کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا جعفررضی اللہ عنہ بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 34347
٣٤٣٤٧ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن زر قال: كان ⦗٩٢⦘ الحسن والحسين يثبان على ظهر رسول اللَّه ﷺ وهو يصلي فجعل الناس ينحونهما، فقال النبي ﷺ: "دعوهما بأبي هما وأمي من أحبني فليحب هذين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ ما رسول اللہ کی کمر مبارک پر کھیل رہے ہوتے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے۔ پس لوگ ان دونوں کو ہٹانے لگتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : ان کو چھو ڑ دو ۔ ان دونوں پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے۔
حدیث نمبر: 34348
٣٤٣٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الجحاف عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: قال -يعني النبي ﷺ: "اللهم إني أحبهما فأحبهما يعني حسنًا وحسينًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی : اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔ یعنی حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ سے۔
حدیث نمبر: 34349
٣٤٣٤٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن يزيد بن أبي زياد عن ابن أبي نعم عن أبي سعيد قال: قال -يعني النبي ﷺ: "الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
حدیث نمبر: 34350
٣٤٣٥٠ - حدثنا زيد بن حباب عن إسرائيل عن ميسرة النهدي عن (المنهال) (١) بن عمرو عن زر بن حبيش عن حذيفة قال: أتيت النبي ﷺ فصليت معه المغرب، ثم قام يصلي حتى صلى العشاء، ثم خرج فاتبعته فقال: " (ملك) (٢) عرض ⦗٩٣⦘ لي استأذن ربه أن يسلم علي، ويبشرني أن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زرّ بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک فرشتہ میرے سامنے پیش ہوا اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی تھی کہ وہ مجھ پر درود وسلام بھیجے اور اس نے مجھے خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
حدیث نمبر: 34351
٣٤٣٥١ - حدثنا حسين بن علي عن أبي موسى عن الحسن قال: رفع النبي ﷺ الحسن بن علي معه على المنبر فقال: "إن ابني هذا سيد، ولعل اللَّه سيصلح به بين فئتين من المسلمين" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ منبر پر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بلند کر کے فرمایا : بیشک میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائیں گے۔
حدیث نمبر: 34352
٣٤٣٥٢ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
حدیث نمبر: 34353
٣٤٣٥٣ - حدثنا عفان قال: ثنا وهيب قال: ثنا عبد اللَّه بن عثمان بن خثيم عن سعيد بن أبي راشد عن يعلى العامري أنه جاء حسن وحسين يسعيان إلى رسول اللَّه ﷺ فضمهما إليه وقال: "إن الولد مبخلة مجبنة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہالعامری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ دونوں دوڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے سینہ سے لگا لیا اور فرمایا : اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہے۔
حدیث نمبر: 34354
٣٤٣٥٤ - حدثنا مالك بن إسماعيل عن أسباط بن نصر عن السدي عن صبيح مولى أم سلمة عن زيد بن أرقم أن النبي ﷺ قال (١) لفاطمة وحسن وحسين: "أنا حرب لمن حاربكم وسلم لمن سالمكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : تمہاری جس کے ساتھ لڑائی اور جنگ میری بھی اس سے جنگ ہے، اور تمہاری جس کے ساتھ صلح تو میری بھی اس سے صلح ہے۔
حدیث نمبر: 34355
٣٤٣٥٥ - حدثنا خالد بن مخلد قال: ثنا موسى بن يعقوب الزمعي عن عبد اللَّه بن أبي بكر بن زيد بن المهاجر قال: أخبرني مسلم بن أبي سهل (النبال) (١) قال: أخبرني (حسن) (٢) بن أسامة بن زيد قال: أخبرني (أبي) (٣) أسامة قال: طرقت رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة لبعض الحاجة، قال: فخرج إليّ وهو مشتمل على شيء لا أدري ما هو، فلما فرغت من حاجتي قلت: ما هذا الذي أنت مشتمل عليه؟ فكشف، فإذا حسن وحسين على وركيه، فقال: "هذان ابناي وابنا ابنتي، اللهم إنك تعلم أني أحبهما فأحبهما" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں کسی حاجت کے لیے نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف تشریف لائے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اٹھایا ہوا تھا مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا ہے ؟ جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا ! تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھایا ہوا ہے ؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر ہٹائی تو وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میرے نواسے ہیں ۔ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں۔ پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
حدیث نمبر: 34356
٣٤٣٥٦ - [حدثنا هوذة بن خليفة عن التيمي عن أبي عثمان عن أسامة بن زيد قال: كان رسول اللَّه ﷺ يأخذني والحسن فيقول: "اللهم إني أحبهما فأحبهما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
حدیث نمبر: 34357
٣٤٣٥٧ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: لما أراد رسول اللَّه ﷺ أن يلاعن أهل نجران أخذ بيد الحسن والحسين، وكانت فاطمة تمشي خلفه] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے مباھلہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے چل رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 34358
٣٤٣٥٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن سالم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني سميت ابني هذين باسم ابني هارون شبر (وشبير) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے ان دو بیٹوں کا نام شَبِّرْ اور شبیر حضرت ہارون علیہ السلام کے دو بیٹوں کے ناموں پر رکھا ہے۔
حدیث نمبر: 34359
