کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 34508
٣٤٥٠٨ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) قال: ثنا زائدة عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: كان أول من (أظهر) (٢) إسلامه سبعة: رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر (٣) ⦗١٤٤⦘ وعمار وأمه (سمية) (٤) وبلال (وصهيب) (٥) والمقداد، فأما رسول اللَّه ﷺ فمنعه اللَّه بعمه أبي طالب، وأما أبو بكر فمنعه اللَّه (بقومه) (٦)، وأما سائرهم فأخذهم المشركون فألبسوهم أدراع الحديد وصهروهم في الشمس، فما منهم (٧) أحد إلا وأتاهم على ما أرادوا، إلا بلال فإنه هانت عليه نفسه في اللَّه، وهان على قومه، فأخذوه فأعطوه الولدان فجعلوا يطوفون به في شعاب مكة وهو يقول: أحد أحد (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے اسلام کو ظاہر کرنے والے سات اشخاص تھے حضرت رسول اللہ، حضرت ابو بکر، حضرت عمار رضی اللہ عنہ ، اور ان کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا ، حضرت صھیب، حضرت بلال اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ ، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ نے ان کے چچا ابو طالب کے ذریعہ حفاظت فرمائی۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اللہ نے ان کی قوم کے ذریعہ حفاظت فرمائی۔ اور باقی سب کو قریش نے پکڑ لیا۔ اور لوہے کی زرہیں پہنا کر سورج کی تپش میں ڈال دیا۔ ان سب میں سے کوئی نہیں تھا مگر یہ کہ وہ ان کے ارادوں کے سامنے پست پڑگئے۔ سوائے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ۔ پس انہوں نے اللہ کے بارے میں اپنے نفس کو بےوقعت کرلیا۔ اور قوم کے لیے آسان ہوگئے۔ پس ان لوگوں نے ان کو پکڑ کر بچوں کے حوالہ کردیا۔ اور بچے ان کو مکہ کی گلیوں میں چکر لگواتے تھے اس حال میں کہ یہ اَحَد اَحَد پکار رہے ہوتے کہ اللہ ایک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34508
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم هو ابن أبي النجود ضعيف في زر، أخرجه أحمد (٣٨٣٢)، وابن ماجه (١٥٠)، وابن حبان (٧٠٨٣)، والشاشي (٦٤١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٤٩، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ١٤١، والبيهقي في الدلائل ٢/ ٢٨١، والحاكم ٣/ ٢٨٤، والبزار (١٨٤٥)، والهيثم بن كليب (٦٤١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34508، ترقيم محمد عوامة 32999)
حدیث نمبر: 34509
٣٤٥٠٩ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: أول من أظهر الإسلام: سبعة رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وبلال وخباب وصهيب وعمار وسمية (١) أم عمار، قال: فأما رسول اللَّه ﷺ فمنعه عمه، وأما أبو بكر فمنعه قومه، وأخذ الآخرون فألبسوهم أدراع (الحديد) (٢) (ثم) (٣) صهروهم في الشمس، حتى بلغ الجهد منهم كل مبلغ، فأعطوهم كل ما سألوا، فجاء إلى كل رجل منهم قومه بأنطاع الأدم فيها الماء فألقوهم (فيها) (٤)، ثم حملوا بجوانبه، إلا بلال فجعلوا في عنقه ⦗١٤٥⦘ حبلًا ثم أمروا صبيانهم (يشتدون) (٥) به بين (أخشبي) (٦) مكة وجعل يقول: أحد أحد (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے اسلام ظاہر کرنے والے سات لوگ تھے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ ، حضرت صھیب رضی اللہ عنہ ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ ، حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا جو حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ان کے چچا نے کی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حفاظت ان کی قوم نے کی، باقی سب لوگوں کو پکڑ لیا گیا اور پھر کافروں نے انہیں لوہے کی زرہیں پہنائیں پھر ان کو سورج کی تپش میں ڈال دیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک کو انتہاء کی مشقتیں برداشت کرنا پڑیں پس ان لوگوں نے ان کو ہر چیز دی جو انہوں نے مانگی۔ ان میں سے ہر ایک آدمی کی طرف قوم کے افراد چمڑے کے بڑے مشکیزے میں پانی لاتے اور ان کو اس میں ڈال دیتے۔ پھر ان کو پہلوؤں سے اٹھا لیتے، سوائے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے۔ کفار نے ان کی گردن میں رسی ڈالی پھر بچوں کو حکم دیا کہ وہ ان کو مکہ کے دو پہاڑوں کے درمیان گھسیٹیں۔ اس حال میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہوتے۔ اَحَد اَحَد ، اللہ ایک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34509
