کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 34136
٣٤١٣٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن محمد بن إسحاق عن مكحول (عن ⦗٢١⦘ غضيف (١) بن الحارث رجل من أيلة عن أبي ذر (قال) (٢): سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (٣): "إن اللَّه وضع الحق على لسان عمر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری فرما دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34136
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ صرح ابن إسحاق بالتحديث عن يعقوب ١/ ٤١٦، أخرجه أحمد (٢١٤٥٧)، وأبو داود (٢٩٦٢)، وابن ماجه (١٠٨)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٤٩)، والحاكم ٣/ ٨٦، والطبراني في مسند الشاميين (١٥٤٣)، والقطيعي في زوائد الفضائل (٥٢١)، والبيهقي في المدخل (٦٦)، والبغوي (٣٨٧٦)، وابن أبي حاتم في العلل ٢/ ٣٦٨، وابن سعد ٢/ ٣٣٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34136، ترقيم محمد عوامة 32631)
حدیث نمبر: 34137
٣٤١٣٧ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر قال: حدثنا أبو بكر بن سالم عن سالم بن عبد اللَّه بن عمر عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال: " (أريت) (١) في النوم كأني (أنزع) (٢) بدلو بكرة على قليب، فجاء أبو بكر فنزع ذنوبًا أو ذنوبين (فنزع نزعًا ضعيفًا) (٣) واللَّه يغفر له، ثم جاء عمر بن الخطاب (فاستسقى) (٤) فاستحالت غربًا، فلم أر عبقريًا من الناس يفري فريه، حتى روى الناس وضربوا بالعطن" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے خواب میں دکھلایا گیا : گویا کہ میں کنویں پر چرخی سے ڈول کھینچ رہا ہوں پس ابوبکر آئے پھر انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے اور انہوں نے بہت کمزوری سے ڈول کھینچا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے ، پھر عمر بن خطاب آیا پس اس نے پانی نکالا یہاں تک کہ چمڑے کا ڈول ٹیڑھا ہوگیا ۔ پس میں نے ایسا کوئی زورآور شخص نہیں دیکھا جو عمر رضی اللہ عنہ جیسا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔ اور وہ سب لوگ پانی کے پاس بیٹھ گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34137
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦٨٢)، ومسلم (٢٣٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34137، ترقيم محمد عوامة 32632)
حدیث نمبر: 34138
٣٤١٣٨ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "بينا أنا (أسقي) (١) على بئر اذ جاء ابن أبي ⦗٢٢⦘ قحافة فنزع ذنوبًا أو ذنوبين فيهما ضعف واللَّه يغفر له، ثم جاء عمر فنزع حتى استحالت في يده غربًا، وضرب الناس (بالعطن) (٢) فما رأيت عبقريًا يفري فريه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس درمیان کہ میں کنویں پر پانی پی رہا تھا کہ ابن ابی قحافہ آئے پس انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے بڑی کمزوری سے ، اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر عمر بن خطاب نے آ کر ڈول کھینچا یہاں تک کہ ان کے ہاتھ میں چمڑے کے ڈول کے نشان پڑگئے اور لوگ پانی کے قریب بیٹھ گئے ۔ پس میں نے ایسا کوئی زورآور شخص نہیں دیکھا جو ان جیسا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34138
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٨٢٠)، وابن أبي عاصم في السنة (١٤٥٧)، والبغوي (٣٨٨٣)، وأصله عند البخاري (٣٦٦٤)، ومسلم (٢٣٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34138، ترقيم محمد عوامة 32633)
حدیث نمبر: 34139
٣٤١٣٩ - حدثنا شريك عن الأشعث عن الأسود بن هلال أن أعرابيًا لهم قال: شهدت (صلاة) (١) الصبح مع النبي ﷺ ذات يوم، فأقبل على الناس بوجهه فقال: "رأيت ناسا من أمتي البارحة، وزنوا فوُزن أبو بكر فَوزَن ثم وُزن عمر فوَزن" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے ان سے بیان کیا کہ میں ایک دن صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرے کے ساتھ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں نے گزشتہ رات اپنی امت کے لوگوں کو دیکھا کہ ان کا وزن کیا جا رہا ہے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھاری ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34139
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوف، أخرجه أحمد (١٦٦٠٤)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٣٧)، وابن عساكر ٣٩/ ١١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34139، ترقيم محمد عوامة 32634)
حدیث نمبر: 34140
