کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی فضیلت میں نقل کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 34399
٣٤٣٩٩ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن الحسن بن عبيد اللَّه عن إبراهيم بن سويد عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: " (إذنك) (١) على أن ترفع الحجاب، وأن تسمع سوادي حتى أنهاك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہاری اجازت گھر میں آنے کے لیے اتنی ہے کہ پردہ اٹھایا جائے، اور میری آواز سنو اور چلے آؤ جب تک کہ میں تمہیں منع نہ کروں۔
حدیث نمبر: 34400
٣٤٤٠٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا المسعودي عن عبد الملك بن عمير عن أبي المليح الهذلي قال: كان عبد اللَّه يستر النبي ﷺ إذا اغتسل، ويوقظه إذا نام، ويمشي معه في الأرض (وحشا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الملیح الھذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پردہ کیا کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیدار کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زمین میں اکیلے چلتے تھے۔
حدیث نمبر: 34401
٣٤٤٠١ - حدثنا وكيع قال: ثنا المسعودي عن (عياش) (١) العامري عن عبد اللَّه ابن شداد (الكناني) (٢) قال: كان [ابن مسعود صاحب الوساد والسواك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد کنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تکیہ اٹھانے والے راز دار تھے۔
حدیث نمبر: 34402
٣٤٤٠٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن القاسم قال] (١): كان عبد اللَّه يلبس النبي ﷺ نعليه، ويمشي أمامه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوتے پہناتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتے تھے۔
حدیث نمبر: 34403
٣٤٤٠٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو كنت مستخلفًا (عن) (١) غير مشورة لاستخلفت ابن أم عبد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں کسی کو بغیر مشورے کے خلیفہ بناتا تو ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کو بناتا۔
حدیث نمبر: 34404
٣٤٤٠٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني زائدة عن عاصم بن أبي النجود عن زر قال: جعل القوم يضحكون مما (تصنع) (١) الريح بعبد اللَّه (تَلفته) (٢)، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "لهو أثقل عند اللَّه يوم القيامة ميزانا من أحد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن ابی النجود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زر بن حبیش رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ لوگ ہنسا کرتے تھے اس بات سے کہ جب ہوا تیز چلتی تو حضرت عبد اللہ کو الٹ پلٹ کرتی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک ترازو میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوں گے۔
حدیث نمبر: 34405
٣٤٤٠٥ - حدثنا محمد بن أبي عبيدة قال: ثنا أبي عن الأعمش عن العلاء بن بدر عن تميم بن حذلم قال: قد جالست أصحاب محمد ﷺ (١) وأبا بكر وعمر فما رأيت (واحدًا) (٢) أزهد في (الدنيا) (٣) ولا أرغب في الآخرة، ولا أحب إلي أن أكون في مسلاخه يوم القيامة منك يا عبد اللَّه بن مسعود (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن حذلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے اصحاب محمد رضی اللہ عنہ م کی مجلسیں اختیار کی ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی، پس میں نے کسی ایک کو بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ دنیا سے اعراض کرنے والا اور آخرت میں رغبت رکھنے والا نہیں دیکھا۔ اے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہ ہی مجھے پسند ہے کہ میں قیامت کے دن آپ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر ان کے ساتھ ہوں۔
حدیث نمبر: 34406
٣٤٤٠٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن القاسم بن عبد الرحمن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "رضيت لأمتي ما رضي لها ابن أم عبد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنی امت کے لیے وہی بات پسند کی جس کو ابن ام عبد نے پسند کیا ہو۔
حدیث نمبر: 34407
٣٤٤٠٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن مغيرة عن أم موسى (قالت) (١): سمعت عليًّا يقول: أمر رسول اللَّه ﷺ ابن مسعود أن يصعد شجرة فيأتيه بشيء منها، فنظر أصحابه إلى حموشة ساقيه فضحكوا منها، فقال النبي ﷺ: "ما يضحككم؟ لرجل عبد اللَّه في الميزان أثقل من أحد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ درخت پر چڑھیں اور کچھ پھل لے کر آئیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ م ان کی پتلی پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کیوں ہنستے ہو ؟ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک ٹانگ ترازو میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوگی۔
حدیث نمبر: 34408
٣٤٤٠٨ - حدثنا محمد بن أبي عبيدة قال: حدثني أبي عن الأعمش عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه قال: قال (عبد اللَّه بن مسعود) (١): لقد رأيتني ⦗١١٢⦘ سادس ستة ما على ظهر الأرض مسلم غيرنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے آپ کو چھ میں سے چھٹا دیکھا ہے۔ زمین کی پشت پر ہمارے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 34409
٣٤٤٠٩ - [حدثنا أبو معاوية عن إبراهيم عن علقمة عن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من سره أن يقرأ القرآن رطبًا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد"] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ قرآن پاک کو تر و تازہ پڑھے جیسا کہ وہ نازل کیا گیا ہے پس اس کو چاہیے کہ و ہ ابن ام عبد کی قراءت پر اس کو پڑھے۔
