کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ذکر کی گئی ہیں
حدیث نمبر: 34091
٣٤٠٩١ - حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني أبرأ إلى كل خليل من (خلته) (١) غير أن اللَّه اتخذ صاحبكم خليلا، ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلًا"، إلا أن وكيعا قال: من (خله) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا میں ہر دوست کی دوستی سے بیزار ہوں مگر یہ کہ بلاشبہ اللہ نے تمہارے ساتھی کو دوست بنایا ہے۔ اور اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دوست بنایا۔ اور حضرت وکیع رضی اللہ عنہ نے من خلہ کے الفاظ نقل فرمائے ہیں۔
حدیث نمبر: 34092
٣٤٠٩٢ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عكرمة قال: قال ابن عباس: في (الجد) (١) (أما) (٢) الذي قال رسول اللَّه ﷺ: "لو كنت متخذًا من هذه الأمة خليلًا، لاتخذته" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جَدْ کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ وہ شخص جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر میں اس امت میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے باپ کے حق میں فیصلہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 34093
٣٤٠٩٣ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن عطية عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أهل الدرجات العلى ليرون من هو أسفل منهم كما (ترون) (١) الكوكب الطالع في الأفق من آفاق السماء وإن أبا بكر وعمر (منهم) (٢) وأنعما" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک جنت میں بلند درجے والے لوگوں کو ان سے نچلے طبقہ والے لوگ ایسے ہیں دیکھیں گے جیسے تم لوگ آسمان کے کنارے میں طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو ۔ اور بلاشبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہان لوگوں میں سے ہوں گے اور اچھی زندگی میں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 34094
٣٤٠٩٤ - حدثنا يونس بن محمد قال: ثنا فليح بن سليمان عن سالم أبي النضر عن عبيد بن حنين (وبسر) (١) بن (سعيد) (٢) عن أبي سعيد الخدري قال: خطب رسول اللَّه ﷺ الناس فقال: "إن أمَنَّ الناس علي في صحبته وماله أبو بكر، ولو كنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت أبا بكر، ولكن أخوة الإسلام ومودته، لا يبقى في المسجد باب إلا سد إلا باب أبي بكر" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا : اور کہا : یقینا لوگوں میں سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے اپنی محبت اور مال کے اعتبار سے ابوبکر ہیں۔ اگر میں لوگوں میں سے کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا لیکن ان سے اسلامی اخوت اور محبت ہے۔ اور مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کردیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔
حدیث نمبر: 34095
٣٤٠٩٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما نفعني مال ما نفعني مال أبي بكر"، قال: فبكى أبو بكر فقال: هل أنا ومالي إلا لك يا رسول اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے نفع پہنچایا۔ راوی فرماتے ہیں : یہ بات سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ پھر فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اور میرا مال تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی ہے !
حدیث نمبر: 34096
٣٤٠٩٦ - حدثنا شريك عن أشعث (بن) (١) أبي الشعثاء عن الأسود بن هلال أن أعرابيًا قال لهم: شهدت صلاة (الصبح) (٢) مع (النبي) (٣) ﷺ ذات يوم فأقبل على الناس بوجهه فقال: "رأيت أناسًا من أمتي البارحة وُزِنوا، فوُزِن أبو بكر فَوَزن، ثم وُزِن عمر فَوَزن" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی نے ان کو بیان کیا ! کہ میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرہ کے ساتھ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں نے گزشتہ رات دیکھا کہ لوگوں کے اعمال کا وزن کیا گیا ۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اعمال کا وزن کیا گیا تو وہ وزن دار ہوگیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اعمال کا وزن کیا گیا تو وہ بھی وزن دار ہوگیا۔
حدیث نمبر: 34097
٣٤٠٩٧ - حدثنا عفان قال: ثنا همام قال: ثنا ثابت عن أنس أن أبا بكر حدثه قال: قلت للنبي ﷺ ونحن في الغار: لو أن أحدهم ينظر إلى قدميه لأبصرنا تحت قدميه فقال: "يا أبا بكر، ما ظنك باثنين اللَّه ثالثهما" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اس حال میں کہ ہم غار میں تھے۔ اگر ان لوگوں میں سے کوئی ایک اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو وہ ہمیں اپنے پیروں کے نیچے دیکھ لے گا ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! تمہارا کیا گمان ہے ان دو کے بارے میں جن کا تیسرا اللہ ہو ؟ !