٣٤٣٥٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير أن النبي ﷺ سمع بكاء الحسن (أو) (١) الحسين فقام فزعًا فقال: "إن الولد لفتنة، لقد قمت إليه وما أعقل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز سنی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوگئے۔ پھر ارشاد فرمایا : بیشک اولاد بھی فتنہ ہے تحقیق میں ان کے لیے کھڑا ہوا اور مجھے سمجھ بھی نہیں آئی۔
حدیث نمبر: 34360
٣٤٣٦٠ - حدثنا هوذة بن خليفة عن التيمي عن أبي عثمان عن أسامة (١) قال: كان رسول اللَّه ﷺ يأخذني والحسن فيقول: "اللهم إني أحبهما فأحبهما" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر یوں دعا فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی ان دونوں سے محبت فرما۔
حدیث نمبر: 34361
٣٤٣٦١ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن ⦗٩٦⦘ زهير بن الأقمر قال: بينما الحسن (بن علي) (١) (٢) يخطب إذ قام رجل من (الأسد) (٣) آدم طوال فقال: (لقد) (٤) رأيت رسول اللَّه ﷺ واضعه في حقويه يقول: "من أحبني فليحبه، فليبلغ الشاهد الغائب" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہیر بن اقمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ قبیلہ ازد کا ایک شخص بہت لمبے قد والا تھا کھڑا ہوکر کہنے لگا : تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اس شخص کی کوکھ میں رکھ کر ارشاد فرما رہے تھے : جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے پس چاہیے کہ وہ اس سے محبت کرے اور چاہیے کہ حاضر شخص اس بات کو غائب شخص تک پہنچا دے۔
حدیث نمبر: 34362
٣٤٣٦٢ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني حسين بن واقد قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ يخطبنا، فأقبل حسن وحسين عليهما قميصان أحمران يمشيان ويعثران ويقومان، فنزل رسول اللَّه ﷺ فأخذهما فوضعهما بين يديه ثم قال: "صدق اللَّه ورسوله: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [الأنفال: ٢٨]، رأيت هذين فلم أصبر ثم أخذ في خطبته" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اتنے میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سامنے سے تشریف لائے اس حال میں کہ ان دونوں نے سرخ قمیصیں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ دونوں چلتے پھر ٹھوکر کھا کر گرجاتے پھر کھڑے ہوتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور ان دونوں کو پکڑ کر اپنے سامنے بٹھا لیا پھر ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ ارشاد فرمایا : یقینا تمہارے اموال اور تمہاری اولادیں فتنہ ہیں۔ میں نے ان دو ونوں کو دیکھا پس مجھ سے صبر نہیں ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 34363
٣٤٣٦٣ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثني مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي يعقوب عن ابن أبي نعم قال: كنت جالسًا عند ابن عمر فأتاه رجل (فسأله عن دم البعوض؟ فقال له ابن عمر: ممن أنت؟ قال: رجل) (١) من أهل ⦗٩٧⦘ العراق، فقال ابن عمر: ها انظروا هذا يسألني عن دم البعوض وهم قتلوا ابن رسول اللَّه ﷺ، و (٢) سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "هما ريحانتي من الدنيا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے مچھر کے خون سے متعلق سوال کیا۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے ارشاد فرمایا : تم کہاں کے ہو ؟ اس نے کہا : کہ میں اہل عراق میں سے ہوں۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اوہ ! لوگو اس کی طرف دیکھو یہ ایک مچھر کے خون کے متعلق مجھ سے سوال کر رہا ہے حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کو قتل کردیا ! اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ : وہ دونوں میری دنیا کی بہاریں ہیں۔
حدیث نمبر: 34364
٣٤٣٦٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرني جرير بن حازم عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي يعقوب عن عبد اللَّه بن شداد عن أبيه قال: دعي رسول اللَّه ﷺ لصلاة فخرج وهو حامل حسنًا (أو) (١) حسينًا، فوضعه إلى جنبه فسجد بين ظهراني صلاته سجدة أطال فيها، قال أبي: فرفعت رأسي من بين الناس فإذا الغلام على ظهر رسول اللَّه ﷺ فأعدت رأسي فسجدت، فلما سلم رسول اللَّه ﷺ قال له القوم: يا رسول اللَّه لقد سجدت في صلاتك هذه سجدة ما كنت تسجدها، أفكان يوحي إليك؟ قال: "لا، ولكن ابني ارتحلني فكرهت أن أعجله حتى يقضي حاجته" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پہلو میں بٹھایا ہوا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی پیٹھوں کے درمیان اپنی نماز کا سجدہ ادا کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا ۔ میرے والد نے کہا : کہ میں نے تمام لوگوں کے درمیان سے سر اٹھایا۔ تو دیکھا ایک بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ تو میں نے دوبارہ اپنا سر سجدہ میں رکھ دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز میں ایسا سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی زندگی بھر نہیں کیا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی کی جار ہی تھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا۔ تو میں نے ناپسند کیا کہ میں جلدی سے اٹھ جاؤں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلے۔
حدیث نمبر: 34365
٣٤٣٦٥ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن عدي بن ثابت عن (البراء) (١) قال: رأيت النبي ﷺ حمل الحسن بن علي على عاتقه وقال: "اللهم إني أحبه فأحبه"، قال شعبة: فقلت لعدي: حسن؟ (قال) (٢): نعم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا۔ اور فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔ پس تو بھی اس سے محبت فرما۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ میں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : حضرت حسن رحمہ اللہ سے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : جی ہاں !
