حدیث نمبر: 34275
٣٤٢٧٥ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن عطية أبي (المعذل) (١) الطفاوي عن أبيه قال: أخبرتني أم سلمة أن رسول اللَّه ﷺ كان عندها في بيتها ذات يوم، فجاءت الخادم فقالت: علي وفاطمة بالسدة، فقال: "تنحي لي عن أهل بيتي"، فتنحت في ناحية البيت، فدخل علي وفاطمة وحسن وحسين فوضعهما في حجره، وأخذ عليًا بإحدى يديه فضمه إليه، وأخذ فاطمة باليد الأخرى فضمها إليه (وقبلهما) (٢)، وأغدف عليهم خميصة سوداء، ثم قال: "اللهم إليك لا إلى النار أنا وأهل بيتي"، قالت: فناديته فقلت: وأنا يا رسول اللَّه، قال: "وأنت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں میرے پاس تھے۔ کہ خادمہ نے آکر عرض کیا : حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا دروازے پر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے گھر والوں کے لیے جگہ بناؤ۔ پس میں گھر کے ایک کونے میں ہوگئی۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ پھر دونوں بچوں کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گود میں بٹھا لیا ۔ اور اپنے ایک ہاتھ سے علی رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا لیا اور دوسرے ہاتھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا لیا اور ان کا بوسہ بھی لیا۔ اور ان سب پر اپنی کالی چادر ڈال دی۔ پھر ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تیری طرف پناہ پکڑتے ہیں نہ کہ جہنم کی طرف میں اور میرے گھر والے ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ میں نے پکار کر کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو بھی۔
حدیث نمبر: 34276
٣٤٢٧٦ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن نمير عن إسماعيل بن أبي خالد عن (أبي إسحاق عن) (٢) هبيرة بن يريم قال: سمعت الحسن بن علي قام خطيبًا فخطب الناس فقال: يا أيها الناس لقد فارقكم أمس رجل ما سبقه الأولون، ولا يدركه الآخرون، ولقد كان رسول اللَّه ﷺ يبعثه المبعث فيعطيه الراية، فما يرجع حتى يفتح اللَّه عليه، جبريل عن يمينه وميكايل عن شماله، ما ترك بيضاء ولا صفراء إلا سبعمائة درهم فضلت من عطائه أراد أن يشتري بها خادما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ھبیرہ بن یریم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے پھر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! کل تم سے ایک ایسا شخص جد اہو گیا کہ نہیں سبقت لے جاسکے اس سے پہلے لوگ اور نہ ہی بعد والے لوگ اس کا مقام پاسکتے ہیں۔ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کسی لشکر میں بھیجتے تو ان کو جھنڈا عطا فرماتے پس وہ واپس نہیں لوٹتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا فرما دیتے۔ جبرائیل علیہ السلام ان کے دائیں جانب ہوتے اور میکائیل علیہ السلام ان کے بائیں جانب ہوتے۔ انہوں نے کوئی سونا، چاندی نہیں چھوڑا سوائے سات درہموں کے جو میں نے ان کی بخشش میں سے بچائے تھے۔ اس لیے کہ ان سے ایک خادم خریدنے کا ارادہ تھا۔
حدیث نمبر: 34277
٣٤٢٧٧ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي حمزة مولى الأنصار عن زيد بن أرقم قال (١): أول من أسلم مع رسول اللَّه ﷺ علي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے اسلام لانے والے شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں : میں ابراہیم رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور فرمایا : سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ (
حدیث نمبر: 34278
٣٤٢٧٨ - قال عمرو بن مرة: فأتيت إبراهيم فذكرت ذلك له فأنكره، (وقال: أبو بكر) (١).
