کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 34235
٣٤٢٣٥ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عدي بن ثابت عن زر بن حبيش عن علي بن أبي طالب قال: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه (لعهد) (١) النبي الأمي إليَّ: أنه لا يحبني إلا مؤمن، ولا يبغضني إلا منافق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑ کر پیدا کیا اور انسان کو وجود بخشا یقینا نبی امی ﷺ نے مجھ عہد کیا تھا کہ صرف مخلص مومن ہی مجھ سے محبت کرے گا۔ اور منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34235
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٧٨)، وأحمد (٦٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34235، ترقيم محمد عوامة 32727)
حدیث نمبر: 34236
٣٤٢٣٦ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن (سعد) (١) بن عبيدة عن ابن بريدة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من كنت وليه فعلي وليه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جس کا دوست ہوں علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34236
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٢٩٦١)، والنسائي في الكبرى (٨١٤٤)، وابن حبان (٦٩٣٠)، والحاكم ٢/ ١٣٠، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٥٤)، والبزار (٢٥٣٥/ كشف)، واللالكائي (٢٦٣٧)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٢٣، والطبراني في الأوسط (٣٤٨)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٠٥١)، وابن زنجويه في الأموال (١٢٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34236، ترقيم محمد عوامة 32728)
حدیث نمبر: 34237
٣٤٢٣٧ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن (أم) (١) موسى عن أم سلمة قالت: والذي أحلف به إن كان علي لأقرب الناس عهدًا برسول اللَّه ﷺ، قالت: عدنا رسول اللَّه ﷺ يوم قبض في بيت عائشة، فجعل رسول اللَّه ﷺ (غداة بعد غداة) (٢) يقول: "جاء علي؟ " مرارًا، قالت: وأظنه كان بعثه في حاجة، قالت: فجاء بعد فظننا أن له إليه حاجة، فخرجنا من البيت فقعدنا بالباب، فكنت من أدناهم من الباب، قالت: (فأكب) (٣) عليه علي فجعل يساره ويناجيه، ثم قبص من يومه ذلك، فكان أقرب الناس به عهدًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام موسیٰ فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : میں قسم اٹھاتی ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے عہد کے اعتبار سے۔ آپ فرماتی ہیں ۔ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کر رہے تھے جس دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح میں ہر تھوڑی دیر بعد بار بار فرماتے کہ علی رضی اللہ عنہ آگیا ؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ مجھے یہ گمان تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کسی کام بھیجا ہے۔ پس وہ تھوڑی دیر میں آگئے تو ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کوئی کام ہے اس لیے ہم گھر سے نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گئے۔ پس ان سب میں دروازے کے سب سے زیادہ قریب میں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان سے سرگوشی فرماتے رہے۔ پھر اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ ہی سب سے زیادہ عہد کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34237
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34237، ترقيم محمد عوامة 32729)
حدیث نمبر: 34238
٣٤٢٣٨ - حدثنا جرير عن عطاء بن (السائب) (١) عن سعد بن عبيدة قال: سأل رجل ابن عمر فقال: أخبرني عن علي؟ قال: إذا أردت أن تسأل عن علي فانظر إلى ⦗٥٦⦘ منزله من منزل رسول اللَّه ﷺ هذا منزله، وهذا منزل رسول اللَّه ﷺ، قال: فإني أبغضه، قال: فأبغضك اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بتلائیے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ پوچھنا چاہے تو پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے قریب ہی ان کا گھر دیکھ لیا کر۔ یہ ان کا گھر ہے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہے۔ اس آدمی نے کہا : میں تو ان سے بغض رکھتا ہوں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پس پھر اللہ بھی تجھ سے بغض رکھتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34238
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34238، ترقيم محمد عوامة 32730)
حدیث نمبر: 34239
٣٤٢٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن علي قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ إلى أهل اليمن لأقضي بينهم، فقلت: يا رسول اللَّه إني لا علم لي بالقضاء، قال: فضرب بيده على صدري فقال: "اللهم اهد قلبه وسدد لسانه"، فما شككت في قضاء بين اثنين حتى جلست مجلسي هذا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن والوں کے پاس بھیجنا چاہا تاکہ میں ان کے درمیان فیصلے کروں۔ پس میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے تو قضاء سے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مار کر یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ ! اس کے دل کو ہدایت عطا فرما۔ اور اس کی زبان کو سیدھا کر دے۔ پس مجھے کبھی بھی دو بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں شک نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آج میں اس جگہ پر بیٹھا ہوا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34239
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34239، ترقيم محمد عوامة 32731)
حدیث نمبر: 34240
٣٤٢٤٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن علي قالوا له: أخبرنا عن نفسك، قال: كنت إذا سألت أعطيت وإذا سكت ابتدئت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو البختری رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : کہ آپ رضی اللہ عنہ ہمیں اپنے بارے میں بتلائیے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب میں کچھ سوال کرتا تھا تو مجھے عطاء کردیا جاتا تھا۔ اور جب میں خاموش ہوتا تھا تو مجھ ہی سے شروعات کی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34240
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34240، ترقيم محمد عوامة 32732)
حدیث نمبر: 34241
