کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مذکور ہیں
حدیث نمبر: 34450
٣٤٤٥٠ - حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل بن سميع عن مسلم البطين قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "عائشة (زوجي) (١) في الجنة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بطین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عا رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ جنت میں بھی میری بیوی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34450
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مسلم البطين تابعي، أخرجه ابن سعد ٨/ ٦٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34450، ترقيم محمد عوامة 32941)
حدیث نمبر: 34451
٣٤٤٥١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مرة عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كمل من الرجال كثير، ولم يكمل من النساء إلا آسية امرأة فرعون، ومريم ابنة عمران، وفضل عائشة على النساء كفضل الثريد على الطعام" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہت سے آدمی کامل ہوئے اور عورتوں میں کامل نہیں ہوئیں مگر آسیہ فرعون کی بیوی، اور مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت سب کھانوں پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34451
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤١١)، ومسلم (٢٤٣١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34451، ترقيم محمد عوامة 32942)
حدیث نمبر: 34452
٣٤٤٥٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن زهير عن أبي إسحاق عن مصعب بن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "عائشة تفضل النساء كما تفضل الثريد (على) (١) سائر الطعام" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں پر ایسی ہی فضیلت رکھتی ہیں جیسا کہ ثرید کھانوں پر فضیلت رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34452
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مصعب تابعي، أخرجه أحمد في الفضائل (١٦٤٣)، وورد من حديث مصعب عن أبيه، أخرجه أبو نعيم في الحلية ٩/ ٢٥، والطبراني في الأوسط (١٩٧٨)، وابن حيان في جزئه (٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34452، ترقيم محمد عوامة 32943)
حدیث نمبر: 34453
٣٤٤٥٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الرحمن بن أبي الضحاك عن عبد الرحمن بن محمد بن زيد بن جدعان قال: حدثنا أن عبد اللَّه، بن صفوان وآخر معه، أتيا عائشة فقالت عائشة: يا فلان هل سمعت حديث حفصة؟ فقال: نعنم يا أم المؤمنين، فقال لها عبد اللَّه بن صفوان: وما ذاك يا أم المؤمنين؟ قالت: خلال فيَّ (تسع) (١) لم تكن في أحد من الناس إلا ما آتى اللَّه مريم ابنة عمران، واللَّه ما أقول هذا أني أفتخر على (صواحبي) (٢) قال: عبد اللَّه بن صفوان: وما هي يا أم المؤمنين؟ قالت: نزل المك بصورتي، وتزوجني رسول اللَّه ﷺ لسبع سنين، وأهديت إليه لتسع سنين، وتزوجني بكرًا لم يشركه فيَّ ⦗١٢٦⦘ أحد من الناس، وأتاه الوحي وأنا وإياه في لحاف واحد، وكنت من أحب الناس إليه، ونزل في آيات من القرآن كادت الأمة تهلك فيهن، ورأيت جبريل ولم يره أحد من نسائه غيري، وقبض في بيتي لم يله أحد غير الملك وأنا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن صفوان اور ان کے ساتھ ایک دوسرا آدمی یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے فلاں ! کیا تو نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنی ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! ام المؤمنین، اس پر حضرت عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا : اے ام المؤمنین ! وہ حدیث کیا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : مجھ میں نو خصلتیں ایسی ہیں جو لوگوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں۔ سوائے ان کے جو اللہ نے حضرت مریم بنت عمران کو عطا فرمائیں۔ اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں کہتی کہ میں اپنی ساتھیوں پر فخر کرتی ہوں عبداللہ بن صفوان نے پوچھا : اے ام المؤمنین ! وہ خصلتیں کیا ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فرشتہ میری تصویر لے کر اترا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی جب کہ میں سات سال کی تھی اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا نو سال کی عمر میں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ باکرہ سے شادی کی۔ اور اس میں میرا کوئی بھی شریک نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی اس حال میں کہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی بستر میں ہوتے۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور میرے بارے میں قرآن کی چند آیات اتریں۔ اور قریب تھا کہ امت ان کے بارے میں ہلاک کردی جاتی۔ اور میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا اور میرے علاوہ کسی عورت نے بھی ان کو نہیں دیکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں ہوا جہاں میرے اور فرشتہ کے سوا کوئی نہیں تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34453
