حدیث نمبر: 34370
٣٤٣٧٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن عامر قال: أخبرت أن النبي ﷺ أرسل إلى امرأة جعفر: "أن ابعثي إليَّ بني جعفر"، قال: فأتي بهم، فقال: "اللهم إن جعفر قد قدم إليك إلى أحسن الثواب، فاخلفه في ذريته بخيرما خلفت عبدًا من عبادك الصالحين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی بیوی کی طرف قاصد بھیجا کہ وہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج دیں۔ پس ان بچوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمائی۔ اے اللہ ! یقینا جعفر تیرے پاس آگیا اچھے ثواب کی طرف۔ پس تو اس کی اولاد میں سب سے بہتر شخص کو جانشین بنا۔ جیسے تو نے اپنے نیک بندوں میں سے ایک بندے کو جانشین بنایا۔
حدیث نمبر: 34371
٣٤٣٧١ - حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن عامر قال: لما قدم جعفر من أرض الحبش لقي عمر بن الخطاب أسماء بنت عميس فقال لها: سبقناكم بالهجرة ونحن أفضل منكم، فقالت: لا أرجع حتى آتي رسول اللَّه ﷺ، فدخلت عليه فقالت: يا رسول اللَّه لقيت عمر فزعم أنه أفضل منا وأنهم سبقونا بالهجرة، فقال نبي اللَّه ﷺ: "بل أنتم هاجرتم مرتين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے آئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملے اور ان سے فرمایا : ہم لوگ ہجرت میں تم سے سبقت لے گئے اور ہم تم سے افضل ہیں۔ تو وہ کہنے لگیں۔ میں واپس نہیں لوٹوں گی یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤں۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر داخل ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملی تو انہوں نے کہا : کہ یقینا وہ ہم سے افضل ہیں۔ اور بیشک وہ ہم سے ہجرت میں سبقت لے گئے ہیں ! اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ تم لوگوں نے دو مرتبہ ہجرت کی۔ اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سعید بن ابی بردہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا : اس دن حضرت اسمائ رضی اللہ عنہ نے حضرت سے یوں فرمایا : ایسی بات نہیں۔ ہم لوگ تو دشمنوں اور نسب سے دور لوگوں کی زمین میں تھے ۔ اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جو تمہارے جاہلوں کو نصیحت فرما دیتے اور تم میں سے بھوکوں کو کھانا کھلا دیتے۔
حدیث نمبر: 34372
٣٤٣٧٢ - قال إسماعيل: فحدثني سعيد بن أبي بردة قال: قالت يومئذ لعمر: ما هو كذلك، كنا مطرودين بأرض البغضاء (١) البعداء وأنتم عند رسول اللَّه ﷺ (٢) يعظ جاهلكم ويطعم جائعكم (٣).
