کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کے بارے میں آئی ہیں
حدیث نمبر: 34478
٣٤٤٧٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن (مغيرة) (١) (عن الشعبي) (٢) ⦗١٣٤⦘ قال: قالت عائشة: ما ينبغي لأحد أن يبغض أسامة بعد ما سمعت من رسول اللَّه ﷺ يقول: "من كان يحب اللَّه ورسوله فليحب أسامة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کسی ایک کے لیے بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھے ۔ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو سن لینے کے بعد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے پس اس کو چاہیئے کہ وہ اسامہ سے بھی محبت کرے۔
حدیث نمبر: 34479
٣٤٤٧٩ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا إسماعيل عن قيس أن أسامة بن زيد لما قتل أبوه قام بين يدي النبي ﷺ، فدمعت عين النبي ﷺ ثم جاء من الغد فقام مقامه (١) فقال له رسول اللَّه ﷺ: "ألاقي منك اليوم ما لاقيت منك أمس" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے والد کو جب قتل کردیا گیا تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے۔ پھر اگلا دن آیا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : آج میں تم سے اس جگہ مل رہا ہوں جہاں میں تم سے کل ملا تھا ؟
حدیث نمبر: 34480
٣٤٤٨٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ كان قطع بعثا قبل موتة وأمر عليهم أسامة بن زيد، وفي ذلك البعث أبو بكر وعمر قال: فكان (أناسا) (١) من الناس طعنوا في ذلك لتأمير رسول اللَّه ﷺ أسامة عليهم، فقام رسول اللَّه ﷺ فخطب الناس فقال: "إن أناسا منكم قد طعنوا عليَّ في تأمير أسامة، وإنما طعنوا في تأمير أسامة كما طعنوا في تأمير أبيه، وأيم اللَّه إن كان لخليقًا للإمارة، وإن كان لمن أحب الناس إلي، وإن ابنه لأحب الناس إلي من بعده، وإني لأرجو أن يكون من صالحيكم، فاستوصوا به خيرا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی جانب بھیجنے کے لیے لشکر تیار کیا اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر بنادیا حالانکہ اس لشکر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس گویا لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسامہ کو لشکر پر امیر بنانے پر ناگواری کا اظہار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : بیشک تم میں سے کچھ لوگوں نے مجھ سے ناگواری کا اظہار کیا ہے اسامہ کو امیر بنانے پر۔ اور بیشک انہوں نے اسامہ کو امیر بنانے سے پہلے اس کے باپ کو امیر بنائے جانے پر بھی ناگواری کا اظہار کیا تھا۔ اور اللہ کی قسم ! وہ امارت کے زیادہ قابل تھے۔ اور بیشک وہ بھی لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھے۔ اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اور بیشک میں امید کرتا ہوں۔ کہ یہ تمہارے نیکو کاروں میں سے ہوگا۔ پس تم لوگ اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو۔
حدیث نمبر: 34481
٣٤٤٨١ - حدثنا شريك عن العباس بن ذريح عن (البهي) (١) عن عائشة ⦗١٣٥⦘ (قالت) (٢): عثر أسامة بعتبة الباب فشج في وجهه، فقال لي رسول اللَّه ﷺ: "أميطي عنه الأذى"، فقذرته، فجعل يمص الدم ويمجه عن وجهه ويقول: "لو كان أسامة جارية، لكسوته وحليته حتى أنفقه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ دروازے کی چوکھٹ سے ٹھوکر کھا کر گرپڑے اور ان کے چہرے میں چوٹ لگ گئی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اس سے اذیت کی چیز کو ہٹا دو تو میں نے اس کو اکھاڑ دیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خون کو چوستے جاتے اور کلیاں کرتے جاتے۔ اور فرماتے : اگر اسامہ لڑکی ہوتی تو میں اس کو کپڑے پہناتا اور زیور پہناتا یہاں تک کہ میں اس کو فروخت کردیتا۔
حدیث نمبر: 34482
٣٤٤٨٢ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن وائل بن داود قال: سمعت (البهي) (٢) يحدث أن عائشة كانت تقول: ما بعث رسول اللَّه ﷺ زيد بن حارثة في جيش قط إلا أمره عليهم، ولو كن حيًا بعده (استخلفه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کسی لشکر میں نہیں بھیجا مگر یہ کہ ان کو اس پر امیر بنایا ۔ اور اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خلیفہ بنا دیتے۔
حدیث نمبر: 34483
٣٤٤٨٣ - حدثنا عفان ثنا وهيب قال: ثنا موسى بن عقبة قال: حدثني سالم بن عبد اللَّه بن عمر أن عبد اللَّه بن عمر قال: ما كنا ندعوه إلا زيد بن محمد حتى نزل القرآن: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ (١) [الحجرات: ٥].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ ان کو نہیں پکارتے تھے مگر زید بن محمد ﷺ کے نام سے یہاں تک کہ قرآن کی آیت اتری : تم پکارو انہیں ان کو باپوں کے نام سے ۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 34484
٣٤٤٨٤ - حدثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء قال: قال رسول اللَّه ﷺ لزيد: "أما أنت يا زيد فأخونا ومولانا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : تم اے زید ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو۔
حدیث نمبر: 34485
٣٤٤٨٥ - حدثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن هانئ بن هانئ عن (علي عن) (١) النبي ﷺ مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ماقبل حدیث منقول ہے۔