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، مجاهد تابعي، أخرجه أحمد في الفضائل (٢٨٢)، وابن سعد ٣/ ٢٣٣، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34509، ترقيم محمد عوامة 33000)
حدیث نمبر: 34510
٣٤٥١٠ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني حسين بن واقد قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ (قال: "سمعت) (١) (خشخشة) (٢) أمامي فقلت: من هذا؟ " (قالوا) (٣): بلال، فأخبره قال: "بما سبقتني إلى الجنة؟ "، قال: يا رسول اللَّه ما أحدثت إلا توضأت، ولا توضأت إلا رأيت (أن) (٤) للَّه علي ركعتين أصليهما، قال: "بها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے آگے آہٹ کی آواز سنی تو میں نے پوچھا : یہ کو ن ہے ؟ فرشتوں نے کہا : بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دی اور پوچھا : کس عمل کی وجہ سے تم مجھ پر سبقت لے گئے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کبھی حدث لاحق نہیں ہوا مگر میں نے وضو کرلیا ۔ اور میں نے کبھی وضو نہیں کیا مگر یہ کہ میں نے سوچا کہ بیشک اللہ کا مجھ پر حق ہے دو رکعتوں کا، میں نے ان کو پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسی وجہ سے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34510
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حسين بن واقد صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٩٩٦)، والترمذي (٣٦٨٩)، وابن خزيمة (١٢٠٩)، وابن حبان (٧٠٨٦)، والحاكم ٣/ ٢٨٥، وابن أبي عاصم (١٢٦٩)، والطبراني (١٠١٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٥٠، والبيهقي في الشعب (٢٧١٧)، والخطيب في التاريخ ١١/ ٣٧٠، والبغوي (١٠١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34510، ترقيم محمد عوامة 33001)
حدیث نمبر: 34511
٣٤٥١١ - حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل عن قيس قال: اشترى أبو بكر بلالًا بخمس أواق ثم أعتقه، قال: فقال له بلال: يا أبا بكر، إن كنت إنما اعتقتني لتتخذني (خادمًا) (١) فاتخذني (خادمًا) (٢)، وإن كنت (إنما) (٣) أعتقتني للَّه فدعني ⦗١٤٦⦘ فأعمل للَّه، قال: فبكى أبو بكر ثم قال: بل أعتقتك للَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال کو پانچ اوقیہ چاندی کے عوض خریدا پھر آزاد کردیا۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اگر تم نے مجھے اس لیے آزاد کیا کہ تم مجھے اپنا خزانچی بنا لو، پس تم مجھے چاہو تو خزانچی بنا لو، اور اگر تم نے مجھے آزاد کیا ہے اللہ کے لیے تو مجھے فارغ چھوڑ دو تاکہ میں اللہ کے لیے عمل کروں۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے پھر فرمایا : بلکہ میں نے تمہیں اللہ کے لیے آزاد کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34511
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34511، ترقيم محمد عوامة 33002)
حدیث نمبر: 34512
٣٤٥١٢ - حدثنا وكيع عن عبد العزيز بن عبد اللَّه الماجشون عن محمد بن المنكدر عن جابر قال: قال عمر: أبو بكر سيدنا، وأعتق سيدنا يعني بلالًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے آقا ہیں ۔ اور انہوں نے ہمارے آقا کو آزاد کیا یعنی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34512
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34512، ترقيم محمد عوامة 33003)
حدیث نمبر: 34513
٣٤٥١٣ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن أبيه قال: (حدثنا) (١) قال: كان بلال خازن أبي بكر ومؤذن النبي ﷺ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر کے خزانچی تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34513
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34513، ترقيم محمد عوامة 33004)
حدیث نمبر: 34514
٣٤٥١٤ - حدثنا أبو أسامة قال: سمعت هشاما قال: ثنا الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "بلال سابق الحبش" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ والوں سے سبقت لے گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34514
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٧٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34514، ترقيم محمد عوامة 33005)