کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 34176
٣٤١٧٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: جاء رجلان إلى عبد اللَّه فقال أحدهما: يا أبا عبد الرحمن كيف تقرأ هذه الآية؟ فقال له عبد اللَّه: من أقرأك؟ قال: أبو حكيم المزني، وقال للآخر: من أقرأك؟ قال: أقرأني عمر، قال: اقرأ كما أقرأك عمر، ثم بكى حتى سقطت دموعه في الحصا، ثم قال: إن عمر كان حصنًا حصينًا على الإسلام، يدخل فيه ولا يخرج منه، فلما مات عمر انثلم الحصن، فهو يخرج منه ولا يدخل فيه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ان دونوں میں سے ایک کہنے لگا : آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے ہیں ؟ تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا : تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ؟ اس نے کہا : حضرت ابو حکیم المزنی نے ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے سے پوچھا : تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ؟ اس نے کہا : مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم پڑھو جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمہیں پڑھایا ، پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کے آنسو کنکریوں پر گرنے لگے۔ پھر فرمایا : بلاشبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے مضبوط و مستحکم قلعہ تھے جس میں اسلام داخل ہوا اور ان سے نکلا نہیں۔ پس جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تو اس قلعہ میں شگاف پڑگیا پس وہ اس سے نکل گیا اور اس میں داخل نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34176
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34176، ترقيم محمد عوامة 32670)
حدیث نمبر: 34177
٣٤١٧٧ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن أبي عثمان أنه (كانت) (١) في يده قناة يمشي عليها، وكان يكثر أن يقول: واللَّه لو أشاء أن تنطق قناتي هذه لنطقت، لو كان عمر بن الخطاب ميزانًا ما كان فيه ميط شعرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ کے ہاتھ میں ایک لکڑی ہوتی تھی۔ جس کی مدد سے وہ چلتے تھے اور اکثر یوں فرماتے تھے : اگر اللہ چاہے کہ میری لاٹھی بولے تو یہ ضرور بولتی۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ترازو ہوتے تو پھر بال برابر بھی ناانصافی نہ ہوتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34177
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34177، ترقيم محمد عوامة 32671)
حدیث نمبر: 34178
٣٤١٧٨ - حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: سمعت الحسن يقول: خطب عمر والمغيرة بن شعبة امرأة، فأنكحوا المغيرة وتركوا عمر (أو) (١) قال: ردوا عمر، قال: فقال نبي اللَّه ﷺ: "لقد تركوا أو ردوا خير هذه الأمة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کی طرف پیغام نکاح بھیجا تو اس کے اہل خانہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے اس عورت کا نکاح کردیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھو ڑ دیا یا راوی نے یوں کہا : کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیغام کو رد کردیا۔ تو اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : البتہ تحقیق انہوں نے اس امت کے بہترین شخص کو چھوڑا یا فرمایا : رد کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34178
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الحسن تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34178، ترقيم محمد عوامة 32672)
حدیث نمبر: 34179
٣٤١٧٩ - حدثنا محمد بن مروان عن يونس قال: كان الحسن ربما ذكر عمر فقال: واللَّه ما كان بأولهم إسلامًا، ولا أفضلهم نفقة في سبيل اللَّه، ولكنه غلب الناس بالزهد في الدنيا والصرامة في أمر اللَّه، ولا يخاف في اللَّه لومة لائم.