حدیث نمبر: 34279
٣٤٢٧٩ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن جبلة قال: كان النبي ﷺ إذا لم يغز أعطى سلاحه عليا (أو أسامة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبلہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی غزوہ میں شریک نہ ہوتے تو اپنے ہتھیار حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو مرحمت فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 34280
٣٤٢٨٠ - حدثنا مالك بن إسماعيل قال: ثنا (مسعود) (١) بن سعد قال: ثنا محمد ابن إسحاق عن الفضل بن معقل (٢) عن عبد اللَّه بن نيار الأسلمي عن عمرو بن (شاس) (٣) قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "قد آذيتني"، قال: قلت: يا رسول اللَّه ما أحب أن أوذيك، قال: "من آذى عليا فقد آذاني" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شاس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تحقیق تو نے مجھے ایذاء پہنچائی۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اس بات کو کبھی پسند نہیں کرتا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچاؤں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے علی رضی اللہ عنہ کو ایذاء پہنچائی۔ تحقیق اس نے مجھے ایذاء پہنچائی۔
حدیث نمبر: 34281
٣٤٢٨١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن عبد الملك بن أبي سليمان قال: قلت لعطاء: كان في أصحاب رسول اللَّه ﷺ أحد أعلم من علي؟ قال: لا واللَّه، ما أعلمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن ابی سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ م میں کوئی شخص ایسا بھی تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ علم والا ہو ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : نہیں اللہ کی قسم ! میں کسی کو نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 34282
٣٤٢٨٢ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن حبشي قال: خطبنا الحسن بن علي بعد وفاة علي فقال: لقد فارقكم رجل بالأمس لم يسبقه ⦗٧٢⦘ الأولون بعلم ولا يدركه الآخرون، كان رسول اللَّه ﷺ يعطيه الراية فلا ينصرف حتى يفتح اللَّه عليه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حبشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہم سے خطاب فرمایا : تحقیق کل تم سے وہ شخص جدا ہوگیا کہ پہلے لوگ اس کے علم کو نہیں پا سکے اور نہ بعد والے پا سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو جھنڈا عطا کرتے تھے پھر وہ واپس نہیں لوٹتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا فرما دیتا۔
حدیث نمبر: 34283
٣٤٢٨٣ - حدثنا يحيى بن يعلى عن يونس بن خباب عن أنس قال: خرجت أنا وعلي مع رسول اللَّه ﷺ في (حائط) (١) المدينة، فمررنا بحديقة، فقال (علي) (٢): ما أحسن هذه الحديقة يا رسول اللَّه؟ قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "حديقتك في الجنة أحسن منها يا علي"، حتى مر بسبع حدائق، كل ذلك يقول علي: ما أحسن هذه الحديقة يا رسول اللَّه، فيقول: "حديقتك في الجنة أحسن (من هذه) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغات میں تشریف لے گئے۔ پس ہم لوگ ایک باغ کے پاس سے گزرے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ کتنا خوبصورت باغ ہے ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی رضی اللہ عنہ ! تیرا جو باغ جنت میں ہے وہ اس سے کئی درجہ زیادہ خوبصورت ہے۔ یہاں تک کہ سات باغوں کے پاس سے گزرے ہر جگہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ باغ کتنا خوبصورت ہے ؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جاتے : تیرا جو باغ جنت میں ہے وہ اس سے کئی درجہ خوبصورت ہے۔
حدیث نمبر: 34284
٣٤٢٨٤ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا قيس عن سلمة بن كهيل عن أبي صادق عن عليم عن سلمان قال: إن أول هذه الأمة ورودا على نبيها أولها إسلامًا علي بن أبي طالب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ اس امت میں سب سے پہلا شخص جو اپنے نبی ﷺ کے پاس وار د ہوگا۔ وہ سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔
حدیث نمبر: 34285