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34453، ترقيم محمد عوامة 32944)
حدیث نمبر: 34454
٣٤٤٥٤ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن مسروق قال: أخبرتني عائشة قالت: بينا رسول اللَّه ﷺ جالس في البيت إذ دخل الحجرة علينا رجل على فرس فقام إليه رسول اللَّه ﷺ فوضع يده على معرفة الفرس فجعل يكلمه، قالت: ثم رجع رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه من هذا الذي كنت تناجي؟ قال: "وهل رأيت أحدًا؟ "، قالت: قلت: نعم، رأيت رجلًا على فرس، قال: "بمن (شبهته) (٢)؟، قالت: بدحية الكلبي، قال: "ذاك جبريل"، قال: "قد رأيتِ خيرًا"، قال: ثم (لبثت) (٣) ما شاء اللَّه أن (ألبث) (٤) فدخل جبريل ورسول اللَّه ﷺ في الحجرة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا عائشة"، قلت: لبيك وسعديك يا رسول اللَّه، قال: "هذا جبريل وقد أمرني أن أقرئك (منه السلام) (٥) "، قالت: قلت أرجع إليه مني السلام ورحمة اللَّه وبركاته، جزاك اللَّه من دخيل خير ما يجزئ الدخلاء، ⦗١٢٧⦘ قالت: وكان ينزل الوحي على رسول اللَّه ﷺ وأنا وهو في لحاف واحد (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی کہ اس درمیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں بیٹھے ہوئے تھے ایک گھوڑے پر سوار آدمی حجرے میں ہم پر داخل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کی طرف گئے اور اپنا ہاتھ گھوڑے کی گردن پر رکھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے بات کرنا شروع کردی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے۔ تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کون شخص تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرگوشی فرما رہے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے کسی کو دیکھا ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : جی ہاں ! میں نے ایک آدمی کو گھوڑے پر سوار دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تو نے اس شخص کو کس کے مشابہہ پایا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل علیہ السلام تھے تحقیق تو نے خیر کی بات دیکھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ پھر وہ ٹھہرے جب تک اللہ نے چاہا کہ وہ ٹھہریں۔ پس حضرت جبرائیل علیہ السلام داخل ہوئے اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ ! میں نے کہا : میں حاضر ہوں : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تحقیق انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان کی طرف سے سلام کہوں۔ میں نے کہا : آپ بھی میری طرف سے ان کو کہہ دیں، اللہ کی سلامتی ، رحمت ہو اور برکتیں ہوں۔ اللہ مہمان کو جو تمام داخل ہونے والے مہمانوں میں سب سے بہتر مہمان ہے بہترین بدلہ عطا فرمائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تھی۔ اس حال میں کہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی بستر میں ہوتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34454
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه أحمد (٢٤٤٦٢)، والحاكم ٤/ ٧، والحميدي (٢٧٧)، والطبراني ٢٣/ (٩٠)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٤٦، والخطيب ٧/ ١٤٠، وابن سعد ٨/ ٦٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٠١٣)، وسبق ٨/ ٤٢٨ بسند صحيح وسبق ٨/ ٤٢٥ برقم [٢٧٣٥٣].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34454، ترقيم محمد عوامة 32945)
حدیث نمبر: 34455
٣٤٤٥٥ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل قال: حدثني مصعب بن إسحاق بن طلحة أن رسول اللَّه ﷺ قال: "قد أريت عائشة في الجنة (ليهون) (١) علي (بذلك) (٢) موتي كأني أرى كفها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن اسحاق بن طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تحقیق جنت میں مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا دکھلائی گئی، تاکہ اس کی وجہ سے مجھ پر میری موت آسان ہوجائے۔ گویا کہ میں نے اس کا ہاتھ دیکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34455