حدیث نمبر: 34098
٣٤٠٩٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن أبي مالك الأشجعي عن سالم قال: قلت لابن الحنفية: أبو بكر كان أول القوم إسلاما، قال: لا، قلت: (مم) (١) (علا) (٢) (٣) أبو بكر و (بسق) (٤) حتى لا يذكر غير أبي بكر فقال: كان أفضلهم إسلاما حين أسلم حتى لحق باللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن حنفیہ رحمہ اللہ سے پوچھا : کیا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! میں نے عرض کیا ! کیوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بلند درجہ والے اور شہرت یافتہ ہوگئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور ذکر ہی نہیں ہوتا ؟ تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : جب آپ رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو آپ رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے افضل تھے اسلام کے اعتبار سے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہاللہ سے جا ملے۔
حدیث نمبر: 34099
٣٤٠٩٩ - حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أرحم أمتي (١) أبو بكر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر ہیں۔
حدیث نمبر: 34100
٣٤١٠٠ - حدثنا مروان بن (معاوية) (١) عن عوف عن الحسن أن النبي ﷺ نعت ⦗٨⦘ يوما الجنة وما فيها من الكرامة، (فقال) (٢) فيما يقول: "إن فيها لطيرا أمثال البخت"، فقال أبو بكر: يا رسول اللَّه إن تلك (الطير) (٣) ناعمة، فقال النبي ﷺ (٤): "يا أبا بكر من يأكل منها أنعم منها، واللَّه يا أبا بكر، إني لأرجو أن تكون ممن يأكل منها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن جنت میں اور اس میں پائی جانے والی نعمتوں کا ذکر فرمایا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا : بلاشبہ اس میں پائے جانے والے پرندے خراسانی اونٹ کے مانند ہوں گے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ پرندے موٹے بھی ہوں گے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! جو ان کو کھائے گا تو وہ اس سے خوش ہوگا۔ اللہ کی قسم ! اے ابوبکر ! میں امید کرتا ہوں کہ تم ان پرندوں کے کھانے والوں میں سے ہو گے۔
حدیث نمبر: 34101
٣٤١٠١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عمرو بن ميمون عن أبيه قال: قال رجل (لعمر بن الخطاب) (١): ما رأيت مثلك، قال: رأيتَ أبا بكر؟ قال: لا، قال: لو قلت: نعم إني رأيته، لأوجعتك (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا : میں نے آپ رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نہیں دیکھا ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو کہتا : جی ہاں ! میں نے ان کو دیکھا ہے تو میں تجھے سزا دیتا۔
حدیث نمبر: 34102
٣٤١٠٢ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس قال: قال عمر: لأن أقدم فتضرب عنقي أحب إلي من أن أتقدم قومًا فيهم أبو بكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر میرے آگے چلنے کی وجہ سے تم میری گردن اڑاؤ تو مجھے پسند ہے کہ میں ایسے لوگوں میں آگے نکلوں جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہوں۔
حدیث نمبر: 34103
٣٤١٠٣ - حدثنا وكيع عن هشام بن سعد عن عمر بن أَسيد عن ابن عمر قال: (كانوا يقولون) (١) في زمن (النبي) (٢) ﷺ: خير الناس أبو بكر وعمر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے : لوگوں میں سب سے بہترین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
حدیث نمبر: 34104
٣٤١٠٤ - حدثنا (أبو) (١) معاوية عن سهيل عن أبيه عن ابن عمر قال: كنا نعد (و) (٢) رسول اللَّه ﷺ حي: أبو بكر وعمر وعثمان ثم نسكت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بہترین لوگوں میں شمار کرتے تھے ۔ پھر ہم خاموش ہوجاتے۔
حدیث نمبر: 34105
٣٤١٠٥ - حدثنا ابن عيينة عن خالد بن سلمة عن الشعبي (عن مسروق) (١) قال: حب أبي بكر وعمر ومعرفة فضلهما من السنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا اور ان دونوں کے افضل ہونے کو پہچاننا سنت میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 34106