٣٤١٤٠ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن إدريس عن زكريا عن سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة (٢) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنه كان فيمن مضى رجال يتحدثون في غير نبوة، فإن يكن في أمتي أحد منهم فعمر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا گزرے ہوئے لوگوں میں کچھ آدمی ایسے ہوتے تھے جن کا گمان صحیح ہوتا تھا وہ نبی نہیں ہوتے تھے۔ پس اگر میری امت میں کوئی ان میں سے ہیں تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34140
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو سلمة تابعي، أخرجه أحمد (٨٤٦٩) من طريق يعقوب بن إبراهيم عن أبيه عن جده عن أبي سلمة، بينما أخرجه البخاري (٣٦٨٩) تعليقًا عن زكريا عن سعد عن أبي سلمة عن أبي هريرة ووصله الإسماعيلي وأبو نعيم في مستخرجيهما كما في تغليق التعليق ٤/ ٦٤ من طريقين عن زكريا، وورد من طرق عن سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (٤٣٦٩)، وأحمد (٨٤٦٨)، كما ورد من طرق عن سعد عن أبي سلمة عن عائشة، أخرجه مسلم (٢٣٩٨)، والترمذي (٣٦٩٣)، ولعل الطريقين ثابتان، انظر: فتح الباري ٧/ ٥٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34140، ترقيم محمد عوامة 32635)
حدیث نمبر: 34141
٣٤١٤١ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس ووكيع وابن نمير عن إسماعيل عن قيس قال: قال عبد اللَّه: ما زلنا أعزة منذ أسلم عمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو ہم ہمیشہ کے لیے معزز ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34141
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦٨٤)، وابن حبان (٦٨٨٠)، والحاكم ٣/ ٩٠، وعبد اللَّه في زوائد الفضائل (٣٦٨)، والبيهقي (٦/ ٣٧١)، والبزار (١٨٨٨)، والطبراني (٨٨٢٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34141، ترقيم محمد عوامة 32636)
حدیث نمبر: 34142
٣٤١٤٢ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن الشيباني، وإسماعيل عن الشعبي قال: قال علي: ما كنا نبعد أن السكينة تنطق بلسان عمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ بلاشبہ سکینہ و رحمت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بولتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34142
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34142، ترقيم محمد عوامة 32637)
حدیث نمبر: 34143
٣٤١٤٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن الأسود قال: قال عبد اللَّه: إذا ذكر الصالحون (فحي هلا) (١) بعمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے سامنے جب صلحاء کا ذکر کیا جاتا تو وہ فوراً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نعرہ لگاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34143
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ١٠٠، وعبد الرزاق (٢٠٤٠٦)، والطبراني (٨٨١٣)، والخلال في السنة (٣٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34143، ترقيم محمد عوامة 32638)
حدیث نمبر: 34144
٣٤١٤٤ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: قال عبد اللَّه: إذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ کے سامنے صلحاء اور نیکوکاروں کا ذکر کیا جاتا تو آپ رضی اللہ عنہ فورا سے حضرت عمر کا نعرہ لگاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34144
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطبراني (٨٨١٢)، والبغوي في الجعديات (٥٨٧)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٧٢، وأحمد في فضائل الصحابة (٣٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34144، ترقيم محمد عوامة 32639)
حدیث نمبر: 34145
٣٤١٤٥ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك بن أبي سليمان عن واصل الأحدب عن زيد بن وهب عن عبد اللَّه قال: إن عمر كان للإسلام (حصنًا حصينًا) (١)، يدخل فيه الإسلام ولا يخرج منه، فلما قتل عمر انثلم الحصن، ⦗٢٤⦘ (فالإسلام يخرج) (٢) منه ولا يدخل فيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ حضرت عمر اسلام کے لیے مضبوط قلعہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ جن میں اسلام داخل ہوا اور اس سے اسلام نکلا نہیں۔ پس جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا گیا تو اس قلعہ میں شگاف پڑگیا۔ پھر اسلام اس سے نکل گیا اور اس میں دوبارہ داخل نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34145
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم ٣/ ١٠٠، وعبد الرزاق (٢٠٤٠٧)، والطبراني (٨٨٠٤)، وابن عساكر ٤٤/ ٣٧٤، وابن سعد ٣/ ٣٧١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34145، ترقيم محمد عوامة 32640)
حدیث نمبر: 34146
٣٤١٤٦ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: قالت أم أيمن لما قتل عمر: اليوم (وهى) (١) الإسلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا تو حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آج اسلام میں شگاف پیدا ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34146
