کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مذکور ہیں
حدیث نمبر: 34444
٣٤٤٤٤ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن محمد بن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنما فاطمة بضعة مني، فمن أغضبها أغضبني" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ پس جس نے اس کو غصہ دلایا اس نے مجھے غصہ دلایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34444
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن علي تابعي، وقد ورد من حديث ابن عيينة عن عمرو بن دينار عن ابن أبي ملكية عن المسور بن مخرمة، أخرجه البخاري (٣٧٦٧)، ومسلم (٢٤٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34444، ترقيم محمد عوامة 32935)
حدیث نمبر: 34445
٣٤٤٤٥ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن عائشة قالت: قلت لفاطمة ابنة رسول اللَّه ﷺ: رأيتك حين أكببت على النبي ﷺ في مرضه فبكيت، ثم أكببت عليه ثانية فضحكت، قالت: أكببت عليه فأخبرني أنه ميت فبكيت، ثم أكببت عليه الثانية فأخبرني أني أول أهله لحوقا به، وأني سيدة نساء أهل الجنة إلا مريم ابنة عمران، فضحكت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : میں نے تجھے دیکھا تھا جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں ان کے مرض وفات میں پھر رونے لگیں۔ پھر تم دوبارہ ان پر جھکیں پس دوسری مرتبہ تم ہنس پڑیں ؟ ! آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں جب پہلے جھکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتلایا کہ وہ فوت ہونے والے ہیں ۔ تو میں رو پڑی۔ پھر میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتلایا کہ میں اپنے گھر والوں میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گی۔ اور بیشک میں جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں۔ سوائے مریم بن عمران کے۔ تو اس بات پر میں ہنس پڑی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34445
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه البخاري (٣٦٢٥)، ومسلم (٣٦٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34445، ترقيم محمد عوامة 32936)
حدیث نمبر: 34446
٣٤٤٤٦ - حدثنا زيد بن الحباب عن إسرائيل عن ميسرة النهدي عن المنهال بن عمرو عن زر بن حبيش عن حذيفة قال: أتيت رسول اللَّه ﷺ فخرج فاتبعته، فقال: "ملك عرض لي استأذن ربه أن يسلم علي ويخبرني أن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل گئے پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک فرشتہ آیا تھا اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی تھی مجھ پر درود وسلام پڑھنے کی، اور اس نے مجھے بتلایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34446
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٣٢٩)، والترمذي (٣٧٨١)، والنسائي (٨٢٩٨)، وابن حبان (٦٩٦٠)، وابن خزيمة (١١٩٤)، والحاكم ١/ ٣١٢، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٦٦)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ١٩٠، وابن نصر في قيام الليل (٢٦٧)، والطبراني (٢٦٠٧)، والخطيب ١٠/ ٢٣٠، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٨٧، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٤٠٦)، وابن عساكر ١٢/ ٢٦٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34446، ترقيم محمد عوامة 32937)
حدیث نمبر: 34447
٣٤٤٤٧ - حدثنا شاذان قال: ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس بن مالك أن النبي ﷺ كان يمر ببيت فاطمة ستة أشهر إذا خرج إلى الفجر فيقول: "الصلاة يا أهل البيت ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ (١) [الأحزاب: ٣٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح فجر کی نماز کے لیے نکلتے تو چھ مہینے تک حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر سے گزرتے رہے اور فرماتے ! اے گھر والو ! نماز کا وقت ہے۔ پس اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو ! تم سے گندگی کو دور کر دے۔ اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34447
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (١٣٧٢٨)، وأبو يعلى (٣٩٧٩)، والترمذي (٣٢٠٦)، والحاكم ٣/ ١٥٨، وعبد بن حميد (١٢٢٣)، والطيالسي (٢٠٥٩)، والطبري في التفسير ٢٢/ ٦، والطحاوي في شرح المشكل (٧٧٤)، والطبراني (٢٦٧١)، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٣٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34447، ترقيم محمد عوامة 32938)
حدیث نمبر: 34448
٣٤٤٤٨ - حدثنا شريك عن أبي فروة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "فاطمة سيدة نساء العالمين بعد مريم ابنة عمران وآسية امرأة فرعون وخديجة ابنة خويلد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فاطمہ رضی اللہ عنہا تمام جہان کی عورتوں کی سردار ہیں۔ مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ، اور خدیجہ بنت خویلد کے بعد۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34448
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ أبو فروة ضعيف؛ وعبد الرحمن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34448، ترقيم محمد عوامة 32939)
حدیث نمبر: 34449
٣٤٤٤٩ - حدثنا محمد بن بشر عن زكريا عن عامر قال: خطب علي بنت أبي جهل إلى عمها الحارث بن هشام، فاستأمر رسول اللَّه ﷺ فيها فقال: "عن (حسبها) (١) تسألني؟ " قال علي: قد أعلم ما (حسبها) (٢) ولكن تأمرني بها؟ قال: "لا، فاطمة بضعة مني ولا أحب أن (تجزع) " (٣)، فقال علي: لا آتي شيئًا تكرهه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کے لیے اس کے چچا حارث بن ہشام کو پیام نکاح بھیجا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس بارے میں مشورہ مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تم اس کے حسب ونسب کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے ہو ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں جانتا ہوں اس کا حسب و نسب کیا ہے۔ لیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ اور میں پسند نہیں کرتا کہ وہ پریشان ہو۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34449
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عامر تابعي، أخرجه أحمد في الفضائل (١٣٢٣)، وابن إسحاق (٣٥٨)، والدولابي في الذرية الطاهرة (٥٦)، وأخرجه الحاكم ٣/ ١٥٨ عن الشعبي عن سويد بن غفلة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34449، ترقيم محمد عوامة 32940)