٣٤٢٨٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن فطر عن أبي إسحاق عن أبي عبد اللَّه الجدلي قال: قالت لي أم سلمة: يا أبا عبد اللَّه أيسب رسول اللَّه ﷺ فيكم ثم لا تغيرون؟ قال: قلت: ومن يسب رسول اللَّه ﷺ؟ قالت: يُسبُّ عليٌ ومن يحبه، وقد ⦗٧٣⦘ كان رسول اللَّه ﷺ (١) يحبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ جدلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے ابو عبد اللہ ! تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کیا جاتا ہے پھر بھی تم لوگ غیرت نہیں کھاتے ؟ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : کون شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرسکتا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان سے محبت کرنے والوں کو سب و شتم کیا جاتا ہے۔ اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 34286
٣٤٢٨٦ - حدثنا خالد بن مخلد عن ابن فضيل عن أبي نصر عن مساور الحميري عن أمه عن أم سلمة قالت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لا يبغض عليًا مؤمن، ولا يحبه منافق" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی مومن علی رضی اللہ عنہ سے بغض نہیں رکھے گا اور کوئی منافق علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 34287
٣٤٢٨٧ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا (عمار) (١) عن الأعمش عن المنهال عن عبد اللَّه بن الحارث عن علي قال: إنما مثلنا في هذه الأمة كسفينة نوح و (كتاب) (٢) حطة في بني إسرائيل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بیشک ہماری مثال اس امت میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے۔ اور بنی اسرائیل میں پائے جانے والے مغفرت کے دروازے کی سی ہے۔
حدیث نمبر: 34288
٣٤٢٨٨ - حدثنا إسحاق بن منصور (عن) (١) سليمان بن قرم عن عاصم عن (زر) (٢) قال: قال علي: لا يحبنا منافق، ولا يبغضنا مؤمن (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زرّ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوئی بھی منافق ہم سے محبت نہیں کرے گا اور کوئی بھی مومن ہم سے بغض نہیں رکھے گا۔
حدیث نمبر: 34289
٣٤٢٨٩ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني محمد بن طلحة (١) عن أبي عبيدة بن الحكم الأزدي يرفع حديثه أن النبي ﷺ قال لعلي: " (٢) ستلقى بعدي جهدًا"، قال: ⦗٧٤⦘ يا رسول اللَّه في سلامة في ديني؟ قال: "نعم في سلامة من دينك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ بن حکم الازدی رحمہ اللہ مرفوع حدیث بیان فرماتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : عنقریب تو میرے بعد ایک جدوجہد کرے گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ جدو جہد میرے دین کی سلامتی کے بارے میں ہوگی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! تیرے دین کی حفاظت کے بارے میں ہوگی۔
حدیث نمبر: 34290
٣٤٢٩٠ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا علي بن زيد عن عدي بن ثابت عن البراء قال: عنا مع رسول اللَّه ﷺ في سفر، قال: فنزلنا بغدير خم قال: فنودي الصلاة جامعة، وكسح لرسول اللَّه ﷺ تحت شجرة (فصلى) (١) الظهر فأخذ بيد علي فقال: "ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم"، قالوا: بلى، قال: "ألستم تعلمون أني أولى (بكل) (٢) (مؤمن) (٣) من (نفسه) (٤) "، قالوا: (بلى) (٥) قال: فأخذ بيد علي فقال: "اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه"، قال: فلقيه عمر بعد ذلك فقال: هنيئا لك يا ابن أبي طالب، أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم لوگوں نے غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ پس ندا لگائی گئی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ اور ایک درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جگہ صاف کی گئی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : کیا تم لوگوں کو علم نہیں کہ میں سب مومنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہوں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : کیوں نہیں ! راوی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے اللہ ! میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ ! جو شخص اس کو دوست رکھے پس تو بھی اس کو دوست رکھ۔ اور جو اس سے دشمنی کرے تو بھی اس سے دشمنی فرما۔ راوی فرماتے ہیں : اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہان سے ملے اور فرمایا : اے ابو طالب کے بیٹے ! تمہیں مبارک ہو۔ تم نے ہر مومن مرد اور مومن عورت کا دوست ہونے کی حالت میں صبح و شام کی۔
حدیث نمبر: 34291