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه إسحاق كما في المطالب (٣٨٩٩)، وابن سعد ٣/ ٣٦٩، وابن عساكر ٤/ ٣٠٣، والطبراني ٢٥/ (٢٢١)، والبخاري في الأوسط ١/ ٦٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34146، ترقيم محمد عوامة 32641)
حدیث نمبر: 34147
٣٤١٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن (زر) (١) عن عبد اللَّه قال: لقي رجل شيطانا في بعض طرق المدينة (فأنجد) (٢) فصرع الشيطان (فسئل) (٣) عبد اللَّه فقال: من (تظنونه) (٤) إلا عمر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی کو مدینہ کی ایک گلی میں شیطان ملا ۔ پس ان دونوں نے ایک دوسرے کو پکڑ لیا پھر شیطان کو پچھاڑ دیا گیا۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ وہ شخص کون تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے گمان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کون ہوسکتا ہے ؟ !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34147
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر، أخرجه ابن عساكر ٤٤/ ٨٧، والبيهقي في دلائل النبوة ٧/ ١٢٣، وابن البختري كما في مصنفاته (٧٢)، والحربي في غريب الحديث ٣/ ١٠١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34147، ترقيم محمد عوامة 32642)
حدیث نمبر: 34148
٣٤١٤٨ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن إبراهيم بن المهاجر عن مجاهد قال: كان عمر إذا رأى الرأي نزل به القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن مہاجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جو رائے ہوتی قرآن ویسے ہی نازل ہوجاتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34148
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34148، ترقيم محمد عوامة 32643)
حدیث نمبر: 34149
٣٤١٤٩ - حدثنا شريك عن عاصم عن المسيب قال: قال عبد اللَّه: ما كنا نتعاجم أصحاب محمد ﷺ أن ملكًا ينطق بلسان عمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ محمد ﷺ کے اصحاب اس بات کو کنایۃً نہیں کرتے تھے کہ یقینا فرشتہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان کے مطابق بات کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34149
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34149، ترقيم محمد عوامة 32644)
حدیث نمبر: 34150
٣٤١٥٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن واصل عن مجاهد قال: كنا نحدث أو كنا نتحدث أن الشياطين كانت مصفدة في (زمان) (١) عمر، فلما أصيب (بثت) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت واصل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہم تو آپس میں یوں بات کرتے تھے کہ یقینا شیطان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہتھکڑیوں میں جکڑ بند تھا۔ پس جب آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو وہ آزاد ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34150
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34150، ترقيم محمد عوامة 32645)
حدیث نمبر: 34151
٣٤١٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن واصل عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: ما رأيت عمر إلا وكان بين عينيه ملكا يسدده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں رائے نہیں رکھتا تھا مگر یہ کہ گویا فرشتہ ان کی دو آنکھوں کے درمیان ہے اور ان کی راہنمائی کر کے سیدھے راستہ پر چلا رہاے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34151
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34151، ترقيم محمد عوامة 32646)
حدیث نمبر: 34152
٣٤١٥٢ - حدثنا شريك عن عبد الملك بن عمير عن زيد بن وهب قال: قال عبد اللَّه: إن أهل البيت من العرب لم (تدخل) (١) عليهم مصيبة عمر لأهل بيت سوء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یقینا عرب میں سے وہ گھرانہ جن پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کی آفت داخل نہیں ہوئی یقینا وہ برا گھرانہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34152
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34152، ترقيم محمد عوامة 32647)
حدیث نمبر: 34153
٣٤١٥٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر والثقفي عن حميد عن أنس قال: قال أبو طلحة: يوم مات عمر ما أهل بيت حاضر ولا باد إلا وقد دخل عليهم نقص (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کوئی شہر ی یا دیہاتی گھرانہ ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ ان کا نقصان ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34153
