کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا سعد بن معاذرضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 34488
٣٤٤٨٨ - حدثنا ابن إدريس عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لقد اهتز العرش لموت سعد بن معاذ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے عرش بھی حرکت میں آگیا۔
حدیث نمبر: 34489
٣٤٤٨٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن عمرو عن أبيه عن جده عن عائشة عن أسيد بن حضير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لقد اهتز العرش لموت سعد بن معاذ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسید بن حضیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت سے عرش بھی حرکت میں آگیا۔
حدیث نمبر: 34490
٣٤٤٩٠ - حدثنا هوذة قال: ثنا عوف عن أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي ﷺ قال: "لقد اهتز العرش لموت سعد بن معاذ" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحقیق سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت سے عرش بھی حرکت میں آگیا۔
حدیث نمبر: 34491
٣٤٤٩١ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن مجاهد عن ابن عمر قال: اهتز العرش لحب لقاء (١) سعدًا قال: إنما يعني السرير، قال: (تفسخت) (٢) أعواده، قال: دخل رسول اللَّه ﷺ قبره فاحتبس فلما خرج قيل: يا رسول اللَّه ما حبسك؟ قال: "ضم سعد في القبر ضمة فدعوت اللَّه أن يكشف عنه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی محبت میں عرش بھی جھوم اٹھا۔ اور اس کی لکڑیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر رکے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد کو قبر میں بالکل جوڑ دیا گیا پھر میں نے اللہ سے دعا کی تو قبر کشادہ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 34492
٣٤٤٩٢ - حدثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن رجل حدثه عن حذيفة قال: لما مات سعد بن معاذ قال (١) رسول اللَّه ﷺ: "اهتز العرش لروح سعد ابن معاذ" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی روح کی وجہ سے عرش بھی حرکت میں آگیا۔
حدیث نمبر: 34493
٣٤٤٩٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد عن إسحاق ابن راشد عن امرأة من الأنصار يقال: لها أسماء ابنة يزيد قالت: لما (أخرج) (١) بجنازة سعد بن معاذ صاحت أمه، فقال رسول اللَّه ﷺ لأم سعد: ⦗١٣٩⦘ "ألا يرقأ دمعك ويذهب حزنك، فإن ابنك أول من ضحك له اللَّه واهتز له العرش" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسحاق بن راشد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری عورت جس کا نام اسماء بنت یزید ہے انہوں نے فرمایا : جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ نکالا گیا تو ان کی والدہ چیخیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی والدہ سے ارشاد فرمایا : تمہارے آنسو کیوں خشک نہیں ہو رہے اور تمہارا غم کیوں ختم نہیں ہو رہا ؟ ! یقینا تمہارا بیٹا وہ پہلا شخص ہے جس کے لیے اللہ مسکرائے اور عرش بھی اس کی وجہ سے حرکت میں آگیا۔
حدیث نمبر: 34494
٣٤٤٩٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا محمد بن عمرو قال: ثنا واقد بن عمرو ابن سعد بن معاذ قال: دخلت على أنس بن مالك حين قدم المدينة مع ابن أخي فسلمت عليه، فقال: من أنت؟ فقلت: أنا واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ، قال: فبكى فأكثر البكاء، ثم قال: إنك شبيه سعد، إن سعدًا كان من أعظم الناس وأطولهم، وإن رسول اللَّه ﷺ بعث بعثًا إلى أكيدر دومة، فأرسل بحلة من ديباج منسوج فيها الذهب فلبسها رسول اللَّه ﷺ فجعل الناس (يلمسونها) (١) بأيديهم فقال: "أتعجبون من هذه؟ " قالوا: يا رسول اللَّه ما رأيناك أحسن منك اليوم، قال رسول اللَّه ﷺ: "لمناديل سعد في الجنة أحسن مما ترون" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں اپنے بھائی کے ساتھ مدینہ آیا تو میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوا۔ اور میں نے ان کو سلام کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بہت روئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا تم حضرت کے مشابہہ ہو۔ بیشک وہ لوگوں میں سب سے عظیم اور بڑے آدمی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیدر دومہ کی طر ف ایک لشکر بھیجا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا بھیجا جو ریشم کا تھا اور اس میں سونے کا کام ہو اتھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ملبوس فرمایا : تو لوگ اس کپڑے کو خوبصورتی کی وجہ سے ہاتھ لگا رہے تھے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم کو یہ اچھا لگا ؟ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے آج تک اس سے اچھا اور خوبصورت کوئی کپڑا نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی خوبصورت ہیں جو کپڑا تم دیکھ رہے ہو۔
حدیث نمبر: 34495
٣٤٤٩٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن البراء بن عازب قال: أهدي للنبي ﷺ ثوب من حرير، فجعلوا يعجبون من لينه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لمناديل سعد في الجنة ألين من هذا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک ریشم کا جوڑا ہدیہ دیا گیا۔ تو لوگ اس کی ملائمت سے تعجب کرنے لگے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں سعد کے رومال اس سے کہیں زیادہ نرم ہیں۔
حدیث نمبر: 34496
٣٤٤٩٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن عبد اللَّه بن شداد أن النبي ﷺ قال لسعد وهو يكيد بنفسه: "جزاك اللَّه خيرًا من سيد قوم، فقد صدقت اللَّه ما ⦗١٤٠⦘ وعدته، وهو صادق ما وعدك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جبکہ وہ جان کنی کی حالت میں تھے ۔ اللہ تمہیں قوم کے سردار کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ پس تم نے جو اللہ سے وعدہ کیا تھا تو نے وہ سچ کر دکھایا اور وہ بھی اپنے وعدہ کو پورا کرنے میں سچا ہے جو اس نے تم سے وعدہ کیا ۔
حدیث نمبر: 34497
٣٤٤٩٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن أبي إسحاق عن عمرو بن شرحبيل قال: لما أصيب سعد بن معاذ بالرمية يوم الخندق، جعل دمه يسيل على النبي ﷺ فجاء أبو بكر فجعل يقول: وانقطاع ظهراه، فقال النبي ﷺ: "يا أبا بكر"، فجاء عمر فقال: إنا للَّه وإنا إليه راجعون (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب غزوہ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر لگا تو ان کا خون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گررہا تھا : پس ابوبکر رضی اللہ عنہائے اور کہنے لگے : اس کی کمر ٹوٹے ! اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر ! پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہائے اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھی۔