٣٤١٠٦ - حدثنا أبو معاوية عن عبد العزيز بن سياه عن حبيب بن أبي ثابت في قوله: ﴿فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ﴾ [التوبة: ٤٠]، قال: على أبي بكر قال: (فأما) (١) النبي ﷺ فقد كانت السكينة عليه قبل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیز بن سیاہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ نے اللہ رب العزت کے اس قول { فَأَنْزَلَ اللَّہُ سَکِینَتَہُ عَلَیْہِ } ترجمہ : پس اللہ نے اس پر اپنی سکینہ نازل فرمائی۔ کے بارے میں فرمایا : کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ فرمایا : باقی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو سکینہ و رحمت اس سے قبل تھی ہی۔
حدیث نمبر: 34107
٣٤١٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه قال: أعتق أبو بكر (ممن) (١) كان يعذب في اللَّه سبعة: عامر بن فهيرة وبلالًا و (زنيرة) (٢) وأم عبيس (والنهدية) (٣) و (ابنتها) (٤) و (جارية) (٥) (بني) (٦) عمرو بن مؤمل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ رحمہ اللہ نے فرمایا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سات لوگوں کو آزاد فرمایا : جن کو اللہ کے راستہ میں عذاب دیا جاتا تھا۔ وہ سات لوگ یہ ہیں : حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ ، حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ام عبیس رضی اللہ عنہ ، حضرت نھدیہ، اور ان کی بیٹی اور بنو عمرو بن مؤمل کی ایک باندی۔
حدیث نمبر: 34108
٣٤١٠٨ - حدثنا ابن عيينة عن مطرف عن عامر أن عمر قال: لا أسمع بأحد فضلني على أبي بكر إلا جلدته أربعين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں کسی کو بھی یوں نہ سنوں کہ اس نے مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دی ہے ورنہ میں اسے چالیس ( 40) کوڑے ماروں گا۔
حدیث نمبر: 34109
٣٤١٠٩ - حدثنا زيد بن حباب عن موسى بن عبيدة قال: أخبرني أبو معاذ عن خطاب أو أبي الخطاب عن علي قال: بينا أنا جالس عند (رسول اللَّه) (١) ﷺ إذ أقبل أبو بكر وعمر فقال: يا علي هذان سيدا (كهول) (٢) أهل الجنة إلا ما كان من الأنبياء فلا تخبرهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی رضی اللہ عنہ ! یہ دونوں اہل جنت میں سے بوڑھوں کے سردار ہیں، سوائے انبیاء کے۔ پس تم ان دونوں کو خبر مت دینا۔
حدیث نمبر: 34110
٣٤١١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الملك بن (عمير) (١) عن مولى لربعي ابن (حراش) (٢) عن ربعي بن (حراش) (٣) عن حذيفة قال: كنا جلوسًا عند النبي ﷺ فقال: "إني (لا أدري) (٤) ما قدر بقائي فيكم، اقتدوا باللذين من بعدي" -وأشار إلى أبي بكر وعمر (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا۔ تم لوگ میرے بعد ان دونوں کی اقتدا کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 34111
٣٤١١١ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن أبي جعفر عن الربيع قال: مكتوب في الكتاب الأول: مثل أبي بكر مثل القطر حيثما وقع نفع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : پہلی کتاب میں یوں لکھا ہوا تھا : ابوبکر کی مثال بارش کے قطرے کی سی ہے۔ جہاں بھی گرتا ہے فائدہ دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 34112
٣٤١١٢ - حدثنا أبو معاوية عن سهيل عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "نعم الرجل أبو بكر، نعم الرجل عمر، (نعم الرجل) (١) ثابت بن قيس بن شماس، ونعم الرجل (٢) عمرو بن الجموح، ونعم الرجل أبو عبيدة بن الجراح" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سھیل رحمہ اللہ کے والد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ! اچھے آدمی ہیں۔ عمر اچھے آدمی ہیں، عمرو بن جموح اچھے آدمی ہیں، اور ابو عبیدہ بن جراح اچھے آدمی ہیں۔