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح لغيره.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34153، ترقيم محمد عوامة 32648)
حدیث نمبر: 34154
٣٤١٥٤ - حدثنا خالد بن (مخلد) (١) عن العمري عن جهم بن أبي الجهم عن (المسور) (٢) بن مخرمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه جعل الحق ⦗٢٦⦘ على لسان عمر وقلبه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل میں رکھ دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34154
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34154، ترقيم محمد عوامة 32649)
حدیث نمبر: 34155
٣٤١٥٥ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة قال: قال (عبد الملك) (١): حدثني قبيصة بن جابر قال: ما رأيت رجلا أعلم باللَّه، ولا أقرأ لكتاب اللَّه، ولا أفقه في دين اللَّه من عمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قبیصہ بن جابر رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ اللہ کو جاننے والا، اور کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا اور اللہ کے دین میں زیادہ سمجھ رکھنے والا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34155
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34155، ترقيم محمد عوامة 32650)
حدیث نمبر: 34156
٣٤١٥٦ - [حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك عن زيد بن وهب (قال) (١): قال عبد اللَّه: ما أظن أهل بيت من المسلمين لم يدخل عليهم حزن عمر، يوم أصيب عمر إلا أهل بيت سوء، إن عمر كان أعلمنا باللَّه، وأقرأنا لكتاب اللَّه، وأفقهنا في دين اللَّه] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میرا گمان نہیں ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گھرانہ ایسا ہو جہاں حضرت عمر کی وفات کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غم داخل نہ ہوا ہو، مگر یہ کہ کوئی برا گھرانہ ہوگا۔ یقینا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے، اور اللہ کی کتاب کو ہم سب میں زیادہ پڑھنے والے، اور اللہ کے دین کے بارے میں ہم سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34156
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34156، ترقيم محمد عوامة 32651)
حدیث نمبر: 34157
٣٤١٥٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم بن (أبي) (١) النجود عن (زر) (٢) عن عبد اللَّه قال: إذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر إن إسلامه كان نصرًا، وإن إمارته كانت فتحًا، وأيم اللَّه ما أعلم على الأرض شيئًا (٣) إلا وقد وجد فقد ⦗٢٧⦘ عمر حتى (العضاه) (٤)، وأيم اللَّه إني لأحسب (أن) (٥) بين عينيه ملكا يسدده ويرشده، (وأيم اللَّه إني لأحسب الشيطان يفرق أن يحدث في الإسلام فيرد عليه عمر) (٦)، وأيم اللَّه لو أعلم أن كلبا يحب عمر لأحببته (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے نیکو کاروں کا ذکر کیا جاتا تو وہ فوراً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نعرہ لگاتے۔ اور فرماتے ! یقینا ان کا اسلام مسلمانوں کی مدد تھی اور ان کی خلافت مسلمانوں کی فتح تھی۔ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا زمین پر کسی چیز کو مگر یہ کہ ہر چیز نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کمی محسوس کی یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں نے بھی۔ اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں گمان کرتا تھا کہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو ان کو سیدھی راہ دکھاتا ہے اور ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ اور اللہ کی قسم ! بلاشبہ شیطان خوف کھاتا تھا اس بات سے کہ وہ اسلام میں کوئی رخنہ ڈالے اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو اس پر واپس لوٹا دیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کوئی کتا بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو میں اس سے بھی محبت کرنے لگوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34157
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عاصم ضعيف في زر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34157، ترقيم محمد عوامة 32652)
حدیث نمبر: 34158
٣٤١٥٨ - حدثنا عبدة بن سليمان و (أبو) (١) أسامة عن مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن مصعب بن سعد عن معاذ بن جبل قال: إن عمر في الجنة، وإن رسول اللَّه ﷺ (ما رُئي في نومه ويقظته فهو حق، إن رسول اللَّه ﷺ) (٢) قال: "بينما أنا في الجنة (إذ) (٣) رأيت فيها دارًا، فقلت: لمن هذه؟ فقيل: لعمر بن الخطاب" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا عمر رضی اللہ عنہ جنت میں ہیں، اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ نیند اور بیداری میں دیکھا وہ سب حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں جنت میں تھا کہ میں نے اس میں ایک گھر دیکھا پس میں نے پوچھا : یہ کس کے لیے ہے ؟ تو کہا گیا : عمر بن خطاب کے لیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34158