٣٤٢٤١ - حدثنا أبو (أسامة) (١) عن عوف عن عبد اللَّه بن عمرو بن هند (الجملي) (٢) عن علي قال: كنت إذا سألت رسول اللَّه ﷺ أعطاني وإذا سكت ابتدأني (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن ھند الجملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ مجھے عطا فرما دیتے ۔ اور جب میں خاموش ہوتا تھا تو مجھ ہی سے شروعات فرماتے ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34241
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34241، ترقيم محمد عوامة 32733)
حدیث نمبر: 34242
٣٤٢٤٢ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن حبشي بن جنادة قال: قلت له: يا أبا إسحاق أين رأيته؟ قال: وقف علينا في مجلسنا فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "علي مني وأنا منه، ولا يؤدي عني إلا علي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حبشی بن جنادہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : اس پر حضرت شریک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا : اے ابو اسحق ! آپ رحمہ اللہ نے ان کو یہاں دیکھا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : حضرت حبشی رحمہ اللہ ہماری مجلس میں ٹھہرے تھے اور فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا : علی رضی اللہ عنہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور میری طرف سے علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بھی ادائیگی نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34242
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه الترمذي (٣٧١٩)، وأحمد (١٧٥٠٦)، ويعقوب المعرفة ٢/ ٦٢٥، وابن ماجه (١١٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥١٤)، وابن عدي ٢/ ٨٤٨، والطبراني (٣٥١١)، والنسائي في الكبرى (٨١٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34242، ترقيم محمد عوامة 32734)
حدیث نمبر: 34243
٣٤٢٤٣ - حدثنا مطلب بن زياد عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد اللَّه قال: كنا بالجحفة بغدير خم (إذ) (١) خرج علينا رسول اللَّه ﷺ فأخذ بيد علي فقال: "من كنت مولاه فعلي مولاه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم غدیر خم کے موقع پر حجفہ مقام میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34243
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن محمد بن عقيل، أخرجه ابن عساكر ٤٢/ ٢٢٤، والآجري في الشريعة (١٥١٩)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٥٦)، والقضاعي في معجم أصحاب المصدفي ص ٣١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34243، ترقيم محمد عوامة 32735)
حدیث نمبر: 34244
٣٤٢٤٤ - [حدثنا شريك عن حنش بن الحارث عن (رياح) (١) بن الحارث قال: بينا علي جالسًا في الرحبة إذ جاء رجل عليه أثر السفر، فقال: السلام عليك يا مولاي، فقال: من هذا؟ فقالوا: هذا أبو أيوب الأنصاري، فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من كنت مولاه فعلي مولاه"] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ریاح بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کشادہ جگہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا جس پر سفر کے نشانات واضح تھے۔ اس نے کہا : اے میرے دوست تجھ پر سلامتی ہو۔ آپ نے پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : یہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا : میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34244
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٥٦٣)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٥٥)، والطبراني (٤٠٥٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34244، ترقيم محمد عوامة 32736)
حدیث نمبر: 34245
٣٤٢٤٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن مصعب بن سعد عن سعد بن أبي وقاص قال: خلف رسول اللَّه ﷺ علي بن أبي طالب في غزوة تبوك، فقال: يا ⦗٥٨⦘ رسول اللَّه تخلفني في النساء والصبيان، فقال: "أما توضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى غير (أنه) (١) لا نبي بعدي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جانشین بنایا تو آپ رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34245
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٤١٦)، ومسلم (٢٤٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34245، ترقيم محمد عوامة 32737)
حدیث نمبر: 34246
٣٤٢٤٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت إبراهيم بن سعد يحدث عن سعد عن النبي ﷺ أنه قال لعلي: "أما توضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34246
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٠٦)، ومسلم (٢٤٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34246، ترقيم محمد عوامة 32738)
حدیث نمبر: 34247
٣٤٢٤٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن موسى الجهني قال: حدثتني فاطمة ابنة علي قالت: حدثتني أسماء ابمْة عميس قالت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول لعلي: "أنت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه ليس نبي بعدي" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یوں ارشاد فرمایا : تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34247
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٧٤٦٧)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٤٦)، والنسائي في الكبرى (٨١٤٣)، وعبد اللَّه بن أحمد في زيادات الفضائل (١٠٩١)، والخطيب ١٢/ ٣٣٣، والطبراني ٢٤/ (٣٨٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34247، ترقيم محمد عوامة 32739)
حدیث نمبر: 34248
٣٤٢٤٨ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق (عن عطية) (١) عن زيد بن أرقم أن النبي ﷺ قال لعلي: "أنت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه لا نبي بعدي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34248
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عطية، أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (١٣٤٧)، وقد ورد من طريق زيد والبراء، أخرجه الطبراني (٥٠٩٤)، وابن عساكر ٤٢/ ١٧٨، وابن سعد ٣/ ٢٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34248، ترقيم محمد عوامة 32740)
حدیث نمبر: 34249