حدیث نمبر: 34410
٣٤٤١٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن حذيفة قال: لقد علم المحفوظون من أصحاب محمد ﷺ (١) أن ابن مسعود أقربهم عند اللَّه وسيلة يوم القيامة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تحقیق محمد ﷺ کے خوش قسمت اصحاب جانتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قیامت کے دن مرتبہ میں اللہ کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 34411
٣٤٤١١ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن مالك بن الحارث عن أبي خالد قال: وفدت إلى عمر ففضل أهل الشام علينا في الجائزة فقلنا له، فقال: يا أهل الكوفة أجزعتم أن فضلت أهل الشام عليكم في الجائزة، لبعد (شقتهم) (١)، (لقد) (٢) ⦗١١٣⦘ آثرتكم بابن أم عبد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو خالد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں وفد لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے شام والوں کو انعام دینے میں ہم پر فضیلت دی، اس بارے میں ہم نے ان سے پوچھا : تو انہوں نے فرمایا : اے کوفہ والو ! کیا تم گھبراتے ہو اس بات سے کہ میں نے انعام دینے میں شام والوں کو تم پر فضیلت دی تمہاری روزی کی وجہ سے ۔ تحقیق میں نے ام عبد کے مقابلہ میں خود پر تم کو ترجیح دی ہے۔
حدیث نمبر: 34412
٣٤٤١٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: أقبل عبد اللَّه ذات يوم وعمر جالس، فقال: (كنيف) (١) ملئ (فقها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو سامنے سے آتا ہوا دیکھ کر فرمایا : ” داڑھی والا فقہ سے بھرا ہوا ہے۔ “
حدیث نمبر: 34413
٣٤٤١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال: قرئ علينا كتاب عمر: أما بعد، (فإنني قد) (١) بعثت إليكم عمار بن ياسر أميرًا، وعبد اللَّه بن مسعود (مؤدبًا) (٢) ووزيرًا، وهما من النجباء من أصحاب محمد ﷺ (٣) وآثرتكم بابن أم عبد على نفسي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر سنایا گیا۔ جس میں لکھا تھا : حمد و صلوۃ کے بعد، پس تحقیق میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو تمہاری طرف امیر بنا کر بھیجا اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو استاذ اور وزیر بنا کر ۔ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریف ساتھیوں میں سے ہیں۔ اور میں نے حضرت ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں خود پر دوسروں کو ترجیح دے دی۔
حدیث نمبر: 34414
٣٤٤١٤ - حدثنا أبو (معاوية) (١) قال: ثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن علي قالوا: أخبرنا عن عبد اللَّه قال: علم القرآن والسنة (٢) وكفى بذلك علما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : آپ رضی اللہ عنہ ہمیں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتلائیے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : انہوں نے قرآن و حدیث کو سیکھا۔ اور ان کو یہ چیز علم کے اعتبار سے کافی تھی۔
حدیث نمبر: 34415
٣٤٤١٥ - حدثنا أبو أسامة عن صالح بن (حيان) (١) عن ابن بريدة ﴿قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا﴾ [محمد: ١٦]: (قال) (٢): هو عبد اللَّه بن مسعود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قرآن کی اس آیت (قَالُوا لِلَّذِینَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا) وہ لوگ پوچھتے ہیں ان لوگوں سے جن کو علم دیا گیا کہ کیا کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی ابھی ؟ اس سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔
حدیث نمبر: 34416
٣٤٤١٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: كان عبد اللَّه يشبه بالنبي ﷺ (١) في هديه (ودله) (٢) وسمته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چلنے میں ، ہدایت اور طریقہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ تھے۔
حدیث نمبر: 34417
٣٤٤١٧ - حدثنا ابن نمير قال: ثنا الأعمش عن حبة بن جوين قال: كنا جلوسا عند علي فذكرنا بعض قول (عبد) (١) اللَّه، وأثنى القوم عليه فقالوا يا أمير المؤمنين ما رأينا رجلًا أحسن خلقًا ولا أرفق تعليمًا ولا أشد ورعًا ولا أحسن مجالسة من ابن مسعود، فقال علي: نشدتكم اللَّه إنه للصدق من قلوبكم؟ قالوا: نعم، قال: اللهم إني أشهدك (أني) (٢) أقول مثل ما قالوا، أو أفضل (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حبہ بن جُوین رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پا س بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کچھ باتوں کا ذکر کیا اور لوگ ان کی تعریف کرنے لگے اور کہا : اے امیر المؤمنین ! ہم نے کسی شخص کو بھی نہیں دیکھا جو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ اچھے اخلاق والا، تعلیم میں نرمی کرنے والا، اور سب سے زیادہ تقوے والا، اور اچھی مجلسوں والا ہو، اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم یہ بات صدق دل سے کہہ رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! بیشک میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ بلاشبہ میں بھی وہی بات کہتا ہوں جو ان لوگوں نے کہی۔ کہ وہ افضل ہیں۔
حدیث نمبر: 34418
٣٤٤١٨ - حدثنا يعلى قال: ثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: سمعت أبا موسى يقول لمجلس كنت أجالسه (عبد) (١) اللَّه أوثق من عمل سنة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ وہ مجلسیں جن میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہ سنت پر عمل کرنے کے اعتبار سے بہت مضبوط تھیں۔