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34158، ترقيم محمد عوامة 32653)
حدیث نمبر: 34159
٣٤١٥٩ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أنس عن النبي ﷺ قال: "دخلت الجنة فإذا أنا بقصر من ذهب، فقلت: لمن (هذا؟) (١) قالوا: لشاب من قريش، فظننت أني أنا هو، فقلت: لمن هو؟ قالوا: لعمر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے ایک خوبصورت سونے سے بنا ہوا محل دیکھا تو میں نے پوچھا : یہ کس کا گھر ہے ؟ فرشتوں نے کہا : قریش کے ایک نوجوان کا۔ پس میں نے گمان کیا کہ یقینا وہ میں ہی ہوں گا ، تو میں نے پوچھا : وہ کون سا نوجوان ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر بن خطاب ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34159
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه أحمد (١٢٠٤٦)، والترمذي (٣٦٨٨)، والنسائي في الكبرى (٧١٢٧)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٦٦)، وأبو يعلى (٣٨٦٠)، وابن حبان (٦٨٨٧)، والطحاوي في شرح المشكل (١٩٥٧)، وأبو نعيم في الحلية ٩/ ٢٥٧، والضياء في المختارة (٢٠٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34159، ترقيم محمد عوامة 32654)
حدیث نمبر: 34160
٣٤١٦٠ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "دخلت الجنة (فإذا) (١) فيها قصر من ذهب فأعجبني حسنه، فسألت لمن هذا؟ فقيل لي: لعمر، فما منعني أن أدخله إلا لما أعلم من غيرتك يا أبا حفص"، فبكى عمر وقال: يا رسول اللَّه (عليك) (٢) أغار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو اس میں میں نے ایک سونے کا محل دیکھا جس کی خوبصورتی مجھے بہت اچھی لگی ۔ پس میں نے پوچھا : یہ کس کے لیے ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا : عمر بن خطاب کے لیے۔ پس مجھے کسی بات نے بھی نہیں روکا اس میں داخل ہونے سے مگر یہ کہ مجھے اے ابو حفص تیری غیرت کا خیال آیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غیرت کھاؤں گا ؟ !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34160
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمر صدوق، وأخرجه البخاري (٣٢٤٢)، ومسلم (٢٣٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34160، ترقيم محمد عوامة 32655)
حدیث نمبر: 34161
٣٤١٦١ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو سمع جابرًا يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "دخلت الجنة فرأيت فيها دارًا أو قصرًا، فسمعت صوتًا فقلت: لمن هذا؟ قيل لعمر، فأردت أن أدخلها فذكرت غيرتك، فبكى عمر وقال: يا رسول اللَّه أعليك أغار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں ایک گھر یا محل دیکھا پس میں نے آواز سنی تو میں نے پوچھا : یہ کس کا ہے ؟ جواب دیا گیا : عمر بن خطاب کا۔ پھر میں نے اس میں داخل ہونا چاہا تو مجھے تمہاری غیر ت یاد آگئی۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غیرت کھاؤں گا ؟ !۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34161
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٢٢٦)، ومسلم (٢٣٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34161، ترقيم محمد عوامة 32656)
حدیث نمبر: 34162
٣٤١٦٢ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني حسين بن واقد قال: حدثني عبد اللَّه بن (بريدة) (١) عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال: "مررت بقصر من ذهب مشرف (مربع) (٢)، فقلت: لمن هذا القصر؟ فقيل: لرجل من العرب، فقلت: أنا عربي، لمن هذا القصر؟ قالوا: لرجل من أمة محمد ﷺ، قلت: أنا محمد، لمن هذا القصر؟ قالوا: لعمر بن الخطاب" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا گزر ایک مربع محل پر سے ہوا جس میں بالاخانہ تھے۔ تو میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ جواب دیا گیا : اہل عرب میں سے ایک آدمی کا۔ اس پر میں نے کہا : میں بھی عربی ہوں۔ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : محمد ﷺ کی امت کے ایک فرد کا۔ میں نے کہا : میں ہی محمد ﷺ ہوں۔ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے کہا : عمر بن خطاب کا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34162
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حسين بن واقد صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٠٤٦)، والترمذي (٣٦٨٩)، وابن حبان (٧٥٨٦)، والحاكم ٣/ ٢٨٥، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٧٠)، والخطيب ١١/ ٣٧٠، وابن عساكر ١٠/ ٤٥٥، والبزار (٢٤٩٨/ كشف)، والآجري في الشريعة (٩٣٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34162، ترقيم محمد عوامة 32657)