٣٤٢٩١ - حدثنا أبو الجواب قال: حدثنا يونس بن أبي إسحاق عن (أبي إسحاق) (١) (البراء) (٢) بن عازب قال: بعث رسول اللَّه ﷺ جيشين، على أحدهما علي بن أبي طالب، وعلى الآخر خالد بن الوليد، فقال: (إن كان (قتال) (٣) فعلي ⦗٧٥⦘ على الناس"، فافتتح (علي) (٤) حصنًا، فاتخذ جارية لنفسه، فكتب خالد (بسوأته) (٥)، فلما قرأ رسول اللَّه ﷺ الكتاب قال: "ما تقول في رجل (يحب اللَّه ورسوله) (٦)، ويحبه اللَّه ورسوله؟ " (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے جن میں سے ایک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور دوسرے لشکر پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ، پھر ارشاد فرمایا : اگر لڑائی ہو تو اس صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں پر امیر ہوں گے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ کو فتح کرلیا۔ اور ایک باندی کو اپنے لیے خاص کرلیا اس پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر اس بات کی حضور ﷺ کو خبر دی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط پڑھا تو ارشاد فرمایا : تم کیا کہتے ہو ایسے شخص کے بارے میں جو اللہ اور ا س کے رسول ﷺ کو محبوب رکھتا ہے ۔ اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس کو محبو ب رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 34292
٣٤٢٩٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن عطية بن سعد قال: دخلنا على جابر بن عبد اللَّه وهو شيخ كبير وقد سقط حاجباه على عينيه قال: فقلت أخبرنا عن هذا الرجل علي بن أبي طالب قال: فرفع حاجبيه بيديه ثم قال: ذاك من خير البشر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ وہ بہت بوڑھے تھے اور ان کی پلکیں ان کی آنکھوں پر گری ہوئی تھیں۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا : آپ رضی اللہ عنہ ہمیں اس شخص یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے متعلق بتلائیے ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے دونوں پلکوں کو اٹھایا پھر ارشاد فرمایا : : یہ تو خیر البشر ہیں۔
حدیث نمبر: 34293
٣٤٢٩٣ - حدثنا عفان قال: ثنا جعفر بن سليمان قال: حدثني يزيد الرشك عن مطرف عن عمران بن حصين قال: بعث رسول اللَّه ﷺ سرية واستعمل عليهم عليًا، فصنع علي شيئا أنكروه، فتعاقد أربعة من أصحاب رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (وسلم) (١) (أن يعلموه) (٢)، (وكانوا إذا قدموا من سفر بدأوا برسول اللَّه ﷺ) (٣)، فسلموا عليه ونظروا إليه، ثم ينصرفون إلى رحالهم قال: فلما قدمت السرية سلموا على رسول اللَّه ﷺ (٤) فقام أحد الأربعة فقال: يا رسول اللَّه ألم تر أن ⦗٧٦⦘ عليًا صنع كذا وكذا، فأقبل إليه رسول اللَّه يعرف الغضب في وجهه فقال: "ما تريدون من علي ما تريدون من علي؟ علي مني وأنا من علي، وعلي ولي كل مؤمن بعدي" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کردیا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا کام کیا جس کو لوگوں نے ناپسند کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار لوگوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کریں گے۔ اور یہ لوگ جب سفر سے واپس آگئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلانے کا ارادہ کیا۔ پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور ان کی طرف دیکھا پھر لوگ اپنے کجاو وں کی طرف پلٹ گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ جب سارے لشکروا لے آگئے ۔ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کرلیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی کیا رائے ہے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہ انہوں نے یہ کام کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ علی رضی اللہ عنہ سے کیا چاہتے ہو ؟ ! تم لوگ علی رضی اللہ عنہ سے کیا چاہتے ہو ؟ ! علی رضی اللہ عنہ مجھ سے ہیں اور میں علی رضی اللہ عنہ سے ہوں اور علی رضی اللہ عنہ میرے بعد ہر مومن کے دوست ہیں۔
حدیث نمبر: 34294
٣٤٢٩٤ - حدثنا جعفر بن عون قال: ثنا (شقيق) (١) بن أبي عبد اللَّه قال: حدثنا أبو بكر بن خالد بن عُرْفُطَة قال: أتيت سعد بن مالك بالمدينة فقال: ذكر لي أنكم تسبون عليًا؟ قال: قد فعلنا، قال: فلعلك قد سببته؟ قال: قلت: معاذ اللَّه، قال: فلا تسبه، فلو وضع المنشار على مفرقي على أن أسب عليًا ما سببته أبدًا، بعد ما سمعت من رسول اللَّه ﷺ ما سمعت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن خالد بن عُرْفطہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں آیا ، تو انہوں نے کہا : مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ تم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے ہو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : شاید کہ تم بھی ان کو گالیاں دیتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کی پناہ ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کبھی ان کو گالی مت دینا۔ پس اگر میرے سر کے درمیان میں آرا رکھ دیا جائے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دوں ! میں کبھی بھی ان کو گالی نہیں دوں گا اس حدیث کے سننے کے بعد جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں۔
