کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 34192
٣٤١٩٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين (عن) (١) عمر بن جاوان عن الأحنف بن قيس قال: قدمنا المدينة فجاء عثمان (فقيل: هذا عثمان) (٢)، فدخل ⦗٣٨⦘ عليه (ملية) (٣) له صفراء قد قنع بها رأسه، قال: هاهنا علي؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا طلحة؟ قالوا نعم، قال: هاهنا الزبير؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا سعد، قالوا: نعم، قال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو، (أتعلمون) (٤) أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من يبتاع (مربد) (٥) بني فلان غفر اللَّه (له) (٦) "، فابتعته بعشرين ألفًا أو خمسة وعشرين ألفًا فأتيت النبي ﷺ فقلت: قد ابتعتُه، فقال: "اجعله في مسجدنا وأجره لك"، قال: فقالوا: اللهم نعم، قال: فقال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو أتعلمون أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من يبتاع بئر رومة غفر اللَّه له"، فابتعتها بكذا وكذا ثم أتيته فقلت قد ابتعتها، فقال: "اجعلها سقاية للمسلمين وأجرها لك" (٧)، قالوا: اللهم نعم، قال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو، أتعلمون أن رسول اللَّه ﷺ نظر في وجوه القوم فقال: "من (جهز) (٨) هولاء غفر اللَّه له"، -يعني جيش العسرة- فجهزتهم حتى لم يفقدوا عقالًا ولا خطامًا؟ قالوا: اللهم نعم، قال: قال: اللهم اشهد -ثلاثًا (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن جاوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ مدینہ میں تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ کہا گیا کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ پر زرد رنگ کی چادر تھی جس سے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر ڈھانپا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو جو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ جو شخص فلاں قبیلہ کے اونٹ کا باڑ ا خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے تو میں نے وہ باڑا بیس ہزار یا پچیس ہزار میں خریدا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : تحقیق میں نے وہ باڑا خرید لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس جگہ کو ہماری مسجد کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر وثواب تمہیں ملے گا ؟ راوی کہتے ہیں : ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر کہا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دیتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں : کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے متعلق جانتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رومہ میٹھے پانی کا کنواں خریدے گا تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیں گے۔ تو میں نے اس کنویں کو اتنے اور اتنے روپوں میں خریدا ، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : تحقیق میں نے اس کو خرید لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو اور اس کا اجر تمہیں ملے گا ؟ راوی کہتے ہیں : ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو جانتے ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہ کون شخص ہے جو ان لوگوں کے سفر کا سامان مہیا کرے گا ۔ اللہ اس شخص کی مغفرت فرما دیں گے۔ یعنی غزوہ تبوک میں۔ تو میں نے ان سب کے لیے سامان مہیا کیا یہاں تک کہ ان لوگوں کو اونٹ کی نکیل اور اونٹ کے پیر کی رسی کی بھی کمی نہیں ہوئی ؟۔ ان سب حضرات نے یک زبان ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی ہی بات ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ رہ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34192
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34192، ترقيم محمد عوامة 32686)
حدیث نمبر: 34193
٣٤١٩٣ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا كهمس بن الحسن عن عبد اللَّه بن شقيق قال: حدثني (هرم) (١) بن الحارث وأسامة بن (خريم) (٢) وكانا (يغازيان) (٣) فحدثاني حديثًا ولا يشعر كل واحد منهما أن صاحبه (حدثنيه) (٤) عن مرة (البهزي) (٥) قال: بينما نحن مع نبي اللَّه ﷺ ذات يوم في طريق من طرق المدينة فقال: "كيف تصنعون في فتنة (تحور) (٦) في أقطار الأرض كأنها صياصي (بقر) (٧)؟ " (قالوا) (٨): فنصنع ماذا يا رسول اللَّه؟ قال: "عليكم بهذا (و) (٩) أصحابه"، (قال) (١٠): فأسرعت حتى عطفتُ على الرجل، فقلت: هذا يا نبي اللَّه (قال: هذا) (١١) فإذا هو عثمان (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرۃ البھزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دن مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کا کیا حال ہوگا اس فتنہ میں جو اطراف زمین میں پھوٹ پڑے گا گویا کہ وہ گائے کے دو سینگوں کی طرح ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم لوگ اس صورت میں کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں پر لازم ہے اس شخص کی اور اس کی جماعت کی پیروی کرنا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے جلدی کی یہاں تک کہ میں اس آدمی کے پاس پہنچ گیا پھر میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ﷺ! یہ شخص ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہی شخص ہے۔ تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34193
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34193، ترقيم محمد عوامة 32687)
حدیث نمبر: 34194