حدیث نمبر: 34113
٣٤١١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جامع عن منذر عن ابن الحنفية قال: قلت لأبي (من) (١) خير الناس بعد رسول اللَّه ﷺ؟ قال: أبو بكر، قال: قلت: ثم من؟ قال: ثم عمر، قال: قلت: فأنت؟ قال: (أبوك) (٢) رجل من المسلمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہترین شخص کون تھا ؟ انوہں نے فرمایا : ابوبکر تھے۔ میں نے پوچھا : پھر کون تھا ؟ انہوں نے فرمایا : عمر تھے۔ میں نے پوچھا : اور آپ ؟ انہوں نے فرمایا : تمہارا والد مسلمانوں میں سے ایک عام آدمی تھا۔
حدیث نمبر: 34114
٣٤١١٤ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا صدقة بن المثنى قال: سمعت ⦗١٢⦘ جدي (رياح) (٢) بن الحارث يذكر أنه شهد المغيرة بن شعبة وكان بالكوفة في المسجد الأكبر، وكانوا أجمع ما كانوا يمينا وشمالا حتى جاء رجل من أهل المدينة يدعى سعيد بن زيد بن نفيل، فرحب به المغيرة وأجلسه عند رجليه على السرير، فبينا هو على ذلك إذ دخل رجل من أهل الكوفة يدعى قيس بن علقمة، فاستقبل المغيرة فسب فسب، فقال له المدني: يا مغير بن شعب، من يسب هذا الشاب، قال: سب علي بن أبي طالب، قال له مرتين: يا مغير بن شعب (يا مغير بن شعب) (٣) ألا أسمع أصحاب رسول اللَّه ﷺ يسبون عندك لا تنكر ولا تغير، فإني أشهد على رسول اللَّه ﷺ بما سمعت أذناي وبما وعى قلبي -فإني لن أروي (عنه) (٤) من بعده كذبا فيسألني عنه إذا لقيته- أنه قال: أبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف (في الجنة) (٥) وسعد في الجنة، وآخر تاسع لو أشاء أن أسميه لسميته؛ قال: فخرج أهل المسجد يناشدونه باللَّه: يا صاحب رسول اللَّه ﷺ من التاسع؟ قال: نشدتموني باللَّه واللَّه عظيم، أنا تاسع المؤمنين ونبي اللَّه ﷺ العاشر، ثم أتبعها واللَّه لمشهد شهده الرجل منهم يوما واحدا في سبيل اللَّه مع رسول اللَّه ﷺ أفضل من عمل أحدكم ولو عُمّر عَمرَ نوح (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صدقہ بن مثنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا حضرت ریاح بن حارث رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا۔ اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ کی ایک بڑی مسجد میں تھے۔ اور سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں بائیں جمع تھے۔ یہاں تک کہ اہل مدینہ میں سے ایک شخص تشریف لائے جن کو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کے نام سے پکارا جا رہا تھا۔ پس حضر ت مغیرہ بن شعبہ رحمہ اللہ نے ان کو خوش آمدید کہا۔ اور انہوں نے ان کو تخت پر اپنی ٹانگوں کے پاس بٹھا لیا۔ پس وہ اسی حالت میں تھے کہ اہل کوفہ میں سے ایک شخص جس کو قیس بن علقمہ کے نام سے پکارا جا رہا تھا داخل ہوا۔ تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا استقبال کیا پس انہوں نے بھی سب و شتم کیا اور اس شخص نے بھی سب و شتم کیا ۔ تو اس مدنی شخص نے ان سے کہا : اے مغیرہ بن شعبہ ! یہ گالی دینے والا کس کو گالی دے رہا تھا ؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا ! اس مدنی نے ان کو دو مرتبہ کہا : اے مغیرہ بن شعبہ ! اے مغیرہ بن شعبہ ! خبردار کہ میں سن رہا ہوں کہ تیرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو برا بھلا کہا جا رہا ہے نہ تو تعجب کر رہا ہے اور نہ ہی تو غیرت کھا رہا ہے ! میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بات کی کہ میرے دونوں کانوں نے سنا : اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا : یقینا ہرگز میں روایت نہیں کرتا ان کے چلے جانے کے بعد جھوٹ کے ڈر سے۔ پس وہ مجھ سے پوچھیں گے جب وہ مجھے ملیں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے فرمایا : ابوبکر جنت میں ہیں، اور عمر جنت میں ہیں ، عثمان جنت میں ہیں، علی رضی اللہ عنہ جنت میں ہیں۔ طلحہ جنت میں ہیں ، زبیر جنت میں ہیں، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ہیں ، اور سعد جنت میں ہیں۔ اور آخری نواں اگر میں اس کا نام لینا چاہوں تو میں اس کا نام لے سکتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر مسجد والے نکلے ان کو قسمیں دے کر پوچھ رہے تھے : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ! نواں کون تھا ؟ انہوں نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھے قسم دی اور اللہ بہت عظیم ہے۔ میں مومنوں میں سے نواں شخص ہوں۔ اور اللہ کے نبی ﷺ دسویں ہیں۔ پھر اس کے بعد بیان کیا : اللہ کی قسم وہ مقام جس میں صحابہ میں سے ایک آدمی اللہ کے راستہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا جہاں اس کا چہرہ خاک آلود ہوا ہو تو وہ تم میں سے ہر ایک کے عمل سے افضل ہوگا اگرچہ اس کو حضرت نوح علیہ السلام جتنی عمر دے دی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 34115
٣٤١١٥ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن في الجنة طيرا أمثال البخت يأتي الرجل فيصيب منها ثم (يذهب) (١) (كأن) (٢) لم ينقص منها (شيئًا) (٣) " فقال: أبو بكر: يا رسول اللَّه إن تلك الطير ناعمة، قال: "ومن يأكله أنعم منه، أما إنك ممن يأكلها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا جنت میں خراسانی اونٹ کی مانند ایک پرندہ ہوگا۔ ایک آدمی آئے گا اور اس کو کھائے گا ۔ پھر وہ پرندہ چلا جائے گا۔ گویا کہ اس میں سے کوئی چیز بھی کم نہ ہوئی ہو، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! بلاشبہ وہ پرندہ تو بہت موٹا ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور جو شخص اس سے کھائے گا وہ زیادہ خوشحال ہوگا۔ تم اس کے کھانے والوں میں سے ہوگے۔
حدیث نمبر: 34116
٣٤١١٦ - حدثنا أبو الأحوص عن حصين عن هلال بن يساف عن عبد اللَّه بن ظالم عن سعيد بن زيد قال: أشهد على تسعة أنهم في الجنة، ولو شهدت على العاشر لصدقت، قال: قلت: وما ذاك؟ قال: كان رسول اللَّه ﷺ على حراء وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد بن مالك وعبد الرحمن بن عوف، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أثبت حراء فإنه ليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد"، قال: قلت: من العاشر؟ قال: أنا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ظالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں نو لوگوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا وہ جنت میں ہوں گے اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دوں تو یقینا میں سچا ہوں گا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا ! وہ کون ہے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑی پر تھے اور ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے حرائ ! ٹھہر جاؤ، نہیں تم پر مگر ایک نبی یا صدیق یا شہید۔ راوی کہتے ہیں میں نے پوچھا : دسواں شخص کون تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ میں ہوں۔
حدیث نمبر: 34117
٣٤١١٧ - حدثنا خلف بن خليفة عن إسماعيل بن أبي خالد أن عائشة نظرت إلى رسول اللَّه ﷺ فقالت: يا سيد العرب؟ قال: "أنا سيد ولد آدم ولا فخر، ⦗١٤⦘ و (أبوك) (١) سيد كهول العرب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر فرمایا : اے عرب کے سردار ! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں پوری اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں ہے۔ اور تیرے والد جنت کے بوڑھوں کے سردار ہوں گے۔
حدیث نمبر: 34118
٣٤١١٨ - حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن أبي جحيفة قال: قال علي: خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر، وبعد (أبي) (١) بكر عمر، ولو شئت أن أحدثكم بالثالث لفعلت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حجیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت کے بہترین شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، اور اگر میں چاہوں کہ تیسرے شخص کے بارے میں بتاؤں تو میں ایسا کرسکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 34119
