے تمہارا بہت اچھا تذکرہ فرمایا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک عنقریب تمہارے پاس اس کشادہ راستہ سے یا اس دروازے سے ایک شخص آئے گا جو بہت خیر و برکت والا ہوگا اور اس کے چہرے پر فرشتہ کی سی چھاپ ہوگی۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ پس میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اس انعام سے نوازا۔
حدیث نمبر: 34517
٣٤٥١٧ - حدثنا (وكيع) (١) عن إسماعيل عن قيس عن جرير قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "ألا تريحني من ذي الخلصة"، بيت كان لخثعم في الجاهلية يسمى الكعبة اليمانية، قال: قلت: يا رسول اللَّه إني رجل لا أثبت على الخيل، قال: فمسح في صدري وقال: "اللهم اجعله هاديًا مهديًا" (حتى وجدت بردها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے راحت دلا سکتے ہو ؟ ذی الخلصہ زمانہ جاہلیت میں خثعم کا گھر تھا جسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! بیشک میں ایسا شخص ہوں جو گھوڑے پر مضبوط نہیں بیٹھ سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اور دعا فرمائی، اے اللہ ! اس کو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا دے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی۔