٣٤١٩٤ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن هشام عن ابن سيرين عن كعب بن عجرة أن رسول اللَّه ﷺ ذكر فتنة (فقربها) (١)، فمر رجل مقنع فقال: "هذا وأصحابه يومئذ على الهدى"، فانطلق الرجل فأخذ بمنكبيه وأقبل بوجهه إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: هذا؟ قال: "نعم"، فإذا هو عثمان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کا ذکر فرمایا : اور اس کو بہت قریب بتلایا۔ پھر ایک شخص گزرا جس کا سر چادر میں چھپا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دن یہ شخص اور اس کی جماعت ہدایت پر ہوگی۔ پس ایک آدمی اس کے پیچھے گیا اور اس کو کندھے سے پکڑ کر اس کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیرا اور پوچھا : یہ شخص ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پس وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34194
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34194، ترقيم محمد عوامة 32688)
حدیث نمبر: 34195
٣٤١٩٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: لما قتل عثمان قام خطباء بإيلياء فقام من آخرهم رجل من أصحاب النبي ﷺ يقال له مرة بن كعب فقال: لولا حديث سمعته من رسول اللَّه ﷺ ما قمت، إن رسول اللَّه ﷺ ذكر فتنة أحسبه قال: "فقربها"، فمر رجل مقنع فقال رسول اللَّه ﷺ: "هذا وأصحابه يومئذ على الحق"، فانطلقت فأخذت بمنكبيه، فأقبلت بوجهه إلى رسول اللَّه ﷺ فقلت: هذا؟ فقال: "نعم"، فإذا هو عثمان (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو ایلیاء مقام پر بہت سے خطیبوں نے خطاب کیا پس ان کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ تھا وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : اگر یہ حدیث میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہوتی تو میں کبھی کھڑا نہ ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کا ذکر کیا ۔ میر اگمان ہے کہ اس کو بہت قریب بتلایا تو ایک آدمی جس کا سر چادر سے چھپا ہوا تھا وہ گزرا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس دن یہ شخص اور ا س کی جماعت حق پر ہوگی۔ پس میں اس شخص کے پیچھے گیا پھر میں نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کے چہرے کو پھیرا اور پوچھا : یہ شخص ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں۔ پس وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34195
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34195، ترقيم محمد عوامة 32689)
حدیث نمبر: 34196
٣٤١٩٦ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا صدقة بن المثنى قال: سمعت جدي (رياح) (١) بن الحارث عن سعيد بن زيد قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (٢): "عثمان في الجنة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ عثمان جنت میں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34196
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦٢٩)، وأبو داود (٤٦٥٠)، وابن ماجه (١٣٣)، والنسائي في الكبرى (٨٢١٩)، وسبق ١٢/ ١٢، وانظر: ١٢/ ٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34196، ترقيم محمد عوامة 32690)
حدیث نمبر: 34197
٣٤١٩٧ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة قال رسول اللَّه ﷺ: "أصدق أمتي حياء عثمان" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں سب سے زیادہ حیادار عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34197
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو قلابة تابعي، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٣٨٧)، وقد ورد من طريق أبي قلابة عن أنس مرفوعًا، أخرجه النسائي (٨٢٤٢)، وابن ماجه (١٥٤)، والترمذي (٣٧٩١)، وأحمد (١٢٩٢٧)، والبغوي في التفسير ٤/ ٢٠٧، والضياء (٢٢٤١)، والحاكم ٣/ ٤٧٧، وابن حبان (٧١٣١)، والبيهقي ٦/ ٢١٠، والطيالسي (٢٠٩٦)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ١٢٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34197، ترقيم محمد عوامة 32691)
حدیث نمبر: 34198
٣٤١٩٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة أن رجلًا من قريش يقال له: ثمامة كان على صنعاء، فلما جاءه قتل عثمان بكى فأطال البكاء، فلما أفاق قال: اليوم انتزعت النبوة أو قال: خلافة النبوة، وصارت ملكًا وجبرية، من غلب على شيء أكله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کا ایک آدمی جس کو ثمامہ کہتے تھے؛ وہ صنعاء میں تھا جب اس کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر پہنچی پس وہ رونے لگا اور کافی دیر تک روتا رہا۔ جب وہ خاموش ہوا تو کہنے لگا۔ آج نبوت یا نبوت کی خلافت چھین لی گئی ۔ اور بادشاہت اور ظلم ہوگا۔ جو جس چیز پر غالب آئے گا اس کو کھاجائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34198
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34198، ترقيم محمد عوامة 32692)
حدیث نمبر: 34199
٣٤١٩٩ - حدثنا محمد بن بشر العبدي عن مسعر عن عبد الملك بن عمير عن موسى بن طلحة قال: قالت عائشة: كان عثمان أحصنهم فرجًا وأوصلهم (للرحم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی فرمانے والے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34199
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34199، ترقيم محمد عوامة 32693)
حدیث نمبر: 34200
٣٤٢٠٠ - حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة أن عثمان حمل في جيش العسرة على ألف بعير إلا سبعين كلها خيلًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ بلاشبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک میں مجاہدین کو ستر کم ایک ہزار اونٹوں پر سوار کیا۔ اور ہزار کے عدد کو ستر گھوڑوں سے مکمل کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34200
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قتادة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34200، ترقيم محمد عوامة 32694)
حدیث نمبر: 34201
٣٤٢٠١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن سنان قال: قال عبد اللَّه حين استخلف عثمان: ما ألونا عن (أعلاها ذا) (١) فوق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سنان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جب خلیفہ بنادیا گیا تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم نے اپنے میں سے سب سے بلند مرتبہ کو منتخب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34201