حدیث نمبر: 34295
٣٤٢٩٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي إسحاق (عمن حدثه عن) (١) ميمونة (قال) (٢): لما كانت الفرقة قيل لميمونة ابنة الحارث: يا أم المؤمنين، فقالت: عليكم بابن أبي طالب فواللَّه ما ضل ولا ضل به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب جدائی کا وقت تھا تو میمونہ بنت حارث سے کہا گیا : اے ام المؤمنین ! آپ علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو لازم پکڑ لو۔ اللہ کی قسم نہ وہ گمراہ ہیں اور نہ ان کی وجہ سے کوئی گمراہ ہوا۔
حدیث نمبر: 34296
٣٤٢٩٦ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي: ﴿أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [التوبة: ١٩]، قال: نزلت في علي والعباس (١).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام شعبی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : قرآن کی یہ آیت { أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ } حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 34297
٣٤٢٩٧ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن مجاهد قال: قال علي: إنه لم يعمل بها أحد قبلي ولا يعمل بها أحد بعدي، كان لي دينار فبعته بعشرة دراهم فكنت إذا ناجيت رسول اللَّه ﷺ تصدقت بدرهم، حتى نفدت ثم تلا هذه الآية: ﴿يَاأَيُّهَا (الَّذِينَ) (١) آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾ (٢) [المجادلة: ١٢].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ایک آیت ایسی ہے کہ نہ مجھ سے پہلے اس پر کسی نے عمل کیا اور نہ ہی میرے بعد کوئی اس پر عمل کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا میں نے اس کو دس دراہم کے عوض بیچ دیا پس جب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سرگوشی کرتاتو میں ایک درہم صدقہ کردیتا یہاں تک کہ وہ دراہم ختم ہوگئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے ایمان والو ! جب تم لوگ رسول ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنا چاہو تو تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو۔
حدیث نمبر: 34298
٣٤٢٩٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا (عبيد) (١) اللَّه الأشجعي عن سفيان بن (سعيد) (٢) عن عثمان بن المغيرة الثقفي عن سالم بن أبي الجعد عن علي ابن علقمة الأنماري عن علي قال: لما نزلت (هذه الآية) (٣): ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾، قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "ما (ترى!) (٤) دينار؟ " قلت: لا (يطيقونه) (٥)، قال: "فكم؟ " قلت: شعيرة، قال: ⦗٧٨⦘ "إنك لزهيد"، قال: فنزلت: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ (يَدَيْ نَجْوَاكُمْ) (٦) صَدَقَاتٍ﴾، (الآية) (٧) قال: (فبه) (٨) (خفف) (٩) اللَّه عن هذه الأمة (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن علقمہ انماری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب یہ آیت اتری ! اے ایمان والو ! جب تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں بات کرنا چاہو تو تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ کیا ایک دینار میں کافی ہے ؟ میں نے عرض کیا : لوگ اتنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تو کتنا ہونا چاہیئے ؟ میں نے عرض کیا تھوڑے سے جَو مقرر کردیے جائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا یہ تو بہت ہی کم ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اتنے میں دوسری آیت اتری گئی : ترجمہ : کیا تم لوگ ڈر گئے اس بات سے کہ پیش کرو اپنی علیحدگی کی گفتگو سے پہلے صدقات ؟ الایۃ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پس میری وجہ سے اللہ نے اس امت پر آسانی فرما دی۔
حدیث نمبر: 34299