حدیث نمبر: 34163
٣٤١٦٣ - حدثنا زيد بن حباب عن حسين بن واقد قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ قال: "إني لأحسب الشيطان يفرق منك يا عمر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے کہ اے عمر ! شیطان تجھ سے ڈرتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34163
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حسين بن واقد صدوق، أخرجه أحمد (٢٢٩٨٩)، والترمذي (٣٦٩٠)، وابن حبان (٦٨٩٢)، وابن أبي عاصم في السنة (١٢٥١)، والبيهقي ١/ ٧٧٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34163، ترقيم محمد عوامة 32658)
حدیث نمبر: 34164
٣٤١٦٤ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبي هاشم عن سعيد بن جبير: ﴿وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ﴾، قال: عمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہاشم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے قرآن کی اس آیت { وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِینَ } کے بارے میں فرمایا : : کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34164
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34164، ترقيم محمد عوامة 32659)
حدیث نمبر: 34165
٣٤١٦٥ - حدثنا أبو معاوية عن خلف بن حوشب عن أبي السفر قال: (رُؤي) (١) على علي برد كان يكثر لبسه، قال: فقيل له: إنك لتكثر لبس هذا البرد، فقال: إنه كسانيه خليلي (وصفيي) (٢) وصديقي (وخاصي) (٣) عمر، إن عمر ناصح اللَّه فنصحه اللَّه -ثم بكى (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اکثر ایک چادر پہنے دیکھا گیا تو ان سے پوچھا گیا ؟ بلاشبہ آپ رضی اللہ عنہاکثر یہ چادر پہنتے ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ میرے بہت قریبی ، مخلص اور خاص دوست عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے پہنائی تھی۔ یقیناعمر رضی اللہ عنہ نے اللہ سے خالص توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ کو بھی قبول فرما لیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ رونے لگے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34165
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34165، ترقيم محمد عوامة 32660)
حدیث نمبر: 34166
٣٤١٦٦ - حدثنا ابن مبارك عن عبد اللَّه بن زيد بن أسلم عن أبيه عن ابن عمر قال: ما زال عمر جادًا جوادًا من حين (قبض) (١) حتى انتهى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل سخاوت فرماتے تھے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کا بھی انتقال ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34166
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن زيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34166، ترقيم محمد عوامة 32661)
حدیث نمبر: 34167
٣٤١٦٧ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: حدثنا إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب عن (عبد الحميد بن) (١) عبد الرحمن بن صالح بن زيد عن محمد ابن سعد عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "والذي نفسي بيده ما سلكت فجا ⦗٣٠⦘ إلا سلك الشيطان فجا سواه" يقوله لعمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تو (عمر) نہیں کسی راستہ پر چلتا مگر یہ کہ شیطان اس راستہ سے ہٹ کر کسی اور راستہ پر چلا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34167
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦٨٣)، ومسلم (٦٠٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34167، ترقيم محمد عوامة 32662)
حدیث نمبر: 34168
٣٤١٦٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني كهمس قال: حدثني عبد اللَّه بن شقيق قال: حدثني الأقرع -شك كهمس: لا أدري الأقرع المؤذن هو أو غيره- قال: أرسل عمر إلى الأسقف قال: فهو يسأله وأنا قائم عليهما أظلهما من الشمس فقال: هل تجدني في كتابكم؟ فقال: صفتكم وأعمالكم، قال: (فما) (١) تجدني؟ قال: أجدك قرنا من حديد، قال: فنقط عمر وجهه وقال: قرن حديد؟ قال: (أمين) (٢) شديد، فكأنه فرح بذلك، قال: فما تجد بعدي؟ قال: خليفة صدق يؤثر (أقربيه) (٣) قال: (فقال) (٤) عمر: يرحم اللَّه ابن عفان، قال: فما تجد بعده؟ قال: صدع حديد، قال: وفي يد عمر شيء يقلبه (٥) فنبذه (فقال) (٦): يا (دَفْرَاه) (٧) -مرتين أو (ثلاثًا) (٨) قال: فلا تقل ذلك يا أمير المؤمنين فإنه خليفة مسلم أو رجل صالح، ولكنه يستخلف والسيف مسلول و (الدم) (٩) مهراق، قال: ثم التفت إلي ثم قال: الصلاة (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت اقرع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : حضرت کھمس رحمہ اللہ کو شک تھا فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اقرع سے مراد مؤذن ہیں یا کوئی اور … بہرحال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر بڑے پادری کو بلا کر پوچھا اس حال میں کہ میں ان دونوں کے پاس کھڑا ہو کر ان دونوں پر سورج کی دھوپ سے سایہ کررہا تھا، کیا تمہاری کتابوں میں ہمارا ذکر موجود ہے ؟ تو اس پادری نے کہا : تمہارے اوصاف اور تمہارے اعمال کا ذکر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : میرے بارے میں تمہیں کیا کچھ پتہ ہے ؟ اس نے کہا : آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لوہے کے سینگ کا ذکر پاتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے میں غصہ کے آثار نمودار ہوئے اور فرمایا : لوہے کا سینگ ؟ اس نے کہا : مراد ہے کہ بہت زیادہ امانت دار ہو، تو آپ رضی اللہ عنہ کو اس سے بہت خوشی ہوئی۔ فرمایا : میرے بعد کا کیسے ذکر ہے ؟ اس نے کہا : سچا خلیفہ ہوگا جو اپنے قریبی رشتہ داروں کو ترجیح دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : ان کے بعد کا کیسے ذکر ہے ؟ بہت شدید شگاف ہوگا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے آپ رضی اللہ عنہالٹ پلٹ رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو پھینک دیا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا : افسوس ذلیل شخص پر ! اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ ایسے مت کہیے۔ یقینا وہ مسلمان خلیفہ ہوں گے اور نیک آدمی ہوں گے۔ لیکن انہیں خلیفہ بنایا جائے گا اس حال میں کہ تلوار لٹکی ہوئی ہوگی اور خون بہایا جا چکا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : نماز کا وقت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34168
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ الأقرع ثقة، أخرجه أبو داود (٤٦٥٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٠٧)، وابن عساكر ٣٩/ ١٨٩، وابن شبة في تاريخ المدينة (١٨٨٨)، واللالكائي (٢٦٥٨)، ونعيم ابن حماد في الفتن (٣٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34168، ترقيم محمد عوامة 32663)
حدیث نمبر: 34169
٣٤١٦٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا الأشعث بن عبد الرحمن الجرمي عن أبيه عن سمرة بن جندب أن رجلًا قال: يا رسول اللَّه رأيت (كأن) (١) دلوا (دُلي) (٢) من السماء فجاء أبو بكر فأخذ (بعراقيها) (٣) فشرب شربا وفيه (ضعف) (٤)، ثم جاء عمر فأخذ (بعراقيها) (٥) فشرب حتى تظلع، ثم جاء عثمان فأخذ (بعراقيها) (٦) فشرب حتى تظلع (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ڈول آسمان سے نیچے اترا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہائے ! انہوں نے اس کو دونوں کناروں سے پکڑا اور پانی پیا اس حال میں کہ ان میں کمزوری تھی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہائے انہوں نے اس کو دونوں کناروں سے پکڑ کر پانی پیا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگئے۔ پھر حضرت عثمان رحمہ اللہ انہوں نے بھی اس کے دونوں کناروں کو پکڑ کر پانی پیا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34169
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ الأشعث وأبوه ثقتان، والحديث أخرجه أحمد (٢٥٢٤٢)، وأبو داود (٤٦١٣)، والطبراني (٦٩٩٥)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٤١)، والروياني (٨٦٣)، والحربي في غريب الحديث ٣/ ١٠٠٨، وابن عساكر ٤٤/ ٢٣٧، والمزي ١٨/ ٢٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34169، ترقيم محمد عوامة 32664)
حدیث نمبر: 34170
٣٤١٧٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن مالك (الدار) (١) قال: وكان خازن عمر على الطعام قال: أصاب الناس قحط في زمن عمر فجاء رجل إلى قبر النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، استسق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل في المنام فقيل له: إئت عمر فأقرئه السلام، وأخبره أنكم مسقيون، وقل له: عليك الكيس! عليك الكيس فأتى عمر فأخبره فبكى عمر، ثم قال: يا رب لا (آلو) (٢) إلا ما عجزت عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک الدار رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شعبہ طعام میں خزانچی تھے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوگئے پس ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر حاضر ہو کر یوں کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ﷺ! اپنی امت کے لیے پانی طلب کیجئے وہ ہلاک ہوگئی ہے ! تو حضور ﷺ اس آدمی کو خواب میں نظر آئے اور اس سے کہا : عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتاؤ کہ لوگ سیراب ہونے کی جگہ میں ہیں، اور اس سے کہو : تم پر دانشمندی لازم ہے۔ تم پر دانشمندی لازم ہے ۔ پس وہ آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس خواب کی خبر دی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر فرمایا : اے میرے پروردگار ! کوئی کوتاہی نہیں مگر میں اس سے عاجز آگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34170