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34201، ترقيم محمد عوامة 32695)
حدیث نمبر: 34202
٣٤٢٠٢ - [حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن حكيم بن جابر قال: سمعت عبد اللَّه يقول حين بويع عثمان: ما ألونا عن أعلى هذا فوق] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی گئی تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو میں نے یوں فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگوں نے اپنے میں سب سے بلند مرتبہ کو منتخب کرنے میں کچھ کمی نہیں کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34202
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34202، ترقيم محمد عوامة 32696)
حدیث نمبر: 34203
٣٤٢٠٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن زياد بن أبي المليح عن أبيه قال: قال ابن عباس: لو أن الناس أجمعوا على قتل عثمان لرجموا بالحجارة كما رجم قوم لوط (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الملیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اگر سب لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر یکجا ہوجاتے تو ان پر ایسے ہی پتھر برسائے جاتے جیسا کہ قوم لوط پر برسائے گئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34203
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ زياد قال عنه أبو حاتم: ليس بالقوي، وليث ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34203، ترقيم محمد عوامة 32697)
حدیث نمبر: 34204
٣٤٢٠٤ - حدثنا ابن إدريس عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع أن رجلًا يقال له (جهجاه) (١) تناول عصي كانت في يد عثمان فكسرها بركبته، فرمي عن ذلك الموضع بآكلة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ ایک آدمی جس کو جھجاہ کہا جاتا تھا۔ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لکڑی چھین کر اس کو اپنے گھٹنے کی مدد سے توڑ دیا تو اس کے اس جگہ میں عضو کو کھانے والی بیماری ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34204
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34204، ترقيم محمد عوامة 32698)
حدیث نمبر: 34205
٣٤٢٠٥ - حدثنا ابن مبارك عن ابن لهيعة عن زياد بن أبي حبيب قال: قال كعب: كأني أنظر إلى هذا وفي يده شهابان من نار -يعني قاتل عثمان- فقتله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں اس کی طرف کہ اس کے دونوں ہاتھوں میں آگ کے انگارے ہیں یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل کو جس نے ان کو قتل کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34205
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34205، ترقيم محمد عوامة 32699)
حدیث نمبر: 34206
٣٤٢٠٦ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا إسماعيل أخبرنا قيس قال: أخبرنا أبو سهلة مولى عثمان قال: قال رسول اللَّه ﷺ في مرضه: "وددت أن عندي بعض أصحابي"، فقالت عائشة: أدعو لك أبا بكر؟ (قالت) (١): فسكت، فعرفت أنه لا يريده، فقلت: أدعو لك عمر؟ فسكت، فعرفت أنه لا يريده، قلت: فأدعو لك ⦗٤٣⦘ عليًا؟ فسكت، فعرفت أنه لا يريده، قلت: فأدعو لك عثمان بن عفان؟ قال: "نعم"، فدعوته، فلما جاء أشار إلي النبي ﷺ أن تباعدي، فجاء فجلس إلى النبي ﷺ فجعل رسول اللَّه ﷺ يقول له: "ولون عثمان يتغير" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سھلہ رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں ارشاد فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس میرا ایک ساتھی ہو۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : کیا میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دوں ؟ آپ فرماتی ہیں ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بلانا نہیں چاہتے۔ تو میں نے عرض کیا : کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے ۔ میں نے عرض کیا : کہ میں علی رضی اللہ عنہ کو بلا دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بھی بلانا نہیں چاہتے ۔ میں نے عرض کیا : میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلا دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! پس میں نے ان کو بلوا دیا ۔ جب وہ حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دور ہونے کے لیے اشارہ کیا۔ پس وہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کچھ فرماتے رہے اور حضرت عثمان کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سھلہ رحمہ اللہ نے مجھے بتلایا : کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گھر میں محصور تھے۔ تو ان کو کہا گیا : آپ رضی اللہ عنہ قتال کیوں نہیں کرتے ؟ ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا اور میں اس پر صبر کرنے والا ہوں۔ حضرت ابو سھلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ م کا گما ن تھا کہ وہ اسی مجلس میں وعدہ ہو اتھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34206
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو سهلة تابعي، أخرجه أحمد (٤٠٧)، والترمذي (٣٧١١)، وابن ماجه (١١٣)، وابن حبان (٦٩١٨)، والخلال في السنة (٤١٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥٨، وابن سعد ٣/ ٦٦، وأبو يعلى (٤٨٠٥)، والحاكم ٣/ ٩٩، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٣٩١، والحميدي (٢٦٨)، وإسحاق (١٧٧٦)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34206، ترقيم محمد عوامة 32700)
حدیث نمبر: 34207
٣٤٢٠٧ - قال قيس: فأخبرني أبو سهلة قال: لما كان يوم الدار قيل لعثمان: ألا تقاتل؟ فقال: إن رسول اللَّه ﷺ عهد إلي عهدًا، وإني صابر عليه، قال: أبو سهلة فيرون أنه ذلك المجلس (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34207
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو سهلة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34207، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 34208