٣٤١١٩ - حدثنا شريك عن عاصم عن أبي جحيفة عن علي مثله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حجیفہ رحمہ اللہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ما قبل والا فرمان اس سند سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 34120
٣٤١٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد اللَّه قال: مشيت مع النبي ﷺ إلى امراة رجل من الأنصار، قال: فرشت له أصول نخل وذبحت لنا شاة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ليدخلن رجل من أهل الجنة"، فدخل أبو بكر، ثم قال: "ليدخلن رجل من أهل الجنة"، فدخل عمر، ثم قال: "ليدخلن رجل من أهل الجنة"، ئم قال: "اللهم إن شئت جعلته عليًا"، فدخل علي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری آدمی کی بیوی کے پاس گیا تو ا س نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجور کی چھال سے بنی ہوئی دری بچھائی اور ہمارے لیے ایک بکری ذبح کی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ضرور بالضرور ایک آدمی داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا۔ پھر فرمایا : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو یہ آدمی علی رضی اللہ عنہ کو بنا دے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔
حدیث نمبر: 34121
٣٤١٢١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الحسن بن عبيد اللَّه قال: حدثنا الحر ابن (صياح) (١) عن عبد الرحمن بن الأخنس النخعي عن سعيد بن زيد قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "أبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعلي في الجنة وعثمان في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد بن أبي وقاص في الجنة، ولو شئت لسميت التاسع" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ابوبکر جنت میں ہے، عمر جنت میں ہے، علی رضی اللہ عنہ جنت میں ہے، عثمان جنت میں ہے، طلحہ جنت میں ہے، زبیر جنت میں ہے، اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جنت میں ہے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جنت میں ہے، اور اگر میں چاہوں تو نویں آدمی کا نام بھی لے سکتا ہوں۔
حدیث نمبر: 34122
٣٤١٢٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن مسعر عن أبي عون الثقفي عن أبي صالح الحنفي عن علي بن أبي طالب قال: قيل لي ولأبي بكر الصديق يوم بدر: مع أحدكما جبريل، ومع الآخر ميكائيل وإسرافيل ملك عظيم يشهد القتال أو يقف في الصف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو صالح حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مجھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے غزوہ بدر کے دن کہا گیا : تم دونوں میں سے ایک کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں اور دوسرے کے ساتھ حضرت میکائیل ہیں۔ اور حضرت اسرافیل عظیم فرشتہ ہیں جو قتال کے لیے حاضر ہیں یا فرمایا : کہ وہ صف میں کھڑے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 34123
٣٤١٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن السري بن يحيى عن بسطام بن مسلم قال: بعث رسول اللَّه ﷺ عمرو بن (العاص) (١) على سرية فيها أبو بكر وعمر، فلما قدموا اشتكى أبو بكر وعمر (عمرًا) (٢)، (فقال) (٣) رسول اللَّه ﷺ: "لا ⦗١٦⦘ (يتأمر) (٤) (عليكما) (٥) أحد بعدي" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بسطام بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا جس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ پس جب وہ لوگ واپس آئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضر ت عمرو رضی اللہ عنہ کی شکایت کی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں پر میرے بعد کسی کو بھی امیر نہیں بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 34124