مولانا محمد اویس سرور
یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسین رحمہ اللہ کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے تو فرماتے : اللہ کی قسم اگرچہ وہ پہلے اسلام لانے والوں میں سے نہیں تھے اور نہ ہی اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے والوں میں زیادہ افضل تھے لیکن وہ دنیا سے بےرغبتی میں لوگوں پر غالب تھے۔ اور اللہ کے دین کے معاملہ میں سخت مزاج تھے۔ اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34179
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34179، ترقيم محمد عوامة 32673)
حدیث نمبر: 34180
٣٤١٨٠ - حدثنا يحيى بن أبي بكير قال: ثنا شعبة عن قيس بن مسلم عن طارق ابن شهاب قال: عنا نتحدث أن السكينة تنزل على لسان عمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ آپس میں یوں بات کرتے تھے کہ بلاشبہ سکینہ و رحمت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر نازل ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34180
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34180، ترقيم محمد عوامة 32674)
حدیث نمبر: 34181
٣٤١٨١ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا محمد بن عمرو قال: ثنا أبو سلمة قال: قال سعد: أما واللَّه ما كان بأقدمنا إسلامًا، ولكن قد عرفتُ بأي شيء فضلنا: كان أزهدنا في الدنيا -يعني عمر بن الخطاب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بہر حال اللہ کی قسم ! اگرچہ وہ ہم میں اسلام کے اعتبار سے زیادہ قدیم نہیں تھے لیکن میں نے ان کو ہر چیز میں افضل پایا وہ ہم لوگوں میں سب سے زیادہ دنیا سے بےرغبت تھے۔ یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34181
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34181، ترقيم محمد عوامة 32675)
حدیث نمبر: 34182
٣٤١٨٢ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل (عن) (١) زُبَيْد قال: لما حضرت أبا بكر الوفاة أرسل إلى عمر ليستخلفه قال: فقال الناس: (استخلف) (٢) علينا ⦗٣٥⦘ فظًا غليظًا، فلو ملكنا كان أفظ وأغلظ، ماذا تقول لربك إذا أتيته وقد (استخلفته) (٣) علينا قال: تخوفوني بربي! أقول: اللهم أمّرتُ عليهم خير أهلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبید رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا تاکہ ان کو خلیفہ بنادیں۔ تو لوگ کہنے لگے ! آپ رضی اللہ عنہ ہم پر سخت مزاج کو خلیفہ بنادیں گے۔ پس اگر وہ ہمارے مالک ہوگئے تو وہ مزید سخت شدید مزاج والے ہوجائیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہاپنے رب کو کیا جواب دیں گے جب آپ ان کے پاس جائیں گے کہ آپ نے ان کو ہم پر خلیفہ بنادیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھے میرے رب سے خوف دلاتے ہو ؟ ! میں جواب دوں گا : اے اللہ ! میں نے ان لوگوں پر تیرے سب سے بہترین بندے کو امیر بنادیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34182
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34182، ترقيم محمد عوامة 32676)
حدیث نمبر: 34183
٣٤١٨٣ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ليث عن معروف بن أبي معروف الموصلي قال: لما أصيب عمر سمعنا صوتا: (لبيك) (١) علي الإسلام من كان باكيا … فقد أوشكوا (هلكي) (٢) وما قدم العهد و (أدبرت) (٣) (الدنيا) (٤) وأدبر خيرها … وقد ملها من كان (يوقن) (٥) بالوعد
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معروف بن ابی معروف الموصلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو ہم لوگوں نے ایک آواز سنی جو یہ اشعار پڑھ رہی تھی : : اسلام پر ہر رونے والے کو رونا چاہیے۔ وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئے۔ وہ ابھی بہت زمانہ نہیں گزرا۔ دنیا ختم ہوگئی اور دنیا کا بہترین شخص چلا گیا۔ جو اس کے وعدوں کا یقین رکھتا تھا آج پریشان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34183
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34183، ترقيم محمد عوامة 32677)
حدیث نمبر: 34184
٣٤١٨٤ - حدثنا وكيع عن هارون بن أبي إبراهيم عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير قال: دخل ابن عباس على عمر حين طعن فقال له: يا أمير المؤمنين، إن كان إسلامك لنصرا، وإن (كانت) (١) إمارتك لفتحًا، واللَّه لقد ملأت الأرض عدلا حتى إن الرجلين ليتنازعان فينتهيان إلى أمرك، قال عمر: أجلسوني، فأجلسوه، قال: رد علي كلامك، قال: فرده عليه، قال: فتشهد لي بهذا الكلام (٢) يوم تلقاه؟ قال: نعم، قال: فسر ذلك عمر وفرح (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا گیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے امیر المؤمنین : یقینا آپ کا اسلام مسلمانوں کی مدد ثابت ہوا، اور آپ کی خلافت مسلمانوں کی فتح۔ اللہ کی قسم ! آپ رضی اللہ عنہ نے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا۔ یہاں تک کہ اگر دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوتا تو وہ دونوں آپ کی طرف اپنا معاملہ سونپ دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگو مجھے بٹھا دو ۔ پس لوگوں نے ان کو بٹھایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ پر دوبارہ اپنی بات دہراؤ ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دوبارہ اپنی بات دہرائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم اس بات کی اس دن گواہی دو گے جب تم اپنے رب سے ملو گے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں ۔ اس بات سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسرور ہوئے اور بہت خوش ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34184
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34184، ترقيم محمد عوامة 32678)
حدیث نمبر: 34185