٣٤٢٩٩ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبي هارون قال: كنت مع ابن عمر جالسًا إذ جاءه نافع بن الأزرق فقام على رأسه فقال: (واللَّه إني) (١) لأبغض عليًا، قال: فرفع إليه ابن عمر رأسه فقال: أبغضك اللَّه، تبغض رجلًا سابقة من سوابقه خير من (الدنيا) (٢) وما فيها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہارون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک نافع بن ازرق آیا، اور آپ رضی اللہ عنہ کے سر پر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ اللہ کی قسم ! میں علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا سر اٹھا کر ارشاد فرمایا : اللہ بھی تجھ سے بغض رکھے اس لیے کہ تو ایسے شخص سے بغض رکھتا ہے جو سبقت لے جانے والا ہے۔ اور دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 34300
٣٤٣٠٠ - حدثنا علي بن مسهر عن (فطر) (١) عن أبي الطفيل عن رجل من أصحاب النبي ﷺ قال: لقد جاء في علي من المناقب ما لو أن منقبا منها قسم بين الناس لأوسعهم خيرا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ م میں سے ایک نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں اتنے بہترین اوصاف جمع ہیں کہ ان میں سے اگر ایک وصف کو بھی لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے تو وہ خیر کے اعتبار سے بہت زیادہ وسیع ہو۔
حدیث نمبر: 34301
٣٤٣٠١ - حدثنا خلف بن خليفة عن حجاج بن دينار عن معاوية بن قرة قال: عنت أنا والحسن جالسين نتحدث إذ ذكر الحسن عليًا فقال: أراهم السبيل، وأقام لهم الدين (إذ) (١) اعوج (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور حسن رحمہ اللہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ حسن رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر فرمایا : اور فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ سیدھے راستے والے اور لوگوں کے دین کو سیدھا فرمانے والے تھے جب اس میں ٹیڑھ پن پیدا ہوجاتا ۔
حدیث نمبر: 34302
٣٤٣٠٢ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحر بن (صياح) (١) عن عبد الرحمن بن الأخنس عن (سعيد) (٢) بن زيد قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "علي في الجنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : علی رضی اللہ عنہ جنت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 34303
٣٤٣٠٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن شريك عن أبي إسحاق قال: قالت فاطمة: يا رسول اللَّه زوجتني حمش الساقين عظيم البطن أعمش العين، قال: "زوجتك أقدم أمتي سلمًا، وأعظمهم حلمًا، وأكثرهم علمًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نکاح ایسے شخص سے کردیا جو کمزور پنڈلیوں والا، بڑے پیٹ والا اور کمزور نگاہ کا حامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہارا نکاح ایسے شخص سے کیا ہے جو میری امت میں سب سے زیادہ صلح کو مقدم رکھنے والا اور سب سے عظیم بردبار اور سب سے زیادہ علم والا ہے۔
حدیث نمبر: 34304
٣٤٣٠٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن ابن أبي (غنية) (١) عن الحكم عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس (عن بريدة) (٢) قال: مررت مع علي إلى اليمن فرأيت منه جفوة، فلما قدمت على رسول اللَّه ﷺ ذكرت عليًا (فتنقصته) (٣)، فجعل وجه رسول اللَّه ﷺ يتغير، فقال: "ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ " قلت: بلى يا رسول اللَّه، قال: "من كنت مولاه فعلي مولاه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن لڑنے کے لیے گیا۔ تو میں نے ان میں کچھ زیادتی دیکھی۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور ان کا نقص بیان کیا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ مقدم نہیں ہوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! ضرور ۔ آپ نے فرمایا : میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔
حدیث نمبر: 34305
٣٤٣٠٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي التياح عن أبي السوار العدوي قال: قال علي: ليحبني قوم حتى يدخلوا (النار) (١) في حبي، وليبغضني (قوم) (٢) حتى يدخلوا النار في بغضي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السوّار العدوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ضرور بالضرور مجھ سے کچھ لوگ اتنی محبت کریں گے یہاں تک کہ وہ لوگ میری محبت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے اور ضرور بالضرور کچھ لوگ مجھ سے بغض رکھیں گے یہاں تک کہ وہ لوگ مجھ سے بغض کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔
حدیث نمبر: 34306