٣٤٢٠٨ - حدثنا ابن إدريس عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن عامر قال: سمعت عثمان يقول: إن أعظمكم عندي (غناء) (١) من كف سلاحه ويده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے میرے نزدیک مجھے سب سے زیادہ نفع پہنچانے والا وہ شخص ہوگا جو اپنے ہتھیار اور ہاتھ کو جنگ کرنے سے روک دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34208
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34208، ترقيم محمد عوامة 32701)
حدیث نمبر: 34209
٣٤٢٠٩ - حدثنا عفان قال: ثنا وهيب و (حماد) (١) قالا: ثنا (عبد اللَّه) (٢) بن عثمان عن إبراهيم عن عكرمة عن ابن عباس في قوله: ﴿هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [النحل: ٧٦] قال: هو عثمان بن عفان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { ہَلْ یَسْتَوِی ہُوَ وَمَنْ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَہُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34209
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34209، ترقيم محمد عوامة 32702)
حدیث نمبر: 34210
٣٤٢١٠ - حدثنا عفان قال: ثنا سعيد بن زيد قال: ثنا عاصم بن بهدلة قال: ثنا أبو وائل عن عائشة (قالت) (١): كان عثمان يكتب وصية أبي بكر قالت: فأغمي عليه فعجل وكتب عمر بن الخطاب، فلما أفاق قال (له) (٢) أبو بكر: من كتبت؟ قال: عمر بن الخطاب، قال: كتبت الذي أردت (أن) (٣) آمرك به، ولو كتبت نفسك كنت لها أهلًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت لکھ رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جلدی سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام لکھ دیا۔ پس جب آپ رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا : تم نے کس کا نام لکھا ؟ انہوں نے فرمایا : عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو نے وہی بات لکھی کہ میں نے یہی چاہا تھا کہ اس کے لکھنے کا تمہیں حکم دوں۔ اور اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم بھی اس منصب کے اہل تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34210
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عاصم في أبي وائل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34210، ترقيم محمد عوامة 32703)
حدیث نمبر: 34211
٣٤٢١١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن كليب بن وائل عن حبيب بن أبي مليكة قال: سأل رجل ابن عمر عن عثمان فقال: شهد بدرًا؟ فقال: لا، فقال: هل شهد بيعة الرضوان؟ فقال: لا، قال: فهل تولى يوم التقى الجمعان؟ قال: نعم، قال: ثم ذهب الرجل، فقيل لابن عمر: إن هذا يزعم أنك (عبت) (١) عثمان، قال: ردوه (عليَّ) (٢)، (قال) (٣): (فردوه) (٤) عليه، فقال (له) (٥): هل عقلت ما قلت لك؟ قال: نعم، قال: سألتني هل شهد عثمان بدرًا فقلت لك: لا، فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك (٦) "، فضرب له (بسهمه) (٧) وسألتني هل شهد بيعة الرضوان، قال: ⦗٤٥⦘ فقلت لك: لا، وإن رسول اللَّه ﷺ بعثه إلى الأحزاب ليوادعونا (ويسالمونا) (٨) فأبوا وإن رسول اللَّه ﷺ بايع له وقال: "اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك ﷺ (٩) "، ثم مسح بإحدى يديه على الأخرى فبايع له، وسألتني هل كان عثمان تولى يوم التقى الجمعان قال: فقلت: نعم، وإن اللَّه قال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ﴾ [آل عمران: ١٥٥]، فاذهب فاجهد عليَّ جهدك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا : کہ کیا وہ غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں۔ پھر اس نے پوچھا : کیا وہ بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے تھے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! اس نے پوچھا : کہ کیا وہ اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکر آمنے سامنے ہوئے تھے ( غزوہ احد) ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پھر وہ آدمی چلا گیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا : بلاشبہ یہ آدمی سمجھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عیب بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو میرے پاس واپس بلاؤ۔ پس اس شخص کو واپس لے آئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو میں نے تمہیں کہا ہے کیا تم اسے سمجھے بھی ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا : اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیعت الرضوان میں حاضر تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں تھے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مشرکوں کی طرف بھیجا کہ وہ لوگ ہم سے مصالحت کرلیں مگر ان لوگوں نے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بیعت لی۔ اور فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں دے کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی اور تم نے مجھ سے سوا ل کیا کہ کیا حضرت عثمان اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکروں کا آمنا سامنا ہوا ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا : جی ہاں ! اور یقینا اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ( ترجمہ : بیشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تم میں سے جس دن باہم ٹکرائیں دو فوجیں۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ قدم ڈگمگا دیے تھے ان کے شیطان نے بوجہ بعض ان حرکتوں کے جو وہ کر بیٹھے تھے۔ بہرحال معاف کردیا اللہ نے انہیں) پس تم جاؤ اور جو میرے خلاف کرنا ہے کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34211
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو داود (٢٧٢٠)، والحاكم ٣/ ٩٨، والطحاوي ٣/ ٢٤٤، والطبراني ١/ (١٢٥)، وأبو يعلى (٥٥٩٩)، والمزي ٥/ ٤٠٢، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٣١١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٤)، وأصله عند البخاري (٣٦٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34211، ترقيم محمد عوامة 32704)