٣٤١٢٤ - حدثنا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن قال: قال عمر: وددت أني من الجنة حيث أرى أبا بكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں پسند کرتا ہوں کہ میں جنت کے ایسے حصہ میں ہوں جہاں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ سکوں۔
حدیث نمبر: 34125
٣٤١٢٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن قال: قال رجل لعمر: يا خير الناس، فقال: إني لست بخير الناس، فقال: واللَّه ما رأيت (قط رجلًا) (١) خيرا منك، قال: ما رأيت أبا بكر؟ قال: لا، قال: لو قلت: نعم، لعاقبتك، قال: وقال عمر: (من بلهم) (٢) بيني وبين أبي بكر، يوم من أبي بكر خير من آل عمر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یوں پکارا : اے لوگوں میں سے بہترین شخص ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا میں لوگوں میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں۔ پھر اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم میں نے تو کبھی بھی آپ رضی اللہ عنہ سے بہتر شخص نہیں دیکھا ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تو نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا ؟ اس نے کہا : نہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو کہتا : جی ہاں ! تو میں تجھے ضرور سزا دیتا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابوبکر کی زندگی کا ایک دن عمر کی ساری آل کے اعمال سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 34126
٣٤١٢٦ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا إسماعيل عن قيس قال: قال (عمرو: وأي) (١) الناس أحب إليك يا رسول اللَّه؟ قال: " (لم) (٢) "؟ قال: (لنحب) (٣) من تحب، قال: "أحب الناس إليّ عائشة"، قال: لست أسألك عن النساء، إنما أسألك ⦗١٧⦘ عن الرجال فقال (مرة: "أبوها"، وقال مرة: "أبو بكر") (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : تاکہ ہم بھی اس سے محبت رکھیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ پسند ” عائشہ رضی اللہ عنہا “ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں سے متعلق نہیں پوچھ رہا بلکہ میں مردوں میں سے پوچھ رہا ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا : ان کے والد اور ایک مرتبہ فرمایا : ” ابوبکر رضی اللہ عنہ “
حدیث نمبر: 34127
٣٤١٢٧ - حدثنا يزيد قال: أخبرنا العوام عن (ابن) (١) أبي الهذيل قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما من أحد (أَمَنَّ) (٢) علينا في ذات يده من أبي بكر، ولو كنت متخذًا خليلًا لاتخذت أبا بكر؛ ولكن أخي وصاحبي وعلى ديني، وصاحبكم قد اتخذ خليلًا" -يعني نفسه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الھذیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : : کوئی ایک بھی مجھ پر ابوبکر سے زیادہ احسان کرنے والا نہیں ہے اپنی ذات سے بھی زیادہ، اور اگر میں کسی کو دوست بناتا تو میں ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن وہ میرے دینی بھائی اور ساتھی ہیں ، اور تمہارے ساتھی کو یقینا دوست بنا لیا گیا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔
حدیث نمبر: 34128
٣٤١٢٨ - حدثنا أبو داود (١) عمر بن سعد عن بدر بن عثمان عن عبيد اللَّه بن (مروان) (٢) عن أبي عائشة عن ابن عمر قال: خرج إلينا رسول اللَّه ﷺ ذات غداة فقال: "رأيت آنفا كأني أعطيت المقاليد والموازين، فأما المقاليد فهذه المفاتيح (٣)، فوضعتُ في كفة ووضعتْ أمتي في كفة فرجحت بهم، ثم جيء بأبي بكر فرجح، ثم جيء بعمر فرجح، ثم جيء بعثمان فرجح، ثم رفعت"، قال: فقال له رجل: ⦗١٨⦘ فأين نحن؟ قال: "حيث جعلتم أنفسكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا : میں نے ابھی ابھی خواب میں دیکھا کہ مجھے چابیاں اور ترازو دیا گیا، بہرحال چابیاں وہ تو یہ ہیں۔ پھر مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو ایک پلڑے میں رکھ دیا گیا پس میرا پلڑا جھک گیا۔ پھر ابوبکر کو لایا گیا پس اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا تو اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر عثمان کو لایا گیا پس اس کا پلڑا بھی بھاری ہوگیا۔ پھر اس ترازو کو اٹھا لیا گیا۔ راوی فرماتے ہیں پس ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : ہم کہاں ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تم اپنے آپ کو رکھو گے۔