٣٤٢٤٩ - حدثنا أبو معاوية عن موسى بن مسلم عن عبد الرحمن بن سابط عن سعد قال: قدم معاوية في بعض حجاته فأتاه سعد فذكروا عليًا فنال منه معاوية، ⦗٥٩⦘ فغضب سعد فقال: (تقول) (١) هذا لرجل، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول له: ثلاث خصال لأن تكون لي خصلة منها أحب إلي من الدنيا وما فيها، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من كنت مولاه فعلي مولاه"، وسمعت النبي ﷺ يقول: "أنت مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه لا نبي بعدي"، وسمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لأعطين الراية رجلًا يحب اللَّه ورسوله" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن سابط رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہایک حج کے موقع پر تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہان کے پاس آئے تو لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کچھ الفاظ کہے پس حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آگیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات ایسے آدمی کے بارے میں کر رہے ہو کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں یہ تین خصوصیات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ اور مجھے ان خصوصیات میں سے کسی ایک کا مل جانا میرے نزدیک دنیا اور جو کچھ اس میں موجود ہے۔ اس سے بھی پسند ہے۔ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں جس کا دوست ہوں۔ علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میرے نزدیک ایسے ہی ہو جیسا کہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھے۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ میں ضرور بالضرور ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34249
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34249، ترقيم محمد عوامة 32741)
حدیث نمبر: 34250
٣٤٢٥٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الحارث بن حصيرة قال: حدثني أبو سليمان الجهني -يعني زيد بن وهب قال: سمعت عليًا على المنبر وهو يقول: أنا عبد اللَّه وأخو رسوله ﷺ، لم يقلها أحد قبلي ولا يقولها أحد بعدي إلا كذاب مفتر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلیمان الجھنی رحمہ اللہ یعنی زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں۔ کسی ایک نے بھی مجھ سے پہلے یہ نہیں کہا اور نہ ہی کوئی میرے بعد یہ کہے گا مگر جھوٹا شخص۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ الحارث ضعيف شيعي، ولا تقبل رواية الحارث فيما يؤيد بدعته.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34250، ترقيم محمد عوامة 32742)
حدیث نمبر: 34251
٣٤٢٥١ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن الحكم والمنهال وعيسى عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان علي يخرج في الشتاء في إزار ورداء ثوبين خفيفين، وفي الصيف في القباء المحشو والثوب الثقيل، فقال الناس لعبد الرحمن: لو قلت لأبيك فإنه (يسهر) (١) معه، فسألت أبي فقلت: إن الناس قد رأوا من أمير المؤمنين شيئًا استنكروه، (قال) (٢): وما ذاك؛ (قالوا) (٣): يخرج في الحر الشديد في القباء، المحشو والثوب الثقيل ولا يبالي ذلك، ويخرج في البرد الشديد في الثوبين ⦗٦٠⦘ الخفيفين والملاءتين لا يبالي ذلك، ولا يتقي بردًا، فهل سمعت في ذلك شيئًا، فقد أمروني أن أسألك أن تسأله إذا سمرت عنده، فسمر عنده، فقال: يا أمير المؤمنين إن الناس قد تفقدوا منك شيئًا، قال: وما هو؟ قال: تخرج في الحر الشديد في القباء المحشو والثوب الثقيل، وتخرج في البرد الشديد في الثوبين الخفيفين وفي الملاءتين لا تبالي ذلك ولا تتقي بردًا، قال: وما كنت معنا يا أبا ليلى بخيبر؟ قال: قلت: بلى واللَّه قد كنت معكم، قال: فإن رسول اللَّه ﷺ بعث أبا بكر فسار بالناس فانهزم حتى رجع إليه، وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لأعطين الراية رجلًا يحب اللَّه ورسوله، ويحبه اللَّه ورسوله، يفتح اللَّه له ليس بفرار"، فأرسل إليَّ فدعاني فأتيته وأنا أرمد لا أبصر شيئًا، فتفل في عيني وقال: "اللهم أكفه الحر والبرد"، قال: فما آذاني بعد حر ولا برد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت منھال رحمہ اللہ اور عیسیٰ رحمہ اللہ ، یہ سب حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سردیوں میں تہہ بند اور چادر دو باریک کپڑوں میں نکلتے تھے۔ اور گرمیوں میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے ! تو لوگ حضرت عبدالرحمن سے کہنے لگے : اگر آپ رحمہ اللہ اپنے والد سے پوچھ لیں تو وہ آپ کو بتلا دیں گے اس لیے کہ وہ رات کو ان سے بات چیت کرتے ہیں ۔ پس میں نے اپنے والد سے پوچھا : کہ لوگ امیر المؤمنین میں ایسی چیز دیکھتے ہیں جس کو وہ عجیب سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے پوچھا : وہ کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا : آپ رضی اللہ عنہ سخت گرمی میں گرم چوغہ اور بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور سخت سردی میں آپ رضی اللہ عنہ دو باریک کپڑوں اور چھوٹی چادروں میں نکلتے ہیں اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس چیز کی بالکل پروا بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ رضی اللہ عنہ سردی سے بچتے ہیں۔ کیا آپ رحمہ اللہ نے ان سے اس بارے میں کچھ سنا ہے ؟ اس لیے کہ لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے کہوں کے آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب رات کو بات کریں تو اس بارے میں دریافت کریں۔ پس جب رات کو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی تو ان سے کہا : اے امیر المؤمنین : لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی ایک چیز کا جائز ہ لیا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ رضی اللہ عنہ سخت گرمی میں گرم چوغہ یا بھاری کپڑوں میں نکلتے ہیں۔ اور شدید سردی کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہ دو باریک کپڑوں اور چادروں میں نکلتے ہیں۔ اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی آپ رضی اللہ عنہ سردی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابو لیلیٰ کیا تم غزوہ خیبر کے موقع پر ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ لوگوں کو لے کر گئے پس وہ شکست کھا کر واپس لوٹ آئے ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا مگر وہ بھی شکست کھا کر واپس آئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس شخص سے محبت کرتے ہیں ۔ اللہ اس کو فتح عطا فرمائیں گے ۔ وہ شخص پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہیں ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیجا مجھے بلانے کے لیے۔ میں حاضر خدمت ہوگیا ، اور میں آشوب چشم میں مبتلا تھا میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ میں لعاب ڈالا ، پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ ! تو سردی اور گرمی سے اس کی کفایت فرما۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے بعد سے مجھے کبھی سردی اور گرمی نے تکلیف نہیں پہنچائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34251