حدیث نمبر: 34212
٣٤٢١٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن أبي حصين عن (سعد) (١) بن عبيدة قال: سأل رجل ابن عمر عن عثمان فذكر أحسن أعماله ثم قال: لعل ذلك يسوؤك؟ فقال: أجل، (فقال) (٢): أرغم اللَّه بأنفك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا : تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے اچھے اعمال کا ذکر فرمایا : پھر ارشاد فرمایا : شاید کہ تم ان کے بارے میں برا گمان رکھتے ہو ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تیری ناک خاک آلود کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34212
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34212، ترقيم محمد عوامة 32705)
حدیث نمبر: 34213
٣٤٢١٣ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن إدريس عن محمد بن (٢) أيوب عن هلال بن أبي حميد قال: قال عبد اللَّه (بن عُكَيم) (٣): لا أعين على قتل خليفة بعد (٤) ⦗٤٦⦘ عثمان أبدًا، قال: فقيل له: (وأعنت) (٥) على دمه؟ قال: إني أعد ذكر مساوئه عونًا على دمه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھلال بن ابی حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عکیم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میں حضرت عثمان کے شہید ہوجانے کے بعد کبھی بھی خلیفہ کے قتل پر مدد نہیں کروں گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے ان کے قتل پر مدد کی تھی ؟ انہوں نے کہا : یقینا میں نے ان کے خون پر اتنی مدد کی کہ میں ان کی برائیاں شمار کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34213
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري في التاريخ الكبير ١/ ٣١، ويعقوب في المعرفة ١/ ٨٨، والدولابي ١/ ٢٦٨، وابن سعد ٣/ ٨٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34213، ترقيم محمد عوامة 32706)
حدیث نمبر: 34214
٣٤٢١٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى قال: سمعت عبد اللَّه بن عامر يقول: لما (تشعب) (١) الناس في الطعن على عثمان قام أبي فصلى من الليل، (ثم نام) (٢) قال: (فقيل) (٣) له: قم (فاسأل) (٤) اللَّه (أن) (٥) يعيذك من الفتنة التي أعاذ منها عباده الصالحين، قال: فقام (٦) فمرض، قال: فما (رئي) (٧) خارجًا حتى مات (٨).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عامر رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کے بارے میں لوگوں میں آراء مختلف ہونے لگیں تو میرے والد کھڑے ہوئے اور رات کی نماز پڑھی پھر وہ سو گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ پس ان کو کہا گیا : کھڑے ہو کر اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہیں بھی اس فتنہ سے محفوظ رکھے جیسے اس نے اپنے نیک بندوں کو اس سے محفوظ رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے قیام کیا پھر وہ بیمار ہوگئے ۔ پھر ان کو باہر نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34214
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد الأحمر صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ٤٠٣ (٥٥٣٤)، والبخاري في الأوسط ١/ ٦٤، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٧٨، وابن سعد ٣/ ٣٨٧، وابن عساكر ٢٥/ ٣٢٨، وابن شبه (١٩٤٥)، ونعيم في الفتن (٤٤١)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٠٤، وابن أبي الدنيا في المنامات (٢١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34214، ترقيم محمد عوامة 32707)
حدیث نمبر: 34215
٣٤٢١٥ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني معاوية بن صالح قال: حدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي قال: ثنا عبد اللَّه بن قيس أنه سمع النعمان بن بشير أرسله معاوية بن أبي سفيان بكتاب إلى عائشة فدفعه إليها فقالت لي: أنا أحدثك بحديث سمعته من رسول اللَّه ﷺ، قلت: بلى، قالت: إني عنده ذات يوم أنا وحفصة ⦗٤٧⦘ فقال: "لو كان عندنا (رجل) (١) يحدثنا"، فقلت: (يا رسول) (٢) اللَّه ابعث (إلى) (٣) أبي بكر فيجيء فيحدثنا، قال: فسكت، فقالت حفصة: (يا رسول) (٤) اللَّه ابعث (إلى) (٥) عمر فيحدثنا، فسكت، قالت: فدعا رجلًا فأسر إليه دوننا فذهب، ثم جاء عثمان فأقبل عليه بوجهه فسمعته يقول: "يا عثمان، إن اللَّه لعله أن يقمصك قميصًا، فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه" -ثلاثًا، قلت: يا أم المؤمنين أين كنت عن هذا الحديث؟ قالت: أنسيته كأني لم أسمعه قط (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک خط دے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے وہ خط ان کو دے دیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور سنائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک دن میں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ، حضور ﷺ کے پاس تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے۔ کاش کہ ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا تو وہ ہم سے بات کرتا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ آئیں اور ہم سے بات چیت کریں ؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ ہم سے بات چیت کریں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بلا کر ہم سے ہٹ کر اس سے سرگوشی کی پھر وہ چلا گیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ ان کی طرف متوجہ کیا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اے عثمان : شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے پس اگر کچھ لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں تو تم ہرگز اس کو مت اتارنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی۔ اے ام المؤمنین ! آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بھلا دی گئی تھی گویا کہ میں نے اس کو کبھی سنا ہی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34215