حدیث نمبر: 34129
٣٤١٢٩ - حدثنا قبيصة عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: وفدنا إلى معاوية، قال: فما أُعجب بوفد ما أعجب بنا، فقال: يا أبا بكرة حدثني بشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول، وكانت تعجبه الرؤيا يسأل عنها فسمعته يقول: "رأيت ميزانا (أنزل) (١) من السماء فوزنتُ فيه أنا وأبو بكر فرجحت بأبي بكر، ثم وزن أبو بكر وعمر فرجح أبو بكر، ثم وزن عمر وعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان إلى السماء"، فقال رسول اللَّه ﷺ: "خلافة (و) (٢) نبوة ثم يؤتي اللَّه الملك من يشاء"، قال: (فزج) (٣) في أقفيتنا فأخرجنا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی صورت میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے کوئی وفد اتنا پسند نہیں آیا جتنا ہمارا وفد پسند آیا۔ پھر فرمایا : اے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ! مجھے کوئی ایسی بات بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ جب ان سے خوابوں کے بارے میں پوچھا جاتا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے ایک ترازو دیکھا جو آسمان سے اترا، پس اس میں میرا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو میر پلڑا ابوبکر سے بھاری ہوگیا۔ پھر ابوبکر کا عمر کے ساتھ وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا بھاری ہوگیا۔ پھر عمر اور عثمان کا وزن کیا گیا تو عمر کا پلڑا عثمان پر بھاری ہوگیا۔ پھر ترازو کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خلافت اور نبوت ہوگی پھر اللہ جس کو چاہیں گے ملک عطا فرما دیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : پس ہمیں گدی سے پکڑ کر نکال دیا گیا۔
حدیث نمبر: 34130
٣٤١٣٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد قال: ذكر (رجلان عثمان) (١) ⦗١٩⦘ فقال أحدهما: قتل شهيدًا، فتعلق به الآخر فأتى به عليا فقال: (إن) (٢) هذا يزعم أن عثمان بن عفان قتل شهيدًا، قال: قلت: (ذلك؟) (٣) قال: نعم، أما تذكر يوم أتيت النبي ﷺ وعنده أبو بكر وعمر وعثمان فسألت النبي ﷺ فأعطاني، وسألت أبا بكر فأعطاني، وسألت عمر فأعطاني، وسألت عثمان فأعطاني، فقلت: يا رسول اللَّه ادع اللَّه أن يبارك لي قال: "ومالك لا يبارك لك وقد أعطاك نبي وصديق وشهيدان" فقال علي: دعه دعه دعه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا پس ان میں سے ایک کہنے لگا۔ ان کو شہید کردیا گیا ، تو دوسرا اس کو پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا اور کہنے لگا : بلاشبہ یہ شخص کہتا ہے کہ یقینا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا تھا ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے یہ کہا ہے ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! کہا آپ رضی اللہ عنہ کو یاد نہیں وہ دن جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ م آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا فرمایا : اور میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے عطا کیا۔ پس میں نے عرض کی۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے لیے برکت کی دعا فرما دیجئے اللہ مجھے برکت عطا کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھے برکت کیوں نہیں دی جائے گی حالانکہ تجھے ایک نبی، اور ایک صدیق اور دو شہیدوں نے عطا کیا ہے ؟ ! پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو ، اس کو چھوڑ دو ، اس کو چھوڑ دو ۔
…