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لسوء حفظ ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٧٧٨)، وابن ماجه (١١٧)، والحاكم ٣/ ٣٧، والبزار (٤٩٦)، والنسائي في الخصائص (١٤)، وسيأتي ١٤/ ٤٦٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34251، ترقيم محمد عوامة 32743)
حدیث نمبر: 34252
٣٤٢٥٢ - حدثنا أسود بن عامر عن شريك عن منصور عن ربعي عن علي عن النبي ﷺ (١) قال: "يا معشر قريش ليبعثن اللَّه عليكم رجلًا منكم قد امتحن اللَّه قلبه للإيمان فيضربكم أو يضرب رقابكم"، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا"، (فقال) (٢) عمر: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا، ولكنه خاصف النعل"، وكان أعطى عليًا نعله يخصفها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے گروہ قریش ! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور ایک آدمی بھیجیں گے جو تم ہی میں سے ہوگا۔ تحقیق اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے چن لیا ہے۔ پس وہ تمہیں قتل کرے گا یا یوں فرمایا : کہ وہ تمہاری گردنیں مارے گا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ جوتوں میں پیوند لگانے والا ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوتا مرحمت فرمایا تھا جس میں انہوں نے پیوند لگایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34252
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه النسائي (٨٤١٦)، والترمذي (٣٧١٥)، والحاكم ٢/ ١٣٧، والطبراني في الأوسط (٣٨٦٢)، والبزار (٩٠٥)، والخطيب ١/ ١٣٣، وابن عساكر ٤٢/ ٣٤٢، وابن الأثير ٤/ ١١٤، والطحاوي في شرح المشكل (٤٠٥٣)، والقطيعي في زوائد فضائل الصحابة (١١٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34252، ترقيم محمد عوامة 32744)
حدیث نمبر: 34253
٣٤٢٥٣ - حدثنا بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه عن أبي سعيد الخدري قال: كنا جلوسًا في المسجد فخرج رسول اللَّه ﷺ فجلس إلينا ولكأن على رؤوسنا الطير لا يتكلم أحد منا، فقال: "إن منكم رجلًا يقاتل الناس على تأويل القرآن كما قوتلتم على تنزيله"، فقام أبو بكر فقال: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا"، فقام عمر فقال: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا ولكنه خاصف النعل في الحجرة"، قال: فخرج علينا علي ومعه نعل رسول اللَّه ﷺ يصلح منها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رجائ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے : ہم میں سے کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ایک آدمی ہوگا جو لوگوں سے قتال کرے گا قرآنی تاویل پر جیسا کہ اس کے اترنے پر تم سے قتال کیا گیا تھا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ شخص حجرے میں جوتے کو پیوند لگا رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اس حال میں کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا تھا جس کو انہوں نے ٹھیک کیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34253
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٧٧٣)، والنسائي في الكبرى (٧٥٤١)، وابن حبان (٦٩٣٧)، والحاكم ٣/ ١٢٢، وابن عدي ٧/ ٢٦٦٦، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٦٧، وأبو يعلى (١٠٦٨)، والبغوي (٢٥٥٧)، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٠٨٣)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٣٦، وابن الجوزي في العلل (٣٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34253، ترقيم محمد عوامة 32745)
حدیث نمبر: 34254
٣٤٢٥٤ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: ثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن سلمة بن أبي الطفيل عن علي بن أبي طالب أن النبي ﷺ (١) قال له: "يا علي إن لك كنزًا في الجنة، وإنك ذو قرنيها فلا تتبع النظرة نظرة، فإنما لك الأولى وليست لك (الآخرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمہارے لیے جنت میں ایک خزانہ ہے اور تم اس کے مالک ہو۔ جب کسی پر ایک نظر پڑجائے تو دوسری نظر مت ڈالو۔ کیونکہ ایک نظر تو معاف ہے لیکن دوسری معاف نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34254
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34254، ترقيم محمد عوامة 32746)
حدیث نمبر: 34255
٣٤٢٥٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن العلاء بن الصالح عن المنهال عن عباد بن عبد اللَّه قال: سمعت عليًا يقول: أنا عبد اللَّه وأخو رسوله، وأنا الصديق الأكبر، لا ⦗٦٢⦘ يقولها بعدي إلا كذاب مفتر، ولقد صليت قبل الناس بسبع سنين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں۔ اور میں صدیق اکبر ہوں۔ نہیں کہے گا اس بات کو میرے بعد مگر جھوٹا کذاب شخص۔ اور تحقیق میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34255
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عباد بن عبد اللَّه الأسدي متروك على الصحيح؛ أخرجه ابن ماجه (١٢٠)، والحاكم ٣/ ١١١، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٢٤)، والنسائي في الخصائص (٧)، والعقيلي ٣/ ١٣٧، والمزي ٢٢/ ٥١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34255، ترقيم محمد عوامة 32747)
حدیث نمبر: 34256
٣٤٢٥٦ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن سلمة عن حبة العرني عن علي قال: أنا أول رجل صلى مع رسول اللَّه ﷺ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبۃ العرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں پہلا آدمی ہوں جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34256