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مصعب مجهول وليس صحابيًا، وأخرجه ابن سعد ٨/ ٦٥، ورواه أحمد في المسند (٢٥١٢٠) من حديث مصعب عن عائشة وبين في فضائل الصحابة (١٦٣٣) أن وكيعًا رواه مرة مرسلًا ومرة متصلًا، وورد من حديث الأسود عن عائشة، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٣٠٠٨)، والطبراني ٢٣/ (٩٨)، وابن المبارك في الزهد (١٠٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34455، ترقيم محمد عوامة 32946)
حدیث نمبر: 34456
٣٤٤٥٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن عن أنس (ابن مالك) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسا کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34456
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٧٠)، ومسلم (٢٤٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34456، ترقيم محمد عوامة 32947)
حدیث نمبر: 34457
٣٤٤٥٧ - حدثنا جعفر بن عون قال: ثنا محمد بن شريك عن (ابن) (١) أبي مليكة قال: قالت عائشة: توفي رسول اللَّه ﷺ في بيتي وبين سحري ونحري (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں میرے سینہ اور پیٹ کے درمیان وفات پائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34457
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٥٠)، وأحمد (٢٤٢٦٢)، وابن حبان (٦٦١٦)، والحاكم ٤/ ٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34457، ترقيم محمد عوامة 32948)
حدیث نمبر: 34458
٣٤٤٥٨ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن أبي وائل أن عليًّا بعث عمارًا والحسن يستنفران الناس، فقام رجل فوقع في عائشة، فقال عمار: أنها لزوجة نبينا ﷺ في (الدنيا) (١) والآخرة، ولكن اللَّه ابتلانا بها ليعلم إياه نطيع أو إياها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ یہ دونوں لوگوں سے مدد طلب کریں۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا میں عیب نکالنے لگا ، تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ لیکن اللہ نے ہمیں ان کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا ہے کہ ہم اس کی (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) فرمانبرداری کرتے ہیں یا ان کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34458
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34458، ترقيم محمد عوامة 32949)
حدیث نمبر: 34459
٣٤٤٥٩ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن رجل عن عمار قال: إن عائشة زوجة النبي ﷺ في الجنة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ یقینا عائشہ رضی اللہ عنہا جنت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34459
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34459، ترقيم محمد عوامة 32950)
حدیث نمبر: 34460
٣٤٤٦٠ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا موسى الجهني عن أبي بكر بن حفص قال: جاءت أم رومان -وهي أم عائشة- وأبو بكر إلى النبي ﷺ فقالا: يا رسول اللَّه (ادع اللَّه لعائشة دعوة نسمعها، فقال عند ذلك: "اللهم اغفر) (١) لعائشة ابنة أبي بكر مغفرة واجبة ظاهرة وباطنة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن حفص فرماتے ہیں کہ حضرت ام رومان جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں یہ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان دونوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے دعا فرمائیں جس کو ہم بھی سن لیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ اے اللہ ! تو عائشہ رضی اللہ عنہا بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کی مغفرت فرما ضروری، ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34460
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو بكر بن حفص تابعي، وقد ورد من حديث أبي بكر بن حفص عن عائشة، أخرجه الحاكم ٤/ ١١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34460، ترقيم محمد عوامة 32951)
حدیث نمبر: 34461
٣٤٤٦١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن عامر قال: ثنا أبو سلمة ابن عبد الرحمن أن عائشة حدثته أن النبي ﷺ قال لها: "إن جبريل يقرأ ﵍"، قالت عائشة: وعليه السلام ورحمة اللَّه وبركاته (١)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : بیشک جبرائیل علیہ السلام تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان پر بھی سلامتی ہو۔ اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34461
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٢٥٣)، ومسلم (٢٤٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34461، ترقيم محمد عوامة 32952)