حدیث نمبر: 34373
٣٤٣٧٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي إسحاق قال: أخبرنا أبو ميسرة أنه لما أتى النبي ﷺ قتل جعفر وزيد وعبد اللَّه بن رواحة ذكر أمرهم فقال: "اللهم اغفر لزيد ثلاثًا، اللهم اغفر لجعفر ولعبد اللَّه بن رواحة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو میسرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ، حضرت زید اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر فرمایا : پھر یوں دعا فرمائی۔ اے اللہ ! زید کی مغفرت فرما۔ تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! جعفر کی مغفرت فرما اور عبد اللہ بن رواحہ کی بھی۔
حدیث نمبر: 34374
٣٤٣٧٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا قطبة بن عبد العزيز عن الأعمش عن عدي بن ثابت عن سالم بن أبي الجعد قال: أريهم النبي ﷺ في النوم رأى جعفرًا ⦗١٠١⦘ ملكًا ذا جناحين مضرجًا بالدماء، وزيدًا مقابله على السرير، وابن رواحة جالسًا معهم كأنهم معرضون عنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ تینوں خواب میں دکھلائے گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر کو دو پروں والے فرشتہ کی صورت میں دیکھا جو خون میں لت پت تھے۔ اور زید ان کے سامنے تخت پر تھے اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ گویا کہ وہ ان سے اعراض کرنے والے تھے۔
حدیث نمبر: 34375
٣٤٣٧٥ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن هبيرة بن (يريم) (١) (و) (٢) هانئ عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ لجعفر: "أشبهت خلقي وخلقي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : تم تخلیق اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہو۔
حدیث نمبر: 34376
٣٤٣٧٦ - حدثنا ابن نمير عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن النبي ﷺ قال لجعفر: "أشبهت خلقي وخلقي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : تم تخلیق اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہو۔
حدیث نمبر: 34377
٣٤٣٧٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء أن النبي ﷺ قال لجعفر: "أشبهت خلقي وخلقي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : تم تخلیق اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہو۔
حدیث نمبر: 34378
٣٤٣٧٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن أبي فروة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن النبي ﷺ قال (١): "أما أنت (يا جعفر) (٢) فأشبهت خلقي وخلقي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اے جعفر ! تخلیق اور اخلاق میں میرے مشابہہ ہو۔
حدیث نمبر: 34379
٣٤٣٧٩ - حدثنا عبد الرحيم عن زكريا عن عامر أن جعفر بن أبي طالب قتل يوم مؤته بالبلقاء، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم اخلف جعفرا في أهله بأفضل ما خلفت عبدا من عبادك الصالحين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ موتہ کے دن بلقاء مقام پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : اے اللہ ! تو جعفر کے اہل خانہ میں اس شخص کو جانشین بنا جس کو تو نے اپنے نیک بندوں میں سے جانشین بنایا ہو۔
حدیث نمبر: 34380
٣٤٣٨٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: أتي رسول اللَّه ﷺ حين افتتح خيبر فقيل له: قدم جعفر من عند النجاشي، فقال: "ما أدري بأيهما أنا أفرح، بقدوم جعفر، أو بفتح خيبر"، ثم تلقاه والتزمه وقبل ما بين عينيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے نجاشی کے پاس سے آنے کی خبر سنائی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ مجھے ان دونوں میں سے کس بات کی زیادہ خوشی ہے۔ جعفر رضی اللہ عنہ کے آنے کی یا خیبر کے فتح ہونے کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور ان کو اپنے سے چمٹا لیا پھر دونوں آنکھوں کے درمیان والی جگہ پر ان کا بوسہ لیا۔
حدیث نمبر: 34381
٣٤٣٨١ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا زكريا عن عامر أن عليًّا تزوج أسماء (ابنة) (١) عميس فتفاخر ابناها محمد بن جعفر ومحمد بن أبي بكر فقال كل واحد منهما: أنا أكرم منك، وأبي خير من أبيك، فقال لها علي: أقضي بينهما، (فقالت) (٢): ما رأيت شابًا من العرب خيرًا من جعفر، وما رأيت كهلًا كان خيرًا من أبي بكر، فقال لها علي: ما تركت لنا شيئًا، ولو قلت غير هذا لمقتك، (فقالت) (٣): (واللَّه) (٤) إن ثلاثة ⦗١٠٣⦘ أنت (أخسهم) (٥) لخيار (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے شادی کرلی، تو حضرت اسماء کے بیٹے محمد بن جعفر اور محمد بن ابی بکر آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے۔ ان ددنوں میں سے ایک نے کہا : میں تجھ سے زیادہ معزز ہوں اور میرا باپ تیرے باپ سے افضل ہے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ان دونوں کے درمیان فیصلہ کروں گا۔ اتنے میں حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے عرب کا کوئی جوان جعفر رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ اور میں نے کوئی بوڑھا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تو نے ہمارے لیے کوئی بات ہی نہیں چھوڑی۔ اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور جواب دیتی تو میں تم سے بہت سخت ناراض ہوتا۔ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اور تم ان تینوں میں سب سے کم بہتر ہو۔