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال حبة، أخرجه أحمد (١١٩١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٩)، والنسائي في الخصائص (١)، وابن سعد ٣/ ٢١، وسيأتي ١٣/ ٥٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34256، ترقيم محمد عوامة 32748)
حدیث نمبر: 34257
٣٤٢٥٧ - حدثنا عبيد اللَّه عن طلحة بن جبر عن المطلب بن عبد اللَّه عن مصعب بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن عوف قال: لما افتتح رسول اللَّه ﷺ مكة انصرف إلى الطائف فحاصرها (تسع) (١) (عشرة) (٢) أو ثماني عشرة، فلم يفتحها، ثم ارتحل روحة أو غدوة فنزل ثم هجّر ثم قال: "أيها الناسُ، إني فرط لكم، وأوصيكم بعترتي خيرًا، وإن موعدكم الحوض، والذي نفسي بيده لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة، أو لأبعثن إليكم رجلًا مني أو (كنفسي) (٣) فليضربن أعناق مقاتلتهم وليسبين ذراريهم"، قال: فرأى الناس أنه أبو بكر أو عمر فأخذ بيد علي فقال: "هذا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف لوٹے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ یا انیس دن تک طائف کا محاصرہ کیا۔ لیکن اس کو فتح نہ کرسکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح یا شام کے وقت کوچ فرمایا : پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کو چلنے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو ! بیشک میں تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں گا ، اور میں تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں ۔ اور تم سے وعدے کی جگہ حوض کوثر کا مقام ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو یا پھر میں تمہاری طرف اپنے ایک آدمی کو بھیجوں گا ۔ یا اپنے جیسے ایک آدمی کو بھیجوں گا ۔ پس وہ ضرور بالضرور ان میں سے قتال کرنے والوں کی گردنوں کو مارے گا ۔ اور ان کی اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں کا خیال تھا کہ وہ شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : وہ شخص یہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34257
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا، طلحة بن جبر متروك، أخرجه أبو يعلى (٨٥٩)، والحاكم ٢/ ١٢٠، والبزار (١٠٥٠)، وابن جرير في الجزء المفقود من تهذيب الآثار (٢١٦)، وابن عساكر ٤٢/ ٣٤٣، والفاكهي (١٩٦٢)، وخليفة في التاريخ ص ٨٩، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة (٩٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34257، ترقيم محمد عوامة 32749)
حدیث نمبر: 34258
٣٤٢٥٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن أبي فاختة قال: حدثني هبيرة بن (يريم) (١) عن علي قال: أهدي إلى رسول اللَّه ﷺ حلة مسيرة بحرير إما سداها حرير، أو لحمتها، فأرسل بها إلي، فأتيته فقلت: ما أصنع بها، ألبسها؟ فقال: "لا إني لما أرضى لك ما أكره لنفسي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہبیرہ بن یریم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا ہدیہ دیا گیا جو ریشم سے مزین تھا۔ یا تو اس کا تانا ریشم کا تھا یا اس کا بانا ریشم کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جوڑا مجھے بھیج دیا ۔ میں وہ جوڑا لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ اور میں نے دریافت کیا کہ میں اس کا کیا کروں ؟ کیا میں اس کو پہن لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! بیشک میں تیرے لیے وہ چیز پسند نہیں کرتا جو چیز میں اپنے لیے ناپسند کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34258
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه ابن ماجه (٣٥٩٦)، وسبق ٨/ ١٥٨، وأصله عند البخاري (٢٦١٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34258، ترقيم محمد عوامة 32750)
حدیث نمبر: 34259
٣٤٢٥٩ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن أبي فاختة قال: حدثني جعدة بن هبيرة عن علي عن النبي ﷺ بنحو من حديث عبد الرحيم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ما قبل والا ارشاد اس سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34259
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٠)، والطبراني ٢٤/ (٨٨٧)، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34259، ترقيم محمد عوامة 32751)
حدیث نمبر: 34260
٣٤٢٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (ناجية) (١) بن كعب عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت النبي ﷺ (فقلت) (٢): يا رسول اللَّه إن عمك الشيخ الضال قد مات قال: فقال: "انطلق فواره ثم (لا تحدثن) (٣) شيئًا حتى تأتيني"، قال: فواريته ثم أتيته فأمرني فاغتسلت، ثم دعا لي بدعوات ما أحب أن لي بهن ما على الأرض (من) (٤) (شيء) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ناجیۃ بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ جب ابو طالب کی وفات ہوگئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوڑھا گمراہ چچا وفات پا گیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان کو لے جا کر دفن کردو۔ پھر تم ہرگز کچھ مت کرنا۔ یہاں تک کہ میرے پاس آجانا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پس میں نے ان کو دفن کردیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کا حکم دیا ۔ پس میں نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے چند دعائیں کی۔ میں پسند نہیں کرتا اس بات کو کہ میرے لیے ان دعاؤں کے عوض زمین پر یہ یہ چیزیں ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34260
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ناجية بن كعب صدوق، أخرجه أحمد وأبو داود (٣٢١٤)، والنسائي ٤/ ٧٩، وابن سعد ١/ ١٢٤، والبيهقي ٣/ ٣٩٨، والدارقطني في العلل ٤/ ١٤٦، والشافعي في مسنده ١/ ٢٠٧، وأبو يعلى (٤٢٣)، وابن الجارود (٥٥٠)، وعبد الرزاق (٩٩٣٦)، والبزار (٥٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34260، ترقيم محمد عوامة 32752)
حدیث نمبر: 34261
٣٤٢٦١ - حدثنا عبيد اللَّه قال: أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن هانئ بن هانئ عن علي قال: قال لي النبي ﷺ: "أنت مني وأنا منك" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34261