٣٤١٨٥ - حدثنا وكيع عن سلمة بن وردان قال: سمعت أنسًا يقول: قال رسول اللَّه ﷺ لأصحابه: "من شهد منكم جنازة؟ " قال عمر: أنا، قال: "من عاد منكم مريضًا؟ " قال عمر: أنا، قال: "من تصدق؟ " قال عمر: أنا، قال: "من أصبح منكم صائمًا؟ " قال عمر: أنا، قال رسول اللَّه ﷺ: "وجبت وجبت" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ م سے پوچھا : تم میں سے کون جنازہ میں حاضر ہوا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کس نے صدقہ دیا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کس نے روزے کی حالت میں صبح کی ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت واجب ہوگئی، جنت واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34185
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ سلمة صدوق، أخرجه أحمد (١٢٨١)، والبزار (١٠٤٣/ كسف)، وابن عدي ٣/ ١١٨٠، والبغوي (١٦٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34185، ترقيم محمد عوامة 32679)
حدیث نمبر: 34186
٣٤١٨٦ - حدثنا محمد بن بشر (قال) (١): ثنا مسعر عن موسى بن أبي كثير عن مجاهد قال: مر عمر برسول اللَّه ﷺ وهو وعائشة وهما يأكلان حيسًا، فدعاه فوضع يده مع أيديهما، فأصابت يده يد عائشة، فقال: أوه، لو أطاع في هذه وصواحبها ما (رأتهن) (٢) أعين، قال: وذلك قبل (آية) (٣) الحجاب، قال: فنزلت آية الحجاب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گزر ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا اس حال میں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ اور آپ دونوں حلوہ کھا رہے تھے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ ہی اپنا ہاتھ ڈالا تو آپ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ سے ٹکرا گیا اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اوہ ! اگر اس کے اور اس کے ساتھیوں کے معاملہ میں میری بات مانی جاتی تو اس کو اور اس کے ساتھیوں کو کوئی آنکھ بھی نہ دیکھ سکتی ۔ یہ حجاب کا حکم اترنے سے پہلے کا واقعہ تھا۔ پس اس پر آیت نازل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34186
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ مجاهد تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34186، ترقيم محمد عوامة 32680)
حدیث نمبر: 34187
٣٤١٨٧ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن (أبيه) (١) قال: جاء علي إلى عمر وهو مسجى فقال: ما على وجه الأرض أحد أحب إلي أن ألقى اللَّه بصحيفته من هذا المسجى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے ارشاد فرمایا : حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ وہ چادر سے ڈھکے ہوئے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کرہ زمین پر کوئی شخص نہیں جو میرے نزدیک پسندیدہ ہو اس ڈھکے ہوئے شخص سے کہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے اس کے نامہ اعمال کے ساتھ ملوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34187
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34187، ترقيم محمد عوامة 32681)
حدیث نمبر: 34188
٣٤١٨٨ - حدثنا جرير عن يعقوب عن جعفر عن سعيد بن جبير أن جبريل قال لرسول اللَّه ﷺ: (أقرئ) (١) عمر السلام وأخبره أن رضاه حكم وغضبه عز (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا : حضرت عمر ﷺ کو سلام کہیے : اور انہیں خبر دیجئے کہ یقینا ان کی رضا ہی فیصلہ ہے اور ان کا غصہ معزز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34188
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34188، ترقيم محمد عوامة 32682)
حدیث نمبر: 34189
٣٤١٨٩ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا الصلت بن بهرام عن سيار (أبي) (١) الحكم أن أبا بكر لما ثقل أطلع (رأسه) (٢) إلى الناس من كوة فقال: يا أيها الناس إني قد عهدت عهدًا، أفترضون به؟ فقام الناس فقالوا: قد رضينا، فقام علي فقال: لا نرضى إلا أن يكون عمر بن الخطاب، فكان عمر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلت بن بھرام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیار ابو الحکم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری جب بڑھ گئی تو وہ روشن دان سے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے : اے لوگو ! میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کیا تم لوگ اس سے خوش ہوے ؟ پس لوگ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ ہم راضی نہیں ہوں گے مگر یہ کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں۔ تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34189
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34189، ترقيم محمد عوامة 32683)
حدیث نمبر: 34190
٣٤١٩٠ - حدثنا (١) أبو داود (عمر) (٢) بن سعد عن سفيان عن منصور عن ربعي قال: سمعت حذيفة يقول: ما كان الإسلام في (زمان) (٣) عمر إلا كالرجل المقبل ما يزداد إلا قربًا، فلما قتل عمر كان كالرجل المدبر ما يزداد إلا بعدًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ نہیں تھا اسلام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مگر پذیرائی حاصل کرنے والے آدمی کی طرح روز بروز جس کی پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہو۔ پس جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تو وہ ہوگیا پیچھے جانے والی آدمی کی طرح جو روز بروز دور ہوتا جا رہا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34190
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34190، ترقيم محمد عوامة 32684)
حدیث نمبر: 34191
٣٤١٩١ - حدثنا أبو معاوية قال: ثنا الأعمش عن (شمر) (١) قال: لكأن علم الناس كان مدسوسا في جحر مع علم عمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شمر نے ارشاد فرمایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم کے سامنے لوگوں کا علم ایک سوراخ میں چھپا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34191
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34191، ترقيم محمد عوامة 32685)