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34215، ترقيم محمد عوامة 32708)
حدیث نمبر: 34216
٣٤٢١٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرني موسى بن عبيدة عن إياس بن سلمة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ بايع لعثمان (إحدى) (١) يديه على الأخرى فقال الناس: هنيئا لأبي عبد اللَّه يطوف (بالبيت) (٢) آمنا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لو مكث كذا وكذا سنة ما طاف حتى أطوف" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت سلمہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اپنا داہنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر بیعت لی، تو لوگوں نے کہا : ابو عبد اللہ کے لیے تو خوش نصیبی ہے کہ وہ امن سے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ اتنے اور اتنے سال بھی ٹھہرتا تو طواف نہ کرتا یہاں تک کہ میں طواف کرلیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34216
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة، أخرجه ابن أبي حاتم في التفسير (١٨٥٩٦)، وانظر: تفسير ابن كثير ٤/ ١٩٢، وأخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٥)، والطبراني (١٤٤)، وابن عساكر ٣٩/ ٧٥، والروياني (١١٥٥)، وبنحوه ابن سعد ١/ ٤٦١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34216، ترقيم محمد عوامة 32709)
حدیث نمبر: 34217
٣٤٢١٧ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن سالم قال: قال عبد اللَّه بن عمر: لقد عبتم على عثمان أشياء لو أن عمر فعلها ما عبتموها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : البتہ تحقیق تم لوگ حضرت عثمان پر چند چیزوں کا عیب لگاتے ہو ۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کاموں کو کیا ہوتا تو تم کبھی بھی ان پر عیب نہ لگاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34217
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه اللالكائي (٢٥٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34217، ترقيم محمد عوامة 32710)
حدیث نمبر: 34218
٣٤٢١٨ - حدثنا عفان قال: ثنا وهيب قال: ثنا داود عن زياد بن عبد اللَّه عن أم هلال ابنة وكيع عن امرأة عثمان (قالت: أغفى عثمان) (١)، فلما استيقظ قال: إن القوم يقتلونني، فقلت كلا يا أمير المؤمنين، (فقال) (٢): إني رأيت رسول اللَّه ﷺ وأبا بكر وعمر، قال: فقالوا: أفطر عندنا الليلة، أو قالوا: (إنك) (٣) تفطر عندنا الليلة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام ھلال بنت وکیع فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہاونگھ رہے تھے جب بیدار ہوئے تو فرمانے لگے : یقینا میری قوم مجھے قتل کر دے گی۔ تو میں نے کہا : ہرگز نہیں اے امیر المؤمنین ! تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا ۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے یوں فرمایا : آج رات تم ہمارے ساتھ افطار کرو یا یوں فرمایا : تم آج رات ہمارے ساتھ افطار کرو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34218
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34218، ترقيم محمد عوامة 32711)
حدیث نمبر: 34219
٣٤٢١٩ - حدثنا محمد بن الحسن الأسدي قال: ثنا إبراهيم بن طهمان عن موسى بن عقبة عن جده أبي (حبيبة) (١) قال: دخلت الدار على عثمان وهو محصور، فسمعت أبا هريرة يقول: (سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول) (٢): "إنكم ستلقون بعدي فتنة واختلافًا"، قال: فقال له قائل: فما (تأمرنا؟) (٣) فقال: "عليكم (بالأمين) (٤) وأصحابه"، وضرب على منكب عثمان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حبیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا جب بلوائیوں نے ان کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ پس میں نے وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب میرے بعد تم فتنہ اور اختلاف پاؤ گے۔ راوی کہتے ہیں : کہ ایک پوچھنے والے نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی بات کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر امیر اور اس کے ساتھیوں کی اطاعت لازم ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34219
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو حبيبة وثقه العجلي، وذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه جمع، وأخرجه أحمد (٨٥٤١)، والحاكم ٣/ ٩٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34219، ترقيم محمد عوامة 32712)
حدیث نمبر: 34220
٣٤٢٢٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح قال: كان إذا ذكر قتل عثمان بكى (بكاء) (١) فكأني أسمعه يقول: هاه هاه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو صالح رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا ذکر فرماتے تو رونے لگتے۔ گویا کہ میں اب بھی ان کے سسکنے کی آواز سن رہا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34220
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34220، ترقيم محمد عوامة 32713)
حدیث نمبر: 34221
٣٤٢٢١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة عن مسروق عن عائشة قال: قالت حين قتل عثمان: تركتموه كالثوب النقي من الدنس ثم قربتموه فذبحتموه كما يذبح الكبش، (إنما) (١) كان هذا قبل هذا، قال: فقال لها مسروق: (هذا عملك) (٢) أنت كتبت إلى أناس تأمرينهم بالخروج، قال: فقالت عائشة: لا والذي آمن به المؤمنون وكفر به الكافرون، ما كتبت إليهم (بسوداء) (٣) في بيضاء حتى جلست مجلسي هذا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا گیا تو اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے اس کو چھو ڑ دیا ہے جیسا کہ گندگی صاف کپڑے کو چھوڑ دیتی ہے۔ پھر تم نے ان کو قریب کر کے ذبح کردیا جیسا کہ کسی مینڈھے کو ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے کیوں نہیں ہوئی ؟ تو حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ان سے عرض کیا : یہ تو آپ رضی اللہ عنہ کے عمل کی وجہ سے ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ ہی نے لوگوں کو خط لکھ کر ان کو خروج کا حکم دیا ! راوی کہتے ہیں : کہ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نہیں ! قسم ہے اس ذات کی جس پر تمام مومن ایمان لائے اور کافروں نے جس کے ساتھ کفر کیا۔ میں نے کسی سفیدی پر سیاہی سے نہیں لکھا یہاں تک کہ میں اپنی اس جگہ پر بیٹھ گئی۔ امام اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں : پس ان لوگوں کی رائے یہی تھی کہ یہ سب ان کی زبان پر لکھ دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34221