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هانئ بن هانئ صدوق، أخرجه أحمد (٩٣١)، والنسائي (٨٥٧٩)، وابن حبان (٧٠٤٦)، والحاكم ٣/ ١٢٠، والبزار (٧٤٤)، والبيهقي ١٠/ ٢٦٦، والضياء (٧٧٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34261، ترقيم محمد عوامة 32753)
حدیث نمبر: 34262
٣٤٢٦٢ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق (١) زيد بن يثيع قال: بلغ عليًا أن أناسًا يقولون فيه، قال: فصعد المنبر فقال: أنشد اللَّه رجلًا ولا أنشده إلا من أصحاب محمد ﷺ سمع من النبي ﷺ شيئًا إلا قام، فقام مما يليه ستة ومما يلي (سعيد) (٢) بن وهب ستة، فقالوا: نشهد أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن یثیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ چند لوگ ان کے بارے میں کچھ بات کر رہے ہیں۔ تو آپ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھ کر فرمانے لگے۔ میں محمد ﷺ کے اصحاب میں سے اس شخص کو قسم دیتا ہوں۔ جس نے نبی ﷺ سے میرے بارے میں کچھ سنا ہے۔ تو وہ کھڑا ہوجائے ۔ پس چھ کے قریب لوگ کھڑے ہوگئے اور ان میں حضرت سعید بن وھب رضی اللہ عنہ چھٹے مل گئے۔ پھر ان سب لوگوں نے فرمایا : ہم گواہی دیتے ہیں اس بات کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ ! تو بھی دوست رکھ ! اس شخص کو جو اس سے دوستی رکھے۔ اور تو دشمنی کر اس شخص سے جو اس سے دشمنی رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34262
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه النسائي (٨٤٧٣)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (٩٥٠)، والضياء (٤٦٤)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٧٠)، والبزار (٧٨٦)، وابن عساكر ٤٢/ ٢٠٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34262، ترقيم محمد عوامة 32754)
حدیث نمبر: 34263
٣٤٢٦٣ - حدثنا شريك عن أبي (يزيد) (١) الأودي عن أبيه قال: دخل أبو هريرة المسجد فاجتمعنا إليه فقام إليه شاب فقال: أنشدك باللَّه أسمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه"، فقال: نعم، فقال: الشاب أنا منك برئ، (أشهد أنك قد) (٢) (عاديت من والاه وواليت من عاداه) (٣)، قال: فحصبه الناس بالحصا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو یزید الاودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو ہم لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے پھر ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر ان سے کہا : میں آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ ! تو بھی اس کو دوست بنا جو علی رضی اللہ عنہ کو دوست رکھتا ہو۔ اور تو اس سے دشمنی کر جو شخص اس سے دشمنی رکھتا ہو ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! پھر وہ نوجوان کہنے لگا : میں آپ رضی اللہ عنہ سے بری ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ رضی اللہ عنہ نے دشمنی کی اس شخص سے جو ان کو دوست رکھتا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے دوستی کی اس شخص سے جو ان سے دشمنی رکھتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس لوگوں نے اس نوجوان کو کنکریاں ماریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34263
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أبي يزيد الأودي، أخرجه أبو يعلى (٦٤٢٣)، والبزار (٢٥٣١/ كشف)، والطبراني في الأوسط (١١١١)، وابن عدي ٣/ ٨٠، وابن عساكر ٤/ ١٢، وابن جرير كما في البداية والنهاية ٥/ ٢١٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34263، ترقيم محمد عوامة 32755)
حدیث نمبر: 34264
٣٤٢٦٤ - حدثنا شريك عن عياش العامري عن عبد اللَّه بن شداد قال: قدم على رسول اللَّه ﷺ وفد (آل) (١) سرح من اليمن، فقال لهم رسول اللَّه ﷺ: "لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة ولتسمعن ولتطيعن، أو (لأبعثن) (٢) إليكم رجلًا (كنفسي) (٣) يقاتل مقاتلتكم ويسبي ذراريكم، اللهم أنا أو كنفسي"، (ثم) (٤) أخذ بيد علي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن کے سرح قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ اور بات سنو اور اطاعت کرو۔ یا پھر میں تمہاری طرف ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو میرے جیسا ہے وہ تمہارے لڑنے والوں سے قتال کرے گا اور تمہاری اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ اللہ کی قسم ! وہ میں یا میرے جیسا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34264
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٠٢٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34264، ترقيم محمد عوامة 32756)
حدیث نمبر: 34265
٣٤٢٦٥ - حدثنا شريك عن أبي (إسحاق) (١) عن عاصم بن ضمرة قال: خطب الحسن بن علي حين قتل علي فقال: يا أهل الكوفة، أو يا أهل العراق، لقد كان بين أظهركم رجل قتل الليلة أو أصيب اليوم لم يسبقه الأولون بعلم، (ولا يدركه الآخرون) (٢)، كان النبي ﷺ إذا بعثه في سرية كان جبريل عن يمينه وميكائيل عن يساره، فلا يرجع حتى يفتح اللَّه عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا : اے کوفہ والو یا یوں فرمایا : اے عراق والو ! تحقیق تمہارے سامنے ایک آدمی تھا جس کو رات کو شہید کردیا گیا یا یوں فرمایا : کہ جو آج فوت ہوگیا۔ پہلے لوگ اس سے علم میں نہیں بڑھے اور نہ ہی بعد والے لوگ اس کے علم کو پاسکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو کسی لشکر میں بھیجتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اس کی دائیں طرف ہوتے تھے اور حضرت میکائیل اس کی بائیں طرف ہوتے۔ پس وہ شخص واپس نہیں لوٹتا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو فتح عطا فرما دیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34265
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ اضطرب أبو إسحاق في إسناده، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٠٢٦)، وأبو يعلى (٦٧٥٨)، وابن حبان (١٩٣٦)، وابن سعد ٣/ ٣٨، والنسائي في الكبرى (٨٤٠٨)، والطبراني (٢٧١٧)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٦٥، وسيأتي ١٢/ ٧٤ [٣٤٢٧٦].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34265، ترقيم محمد عوامة 32757)
حدیث نمبر: 34266
