کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آئی ہیں
حدیث نمبر: 34486
٣٤٤٨٦ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني خالد بن أبي كريمة عن (شعيب) (١) (ابن) (٢) يسار السدوسي عن عكرمة قال: قال رسول اللَّه ﷺ لأبي بن كعب: "إني أمرت أن أقرئك القرآن"، قال: وذكرني ربي؟ قال: "نعم"، قال: (فما اقرأني) (٣) آية فأعدتها عليه ثانية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : بیشک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھاؤں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : میرے رب نے میرا ذکر کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جو بھی آیت پڑھاتے تو میں دوبارہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہراتا۔
حدیث نمبر: 34487
٣٤٤٨٧ - حدثنا (عبد) (١) اللَّه بن نمير عن الأجلح عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن ابن أبزى عن أبيه عن أبي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أمرت أن أقرأ عليك القرآن"، قال: قلت: يا رسول اللَّه وذكرت ثم؟ قال: "نعم"، قال أبي: ⦗١٣٧⦘ ﴿بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ (٢) فَبِذَلِكَ (فَلْيَفْرَحُوا) (٣)﴾ [يونس: ٥٨]، في قراءة أبي: ﴿(فَلْتَفْرَحُوا) (٤)﴾ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم کو قرآن پڑھاؤں۔ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا ذکر کیا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پس اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ ، پس اس وجہ سے چاہیئے کہ وہ خوش ہوں ۔ اور حضرت ابی ّ کی قراءت میں ہے کہ پس تم خوش ہو۔ فلیفر حوا کی بجائے فلتفرحوا ہے۔