حدیث نمبر: 34366
٣٤٣٦٦ - حدثنا جعفر بن عون قال: أخبرنا معاوية بن أبي مُزَرّد المديني عن أبيه عن أبي هريرة قال: بصر عيناي هاتان وسمع أذناي النبي ﷺ وهو آخذ بيد ⦗٩٨⦘ حسن أو حسين وهو يقول: " (ترق) (١) عينَ بقة"، قال: فيضع الغلام قدمه على قدم النبي ﷺ، ثم يرفعه فيضعه على صدره ثم يقول: "افتح فاك"، قال: ثم يقبله، ثم يقول: "اللهم إني أحبه فأحبه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مزَرَّد مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے نبی ﷺ کو سنا۔ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہو اتھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ آنکھ کی طرح پتلا ہوجا ۔ راوی کہتے ہیں ۔ کہ پس بچے نے اپنا پاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں پر رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا کر اپنے سینہ پر بٹھا لیا۔ اور پھر ارشاد فرمایا : اپنا منہ کھولو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بوسہ لیا اور ارشاد فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں پس تو بھی اس سے محبت فرما۔
حدیث نمبر: 34367
٣٤٣٦٧ - حدثنا مطلب بن زياد عن جابر عن أبي جعفر قال: اصطرع الحسن والحسين (فقال رسول اللَّه ﷺ) (١): " (هو) (٢) (حسن) (٣) "، (فقالت) (٤) فاطمة: كأنه أحب إليك قال: "لا، ولكن جبريل يقول (هو) (٥) حسين" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک دوسرے کو پچھاڑا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حسین رضی اللہ عنہ جلدی کرو۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ جبرائیل علیہ السلام کہہ رہے تھے۔ حسین رضی اللہ عنہ جلدی کرو۔
حدیث نمبر: 34368
٣٤٣٦٨ - حدثنا مطلب بن زياد عن جابر عن أبي جعفر قال: مر رسول اللَّه ﷺ بالحسن والحسين وهو حاملهما على مجلس من مجالس الأنصار فقالوا: يا رسول اللَّه نعمت المطية، قال: "ونعم الراكبان" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے انصار کی مجلسوں میں سے ایک مجلس پر گزرے۔ تو وہ لوگ کہنے لگے ۔ کتنی اچھی سواری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دونوں سوار بھی بہت اچھے ہیں۔
حدیث نمبر: 34369
٣٤٣٦٩ - حدثنا عفان قال: ثنا وهيب عن عبد اللَّه بن عثمان عن سعيد بن أبي راشد عن يعلى العامري أنه خرج مع رسول اللَّه ﷺ إلى طعام دعوا له، فإذا حسين يلعب مع الغلمان في الطريق (فاستمثل) (١) أمام القوم ثم بسط يده (وطفق) (٢) (الصبي) (٣) (يعدو) (٤) هاهنا مرة وهاهنا، وجعل رسول اللَّه ﷺ يضاحكه حتى أخذه رسول اللَّه ﷺ فجعل إحدى يديه تحت ذقنه والأخرى تحت قفاه ثم أقنع رأسه رسول اللَّه ﷺ فوضع فاه على (فيه) (٥) فقبله، فقال: "حسين مني وأنا من حسين، أحب اللَّه من أحب حسينًا، حسين سبط من الأسباط" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ یعمری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت میں جانے کے لیے نکلے ، تو راستہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو بچہ نے ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے رہے۔ پھر یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پکڑا اور اپنا ایک ہاتھ ان کی تھوڑی کے نیچے رکھا اور اپنا دوسرا ہاتھ ان کی گدی کے نیچے رکھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر نیچے جھکا کر اپنے منہ کو ان کے منہ پر رکھ کر ان کا بوسہ لیا اور ارشاد فرمایا : حسین مجھ سے ہے اور میں حسین رضی اللہ عنہ سے ہوں۔ اور حسین رضی اللہ عنہ تمام نواسوں میں سب سے بہتر نواسے ہیں۔