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34221، ترقيم محمد عوامة 32714)
حدیث نمبر: 34222
٣٤٢٢٢ - قال الأعمش: فكانوا يرون أنه كتب على لسانها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34222
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34222، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 34223
٣٤٢٢٣ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن جعفر بن إياس عن يوسف بن ماهك (١) عن محمد بن حاطب قال: سمعت عليًا يخطب يقول: ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ [الأنبياء: ١٠١]، قال: عثمان منهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی ( بیشک وہ لوگ کہ ( فیصلہ) ہوچکا ہے پہلے ہی جن کے لیے ہماری طرف سے اچھے انجام کا یہ اس سے دور رکھے جائیں گے ) آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت عثمان رضی اللہ عنہان ہی لوگوں میں سے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34223
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34223، ترقيم محمد عوامة 32715)
حدیث نمبر: 34224
٣٤٢٢٤ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا هشام عن محمد بن سيرين عن عقبة بن أوس السدوسي عن عبد اللَّه ابن (عمر) (١) قال: يكون (في) (٢) هذه الأمة اثنا عشر خليفة: أبو بكر أصبتم اسمه، وعمر بن الخطاب قرن من حديد أصبتم اسمه، وعثمان بن عفان ذو النورين (أوتي) (٣) كفلين من رحمته قتل مظلوما، أصبتم اسمه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن اوس السَّدوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ اس امت میں بارہ (12) خلیفہ ہوں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ، تم لوگوں کو ان کے نام کی تصدیق ہوچکی۔ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جو بہت امانت دار ہوں گے۔ تم لوگوں کو ان کے نام کی تصدیق بھی حاصل ہوچکی اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ذوالنورین جنہیں رحمت کی دو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اور ظلماً قتل کیا گیا ۔ تم لوگوں کو ان کے نام کی بھی تصدیق حاصل ہوچکی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34224
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34224، ترقيم محمد عوامة 32716)
حدیث نمبر: 34225
٣٤٢٢٥ - حدثنا حسين بن علي عن مجمع قال: دخل عبد الرحمن بن أبي ليلى على الحجاج فقال لجلسائه: إذا أردتم أن تنظروا إلى رجل يسب أمير المؤمنين عثمان فهذا عندكم -يعني عبد الرحمن (١)، فقال عبد الرحمن: معاذ اللَّه أيها الأمير أن أكون أسب عثمان، إنه ليحجزني عن ذلك آية في كتاب اللَّه قال اللَّه: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾ [الحشر: ٨]، فكان عثمان منهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجمع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ حجاج بن یوسف کے پاس تشریف لے گئے تو وہ اپنے ہم نشینوں سے کہنے لگا : اگر تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہو جو امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کرتا ہو تو یہ شخص یعنی عبد الرحمن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو۔ اس پر حضرت عبد الرحمن رحمہ اللہ نے فرمایا : اے امیر ! اللہ کی پناہ، اس بات سے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کروں۔ یقینا کتاب اللہ میں پائی جانے والی اس آیت مبارکہ نے مجھے اس کام سے روک دیا اور محفوظ رکھا۔ اللہ نے ارشاد فرمایا : (ترجمہ : نیز وہ مال) ان مفلس مہاجروں کے لیے ہے جو نکال باہر کیے گئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنی جائدادوں سے ۔ جو تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور اس کی خوشنودی ، اور مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی سچے لوگ ہیں ) حضرت عثمان ان لوگوں میں سے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34225، ترقيم محمد عوامة 32717)
حدیث نمبر: 34226
٣٤٢٢٦ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني ابن لهيعة قال: حدثني يزيد بن عمرو المعافري قال: سمعت (أبا ثور) (١) الفهمي يقول: قدم عبد الرحمن بن عديس (البلوي) (٢) وكان ممن بايع تحت الشجرة فصعد المنبر فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم ⦗٥١⦘ ذكر عثمان فقال أبو ثور: فدخلت على عثمان وهو محصور فقلت: إن فلانا ذكر كذا وكذا، فقال عثمان: ومن أين وقد اختبأتُ عند اللَّه عشرًا: إني لرابع في الإسلام، وقد زوجني رسول اللَّه ﷺ ابنته ثم ابنته، وقد بايعت رسول اللَّه ﷺ بيدي هذه اليمنى فما مسست بها ذكري، ولا تغنيت ولا تمنيت، ولا شربت خمرًا في جاهلية ولا إسلام، وقد قال رسول اللَّه ﷺ: "من يشتري هذه (الزنقة) (٣) ويزيدها في المسجد: له بيت في الجنة"، فاشتريتها وزدتها في المسجد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن عمرو المعاصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ثور الفھمی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ عبد الرحمن بن عدیس جو کہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی وہ بلوائیوں کے پاس آیا اور منبر پر چڑھا : حمدو ثنا کے بعد اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ تو حضرت ابو ثور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محاصرے کے دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسے اور ایسے کہہ رہا ہے۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسی بات کیسے ہوسکتی ہے ؟ حالانکہ میں نے اللہ کے پاس دس خصوصیات ذخیرہ کی ہوئی ہیں۔ وہ یہ کہ میں اسلام لانے والا چوتھا شخص ہوں۔ اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے اپنی ایک بیٹی کا نکاح کیا، پھر دوسری بیٹی کا نکاح کیا اور تحقیق میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ سے رسول اللہ سے بیعت کی تو پھر کبھی بھی میں نے اس سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ اور نہ ہی میں نے کبھی عشق و معشوقی کی۔ اور نہ ہی کبھی اس چیز کی میں نے کبھی تمنا و آرزو کی ۔ اور میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی زمانہ اسلام میں کبھی شراب پی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ کون شخص اس راستہ کے حصہ کو خرید کر اس سے مسجد کی توسیع کرے گا تو اس کے لیے اس کے بدلہ جنت میں گھر ہوگا ؟ پس میں نے اس جگہ کو خرید کر مسجد کی توسیع کی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34226
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ابن لهيعة، أخرجه ابن أبي عاصم في السنة (١٣٠٨) والآحاد المثاني (١٢٧٦)، والبزار (٤٤٨)، وابن عساكر ٣٩/ ٢٧، وابن شبه (٢٠١١)، ويعقوب في المعرفة ٢/ ٤٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34226، ترقيم محمد عوامة 32718)
حدیث نمبر: 34227
٣٤٢٢٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا مسعر قال: (حدثني) (١) عبد الرحمن بن (أبلجان) (٢) قال: ذكر عند ابن عمر عثمان وعمر فقال ابن عمر: أرأيت لو كان لك بعيران أحدهما قوي والآخر ضعيف أكنت (تقتل) (٣) الضعيف (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ملحان رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تیری کیا رائے ہے کہ اگر تیرے پاس دو اونٹ ہوں جن میں سے ایک قوی ہو اور دوسرا ا کمزور ہو تو کیا تم کمزور اونٹ کو قتل کردو گے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34227
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34227، ترقيم محمد عوامة 32719)
حدیث نمبر: 34228
٣٤٢٢٨ - حدثنا وكيع عن مسعر عن أبي سلمان قال: سألت ابن عمر عن عثمان فقال: مسعر إما قال: (تحسبه) (١)، أو قال: نحسبه من خيارنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سلیمان رحمہ اللہ نے فرمایا : کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عثمان رحمہ اللہ کے متعلق سوال کیا۔ راوی فرماتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا : کہ تم ان کو ہم میں سب سے بہتر سمجھو یا یوں فرمایا : ہم لوگ ان کو اپنے میں سب سے بہترین اور افضل سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34228
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34228، ترقيم محمد عوامة 32720)
حدیث نمبر: 34229
٣٤٢٢٩ - حدثنا وكيع عن مسعر عن عمران بن عمير عن كلثوم قال: سمعت ابن مسعود يقول: ما أحب أني رميت عثمان بسهم -قال (مسعر) (١): أراه أراد قتله- ولا أن لي مثل أحد ذهبًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلثوم فرماتی ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ یوں فرماتے تھے : کہ میں پسند نہیں کرتا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کے ارادے سے ایک تیر بھی ماروں جس کے بدلہ اگرچہ مجھے احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ملے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34229
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34229، ترقيم محمد عوامة 32721)
حدیث نمبر: 34230
٣٤٢٣٠ - حدثنا محمد بن القاسم الأسدي عن الأوزاعي عن حسان بن عطية أن النبي ﷺ قال لعثمان: "غفر اللَّه لك ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت وما أخفيت وما أبديت، وما هو كائن إلى يوم القيامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا۔ اللہ تمہارے ان گناہوں کو بخش دے جو تم نے پہلے کیے اور جو تم بعد میں کرو گے اور جو تم نے پوشیدگی میں کیے اور جو تم نے اعلانیہ طور پر کیے۔ اور جو تم نے چھپائے اور جو تم نے ظاہر کیے اور جو کچھ قیامت کے دن تک کرو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34230
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، ضعيف جدًا؛ حسان بن عطية تابعي، أخرجه ابن عدي ٦/ ٢٤٩، وابن عساكر ٣٩/ ٥٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34230، ترقيم محمد عوامة 32722)
حدیث نمبر: 34231
٣٤٢٣١ - حدثنا (١) محمد بن بشر قال: ثنا مسعر قال: حدثني أبو عون عن محمد ابن حاطب قال: ذكر عثمان فقال الحسن بن علي: هذا أمير المؤمنين يأتيكم الآن فيخبركم قال: فجاء علي فقال: كان عثمان من الذين: ﴿وَآمَنُوا (وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ) (٢) (٣) ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [المائدة: ٩٣]، حتى أتم الآية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حاطب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رحمہ اللہ کا ذکر کیا گیا تو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ امیر المؤمنین ابھی تمہارے پاس آئیں گے تو وہ ہی تم لوگوں کو ان کے بارے میں بتائیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ اور فرمایا : کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہان لوگوں میں سے تھے پھر یہ آیت مکمل تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : وہ لوگ ایمان پر قائم رہے اور اچھے کام کیے پھر حرام چیزوں سے بچے اور احکام الٰہی کو مانا پھر تقویٰ اختیار کیا اور اچھے کام کیے ۔ اور اللہ دوست رکھتا ہے اچھے کام کرنے والوں کو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34231
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34231، ترقيم محمد عوامة 32723)