٣٤٢٦٦ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن نمير قال: أخبرنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: ذكر عنده قول الناس في علي فقال: قد جالسناه ⦗٦٦⦘ وواكلناه وشاربناه وقمنا له على الأعمال، فما سمعته يقول شيئا مما (يقولون) (٢)، إنما يكفيكم أن تقولوا: ابن عم رسول اللَّه ﷺ (٣) (٤) وختنه وشهد بيعة الرضوان وشهد بدرا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق لوگوں کی باتیں ذکر کی گئیں تو انہوں نے فرمایا : ہم لوگ آپس میں بیٹھے ہیں ہم نے اکٹھے کھایا پیا ہے ۔ اور ہم ان کے اعمال پر رضا مند ہیں پس میں نے تو کبھی بھی نہیں سنی وہ بات جو لوگ کہتے ہیں۔ بیشک تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم یوں کہہ دیا کرو۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ اور ان کے داماد ہیں وہ بیعت الرضوان کے موقع پر حاضر تھے اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34266
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34266، ترقيم محمد عوامة 32758)
حدیث نمبر: 34267
٣٤٢٦٧ - حدثنا يعلى بن عبيد عن أبي منين وهو يزيد بن كيسان عن أبي حازم عن أبي هريرة قال: قال (رسول اللَّه) (١) ﷺ: "لأدفعن الراية (اليوم) (٢) إلى رجل يحب اللَّه ورسوله"، قال: فتطاول القوم فقال: "أين علي؟ " فقالوا: يشتكي عينيه، فدعاه فبزق في كفيه ومسح بهما عين علي ثم دفع إليه الراية ففتح اللَّه عليه يومئذ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور آج ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس لوگ قدم اونچے کرکے اپنے آپ کو ظاہر کرنے لگے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی رضی اللہ عنہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : ان کی دونوں آنکھوں میں تکلیف ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور اپنی ہتھیلی میں لعاب مبارک ڈالا اور اس کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کو مسلا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جھنڈا دیا۔ پس اسی دن اللہ نے ان کو فتح عطا فرما دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34267
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي في الكبرى (٨١٥١)، وابن حبان (٦٩٣٣)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ٢٥، وإسحاق (٢١٩)، ويعلي ويزيد ثقتان، وقد ورد الخبر بطريق آخر من حديث أبي هريرة، أخرجه مسلم (٢٤٠٥)، وورد من حديث أبي حازم عن سهل بن سعد، أخرجه البخاري (٢٨٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34267، ترقيم محمد عوامة 32759)
حدیث نمبر: 34268
٣٤٢٦٨ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: بينما النبي ﷺ (١) عنده نفر من أصحابه، فأرسل إلى نسائه فلم يجد عند امرأة منهن شيئًا، فبينما هم كذلك إذ هم بعلي قد أقبل (شعشًا) (٢) مغبرًا، على عاتقه قريب من صاع من تمر قد عمل بيده، فقال النبي ﷺ: "مرحبا بالحامل والمحمول"، ثم أجلسه ⦗٦٧⦘ فنفض عن رأسه التراب، ثم قال: "مرحبا بأبي تراب"، فقربه فأكلوا حتى صدروا، ثم أرسل إلى نسائه كل واحدة منهن طائفة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان کے اصحاب کی ایک جماعت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس کھانے کا پیغام بھیجا لیکن کسی بھی بیوی کے پاس کھانے کی کوئی چیز بھی نہ ملی۔ تو اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے جو غبار آلود اور پراگندہ حال میں تھے اور ان کے کندھے پر ایک صاع کے قریب کھجوریں تھیں۔ جو انہوں نے مزدوری کر کے حاصل کی تھیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خوش آمدید بوجھ اٹھانے والے کو اور اٹھائے ہوئے بوجھ کو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پاس بٹھایا اور ان کے سر سے مٹی جھاڑی پھر ارشاد فرمایا : خوش آمدید ابوتراب ! پھر انہوں نے کھجوروں کو قریب کیا۔ یہاں تک کہ سب نے سیر ہو کر کھائیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو بھی اس میں سے حصہ بھیجا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34268
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ ابن أبي ليلى تابعي، ويزيد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34268، ترقيم محمد عوامة 32760)
حدیث نمبر: 34269
٣٤٢٦٩ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن النبي ﷺ دفع الراية إلى (علي) (١) فقال: " (لأدفعنها) (٢) إلى رجل يحب اللَّه ورسوله، (ويحبه اللَّه ورسوله) (٣) "، قال: فتفل في عينيه وكان أرمد، (قال) (٤): (ودعا) (٥) له ففتحت عليه خيبر (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا : میں ایسے شخص کو جھنڈا دے رہا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں میں لعاب ڈالا کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ اور ان کے لیے دعا فرمائی پس اللہ نے ان کو خیبر میں فتح دے دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34269
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34269، ترقيم محمد عوامة 32761)
حدیث نمبر: 34270
٣٤٢٧٠ - حدثنا وكيع عن هشام بن سعد عن عمر بن أَسيد عن ابن عمر قال: (قال عمر بن الخطاب -أو قال أبي) (١): لقد أوتي علي بن أبي طالب ثلاث خصال؛ لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم، (زوجه) (٢) ابنته فولدت له، وسد الأبواب إلا بابه، وأعطاه الحربة يوم خيبر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن اسید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کو تین خصوصیات عطا کی گئیں ۔ مجھے ان میں سے ایک کا مل جانا میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دی جس سے ان کی اولاد بھی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دروازے بند کروا دیے سوائے ان کے دروازے کے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن ان کو جھنڈا عطا فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34270
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف هشام بن سعد، أخرجه أحمد (٤٧٩٧)، وابن عساكر ٤٢/ ١٢١، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٣٢٨، وابن الأثير ٣/ ٣٢٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34270، ترقيم محمد عوامة 32762)
حدیث نمبر: 34271