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34170، ترقيم محمد عوامة 32665)
حدیث نمبر: 34171
٣٤١٧١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: قال عبد اللَّه: لو وضع علم أحياء العرب في كفة، ووضع علم عمر في كفة لرجح بهم علم عمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر عرب کے زندہ لوگوں کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علم دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علم ان سب پر بھاری ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34171
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34171، ترقيم محمد عوامة 32666)
حدیث نمبر: 34172
٣٤١٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن سالم قال: جاء أهل نجران إلى علي فقالوا: يا أمير المؤمنين كلتابك بيدك، وشفاعتك بلسانك، أخرجنا عمر من أرضنا فأرددنا إليها، فقال لهم علي: ويحكم إن عمر كان رشيد الأمر، ولا أغير شيئًا صنعه عمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل نجران نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی : اے امیرالمؤمنین ! آپ رضی اللہ عنہ کا اپنا ہاتھ سے حکم لکھنا اور اپنی زبان سے شفاعت کرنا احسان ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ہماری زمین سے نکال دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ہمیں واپس وہاں بھیج دیں۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ا سے فرمایا : تمہارے لیے ہلاکت ہو یقینا حضرت عمر رضی اللہ عنہ صحیح معاملہ پر قائم تھے۔ اور میں ہرگز اس چیز کو نہیں بدلوں گا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا۔ حضرت اعمش رحمہ اللہ نے فرمایا : پس وہ لوگ کہتے تھے۔ اگر ان کے دل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تھوڑی سی بھی ناراضگی ہوتی تو وہ اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھاتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34172
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34172، ترقيم محمد عوامة 32667)
حدیث نمبر: 34173
٣٤١٧٣ - قال الأعمش: فكانوا يقولون: لو كان في نفسه على عمر (شيء) (١) لاغتنم هذا علي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34173
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34173، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 34174
٣٤١٧٤ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عمق أخبره عن الشعبي قال: قال علي حين قدم الكوفة: ما قدمت (لأحل) (١) عقدة (شدها) (٢) عمر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب کوفہ آئے تو فرمایا : میں اس لیے آیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو گرہ لگائی ہے۔ اس کو کھولوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34174
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34174، ترقيم محمد عوامة 32668)
حدیث نمبر: 34175
٣٤١٧٥ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن عبد الملك بن عمير عن الصقر ابن عبد اللَّه عن عروة بن الزبير عن عائشة: إن الجن بكت على عمر قبل أن يقتل بثلاث فقالت: أبعد قتيل بالمدينة أصبحت … له الأرض تهتز العضاة بأسوق جزى اللَّه خيرا من أمير وباركت … يد اللَّه في ذاك الأديم الممزق ⦗٣٣⦘ فمن يسمع أو يركب (جناحي نعامة) (١) … ليدرك ما (أسديت) (٢) (بالأمس) (٣) (يسبق) (٤) قضيت امورا ثم غادرت بعدها … بوائق في أكمامها لم تفتق وما كنت أخشى أن تكون وفاته … (بكفي) (٥) (سبنتي) (٦) أخضر العين (مطرق) (٧) (٨)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ جن بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے تین دن قبل رو پڑے اور یہ اشعار کہے : : مدینہ منورہ میں شہید ہونے والے کی جدائی پر زمین اپنے عضاء نامی درخت کے ساتھ کانپ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے جسم میں برکت عطا فرمائے۔ اگر کوئی سواری پر سوار ہو کر آپ کے کارناموں کو دہرانا چاہے تو ایسا نہیں کرسکتا۔ آپ کے فیصلے خوشوں کے پھل کی طرح عمدہ ہیں۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ان کی وفات نیلی آنکھوں والے مکار درندے (ابولؤلؤ) کے ہاتھوں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34175
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34175، ترقيم محمد عوامة 32669)