٣٤٣٠٦ - حدثنا وكيع عن حماد عن بن أبي نجيح (عن أبي التياح) (١) عن أبي ⦗٨١⦘ (حِبَرة) (٢) قال: سمعت عليًا يقول: (يهلك) (٣) فيّ رجلان: مفرط في حبي، ومفرط في بغضي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حبیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : دو شخص میرے بارے میں ہلاکت میں پڑیں گے۔ ایک میری محبت میں حد سے بڑھنے والا، اور دوسرا مجھ سے بغض کرنے میں حد سے بڑھنے والا۔
حدیث نمبر: 34307
٣٤٣٠٧ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن سماك عن أنس أن النبي ﷺ بعث ببراءة مع أبي بكر إلى مكة فدعاه فبعث عليًا فقال: "لا يبلغها إلا رجل من أهل بيتي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورة توبہ کی آیات دے کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان کو بھیجا۔ اور فرمایا : یہ آیات صرف میرے گھر کا ہی آدمی پہنچائے گا۔
حدیث نمبر: 34308
٣٤٣٠٨ - حدثنا وكيع عن نعيم بن (حكيم) (١) عن أبي مريم قال: سمعت عليًا يقول: (يهلك) (٢) في رجلان: مفرط في حبي، ومفرط في بغضي (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مریم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بارے میں دو شخص ہلاکت میں پڑیں گے ۔ ایک وہ شخص جو میری محبت میں حد سے بڑھے گا۔ اور دوسرا وہ شخص جو مجھ سے بغض کرنے میں حد سے بڑھے گا۔
حدیث نمبر: 34309
٣٤٣٠٩ - حدثنا أبو الجواب عن يونس (عن) (١) أبي إسحاق عن زيد بن (يثيع) (٢) عن أبي ذر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لينتهين (٣) أو لأبعثن إليهم رجلًا ⦗٨٢⦘ كنفسي فيمضي فيهم أمري، فيقتل المقاتلة ويسبي الذرية" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ضرور بالضرور بنو ولیعہ قبیلہ روکے گا یا یوں ارشاد فرمایا : کہ میں ضرور بالضرور ان کی طر ف ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو ان میں میرا حکم جاری کرے گا۔ اور قتال کرنے والوں سے قتال کرے گا اور ان کی ذریت کو قید ی بنائے گا۔
حدیث نمبر: 34310
٣٤٣١٠ - حدثنا مطلب بن زياد عن السدي قال: صعد علي المنبر فقال: اللهم العن كل مبغض لنا، قال: وكل محب لنا غال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو لعنت کر ہر اس شخص پر جو ہم سے بغض رکھنے والا ہے۔ اور ہر اس شخص پر جو ہم سے محبت کرنے میں غلوّ کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 34311
٣٤٣١١ - حدثنا مطلب بن زياد عن ليث قال: دخلت على أبي جعفر (فذكر) (١) ذنوبه وما يخاف، قال: فبكى، ثم قال: حدثني جابر أن عليًا حمل الباب يوم خيبر حتى صعد المسلمون ففتحوها، وأنه جرب فلم يحمله إلا أربعون رجلًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ کے پاس آیا پس انہوں نے گناہوں کا ذکر کیا اور خوف سے رونے لگے ۔ پھر ارشاد فرمایا : کہ مجھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا : بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خیبر کے دن دروازے کو اٹھا لیا یہاں تک کہ مسلمان قلعہ پر چڑھ گئے اور انہوں نے قلعہ کو فتح کرلیا، اور بیشک آزمایا گیا پس نہیں اٹھا سکے اس دروازے کو مگر چالیس آدمی۔
حدیث نمبر: 34312
٣٤٣١٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن واقد بن محمد بن زيد عن أبيه عن ابن عمر عن أبي بكر قال: يا أيها الناس أرقبوا محمدا ﷺ في أهل بيته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم محمد ﷺ کے گھر والوں کی حفاظت کرو۔
حدیث نمبر: 34313
٣٤٣١٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن النبي ﷺ (١) قال لعلي: "أنت أخي وصاحبي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : بیشک تو میرا بھائی اور میرا ساتھی ہے۔
حدیث نمبر: 34314
٣٤٣١٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: (سمعت أبا مكين) (١) عن (خاله) (٢) ⦗٨٣⦘ (أبي) (٣) أمية أن عليًا مر على دار في (مراد) (٤) (يبنى) (٥) فسقطت (عليه) (٦) كسرة لبنة أو قطعة لبنة، فدعا اللَّه أن لا يتم (بناءها) (٧)، قال: فما وضع فيها لبنة على لبنة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مکین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے ماموں حضرت ابو امیہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مقامِ مراد میں ایک گھر کے پاس سے گزرے جس کی تعمیر جاری تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ پر ایک اینٹ کا ٹکڑا گرپڑا ، آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ سے دعا کی کہ اس کی تعمیر مکمل نہ ہو، راوی فرماتے ہیں ، پھر اس گھر میں ایک اینٹ پر دوسری اینٹ نہیں رکھی گئی۔
…