٣٤٢٧١ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: ثنا عكرمة بن عمار قال: حدثني أياس ابن سلمة قال: أخبرني أبي أن رسول اللَّه ﷺ أرسله إلى علي فقال: "لأعطين ⦗٦٨⦘ الراية رجلًا يحب اللَّه ورسوله، ويحبه اللَّه ورسوله"، قال: فجئت به أقوده أرمد، قال: فبصق رسول اللَّه ﷺ في عينيه، ثم أعطاه الراية، وكان الفتح على يديه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضر ت علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔ اور ارشاد فرمایا : میں ضرور بالضرور ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ! ا س سے محبت کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پس میں ان کو لایا اس حال میں کہ میں ان کو راستہ دکھانے کے لیے آگے چل رہا تھا کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک ڈالا پھر ان کو جھنڈا مرحمت فرمایا۔ اور اسی دن اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح دے دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34271
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٠٩)، ومسلم (١٨٠٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34271، ترقيم محمد عوامة 32763)
حدیث نمبر: 34272
٣٤٢٧٢ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن صدقة بن سعيد عن جميع بن عمير قال: دخلت على عائشة أنا و (أمي) (١) وخالتي فسألناها كيف كان علي عنده؟ فقالت: تسألوني عن رجل وضع يده من رسول اللَّه ﷺ موضعا لم (يضعها) (٢) أحد، وسألت نفسه في يده ومسح بها وجهه ومات، فقيل: أين (تدفنوه) (٣) فقال علي: ما في الأرض بقعة أحا إلى اللَّه من بقعة قبض فيها نبيه، فدفناه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جُمَیع بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں میری والدہ اور میری خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے پس ہم نے ان سے پوچھا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کیا مقام تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے نبی ﷺ کے بدن پر ایسی جگہ ہاتھ رکھا جہاں کسی نے بھی نہیں رکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ان ہاتھ میں نکلی کہ انہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ پوچھا گیا : تم لوگ نبی ﷺ کو کہاں دفن کرو گے ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک زمین کا کوئی ٹکڑا اس حصہ سے زیادہ محبوب نہیں جس میں اس نبی ﷺ کی وفات ہوئی۔ لہٰذا ہم نے اسی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کردی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34272
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جميع بن عمير، أخرجه أبو يعلى (٤٨٦٥)، وابن عساكر ٤٢/ ٣٩٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34272، ترقيم محمد عوامة 32764)
حدیث نمبر: 34273
٣٤٢٧٣ - حدثنا محمد بن بشر عن زكريا عن مصعب بن شيبة عن صفية بنت شيبة قالت: قالت عائشة: خرج النبي ﷺ غداة وعليه مرط مرجل من شعر أسود، فجاء الحسن فأدخله معه، ثم جاء حسين فأدخله معه، ثم جاءت فاطمة فأدخلها، ثم جاء علي فأدخله، ثم قال: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ (١) [الأحزاب: ٣٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت نکلے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی کالی چادر تھی جس پر اونٹوں کے کجاوے کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ پس حضرت حسن رضی اللہ عنہائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس میں داخل کیا۔ پھر حضرت حسین رحمہ اللہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا ۔ پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی چادر میں داخل کرلیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ دور کر دے تم سے گندگی ، اے نبی ﷺ کے گھر والو اور پاک کر دے تمہیں پوری طرح ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34273
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مصعب بن شيبة صدوق، أخرجه مسلم (٢٤٢٤)، وأحمد (٢٥٢٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34273، ترقيم محمد عوامة 32765)
حدیث نمبر: 34274
٣٤٢٧٤ - حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن شداد أبي عمار قال: دخلت على واثلة وعنده قوم فذكروا فشتموه، فشتمته معهم، فقال: ألا أخبرك بما سمعت من رسول اللَّه ﷺ؟ قلت: بلى، قال: أتيت فاطمة أسألها عن علي فقالت: توجه إلى رسول اللَّه ﷺ فجلس، فجاء رسول اللَّه ﷺ ومعه علي وحسن وحسين ⦗٦٩⦘ كل واحد منهما آخذ بيده، (حتى دخل) (١) فأدنى عليا وفاطمة فأجلسهما بين يديه، و (أجلس) (٢) حسنًا وحسينًا كل واحد منهما على فخذه، ثم لف عليهم ثوبه أو قال: (كساء) (٣)، ثم تلا هذه الآية: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ (٤)﴾، ثم قال: "اللهم هولاء أهل بيتي، وأهل بيتي أحق" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شداد ابو عمارہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ ان کے پاس چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ پس ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا پھر ان کو سب و شتم کرنے لگے تو میں نے بھی ان کے ساتھ ان کو برا بھلا کہا۔ تو حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس حدیث کے بارے میں نہ بتلاؤں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ضرور سنائیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا میں نے ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا : تو وہ فرمانے لگیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ہیں پس میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں درآنحالیکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ گھر میں داخل ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے قریب کیا اور ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا ۔ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی بٹھایا یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر اپنا کپڑا یا چادر ڈال دی ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے نبی ﷺ کے گھر والو ! اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! یہ لوگ میرے گھر والے ہیں۔ اور میرے گھر والے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34274
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، أخرجه أحمد (١٦٨٨)، والحاكم ٢/ ٤١٦، والبخاري في التاريخ ٨/ ١٨٧، وابن حبان (٦٩٧٦)، وأبو يعلى (٧٤٨٦)، والطبراني ٢٢/ (١٦٠)، وابن جرير في التفسير ٢٢/ ٧، والطحاوي في شرح المشكل (٧٧٣)، والبيهقي ٢/ ٤١٦، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٤٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34274، ترقيم محمد عوامة 32766)